ملائیشیا کی ترقی ہمارے لیے نشانِ منزل - محمد عمیر

اقوام کی حیات میں پالیسیوں کا تسلسل انتہائی اہم چیزوں میں سے ہے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ ملک ترقی کی منازل چند سالوں میں طے نہیں کرسکتے بلکہ ترقی کی منزل پانے کے لیے راستے کا تعین کرنے میں ہی کئی سال لگ جاتے ہیں۔ اسی طرح یہ امر بھی شک سے بالاتر ہے کہ جن ملکوں میں حکومتیں آنے جانے سے قومی پالیسیاں بدل جاتی ہیں وہ ترقی کی منازل طے نہیں کرپاتے۔ یہی وجہ ہے کہ مغلیہ سلطنت سے لے کر موجودہ دور کے بلند معیار زندگی تک جن ممالک نے ترقی کی، اس کے پیچھے پالیسیوں کا تسلسل ہی کارفرما رہا۔
پہلے مغل بادشاہ سے لے کر اورنگزیب عالمگیر تک تمام مغل بادشاہ کئی کئی سالوں تک حکمران رہے اور ان کی پالیسیوں کا تسلسل قائم رہا یوں ترقی کے ثمرات عوام تک پہنچے۔ عمران خان کی سوانح عمری “میں اور میرا پاکستان” پڑھتے ہوئے اس کی مثال ملی کہ اس زمانے میں مدارس چلانے تک کے لیے چندہ نہیں مانگا جاتا تھا۔ مدارس حکومت کی ذمہ داری ہوتے تھے۔ مگر جب جب انگریز برصغیر آیا تب مدارس کو چندے کی ضرورت پڑی۔ برصغیر کو سونے کی چڑیا بنانے میں مغلیہ خاندان کا اہم کردار رہا۔
چند روز قبل ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کی کتاب “ایشیا کا مقدمہ” پڑھنا شروع کی ہے۔ ملایا پاکستان سے دس سال بعد برطانوی تسلط سے آزاد ہوا۔ آزادی کے چھ سال بعد ملایا، سنگاپور اور دو آزاد ریاستوں صباح اور سراواک کے آپس میں الحاق کے نتیجے میں ملائیشیا کا قیام عمل میں آیا۔ تاہم 1965ء میں سنگاپور ملائیشیا سے علیحدہ ہوگیا۔ ملائیشیا میں بھی مختلف قومیں آباد تھیں جن میں ملایا، ملائیشین چائنییز، انڈین اور دیگر غیر ملکی شامل تھے۔ ملایا تعداد میں زیادہ تھے، یہ کل آبادی کا 56 فیصد تھے۔ مگر یہ زراعت اور کان کنی کے پیشوں سے منسلک تھے جبکہ چینیوں کی آبادی ملایا سے کم تھی مگر ملکی معشیت پر یہ لوگ چھائے ہوئے تھے، تجارت کا پیشہ چینیوں سے منسوب تھا۔ ملایا لوگوں میں شرح تعلیم بھی کم تھی اور ان کے علاقوں میں اسکول بھی نہ ہونے کے برابر تھے۔ ملائیشیا میں طبقاتی کشمکش جاری تھی اور مختلف گروہ ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار تھے۔
ملائیشیا میں اس طبقاتی تقسیم کی وجہ سے 1969ء میں نسلی فسادات بھی ہوئے۔ تاہم ملائیشیا نے ان فسادت کے بعد ایک “نیشنل آپریشنز کونسل” بنائی جس کا مقصد ملائیشیا کے مختلف نسلی گروہوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے درمیان پائے جانے والے معاشی فرق کی وجوہات کی نشاندہی کرنا تھا۔ اس کونسل میں تمام نسلی گروہوں کو نمائندگی دی گئی۔ اس کونسل نے سفارشات دیں کہ آبادی کے سب سے بڑے گروہ ملایا لوگوں کی ملکی معشیت میں کم نمائندگی کی وجہ سے بحران پیدا ہوتا ہے۔ مہاتیر محمد جب وزیراعظم بنے تو انہوں نے اسی کونسل کی سفارشات پر اپنی پالیسیوں کو ترتیب دیا۔ ملکی دولت کو جس قدر ہو سکا ملایا لوگوں میں بانٹا گیا تا کہ وہ تیزی سے خوشحال ہوسکیں، یہ دولت دوسرے گروہوں سے چھین کر نہیں دی گئی بلکہ اس کے لیے قومی خزانے کا استعمال کیا گیا۔ یہ پالیسی ابتدائی طور پر 20 سال کے لیے مرتب کی گئی۔ ملایا کے حصے کو 2.4 سے بڑھا کر 30 فیصد تک لایا گیا۔ دیگر نسلی گروہوں کے حصے کو 34 سے بڑھا کر 40 فیصد کیا گیا جبکہ غیر ملکیوں کے حصے کو 63 سے کم کر کے 30فیصد پر لایا گیا۔ دیہی علاقوں میں مزید اسکول قائم کیے گئے، ملایا بچوں کو اسکالر شپ دیے گئے۔ ملایا بچوں کو شہری اسکولز اور جامعات میں کوٹے دیے گئے، حکومتی ٹھیکوں اور لائسنسوں کے لیے ملایا لوگوں کی حوصلہ افزائی کی گئی تاکہ وہ بھی کاروباری میدان میں آگے آئیں اور ملائیشیا کے کاروباری حلقے میں چینیوں کی اجارہ داری ختم ہو۔ اسی پالیسی پر 20 سال عمل درآمد کے بعد ملائیشیا سے غربت کا خاتمہ ہوچکا تھا اور مختلف نسلوں کے لوگ ہم آہنگی سے رہ رہے تھے۔ ان پالیسیوں کے تسلسل کا نتیجہ تھا کہ 1996ء میں ملائیشیا کی سالانہ ترقی 8.6 فیصد تھی، تمام شہریوں کو نوکریاں مل رہی تھیں اور ملائیشیا کی ترقی کو 'ایشیائی معجزے' کا نام دیا گیا۔
اس کے بعد ہم اپنے ملک کاجائزہ لیں تو ہماری قومی پالیسیاں ملائیشیا کے بالکل برعکس نظر آتی ہیں۔ پالیسیاں تو دور، 70 سال میں جمہوری تسلسل ہی قائم نہیں ہو سکا۔ اس تسلسل کو توڑنے میں سیاستدان، اسٹیبلشمنٹ، بیورو کریسی اور عالمی طاقتیں برابر کی حصہ دار ہیں۔ جیسے ہی نئی حکومت آتی ہے، پالیسیاں بدل جاتیں ہیں۔ نہ تو پالیسی بنانے سے قبل سوچا جاتا کہ یہ کیوں بنائی گئی اور نہ ہی اس کی ناکامی کے بعد سوچا جاتا کہ یہ کیوں ناکام ہوئیں۔ بیشتر پالیسیاں ملک کے بجائے اپنے سیاسی مستقبل کے لیے ترتیب دی جاتیں۔ کیا وجہ ہے کہ ملائیشیا نے اپنی پالیسیوں کی بدولت 20 سال میں ترقی کی منزل پالی اور ہم آج تک راستے کا تعین ہی نہیں کرسکے؟ بلوچستان، سندھ، جنوبی پنجاب آج بھی اپنا حصہ مانگ رہے ہیں۔ صوبہ پنجاب کا 60 فیصد بجٹ لاہور میں لگتا اور باقی 40 فیصد دیگر 35 اضلاع میں۔ ملائیشیا کی لیولنگ اپ اور لیولنگ ڈاؤن (Leveling Up and leveling Down) کی پالیسی اس بات کی غماز ہے کہ ملکی ترقی کا راز ایک شہر یا صوبے کی ترقی میں نہیں بلکہ تمام گروہوں کو ساتھ لے کر چلنے میں ہے۔ مختصر یہ کہ ترقی کا اصل راز تسلسل میں پوشیدہ ہے۔

Comments

محمد عمیر

محمد عمیر

محمد عمیر کا تعلق لاہور سے ہے۔ روزنامہ اہکسپریس لاہور سے بطور رپورٹر وابستہ ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی شعیہ ابلاغیات سے جرنلزم میں ماسڑ ڈگری کی ہوئی ہے۔ سیاست او حالات حاضرہ سے متعلق لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.