آدھے چاند کا کیمپ - علی عبداللہ

برلن سے 50کلومیٹر دور جنوب کی جانب ونزڈورف نامی ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔ یہاں کی آبادی 2485 نفوس پر مشتمل ہے اور یہ مختلف ممالک سے آئے ہوئے پناہ گزینوں کی پناہ گاہ بھی ہے ۔ چونکہ جرمنی نے 10 لاکھ لوگوں کو پناہ دے رکھی ہے اس لیے یہاں بھی ایک پناہ گزین کیمپ موجود ہے۔ ونزڈورف تاریخی طور پر بہت اہمیت کا حامل ہے اور اس کی وجہ شہرت ہے جرمنی کی وہ پہلی مسجد جو یہاں بنائی گئی تھی۔ یہ اس منصوبے کا حصہ تھی جس میں مسلمان قیدیوں کو جنگ عظیم اول میں جرمنی کی جانب سے لڑنے کے لیے باقاعدہ تیار کیا گیا تھا۔

جنگ عظیم اول کا آغاز ہوتے ہی میکس وون نے جرمنی کے حکمران ولیم دوم کو ایک خفیہ منصوبہ پیش کیا جس میں کہا گیا تھا کہ جنگ میں جرمنی کی ممکنہ فتح کے لیے ان مسلمان قیدیوں کو بھی شامل کرنا چاہیے جو مختلف ملکوں سے قید ہو کر آئے تھے۔ 1914 میں ولیم دوم نے لکھا کہ " برطانیہ کے خلاف جنگ میں اسلام ہمارا ایک اہم ہتھیار ہو گا"۔ اس منصوبے کو مزید تقویت عثمانی سلطنت کے بادشاہ محمد پنجم نے دی جب انہوں نے فرانس روس اور برطانیہ کو اسلام دشمن قرار دے کر مسلمانوں کو ان کے خلاف لڑنے کی ترغیب دی۔ اسی سال ونز ڈروف میں ایک قیدی کیمپ بنایا گیا جو "آدھے چاند کا کیمپ " کہلاتا تھا۔ یہاں پر 5000 قیدیوں کو رکھا گیا جن میں بیشتر مسلمان تھے۔ یہ قیدی جرمنی کے خلاف اس اتحاد کا حصہ تھے جن میں ہندوستان،روس اور دیگر افریقی کالونیاں شامل تھیں۔

ونز ڈروف میں آنے والے ان قیدیوں کے ساتھ نہایت اعلیٰ سلوک روا رکھا گیا اور انہیں مکمل اسلامی طرز حیات اپنانے کی تلقین بھی کی گئی۔ اس کیمپ میں قیدیوں کے لیے ایک مسجد تعمیر کی گئی جس میں باقاعدہ پانچ وقت کی نماز ادا کی جاتی تھی۔ اس مسجد کا افتتاح رمضان 1915 میں کیا گیا اور یہ جرمنی کی پہلی باقاعدہ مسجد سمجھی جاتی ہے۔ فری یونیورسٹی برلن کے پروفیسر "رینہارڈ برن بک " کے مطابق یہ جرمن خود ہی تھے جو ان قیدیوں کی عبادات اور دیگر سرگرمیوں پر نظر رکھتے تھے۔ جرمن اس بات کو یقینی بناتے کہ قیدی پانچوں وقت کی نماز پڑھیں اور دیگر اسلامی اصولوں پر بھی کاربند رہیں۔ اس مسجد میں قیدیوں کی روحانی تربیت کے لیے تونس کے شیخ صالح الشریف کو مقرر کیا گیا جو عثمانی سلطنت کی انٹیلی جنس کے لیے بھی اپنی خدمات دے چکے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   وہ ترکی جسے فرانس اور جرمنی مرد بیمار کہتا تھا آج اسکے ایک سیلوٹ سے خوفزدہ ہے -

