چھوٹے بچے کو کیسے سنبھالیں؟ نیر تاباں

خوراک:
ماں کے دودھ سے بڑھ کر نوزائیدہ بچے کے لیے کوئی بہترین غذا ممکن نہیں۔ اچھے سے اچھا فارمولا ملک بھی بچے کے لیے اتنا بہترین نہیں ہو سکتا جتنا اللہ نے ماں کے دودھ کو بنایا ہے۔ پہلے چھ ماہ کی غذائی ضرورت کا انتظام تو یوں اللہ نے کر کے بھیجا ہے۔ اس کے بعد جب ٹھوس غذا شروع ہو تو چینی کی عادت بچوں کو نہ ڈالیں۔ میٹھا کرنے کے لیے خالص شہد یا کھجور استعمال کریں۔ کھجوروں کو food processor میں ڈال کر ایک ہی بار پیسٹ بنا کر شیشے کے برتن میں ڈھکن لگا کر فریج میں رکھیے، وہ خراب نہیں ہوں گی۔ جب بھی ضرورت ہو، چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیجیے۔ بڑے بچوں کے ملک شیک میں بھی ڈال دیجیے۔ مٹھاس کے ساتھ اضافی غذائیت کے لیے کھجور بہترین ہے۔

بازار سے سرے لیک نہ خریدیں۔ اس کے بجائے گھر میں سوجی بنا لیں۔ یا ایک کپ چاول دھو کر بھگو دیں۔ چند گھنٹے بعد پانی چھان کر چاولوں کو ہاتھ سے رگڑ کر باریک کر لیں۔ ٹرے میں بچھا کر خشک کر لیں۔ جب چاہیے ہو تھوڑا سا فٹا فٹ ابال لیں۔ پانی کی بجائے دودھ یا مٹن کی یخنی زیادہ بہتر ہے۔ اس کے علاوہ جو بھی پھل، سبزی، گوشت، انڈہ گھر میں موجود ہو، وہ بچے کو دیں۔ سخت سبزیاں یخنی میں ابال کر دے دیں۔

پاکستان میں رہنے والے آم، سیب وغیرہ اور پاکستان سے باہر والے مختلف طرح کی berries کو ہلکی آنچ پر اتنا پکائیں کہ پھل کا پانی خشک ہو جائے، پھر بلینڈ کر کے تھوڑا سا شہد ملا لیں۔ ٹھنڈا ہونے پر کسی شیشے کے جار میں ڈھکن لگا کے رکھ لیں۔ بازار سے fruit yogurt کے نام پر چینی اور آرٹیفیشل فلیور خریدنے کے بجائے گھر میں ہی دہی میں ملا کر دیں۔ بڑے بچوں کی smoothie یا ملک شیک میں بھی ملا لیں۔ چاہیں تو آئس کیوبز جما لیں اور ziplock بیگ میں محفوظ کر لیں۔

مائیکرو ویو اوون سے پرہیز:
مائیکرو ویو سے یوں بھی بچنا ہی بہتر ہے لیکن بچوں کے لیے تو بالکل ہی پرہیز کریں۔ مائیں پلاسٹک کی بوتل میں دودھ ڈال کر اوون میں رکھ دیتی ہیں۔ دھونے کے لیے ایک برتن کی بچت کے چکر میں بچے کی صحت پر سمجھوتہ نہ کریں۔ گوگل پر مائیکوویو اوون کے نقصانات آپ خود سرچ کر سکتے ہیں۔ کھانے میں موجود غذائیت ان لہروں کی وجہ سے بہت کم ہو جاتی ہے، اور جب برتن پلاسٹک کا ہو تو الٹا نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔

ڈائیپرز:
جب میرا بیٹا پیدا ہوا تو پہلے دن سے ہی ایک احساس ہوا کہ اس کو گندگی میں کیوں رہنے دوں۔ وہیں سے ڈھونڈنا شروع کیا کہ کیا متبادل ہو سکتا ہے۔ EC یعنیElimination communication سامنے آئی۔ ECing کیا ہے، اگر گاؤں میں رہنے والی ایک بوڑھی اماں مجھے بتاتیں تو میں ان سے کہتی ”اماں جی، ہن اینج دا ویلا نئیں رییا، انسان نوں زمانے دے نال چلنا پیندا اے۔“ لیکن ہوا کچھ یوں کہ یہ ساری معلومات میں گوگل پر جدید ریسرچ کی شکل میں حاصل کر رہی تھی اور کینیڈا جیسے ملک میں رہتے ہوئے بھی اس پر عمل کرنا تھا۔ قصہ مختصر، کرنا آپ کو یہ ہے کہ چھوٹے بچے کی پشت اپنے سینے سے لگا کر اسے اٹھائیں، پھر اپنا اوپر اور نیچے والا دانت جوڑ کو ”سسسسسس“ کی آواز نکالیں۔ جی، بالکل ایسے ہی جیسے آپ نے ابھی کوشش کی! ? یقین کرنا شاید مشکل ہو لیکن میں نے اپنے دو ہفتے کے بیٹے کے ساتھ اس طریقے میں کامیابی حاصل کی ہے اور چار ماہ کا بچہ ایک نیند سے دوسری نیند تک بغیر ڈائیپر کے، بغیر بستر گیلا کیے رہتا تھا۔ بچہ جیسے ہی نیند سے جاگے، اسے فوراً باتھ روم لے جائیں۔ شروع میں ایک دو ”ایکسیڈنٹ“ ہونے سے آپ کو پتہ چل جائے گا کہ بچے کی حاجت میں درمیانی وقفہ کتنا ہے۔ فرض کریں نوزائیدہ بچے کے لیے یہ وقفہ 45 منٹ کا ہے تو الارم لگا لیں اور اس کو 35 منٹ کے بعد ہی باتھ روم لے جائیں۔

ریسرچ کے دوران یہ بھی پتہ چلا کہ ایک ڈائیپر ماحول کو 500-300 سال تک آلودہ رکھتا ہے۔ اور دو سال تک جب ہم بچوں کو ڈائیپر میں رکھتے ہیں تو ہزاروں ڈائیپر تو صرف ہم ہی پھینک دیتے ہیں۔ ذرا گنیں تو! ایک بچے کے روزانہ، ماہانہ، پھر سالانہ، پھر دو سال کے ڈائیپر کتنے ہوئے اور آپ کے جتنے بچے ہیں، ان کے کل ملا کر کتنے ڈائیپرز ہوئے؟ ماحول پر اتنا بوجھ نہ بنیں۔ کپڑے کا ڈائیپر پہنائیں جس میں 100 فیصد کاٹن استعمال کریں۔ بنیان اور پتلے تولیے والا کاٹن سب سے جاذب ہوتا ہے۔ اس پر nappy liner رکھ لیں تو کہ بوقتِ ضرورت اس کو flush میں بہا دیا جائے۔ جلد سے جلد بچے کو اس سے بھی آزاد کریں۔ نہ وہ غلاظت میں رہے، نہ آپ کے ہاتھ گندے ہوں، نہ ڈائیپر ریش کے مسائل، اور نہ ہی ماحول پر ایسا بوجھ کہ ہماری آنے والی نسلوں تک وہ غلاظت وہیں رہے۔

دوائیاں:
کوشش کریں کہ چھوٹے بچوں کو قدرتی دوائیں ہی دیں۔ کھانسی کے لیے شہد میں پسی ہوئی دارچینی ملا لیجیے اور چند قطرے سیب کا سرکہ۔ ہر چار گھنٹے کے بعد باقاعدہ دوائی کی طرح ایک چمچ دیجیے۔ اور جب بھی کھانسی آنے لگے، فوراً چٹا دیں۔ پانی اور تازہ جوس زیادہ پلائیں۔ بچے کو ذرا سا بیمار ہونے پر فوراً دوا دینے سے اس کا immune system مضبوط نہیں ہوتا اور پھر وہ بار بار بیمار پڑتا ہے۔ اس کے جسم کو ٹھیک ہونے کے لیے خود لڑنے دیں۔ بخار کے لیے بھی فوراً دوا نہ دیں۔ کپڑے ڈھیلے پہنا دیں، کم کر دیں۔

Comments

نیر تاباں

نیر تاباں

نیّر تاباں ایک سلجھی ہوئی کالم نگار ہیں - ان کے مضامین دعوتِ فکر و احتساب دیتے ہیں- بچّوں کی نفسیات اور خواتین کے متعلق ان موضوعات پر جن پہ مرد قلمکاروں کی گرفت کمزور ہو، نیّر انھیں بہت عمدگی سے پیش کرسکتی ہیں- معاشرتی اصلاح براستہ مذہب ان کی تحریر کا نمایاں جز ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں