ایران کا پاکستان پر مداخلت کا الزام - اوریا مقبول جان

افغانستان، ایران اور بھارت، میرے ملک کا ”عظیم“ دانشور، خود ساختہ مؤرخ اور ”عالی دماغ“ تجزیہ نگار اپنی تحریروں اور ٹیلی ویژن پروگراموں میں اپنے تبصروں میں ارشاد فرمائے گا کہ ہم کسی بھی پڑوسی سے اچھے تعلقات استوار کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ ان تمام دانشوروں، مؤرخوں اور تجزیہ نگاروں کی سوئی ضیاء الحق پر اٹکی ہوئی ہے۔ نہ وہ اس سے پہلے کی تاریخ پڑھنا چاہتے ہیں اور نہ ہی اس کے بعد کے حالات کا آزادانہ جائزہ لینا پسند کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک اگر ان کا کوئی بچہ امتحان میں فیل ہو جائے، گاڑی کا ٹائر پنکچر ہوجائے، بیوی چھوڑ کر چلی جائے، بیٹی کو طلاق ہو جائے، ان سب مسائل کی جڑ ضیاء الحق کا دس سالہ دور اقتدار ہے۔ وہ ان سب کے پیچھے بھی اس دور کی پالیسیوں سے کوئی تعلق ضرور ڈھونڈ لیتے ہیں۔ ضیاء الحق کو برا کہنا ہمارے سیکولر اور لبرل طبقے کے اس رویے کی علامت ہے کہ وہ اسلام کو تو برا بھلا نہیں کہتے، لیکن مولوی کو برا بھلا کہہ کر اپنا مقصد پورا کر لیتے ہیں۔ یہاں پر بھی مقصد فوج کو برا بھلا کہنا ہوتا ہے، لیکن جرات اظہار سے عاری یہ طبقہ ضیاء الحق کو گالی دے کر اپنا مقصد پورا کرتا ہے۔

افغانستان اور بھارت کے ساتھ تو ہمارے حالات ہمیشہ سے کشیدہ رہے۔ بھارت کے بارے میں تو کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں، بچہ بچہ جانتا ہے۔ لیکن پھر بھی اس ملک میں بھارت کی محبت میں لوگ اچھلتے تھے، ان کے افکار و خیالات کا رد کرنے کے لیے کسی بحث یا تحریر کی اب ضرورت نہیں۔ نریندر مودی کا ہر نیا دن ان کے دوستی کے جذبات کے منہ پر ایک تھپڑ رسید کرتا ہے۔ البتہ انہیں افغانستان کے حملوں کا جواز ڈھونڈنے کی محنت نہیں کرنا پڑتی۔ سیدھا ضیاء الحق اور افغان جہاد کو اس کا ذمہ دار ٹھہرا دو۔ کس قدر ڈھٹائی سے لوگ ضیاء الحق سے پہلے کی اس تیس سالہ پاکستانی تاریخ کو بھول جاتے ہیں جب پاکستان کا ہر غدار، دشمن وطن افغانستان میں جا کر پناہ لیتا تھا۔ خان آف قلات کے بھائی شہزادہ عبدالکریم نے 1948ء میں الحاق پاکستان کے بعد بغاوت کی، تحریک چلائی تو اسے منظم کرنے کے لیے افغانستان کی سر زمین ملی۔ ساٹھ کی دہائی میں شیر محمد مری جسے ”جنرل شیروف“ کہا جاتا تھا، اس کی کمیونسٹ انقلاب کی طرز کی گوریلا جنگ شروع ہوئی تو اس کی ٹریننگ اور بھاگ کر پناہ حاصل کرنے والوں کا ٹھکانہ افغانستان تھا۔

