کامیابی - سید قاسم علی شاہ

ہر شخص کا مزاج، شخصیت اور ٹیلنٹ مختلف ہوتا ہے، اس لیے کہا جاتا ہے کہ ہر ایک کے لیے کامیابی کی تعریف بھی مختلف ہوتی ہے. جیسے ہی کامیابی کا لفظ سننے میں آتا ہے تو ذہن میں فوری طورپر بڑا گھر، گاڑی اور بہت سے پیسوں کی تصویر آتی ہے. یہ ایک حصہ ضرور ہے لیکن یہ کامیابی کی تعریف نہیں ہے۔ کامیابی کا مطلب یہ ہے کہ قدرت نے جو ٹیلنٹ اور صلاحیت دی ہے، اس کا بہترین استعمال کر کے زندگی گزارنا۔ لوگوں کی اکثریت اس طرف آتی ہی نہیں، وہ ٹیلنٹ کو تلاش نہیں کرتے، وہ صرف نتیجہ چاہ رہے ہوتے ہیں، وہ پھل کو تلاش کرتے ہیں حالانکہ اس درخت کو تلاش کرنا چاہیے کہ جس پر پھل لگتا ہے. پھر وہ یہ نہیں دیکھتے کہ جس کام کے لیے قدرت نے پیدا کیا ہے، وہ کام کیا ہے؟ ایک غزوہ میں ایک صحابی رضی اللہ عنہ شدید زخمی ہوگئے، ان کے آخری سانس چل رہے تھے اور وہ پکار پکار کر کہہ رہے تھے کہ ”خدا کی قسم میں کامیاب ہوگیا“۔ ممکن ہے کسی کے لیے شہادت ہی کامیابی ہو، کسی کے لیے لوگوں کی خدمت کامیابی ہو جیسے عبدالستار ایدھی، کسی کے لیے لوگوں کے لیے کچھ کر کے دکھانا کامیابی ہو جیسے حضرت قائد اعظم محمدعلی جناح ؒ کے لیے پاکستان کو حاصل کرنا کامیابی تھی، یعنی بندہ بدل گیا تو کامیابی کی تعریف بھی بدل گئی۔

کامیابی کے اوپر جتنی تحقیق ہو چکی ہے، اس کےمطابق کامیابی میں کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے، جو شارٹ کٹ ہوتا ہے، وہ شارٹ ٹرم ہوتا ہے، اور جو شارٹ ٹرم چیز ہوتی ہے، وہ جلدی ختم ہو جاتی ہے۔ وہ عمارتیں زیادہ دیرپا ہوتی ہیں جن کی بنیادیں مضبوط ہوتی ہیں، اسی طرح وہ لوگ زیادہ کامیاب ہوتے ہیں، جن کی بنیاد مضبوط ہوتی ہے۔ تحقیق کےم طابق دنیا کی تاریخ میں جس کسی نے بھی مختصر وقت میں بہت بڑی کامیابی حاصل کی، وہ اس کو سنبھال نہیں سکا، بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی حثییت کو برقرار رکھتے ہیں۔ کامیابی اتنی اونچی اور ٹھنڈی ہوا ہوتی ہےکہ وہاں پر قائم رہنے کے لیے بنیاد کا ہونا بہت ضروری ہے۔

دنیا میں جتنے بھی کامیاب لوگ ہیں، ان کو بھی نہیں پتا ہوتا کہ وہ کیوں کامیاب ہیں؟ جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ کیوں کامیاب ہیں تو وہ جواب دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا کرم ہے اب ”اللہ تعالیٰ کا کرم“ بولنے میں بہت اچھا ہے، یہ شکرگزاری اور عاجزی کا لفظ ہے لیکن قدرت قاعدے اور قانون کے تحت یہ نظام چلا رہی ہے، یہ ممکن نہیں ہے کہ چلنے اور بیٹھنے والا برابر ہو۔ جب تک اس قاعدے اور قانون کی خبر ہی نہیں ہوگی تب تک بڑا مشکل ہے کہ بندہ گھر سے نکلے اور اس کو منزل پتا چل جائے۔ ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ کامیابی کے بارے میں سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھایا نہیں جاتا ہے، اور نہ ہی لوگوں کو اس کی خبر ہے۔ کامیابی میں جتنی زیادہ غلطیاں ہوتی ہیں، اتنا ہی سیکھا جاتا ہے، اور جتنا زیادہ سیکھا جاتا ہے، اتنی ہی زیادہ کامیابی ملتی ہے۔ شروع میں بندہ قدم اٹھاتا ہے،گرتا ہے، تجربےکرتا ہے.گرتا ہے تو اس کا قطعی مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ہار گیا، اس میں کوئی شک نہیں کہ اس دوران تنقید ہوتی ہے، دل ٹوٹتا ہے، بندہ ہمت ہار جاتا ہے، لیکن یہیں سے راستہ بننا ہوتا ہے، یہیں سے فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ میں نے آگے چلنا ہے۔ تاریخ میں بہت لوگ ایسے ہیں جن کو کبھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور انہوں نے جواب میں اتنا کام کیا کہ تاریخ میں مادام کیوری کی صورت میں نام زندہ ہوگیا۔