قیدیوں کے لیے ایک پروپیگنڈا اخبار " الجہاد" بھی بانٹا جاتا تھا تاکہ قیدی جرمن مخالف اتحاد کے خلاف لڑنے پر آمادہ ہو سکیں۔ مسجد کو خطاطی کے ذریعے خوبصورت بنایا گیااور ایسی آیات و تشریحات لکھی گئیں جس کا مقصد قیدیوں کو باور کروانا تھا کہ جرمنی کا ساتھ دے کر برطانیہ اور فرانس کے خلاف لڑنا درحقیقت جہاد ہے۔ ترکی کے جرمنوں کے ساتھ اتحاد نے قیدیوں کے ذہنوں کو بدلنے میں مزید مدد دی۔

اس منصوبے پر عمل درآمد سے 3000 قیدی جرمن فوج میں بھرتی ہوئے جنہیں مشرق وسطیٰ،شمالی افریقہ اور دیگر جنگی محاذوں میں بھیجا گیا لیکن ان میں سے بہت کم لوگوں نے جہادی مقصد کے ساتھ جرمنی کا ساتھ دیا اور بہت جلد ان فوجیوں نے واپس قیدی کیمپ میں آنے کا اصرار شروع کر دیا۔ نتیجتاً تمام کوششیں بیکار رہیں اور جرمنی کو کوئی خاطر خواہ فائدہ نہ ہوا بلکہ مسجد اپنے افتتاح کے بعد 15 سال کے اندر ہی منہدم کر دی گئی۔ 1917 میں زیادہ تر قیدیوں کو رومانیہ بھیج دیا گیا اور یوں ونزڈورف میں مسلمانوں کی تعداد کافی کم ہو گئی۔

لیکن اس قصبے کی اہمیت ہر دور میں موجود رہی۔ 1931 سے 1945 تک یہ علاقہ جرمن ہائی کمان کا گڑھ رہا اور جنگ عظیم کے خاتمے سے لے کر 1994 تک یہ علاقہ سوویت افواج کا ہیڈ کوارٹر بنا۔ تقریباً35000 روسی فوجی اپنے خاندانوں سمیت یہاں رہائش پذیر رہے جس وجہ سے مقامی لوگوں میں اسکا نام " لٹل ماسکو" مشہور ہو گیا۔ آجکل ایک بار پھر یہ علاقہ خبروں کی زینت ہے اور اس کی بنیادی وجہ مقامیوں کی جانب سے پناہ گزینوں پر حملے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ کیمپ ٹھیک اسی جگہ موجود ہے جہاں جنگ عظیم اول کے قیدیوں کے لیے آدھے چاند کا کیمپ بنایا گیا تھا۔

ونزڈروف کی تاریخی اہمیت اپنی جگہ لیکن اگر مسلم امہ اسی طرح اوروں کے سیاسی اور فوجی مقاصد کے لیے مذہب کو پیش کرتی رہی تو کچھ بعید نہیں کہ ہمارے اپنے لوگ مذہب سے بیزار ہو جائیں اور مذہب کو ایک ثانوی حیثیت دے کر اس سے کنارہ کشی اختیار کر لیں۔ ماضی میں کئی دفعہ ایسا ہو چکا ہے کہ دشمن طاقتوں نے اپنے سیاسی اور جنگی مفادات کو جہاد کا نام دے کر مسلم دنیا کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا اور مسلم امہ کے میر کارواں اتنے معصوم تھے کہ وہ ہر بار ان شاطرانہ چالوں میں پھنس کر اپنے ہی قافلوں کو رہزنوں کے حوالے کر تے رہے۔ تاریخ کے آئینوں میں دشمن قوتوں کے اصل چہرے دیکھ کر اب مسلم امہ کو سنبھل جانا چاہیے اور ہر اس فیصلے سے محتاط رہنا چاہیے جس سے ماضی کی طرح اسلام اور اسلامی اقدار متاثر ہونے کا خدشہ ہو ۔