ستر کی دہائی میں جب ذوالفقار علی بھٹو کی جمہوری آمریت کے دوران سرحد اور بلوچستان کی جمہوری حکومتوں کو برطرف کیا گیا تو بلوچستان میں ایک مسلح بغاوت کا آغاز ہوا جس کا ساتھ سرحد کی خان عبدالولی خان کی نیشنل عوامی پارٹی کی لیڈر شپ نے بھی دیا۔ اجمل خٹک سے لے کر نوجوان یوسف زئی، مینگل اور مری تک سب کے سب افغانستان چلے گئے۔ انہیں وہاں منظم کیا گیا۔ بھارت کے سفیر کو انہیں سرمایہ اور اسلحہ فراہم کرنے کی کھلی اجازت تھی یہ لوگ افغانستان سے بندوقوں، بموں اور بارودی سرنگوں سے لیس ہو کر پاکستان آتے اور قتل وغارت بھی کرتے اور دھماکے بھی، ان کے درمیان ایک انقلابی پروفیسر جمعہ خان صوفی بھی تھا جس نے ”فریب ناتمام“ جیسی کتاب تحریر کرکے سب کچھ بیان کر دیا۔ افغانستان کی سر زمین پاکستان کے خلاف 1948ء سے استعمال ہوتی چلی آ رہی ہے اور میں اپنے دوستوں کو یاد دلا دوں کہ روس وہاں 1979ء دسمبر میں داخل ہوا تھا اور پاکستان میں آنے والے مجاہدین نہیں مہاجرین تھے۔ افغانستان کی وہ کٹھ پتلی حکومت جو گزشتہ تیس سال سے پاکستان کے خلاف سرگرم عمل تھی اور اب روس کی افواج کے بل بوتے پر قائم رہنا چاہتی تھی، یہ مجاہدین اس کے خلاف لڑنے اور اپنے ملک کو آزاد کروانے نکلے تھے۔ دنیا میں موجود تمام عالمی اخلاقی معیارات کے مطابق ایک محکوم قوم کی مدد کرنا حکومتوں، قوموں اور بحیثیت مجموعی انسانوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ لیکن میرے ملک کا یہ دانشور طبقہ اس وقت بھی 1947ء سے قائم افغانستان کی پاکستان مخالف حکومت اور روسی فوج کے ساتھ تھا۔ آج بھی امریکہ اور اس کی قائم کردہ بھارت نواز پاکستان مخالف حکومت کے حق میں بولتا ہے۔

بھارت اور افغانستان کی بحث تو لمبی ہے اس میں جو جس کا کھاتا ہے اسی کا گاتا ہے لیکن یہ ایران کو کیا ہوگیا. شاید عراق اور شام میں اس کے پاسداران کو معصوم مسلمانوں کو قتل عام کے بعد انسانی خون کا چسکا لگ چکا ہے۔ عراق میں بھی امریکی تباہی میں یہ شریک تھے اور عراق کو برباد کر کے یہ اس میں داخل ہوئے اور شام میں ان کی مدد امریکہ اور روس دونوں بیک وقت کر رہے ہیں۔ لیکن پاکستان پر یہ الزام کہ ہماری سرزمین ان کے خلاف استعمال ہوتی ہے، اس پر جو حیرت مجھے ہوئی ہے اور ایران کی سرحد کے قریب بسنے والے ہر بلوچ کو ہوئی ہوگی، وہ ناقابل بیان ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ماسی کی پریشانی - شبیر بونیری

