برکت کا فلسفہ - حنا تحسین طالب

جب وہ چھوٹا تھا تو اسے اماں کا یہ برکت والا فلسفہ کبھی سمجھ نہ آتا. ایک دن منہ بسورتا ہوا اماں کے پاس جا کھڑا ہوا:
”اماں! آپ تو کہتی ہیں کہ جو کام اللہ کا نام لے کر شروع کیا جائے، اس میں برکت ہوتی ہے، دیکھیں میں نے اللہ کا نام لے کر پرچہ کھولا، پھر بھی اس قدر مشکل سوالات تھے، بمشکل ہی اتنا حل کر پایا کہ پاس ہو جاؤں.“

اماں نے مسکراتے ہوئے اسے اپنے پاس بٹھایا اور بولیں ”بیٹا! اللہ کا نام لینے کا مطلب محض زبان سے چند الفاظ کی ادائیگی نہیں ہے، اللہ کا نام لینے کا مطلب ہے، اللہ کو یاد کرنا، اور جب انسان کسی بھی کام کی ابتداء اللہ کی یاد سے کرتا ہے تو ناممکن ہے کہ وہ دیانت سے کام نہ کرتے ہوئے کام چوری دکھائے، کیونکہ پوری ایمانداری سے صحیح سمت کوشش کرنا ہی اللہ کو مطلوب ہے، جو اللہ کا نام شعور سے لے گا، اس کو یقین ہوگا کہ اللہ ہر وقت اور ہر حال میں مجھ سے باخبر ہے، جب یہ یقین ہو کہ کوئی مجھے دیکھتا ہے تو محنت بھی ہوگی اور کام خود ہی احسن طریقے سے ہوگا.“

کیا تم نے پرچے کے لیے مطلوبہ تیاری کی تھی؟
پھر اس دن کے بعد سے اس نے کوئی جائز کوشش نہیں چھوڑی.

جب اس نے عملی زندگی میں قدم رکھا تو اکثر اپنے اردگرد کے لوگوں کو دیکھ کر وہ حیران رہ جاتا کہ اس سے بہت کم محنت کرنے والے، اپنا کام دیانت داری سے نہ کرنے والے اس کے ساتھی، جن کی اکثریت رشوت خور بھی تھی، اس سے زیادہ پر آسائش زندگی گزار رہے تھے.
وہ پھر اماں کے سر ہوگیا،
اماں! اللہ کا نام لینے کا لازمی نتیجہ دیانتداری سے اپنا کام کرنا ہے، تبھی برکت کا حصول ممکن ہے، تو جو لوگ سرے سے اللہ کے نافرمان ہیں، حرام کماتے اور کھاتے ہیں، انھیں اتنی نعمتیں کیسے ملتی ہیں؟ ان کی زندگی میں اس قدر برکت کیسے ممکن ہے؟

اماں حیرانی سے اسے دیکھ کر بولیں، میرے بیٹے! تو برکت کسے سمجھتا ہے؟ دولت کی ریل پیل کو؟
بیٹا! بڑے گھر، اولاد، بہترین سواری اور بھری ہوئی تجوریاں برکت نہیں ہوتیں.
پھر؟ پھر برکت کسے کہتے ہیں؟ وہ چونکا.
برکت رزق کی ظاہری زیادتی کو نہیں، کفایت کو کہتے ہیں.
ہر وہ چیز مبارک ہے جس میں خیر الہی کا پہلو شامل ہو، جس میں غیر محسوس طریقے سے زیادتی ہو.
جب ایک کا کھانا دو کو کافی ہوجائے، ایک پیالہ دودھ کئی لوگوں کو شکم سیر کردے تو یہ برکت ہے.

کچھ لوگوں کی نیت و پیٹ من و سلوی کھا کر بھی نہیں بھرتا اور جب سوکھی روٹی کے چند ٹکڑے بھی سیر کردیں تو یہی برکت ہے. دریا جو پیاس نہ بجھا سکے، اس کے مقابلے میں وہ دو گھونٹ بابرکت ہیں جس کا ایک گھونٹ صدقہ کر کے بھی انسان محض ایک گھونٹ سے سیراب ہو جائے. کم مال بھی تجھے اللہ کے سوا ہر ایک سے غنی کر دے، تجھے کافی ہو جائے تو یہ برکت ہے.