کامیابی کے اوپر سب سے بہترین تحقیق نپولین ہل کی ہے. وہ تحقیق بتاتی ہے کہ کامیابی کے لیے پہلی چیز جنون ہے، اگر کسی کے پاس جنون نہیں ہے، تڑپ نہیں ہے، طلب نہیں ہے، آگ نہیں ہے، تو وہ کامیاب نہیں ہو سکتا، یہی وجہ ہے کہ جتنے بھی کامیاب لوگ ہوتے ہیں، ان میں جنون ہوتا ہے، جب وہ کسی کام کے پیچھے پڑ جاتے ہیں تو اپنے آپ کو مرنے اور مارنے والی حالت پر لے جاتے ہیں۔ زیادہ تر جنون نوجوانوں میں ہوتا ہے. ایک تحقیق کے مطابق خودکشی کرنے کا سب سے زیادہ چانس بیس سال سے کم عمر میں ہوتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اندر جتنی توانائی ہوتی ہے، آگے اتنا کام نہیں ہوتا۔ جب بھی کسی چیز میں بہت زیادہ توانائی ہوگی اور کام نہیں ہوگا تو وہ چیز منفی ہو جائےگی۔ جنون کے بعد کامیابی کے لیے مقصد بہت اہم ہے. اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ اسے شہرت ملے، اس کے پاس پیسہ ہو اور مرنے کے بعد بھی نام ہو، یہ سب ٹھیک ہے مگر اس سے اہم چیز مقصد کا ہونا ہے جس کے پیچھے ان ساری چیزوں نے آنا ہے۔

نپولین ہل کے بعد کامیابی کے اوپر سب سے اہم تحقیق تھامس ٹینلے نے کی، اس نے ہزاروں امیر لوگوں پر تحقیق کرنے کے بعد نتائج اخذ کیے اور پھر ان کو ترتیب دیا۔ تھامس کے مطابق کامیابی کی پہلی وجہ ایمانداری ہے۔ اگر ہم اپنے معاشرے کو دیکھیں تو ہمیں لوگوں کی بہت بڑی تعداد نظر آتی ہے جو ایماندار ہے لیکن وہ کامیاب نہیں ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ کچھ چیزیں ایمانداری کے ساتھ جڑی ہیں، ان کا ہونا بہت ضروری ہے. اگر کسی کے پاس صلاحیت ہے اور وژن ہے تو وہ بہت آگے جا سکتا ہے۔ ایمانداری کا آغاز سب سے پہلے اپنے آپ سے ہوتا ہے. حضور اکرمﷺ کے ارشادِ مبارک کا مفہوم ہے کہ جب کوئی چیز بیچی جائے تو اس کی خوبیاں اور خامیاں دونوں بیان کی جائیں۔ تھامس کے مطابق کامیابی کی دوسری وجہ محنت ہے، اگر وژرن اور لگن سے محنت کی ہو تو اس محنت کو اللہ تعالیٰ سنبھال لیتا ہے، اور پھر اجر کی صورت میں اس کو لوٹاتا ہے۔ تھامس کہتا ہے کہ دنیا میں جتنے بھی کامیاب لوگ ہیں ان کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے یا ان کی زندگی میں کوئی ایسا شخص ضرور ہوتا ہے جو ان کو موٹی ویٹ کرتا ہے، جو حوصلہ ٹوٹنے نہیں دیتا۔ جب حضوراکرم ﷺ پر پہلی وحی آئی تو آپﷺ گھبراہٹ کے عالم میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، اس سے ایک پیغام یہ بھی ملتا ہےکہ زندگی میں عورت کا ساتھ غموں کو بانٹتا ہے۔