پاکستان کا خطہ اور خصوصاً بلوچستان 1979ء کے ایران انقلاب سے پہلے مسلکی ہم آہنگی کی شاندار مثال تھا۔ محرم کے دن سب کے لیے یکساں احترام اور سوگ کے دن تھے۔ تعزیہ شیعہ برادری کا ہوتا تو جگہ جگہ سبیلیں سنی عوام لگاتے۔ ہر گھر سے اس دن نذر ونیاز دی جاتی اور شہیدان کربلا کے ذکر سے آنکھیں نم کی جاتیں۔ پورے ملک میں سپاہ صحابہ نام کی کسی تنظیم کا وجود تک نہ تھا۔ اسلامی قوانین ایران میں 1979ء میں نافذ ہوئے جو وہاں ہر سنی کے لیے یکساں تھے۔ پورے ایران میں تعزیرات اور عمومی قوانین کے لیے فقہ جعفریہ نافذ کر دی گئی۔ لیکن جب پاکستان میں ضیاء الحق نے زکوٰۃ اور عشر کا قانون نافذ کیا تو ایرانی ایما پر یہاں اس کے خلاف اہل تشیع نے احتجاج شروع کیا۔ اگر یہ معاملہ پاکستان تک رہتا تو ٹھیک تھا لیکن اس احتجاج میں ایران کا سفیر بھی شریک ہوگیا۔ یہ دنیا کے سفارتی آداب کے خلاف تھا، لیکن اس بیرونی مداخلت کے باوجود پاکستان کی حکومت اور عوام اپنے شیعہ بھائیوں کی وجہ سے خاموش رہی۔

1979ء سے پہلے پاکستان میں ایرانی ثقافتی مراکز ہوا کرتے تھے جنہیں خانہ فرہنگ ایران کہا جاتا تھا۔ یہ آج بھی اسی نام سے یاد کیے جاتے ہیں۔ یہ پاکستان میں فارسی شعراء، مولانا روم، حافظ سعدی، جامی اور دیگر کے متوالوں کے لیے ایک علمی مرکز کا کام کرتے لیکن ایرانی انقلاب کے بعد یہ مراکز اس انقلاب کو بیرون ملک برآمد کرنے کا ذریعہ بن گئے۔ آیت اللہ خمینی کی قیادت نے پہلی دفعہ پاکستانی طلبہ کو چار ہزار وظائف جاری کیے تاکہ وہ ایران جا کر آیت اللہ خمینی کے تصور ”ولایت فقیہ“ کے مطابق مذہبی تعلیم حاصل کریں۔ ولایت فقیہہ باقی تمام شیعہ فکر سے کتنا مختلف ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایرانی انقلاب کے بعد تین نعرے لگاتے ہیں 1۔ مرگ بر امریکہ۔ 2۔ مرگ بر اسرائیل۔ 3۔ مرگ بر ضد ولایت فقیہ -

ایران کے انقلاب نے ایرانی معاشرے کو تبدیل کرکے رکھ دیا۔ اس جدید دور میں وہ اسلامی تعلیمات پر مبنی ایک صالح معاشرہ نظرآنے لگا۔ شرعی قوانین کے نفاذ نے اس فسق و فجور سے بھرے ماحول کو پاک کر دیا۔ وہ تہران جس کی گلیوں، بازاروں ، کلبوں، شراب خانوں، اور ناچ گھروں سے مغرب کے تمدن کا گمان ہوتا تھا۔ وہاں اللہ اکبر کی صدائیں گونجنے لگیں۔ صرف شرعی قوانین کا نفاذ ہی نہیں بلکہ کا رپوریٹ کلچر کو ایسا کچلا گیا کہ نہ وہاں کوئی عالمی فوڈ چین تھی اور نہ ہی کوئی فائیو سٹار ہوٹلوں کے نام نظرآتے تھے۔ شاہ ایران کے زمانے کا حیات ریجنسی اب ہوٹل برزگ آزادی کہلاتاتھا اور بلٹن کو ہوٹل استقلال کا نام دے دیا گیا۔ پوری ایرانی قوم جسے فرانسیسی تہذیب میں رنگ دیا گیا تھا اور فارسی زبان میں بھی فرانسیسی الفاظ سرایت کرچکے تھے، وہاں نصاب تعلیم اور ذریعہ تعلیم کو ڈھال کر ایک ایسا کمال کیا کہ آج ایرانی قوم تعلیم و سائنس و ٹیکنالوجی میں دنیا بھر میں اپنا لوہا منوا چکی ہے۔ انہوں یہ گُر جان لیا تھا کہ قومیں صرف مادری زبان میں علم حاصل کرتے ترقی کرتی ہیں، فارسی زبان چونکہ اس پورے خطے کے اسلامی معاشرے کی زبان ہے اور صدیوں سے مذہبی کتب اسی میں تحریر کی جاتی رہی ہیں، اس لیے اس زبان کو اہمیت دینے سے ایران میں قدیم اسلامی فن خطاطی نے دوبارہ عروج پکڑا۔ وہ ایرانی قوم جس کی شاعری اور نثر مغرب سے متاثر ہوچکی تھی، اس میں حافظ، سعدی، جامی اور رومی واپس آگئے۔

