میں، میری ماں اور محبت - عثمان حبیب

میری سماعت سے جب لفظ " ماں " ٹکراتاہے، دل ودماغ میں پیار کا دریا موجزن ہونے لگتاہے۔ میں جب بھی "اماں" کو دیکھتاہوں، دنیا کا ہر پیار، دنیا کی ہرمحبت، چاہت اور لذت بھول جاتاہوں۔ مجھے اپنی"اماں" کی آواز، دنیاکے ہرنغمے، ہرسُر، ہرسازاور ہر آواز سے پیاری لگتی ہے۔ اماں جب مسکراتی ہیں اس سمے یہ دنیا مجھے جنت لگتی ہے!اماں کو دیکھتاہوں تو آنکھیں ٹھنڈی ہونے لگتی ہیں۔ اماں کی آواز سنتاہوں تو سماعت میں شیرینی گھولنے لگتی ہے۔ "ماں" پکاروں تو فرطِ محبت اور عقیدت میں لب چمٹ جاتے ہیں۔ آج بھی جب ماں کی گود میں سررکھتاہوں، بے پناہ سکون محسوس کرتا ہوں۔ کبھی کبھار پوچھ بھی لیتاہوں کہ اماں آخر آپ نے گود میں ایسا کیا رکھا ہے، جب بھی سر رکھتاہوں، دنیا کا ہر غم، ہر دکھ، ہردرد اور ساری ٹینشن بھول جاتاہوں؟جواب میں پیاری اماں بالوں میں ہاتھ پھیر کربس ہلکے سے مسکراجاتی ہیں!

باہر سے آکر، ماں کو نہ پاکر ایسا محسوس ہوتاہے جیسے کوئی قیمتی چیز کھوگئی ہو۔ عجیب سی بے چینی گھیرلیتی ہے۔ تھکاہارا جب بھی گھرآتاہوں، ماں کی ایک مسکان، ایک پیار بھری نظرسب تھکان دور کردیتی ہے جیسے کبھی تھکان دیکھی ہی نہ ہو!!

اماں مجھے اس وقت بھی نہ بھولی جب ان کے ابا انہیں چھوڑکر آخرت کوسدھارگئے تھے۔ اس شدید غم کی کیفیت میں بھی اماں نے مجھے یاد رکھاتھا۔

امی کی روٹین ہے عصر کی نماز کے بعد مجھے سبزچائے پلانے کی۔ جس دن ان کے ابافوت ہوگئے اس دن شام کو میں گھر میں تھا تو بھائی کو بھیجا کہ جاکر عثمان کے لیے چائے بناکر آجاؤ اس ٹائم وہ سبز چائے پیتاہے۔ اس وقت میرے آنسو تھے کہ تھمتے ہی نہیں تھے!!!

آج بھی جب حوادث کا سامنا ہوتا ہے، پریشانیوں سے ذہن منتشر ہوتا ہے تو اسی کے ہاتھوں کو چومتا ہوں۔ اور اپنی جنت میری ماں کے قدموں میں بیٹھ جاتا ہوں تو جنت کی خوشبوئیں اور ہوائیں ذہن کو معطر اور ترو تازہ کردیتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   والدین اور بیوی میں اختلاف کی صورت کس کی مانے؟ - حافظ محمد زبیر

"ماں" جو قدرت کا انمول تحفہ ہے -"ماں" جو بے لوث محبت کا استعارہ ہے-"ماں" جس کے دم سے کائنات میں رنگ ہے-"ماں" جس کے بغیر قوس قزح کے سارے رنگ پھیکے ہیں۔ چاند کی ٹھنڈی چاندنی، ستاروں کی تابانی، دریاؤں کی روانی، پھول کی خوشبو، سمندروں کی گہرائی، کائنات کی پہنائی اور دھنک کے سارے رنگ ملے تو " ماں کی ممتا "وجود میں آئی۔ بلکہ میں توکہتاہوں کائنات کے سارے رنگ ماں سے ہیں، ماں نہیں تو کچھ بھی نہیں !

میرے لیے "ماں"کی محبت شہد سے زیادہ میٹھی، بادِ صبا سے زیادہ سبک، پانی سے زیادہ نرم، پھلوں سے زیادہ رسیلی، گلاب سے زیادہ خوشبودار، تتلی سے زیادہ خوش رنگ اور گھنےدرخت سے زیادہ سایہ دار ہے۔ رب کائنات نے بھی تو اپنی محبت بیان کی تو "ماں"کی محبت کو بطور مثال ذکر فرمایا۔

دنیا میں ماں کہ محبت ہی وہ واحد محبت ہے جو بے غرض، بے لوث اور کسی بھی مفاد سے بالاتر ہوتی ہے! اسی محبت کی خاطر تو اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ماں کے قبر سے لپٹ کر روئے تھے!

ماں جو سراپا محبت ہیں۔ جو بے لوث محبت کا استعارہ ہیں۔ جنت جن کے قدموں تلے رکھ دیا گیاہے۔ جو میرے لیے پھل دار اور سایہ دار درخت ہیں۔ شاعر نے تمنا کی ہے کہ ؎

میری خواہش ہے کہ میں پھر سے فرشتہ ہوجاؤں
ماں سے اس طرح لپٹ جاؤں کہ بچہ ہوجاؤں

شاعر کی تو تمنا ہے، پر میں آج بھی ماں کے لیے بچہ ہوں۔ میں آج بھی ماں سے لپٹتاہوں۔

ٹیگز