ہم لوگ دماغ میں کچھ باتیں بٹھا لیتے ہیں، ہم جس طرح کی باتیں سنتے ہیں، جس طرح کے واقعات دیکھتے ہیں، اس سے ہمارے کچھ یقین بن جاتے ہیں اور محسوس ہوتا ہے کہ کامیابی اور ناکامی میں قسمت کا کردار ہے۔ کامیابی کے اوپر جتنی بھی تحقیق ہے، وہ یہ کہتی ہےکہ کسی بھی کامیابی اور ناکامی میں قسمت کا کردار بہت کم ہوتا ہے، بلکہ تحقیق یہ کہتی ہےکہ کامیابی بھی ان لوگوں کو ملتی ہے جن میں جنون ہوتا ہے، قسمت بھی ان کا ساتھ دیتی ہےجن کا کوئی مقصد ہوتا ہے۔ اگر کسی کو اپنے کام سے محبت ہے تو وہ خوش قسمت ہے کیونکہ کام سے محبت کرنے میں جنون ہوتا ہے۔ ہمارے کلچر میں ایسی فلمیں نہیں بنتیں جو لوگوں کی زندگیاں بدلیں۔ انگریزی فلم ”ایڈجسٹمنٹ بیورو“ ضرور دیکھنی چاہیے، وہ پوری فلم حضرت علامہ اقبالؒ کے شعر ”خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے، خدا بندے سےخود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے“ کے گرد گھومتی ہے۔ قسمت یہ ہے کہ بندہ پیدا ہوا، یہ اس کے کنٹرول میں نہیں ہے، اس نے مرنا ہے، اس کی تاریخ اس کے کنٹرول میں نہیں ہے، جن کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے، وہ اس کے کنٹرول میں نہیں ہیں، لیکن زندگی گزارنے کا اختیار اس کے کنٹرول میں ہے، اگر اسے یہ کنٹرول نہ دیا ہوتا تو وہ جواب دہ نہ ہوتا، اگر قیامت کے دن جواب دہی ہونی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ بندے کے پاس اختیار ہے۔

ہم لوگ حضرت بابا بلھےشاہؒ، حضرت سلطان باہوؒ، حضرت علامہ اقبالؒ کے کلام کو سن کر جھومتے ہیں، انجوائے کرتے ہیں، لیکن کبھی اس کلام پر غور نہیں کرتے کہ حضرت بابا بلھے شاہؒ نےفرمایا ”اپنے اندر جھاتی مار“ یا حضرت علامہ اقبال ؒ نے فرمایا ”اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی۔“ ان لوگوں کے لیے ترقی کرنا، کامیاب ہونا اور آگے بڑھنا بڑا آسان ہوتا ہے جو اپنے اندر کی آواز کو سننے کے عادی ہوتے ہیں۔ انسان کی وہ بات چیت جو اپنے ساتھ ہوتی ہے، اس کو پالش کرنے کے لیے ضرور سوچنا چاہیے بلکہ اس کے لیے استاد ہونا چاہیے۔ دنیا میں بہت سارے پرانے علوم ہیں، ان میں مراقبہ بھی شامل ہے. مراقبہ بتاتا ہے کہ اپنے اندر کی گفتگو کو کیسے پکڑنا ہے اور اس کو کیسے کام کا بنانا ہے۔ اگر اپنے اندر کی گفتگو مثبت نہیں کر رہی تو پھر دنیا کے کسی بھی شخص کی گفتگو بھی مثبت نہیں کر سکتی۔ بعض اوقات اندر جوگفتگو چل رہی ہوتی ہے وہ منفی ہوتی ہے، جب تک وہ گفتگو چبھتی نہیں تب تک وہ مثبت نہیں ہوسکتی، اس کا مطلب ہے کہ سب سے پہلے اپنے اندر سے آواز آنی چاہیے ”میں کیوں تکلیف والی باتیں سوچتا ہوں“۔ بعض اوقات بندے کا ریموٹ دوسرے کے ہاتھ میں ہوتا ہے، ایسی صورت میں لیکن لازم نہیں ہے کہ ان لوگوں کا انتظار کیا جائے جو ریموٹ کو دوسروں کے ہاتھ سے چھڑائے بلکہ خود ہی کوشش کر کے اپنا ریموٹ کنٹرول کرنا چاہیے، جو اپنی اصلاح نہیں کرسکتا اس کی کوئی اصلاح نہیں کر سکتا۔ سکندر اعظم کہتا ہے کہ دنیا کو فتح کرنے سے بہتر ہےکہ میں اپنے آپ کو بہتر کرتا، جس نے خود کو فتح کیا اس نے پوری دنیا کو فتح کر لیا کیونکہ اپنا قلعہ فتح کرنا دنیا کا سب سے مشکل کام ہے۔ دنیا کی طاقتور چیز سوچ ہے اور اس سے طاقتور چیز اپنی سوچ ہے اور اس کو پکڑنا سب سے مشکل کام ہے۔