ولایت فقیہ کا تصور ہی بہت جاندار تھا۔ اس نے ایرانی قوم میں ایک نئی روح پھونک دی۔ اس تصور کے عام ہونے سے پہلے ایرانی ایک انتظار کرتی ہوئی قوم تھی جو امام غائب اور مہدی منتظر کی راہ دیکھ رہی تھی کہ وہ آخرالزمان میں آکر زمام اقتدار سنبھالیں گے اور شریعت کا نفاذ کریں گے، لیکن آیت اللہ خمینی نے یہ تصور دیا کہ ہمیں اپنے عہد اور اپنی زندگی کا بھی اللہ کے سامنے جواب دینا ہے، اس لیے جو مرجع ہوتا ہے وہ امام غائب کا نائب ہوتا ہے، اور اسے اقتدار ہاتھ میں لے کر معاشرے میں شریعت مطہرہ کو نافذ کرنا چاہیے۔ اس تصور نے ایرانی قوم کو ایک نئی زندگی دے دی۔ کامیاب انقلاب نے انہیں ویسے ہی بہت پُراعتماد کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مذہب پر سیاست کا غلبہ - شاہنواز فاروقی

لیکن اس انقلاب کے دوران ایک تصور بہت زور و شور سے عام ہوگیا تھا کہ ہمیں اس انقلاب کو پوری امت مسلمہ میں پھیلانا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ شاہ ایران کے خلاف تحریک مذہبی قیادت اور کمیونسٹ پارٹی کے زیراثر گروہوں نے مل کر چلائی تھی۔ اول اول تو یوں لگتا تھا کہ ایران میں دوبارہ مصدق والا انقلاب آنے والا ہے۔ سارے وہی طریقے اختیار کیے گئے جو گوریلا جنگ سے لے کر عوامی مظاہروں تک کمیونسٹ جدوجہد میں عام سمجھے جاتےتھے، اور اختیار کیے جاتے تھے۔ انقلاب آنے کے بعد یہ سوچ قیادت میں عام ہوگئی کہ جس طرح روس نے دنیا بھر میں کمیونسٹ پارٹیاں بنوا کر اور گوریلا جدوجہد بلکہ بعض جگہ تو فوجی انقلاب کے ذریعے کمیونزم نافذ کیا ہے، ایرانی انقلاب کو بھی ویسے ہی اسلامی دنیا میں پھیلایا جا سکتا ہے۔ یہ وہ عظیم غلطی تھی جس نے خطے میں ایرانی مداخلت کو راہ دکھائی۔

