شام پر حملہ اور پس پردہ امریکی عزائم - روبینہ شاہین

شام پر دنیا بھر کی طاقتوں کی یورش دن بدن بڑھتی جا رہی اور رہی سہی کسر امریکا پوری کر رہا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر امریکا شام سے چاہتا کیا ہے؟

سب سے پہلے اور اہم وجہ جو بیان کی جا رہی ہے وہ یہ ہے کہ "امریکا شام کی مدد کرنا چاہتا ہے"۔ ہنسیں مت، یہ میں نہیں امریکا اور اس کے حامی کہہ رہے ہیں۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے اس سے پہلے بھی جس طرح انسانیت کے لیے "خدمات" انجام دی ہیں، اب بھی دے رہے ہیں۔ لیکن میرا خیال ہے کہ مغرب کے سکرپٹ لکھنے والوں کو اب اپنا سٹائل بدلنا ہوگا۔ دنیا اتنی اندھی نہیں، جتنا وہ سمجھتے ہیں۔

دوسری مشہورومعروف، اور درحقیقت گھسی پٹی، وجہ یہ ہے کہ "شام میں کیمیائی ہتھیار موجود ہیں جو امریکا کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں"۔امریکا اور اس کے اتحادی عراق پر بھی یہی الزام عائد کر کے اس پر قبضہ کر چکے ہیں۔ لیکن ایسا کوئی ثبوت نہیں کہ یہ ہتھیار کس نے استعمال کیے؟ شام کی سرکاری افواج نے یا باغیوں نے؟

امریکا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب اس نے کسی ملک کو ہدف بنانا ہوتا ہے تو 20 سال پہلےاس کو سٹڈی کرتا ہے۔ مسلم ممالک کی ایک بہت بڑی کمزوری ان کے ہاں رواج پا جانے والے فرقے ہیں۔جن کی وجہ سے وہ ہمہ وقت داخلی سطح پر تصادم کے شکار رہتے ہیں۔ اس پر مزید تیل ڈال کر امریکا اپنے عزائم کو توسیع دے رہا ہے۔ اسی کمزوری کو ڈھال بنا کر امریکا ان ممالک فساد برپا کرتا ہے اور پھر امن وامان کی بحالی کا دعویدار بن کر آن ٹپکتا ہے۔ دو گروہوں کو لڑا کے اپنے مفادات کیسے حاصل کیے جائیں؟ یہ کافی مقبول طریقہ واردات ہے۔ "لڑاؤ اور حکومت کرو" کے نعرے کا موجود بھی مغرب ہی ہے اور شام میں یہی پالیسی کارفرما نظر آتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   عرب اور مغربی میڈیا اور ترکی کے حالات - عالم خان

معروف مغربی تجزیہ کار رابرٹ فسک کا خیال ہے کہ مغربی طاقتوں کا اصل ہدف ایران ہے، شام ایک بہانہ ہے۔گو کہ اس تجزیے کی صحت پر بھی یقین نہیں کیا جا سکتا لیکن موصوف کے خیال میں اس تنازع میں ایران کے مقاصد مختلف لیکن اہم ہیں ۔ وہ حزب اللہ کے ساتھ زمینی رابطہ رکھنا چاہتا ہے، شام میں موجود زیارات کا تحفظ چاہتا ہے اور اپنے سنی حریف سعودی عرب کے مقابلے پر پورے خطے میں اپنا سیاسی و دفاعی اثر برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ اس لیے فسک کے الفاظ میں اگر بشار الاسد کی حکومت ختم ہوتی ہے تو اس کا بڑا فائدہ اسرائیل اور سعودی عرب کو ہوگا۔ حزب اللہ کے کمزور ہونے سے اسرائیل کو لاحق خدشات بھی کم ہوں گے اور ایران اپنے بڑے اتحادی سے محروم ہو جائے گا۔ یوں علاقے میں ایران کی حیثیت بھی کم ہوگی اور اس کے جوہری طاقت بننے میں بھی مزید تاخیر ہوگی۔

لیکن نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اسامہ بن لادن کا پتہ صاف ہونے، صدام حسین کی حکومت کے خاتمے اور معمر قذافی کا تختہ الٹنے کے بعد امریکا اور روس دونوں کا ہتھیار فروخت کرنے کا کاروبار کافی متاثر ہوا ہے۔ باقی آگے آپ خود سمجھدار ہیں۔

آخر میں رہ گئے شامی عوام، تو ان میں سے کئی لاکھ تو اس دنیا سے جا چکے جبکہ لاکھوں بے گھر ہیں۔ اب جو رہ گئے ان کے درمیان فرقہ واریت کی خلیج اتنی وسیع کردی گئی ہے کہ اس کو پاٹنے کے لیے ایک نہیں بلکہ کئی نسلیں درکار ہیں۔

Comments

روبینہ شاہین

روبینہ شاہین

روبینہ شاہین کا تعلق زندہ دلانِ لاہور سے ہے۔ اسلامک اسٹڈیز میں ایم فِل کیا ہے۔ فکشن کم اور نان-فکشن زیادہ لکھتی ہیں۔ پھول، کتابیں، سادہ مزاج اور سادہ لوگوں کو پسند کرتی ہیں اور علامہ اقبالؒ سے بہت متاثر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.