فتح کا جشن اور رجب طیب اردوعان- انعام الحق

جہاں ایک طرف ترکی میں صدارتی نظام کی تبدیلی کے ریفرنڈم میں کامیابی کے خوشیاں منائی جارہی تھیں، وہیں دوسری طرف ترک صدر رجب طیب اردوعان کچھ معنی خیز حاضریوں میں مصروف نظر آئے۔ وہ پہلے سابق صدر طورغت اوزال کی قبر پر گئے، اور ان کی سالانہ برسی کی تقریب میں شرکت کی۔ وہاں سے سابق صدر عدنان میندرس اور سابق وزیر اعظم نجم الدین اربکان کی قبور پر حاضرگئے، وہاں سے ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی مرقد پر حاضری دی، پھر سلطان محمد فاتح کے مزار پر گئے اور وہاں قرآن کریم کی تلاوت کی۔ ان تمام مقامات کی زیارت تجدید عہد کا اشارہ تھا، یا خوشی کے اظہار کی جذباتی کیفیت، ایک اتفاقی ترتیب تھی، یا ایک رسمی پروگرام۔ متعلقہ افراد کا مختصر تعارف شاید اس عقدے کو حل کردے۔

صحابی، اور میزبان رسول ابو ایوب انصاری رضی اللہ اپنے آقا، سید الاولین ولاخرین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت پانے کے لیے، اسلام کا جھنڈا لیے استنبول قسطنطنیہ کے فتح کو نکلے تھے، اور اسی سفر میں 672ء کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ اب استنبول کے ایک محلے میں استنبول کے قدیم شہر کی دیوار سے کچھ فاصلے پر آرام فرما ہیں۔ مقبرہ کے ساتھ کی جامع مسجد اور محلے کا نام انہی کے نام کی نسبت سے ایوب سلطان ہے۔

سلطان محمد فاتح وہ عظیم الشان شخصیت کہ 29مئی 1453ء کو دنیا نے جن کی قیادت میں پہلی مرتبہ خشکی پر سے کشتیوں کو گزرتے دیکھا، جس کے عزم وحوصلے کے سامنے قسطنطنیہ کی مضبوط دیواروں کو اپنے ہی قدموں میں گرتے دیکھا، جس کو صرف 21 سال کی عمر میں اسی بشارت کو پاتے دیکھا، جس کے لیے ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ ہزاروں کلومیڑ کا سفر کر کے آئے، اور اسی مٹی میں محو آرام ہوگئے۔ یہ وہ دن تھا جب بازنطینیوں کے ہزار سالہ اقتدار کا مرکز ان کے ہاتھوں سے نکل گیا، سلطان محمد فاتح نے 3مئی 1481 ء کو وفات پائی۔

عدنان میندرس، پہلی ترک ڈیموکریٹک پارٹی کے بانی اور سابق ترک صدر ہیں جن کا دور حکومت 1950 سے 1960تک ہے، 27مئی 1960کو فوج نے ان کا تختہ الٹ دیا، ان کا الزامات کی ایک لمبی فہرست کے تحت عدالتی ٹرائل کیا گیا، اور 17ستمبر 1961کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ 1932سے میناروں سے عربی اذانوں کو ترستے کانوں کو پھر سے 1950میں انہی کے دور حکومت میں اصل عربی اذان سننا نصیب ہوئی،، خوشی کا یہ عالم تھا کہ بورصہ کی ایک جامع مسجد میں عصر کی اذان سات مرتبہ پڑھی گئی۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے عربی اذان اور اقامت کہنے پر قید اور جرمانے کی سزائیں مقرر تھیں۔ عام زندگی میں خواتین کے حجاب پر سے پابندی اٹھا لی گئی، دینی کتب کی طباعت پر لگائی گئی پابندی بھی معطل قرار دی گئی۔ انہی کی دور حکومت میں سات شہروں میں امام خطیب سکولوں کا اجراء ہوا، پہلا اسلامک انسٹیٹوٹ قائم ہوا، پندرہ سو مساجد کی تعمیر ہوئی،۔

طورغت اوزال نجم الدین اربکان کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے، ترکی میں صدارتی نظام کے نفاذ کے لیے آواز اٹھائی، 1993میں اپنے دور صدارت میں وفات پائی۔

ترکی میں اسلامی فکر کی ترویج، استعماری قوتوں کی سازشوں سے پردے اٹھانے میں نجم الدین اربکان ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں، آپ کو صرف ایک سال وزیر اعظم رہنے کے بعد استعفی دینے پر مجبور کیا گیا۔ 2011ء میں خالق حقیقی سے جاملے۔ ترکی میں بتدریج ہوتی فکری او سیاسی تبدیلی انہی کی لگائی ہوئی پود کے ہاتھوں ممکن ہو پا رہی ہے۔

Comments

FB Login Required

Protected by WP Anti Spam