قسمت کی طرح کامیابی میں تعلیم کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے، معاشرے میں بےشمار لوگ ہیں جو کامیاب ہیں، لیکن ان کی تعلیم زیادہ نہیں ہے۔ تعلیم ایک ذریعہ ضرور ہے لیکن یہ آخری ذریعہ نہیں ہے۔ تعلیم اور علم کا اتنا فرق ہےکہ جتنا قطرے اور سمندرکا ہے، بعض اوقات بندے نے پی ایچ ڈی کی ہوتی ہے لیکن اس شعبےکا علم اتنا نہیں ہوتا، یہی وجہ ہے کہ جتنے ہمارے دانشور تھے، وہ بابوں کو تلاش کرتے تھے، بابے تعلیم یافتہ نہیں ہوتے تھے لیکن ان کے پاس علم ہوتا تھا، اور علم بولتا ہے۔ جب تک کسی میں علم کی طلب سچی نہیں ہوگی تب تک علم اس کے دروازے کی باندی نہیں بنےگا. علم اس کےگھر کی باندی بنتا ہے جس کے پاس علم کی طلب سچی ہوتی ہے، جب بندے کی پیاس سچی ہوتی ہے تو کنواں بھی چل کر پاس آتا ہے۔ جب علم کی طلب سچی ہوتی ہے تو پھر فہم، ادراک اور سوچ بھی تیز ہوتی ہے، پھر جس بھی شعبے میں جایا جائے، اس شعبے کا علم آ جاتا ہے۔ ایک بہت امیر شخص بیٹھا ہوا تھا، کسی نے پوچھا ”آپ کی تعلیم کیا ہے؟“ اس نے جواب دیا کہ ”میں نےگریجویشن کے دوران کالج چھوڑ دیا تھا“ پھر پوچھا ”اس کے بعد کیا کیا؟“ اس نے جواب دیا ”میں نے کاروبار شروع کیا، جب وہ چل گیا تو میری کلاس میں جتنے ذہین ساتھی تھے، ان سب کو میں نے جاب پر رکھ لیا۔“ کاروبار کے لیے یا کامیابی کے لیے بہت زیادہ تعلیم ضروری نہیں ہوتی بلکہ کچھ اصول و ضوابط پر پورا اترنا ہوتا ہے، اگر کسی میں وہ صلاحیتیں ہیں جن سے کامیابی ملتی ہے تو وہ ایک پی ایچ ڈی سے زیادہ بہتر ہے۔

ہمارے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ہم ناممکن کو سوچتے ہیں، حالانکہ کچھ بھی ناممکن نہیں ہے، کچھ ایسا نہیں ہے جو نہ ہو سکے، ہمارے چلنے کی رفتار بہت کم ہوتی ہے، ہم ہمت بہت جلد ہار جاتے ہیں۔ اگر آج کا استاد کسی بچے میں فقط یقین پیدا کر دے کہ تم کچھ بن سکتے ہو تو وہ بچہ بن جاتا ہے۔ اگر ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی کہ یہ ہوسکتا ہے تو پھر قدرت مدد کرتی ہے، کسی کو نظر آ رہا ہو یا نہ آ رہا ہو، اس بندے کو راستے نظر آ رہے ہوتے ہیں۔ جو سوشیالوجی اور انتھرپالوجی کے ایکسپرٹ کہتے ہیں کہ ہمارے نوجوانوں میں خود اعتمادی نہیں ہے، انہیں اپنے آپ پر اعتماد نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ تعلیم ان میں اعتماد پیدا نہیں کر رہی، گھروں میں کلچرنہیں ہے، گرومنگ نہیں ہے، گروپس نہیں ہیں اور نہ ہی ایسے بابے ہیں جو تربیت کرتے تھے۔ اگر کوئی ایسا بندہ زندگی میں داخل ہو جائے جو بندے کے ذہن میں یقین پیدا کر دے تو پھر نالائق سے نالائق بھی لائق ہو سکتا ہے، اور بہت آگے جا سکتا ہے۔ پہلا انعام ذہین کو نہیں یقین کو ملتا ہے۔