کمیونسٹ انقلاب اور ایران کے انقلاب میں ایک بہت بڑا فرق تھا، جسے ایرانی قیادت نہ سمجھ سکی۔ وہ یہ کہ کمیونسٹ پارٹیاں بلا تفریق مذہب بنتی تھیں اور ان سب کا ”پیغمبر“ کارل مارکس تھا، ”مقدس کتاب“ داس کیپٹل اور ”شریعت“ اور کمیونسٹ مینی فیسٹو میں درج تھی۔ جو بھی اس پارٹی میں آتا، وہ وہ کمیونسٹ طریق انقلاب پر ایمان لے کر آتا۔ اپنے گزشتہ مذہبی عقائد کو پسِ پشت ڈال دیتا۔ لیکن ایران کو تو چاروں جانب مسالک کا سامنا تھا۔ پوری امت چودہ سوسال سے ان میں تقسیم تھی۔ آغاز میں ایرانی قیادت نے اردگرد کے ممالک کے سنی علماء اور دانشوروں سے رابطے قائم کیے۔ ویسے بھی ایران کے کامیاب انقلاب کے بعد یہ سب لوگ اس معاشرتی تبدیلی سے بہت متاثر تھے۔ رابطے کی حد تک تو ٹھیک تھا لیکن اپنے اپنے ممالک میں ایک ایسی تنظیم قائم کر کے اسلامی انقلاب کی جدوجہد کرنا بہت مشکل تھا۔ یہاں سے وہ راستہ چنا گیا جس نے پوری مسلم امت میں پہلے سے موجو د تقسیم کو مزید واضح کر دیا۔ ایران نے اپنے اردگرد ممالک میں موجود اپنے ہم مسلک افراد کو منظم کرنا شروع کر دیا۔ بحرین، کویت، یمن، عراق اور لبنان میں گروہ منظم ہونے لگے۔ لبنان کی خانہ جنگی میں حزب اللہ کی صورت میں ایک طاقتور فوجی طاقت بنانے میں ایران نے بھرپور کردار ادا کیا اور آج وہ اقلیت میں ہونے کے باوجود لبنان پر تسلط رکھتی ہے۔

اسی طرح پاکستان میں بھی ہوا۔ حیرت کی بات ہے کہ صرف بیس سال قبل پاکستان کی دستور سازا سمبلی میں ہر مسلک اور مکتبہ فکر کے علماء جن میں ممتاز عالم دین مفتی جعفرحسین بھی شامل تھے، انہوں نے متفقہ طور پر نفاذ اسلام کے لیے بائیس نکات پر دستخط کیے تھے، ایرانی انقلاب کے بعد ایک اقلیتی فقہ کے نفاذ کا مطالبہ کرنے لگے۔ یہی وہ دور تھا جب 1985ء میں کوئٹہ کا سانحہ ہوا لیکن چند گھنٹوں بعد ہی یہ احساس ہوگیا کہ ہمیں غلط راستے پر ڈال دیا گیا تھا، کیونکہ جب کوئٹہ میں فوج بلائی گئی، کرفیو لگا تو ”ہزارہ“ کمیونٹی بہت جلد ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوگئی۔ لیکن وہ ”انقلابی“ روح جو ان میں بھر دی گئی تھی، وہ انہیں چین نہیں لینے دیتی تھی۔ علامہ عارف الحسینی کے اندوہناک قتل کے بعد ایک بار پھر فساد پھوٹے، دکانوں کو آگ لگائی گئی، مگر حالات پر قابو پالیاگیا، کوئی بہت بڑا سانحہ نہ ہوسکا لیکن اس صورت حال نے ایک خطرناک ماضی کو زندہ کردیا۔ ہزارہ قوم افغانستان میں صدیوں سے آباد تھی۔ وہ پشتونوں کے ساتھ مل کر رہ رہی تھی۔ افغانستان میں امیر عبدالرحمن کی حکومت تھی۔ اس کے خلاف اس کے بھائی محمد اسحاق نے بغاوت کا آغاز کیا تو ہزارہ قوم شیخ علی ہزارہ کی سربراہی میں بغاوت کے ساتھ ہوگئی۔ جنگ سخت ہوئی تو امیر عبدالرحمن نے فتح قائم کرنے کے لیے اسے مسلکی رنگ دے دیا اور پورے افغانستان کو ہزاروں کے خلاف متحد کر لیا۔ قبائلی عصبیت کو جب مسلک کا تڑکا لگا تو اس نے ایسی خونریزی کو جنم دیا جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ یہ 1888ء کی بات تھی اور کوئٹہ میں بسنے والے پشتونوں اور ہزاروں، دونوں کو وہ سب کچھ دیا تھا۔ یہ یاد دوبارہ زندہ ہوگئی اور کوئٹہ میں پہلی دفعہ قبائلی اختلاف کو مسلکی اختلاف کا تڑکا لگا دیا گیا۔ (جاری ہے)