حرام کی سو لذتیں دسترس میں ہونے کے باوجود، حلال کے ایک ذریعے سے تسکین حاصل کرنا، اس پر خوشی و اطمینان نصیب ہونا اور مزید کی طلب نہ ہونا برکت ہے.
کثیر اولاد جو نافرمان و نالائق ہو، اس کے مقابلے میں ایک فرمانبردار اور صالح بچہ جو آنکھوں کی ٹھنڈک ہو، وہ مبارک ہے.
مختصر عمر میں بھی ایسے بڑے اور اچھے کام کر جانا جو لوگ لمبی لمبی عمریں پا کر بھی نہیں کر پاتے.
بیٹے! برکت تو دل کا غنی ہو جانا بھی ہے، جس میں اپنے کم رزق پر بھی اطمینان و خوشی اور دوسرے کے خزانے سے بھی بےنیازی ہوتی ہے.

کبھی ان لوگوں کی زندگی قریب سے دیکھی ہے؟ اللہ دنیاوی نعمتوں کی فراخی کے باوجود ان کی زندگی ان پر تنگ کر دیتے ہیں.
برکت خیر کا غیر محسوس طریقے سے اکھٹا ہونا ہے، مگر بد دیانتوں کے مال و متاع میں خیر کے بجائے شر ہوتا ہے.

اس کے ذہن کی سکرین پر وہ سارے منظر کسی فلم کی طرح چلنے لگے جو اس نے اپنے ساتھیوں کی زندگی میں گاہے بگاہے دیکھے تھے.
بدتمیزی کرتی، بے راہ روی میں مبتلا اولاد، سرکش و فضول خرچ بیویاں.
سکون کے حصول کے لیے شراب نوشی و دوسرے غلط کاموں میں مبتلا ہونا.
گھر جو سکون کا گہوارہ ہوتا ہے، اسی مسکن سے فرار.
نعمتوں کی فراوانی کے باوجود نیتوں کی ایسی بھوک جو ختم ہونے میں نہیں آتی.
ایسی پیاس جو حلال کے ٹھنڈے چشمے سے کبھی نہیں بجھتی.
وه خوف جو حرام کاریوں کے باعث انھیں سکون سے سونے نہیں دیتا.
پرفریب زندگی جیسے عام دھات پر سونے کا پانی چڑھا دیا جائے.

ساتھ ہی اسے اپنی زندگی کی چھوٹی چھوٹی مگر سچی خوشیاں یاد آگئیں.
چھوٹا مگر صاف ستھرا پرسکون گھر، جہاں قدم رکھتے ہی پورے دن کی تھکن دور ہو جاتی تھی. ایسا گھر جس کے مکینوں کے دل اللہ کی یاد سے سکون پاتے تھے.
ایک دوسرے سے محبت اور احساس کا گہرا رشتہ.
ایک کی تکلیف پر دوسرے کا تڑپ اٹھنا.
اماں کے ہاتھ کے خوش ذائقہ کھانے جو کسی فائیو سٹار ہوٹل کے کھانے سے زیادہ لطف دیتے.
کم رزق پر بھی نیتوں اور شکم کا سیر ہونا، اپنے رزق میں دوسروں کو شریک کرنا.
اپنی زندگی پر مطمئن اور خوش رہنا.
اس کی زندگی میں برکت ہی برکت تھی.
اس نے خوشی و سکون محسوس کرتے ہوئے اللہ کی حمد کی اور پھر سے اللہ کا نام لے کر پوری دیانتداری سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے تیار ہوگیا.

Comments

حنا تحسین طالب

حنا تحسین طالب

حنا تحسین طالب کا تعلق کراچی سے ہے۔ درس و تدریس کے شعبے سے وابسته ہیں۔ بنیادی طور پر سپیکر ہیں اور اسی کو خاص صلاحیت سمجھتی ہیں۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.