حجاب اور 5 نمبر - محمد زاہد صدیق مغل

مارکیٹ میں اڑتی ہوئی اس تجویز پر کچھ لکھنے کا ارادہ تھا مگر یہی سوچ کر رک گیا کہ بلا وجہ میں متھا خوری سے کیا حاصل، پنجاب حکومت نے کون سا اسے سنجیدگی کے ساتھ لاگو کرنا ہے کہ اس کے حق میں دلائل جمع کردیے جائیں۔ جناب عاصم اللہ بخش صاحب نے اس پر اچھی تحریر لکھی ہے، اللہ انہیں جزائے خیر دے۔ ان کی تحریر پر پیش کی گئیں گزارشات کچھ اضافوں کے ساتھ پیش خدمت ہیں۔

کسی بھی عمل کی قبولیت میں بہت حد تک اس بات کا عمل دخل ہوتا ہے کہ آپ اس کو کس تناظر میں پیش کرتے ہیں۔ حجاب پہننے پر پانچ نمبر کے معاملے کے خلاف لوگ جس قسم کی باتیں کر رہے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو جامعات میں اکیڈمک پراسس میں evaluation tools کی کوئی خبر نہیں۔ اس تجویز کے حق میں بےشمار باتیں کی جاسکتی ہیں مگر المختصر یہ کہ اس تجویز کو ’’اکیڈمک و کلاس ڈسپلن ‘‘ (جس میں لباس بھی شامل ہوتا ہے اور اسے کسی نہ کسی ڈیفینیشن میں سب مانتے ہیں) کو برقرار رکھنے کے ریوارڈ کے تناظر پیش کیا جاسکتا ہے۔ جدید جامعات میں کسی بھی مضمون میں 100 فیصد نمبر امتحانی پرچے میں کارکردگی پر نہیں ملتے (جسے ناقدین کی طرف سے ’’میرٹ‘‘ کا گویا واحد معیارفرض کیا جا رہا ہے) بلکہ عام طور پر بیس سے تیس مارکس ادھر ادھر کی دیگر ایکٹیویٹیز کے بھی ہوتے ہیں جن میں اسائنمنٹ، کوئز، کلاس ڈسپلن، کلاس پارٹیسیپیشن وغیرہم اقسام کی چیزیں شامل ہیں۔ تو اگر لباس کو ان میں سے کسی ایک میں فٹ کردیا جائے تو کون سی قیامت آنے والی ہے؟ اسی طرز کے دیگر بہت سے ڈسپلنری ظروف اختیار کیے جاسکتے ہیں، مثلا جو طالب علم لباس میں سستی دکھائے گا وہ گولڈ میڈل یا اسی طرح دیگر غیر نصابی اکٹویٹیز میں شمولیت کا مستحق نہ ہوگا، یا جو قابل قبول لباس میں ملبوس نہ ہوگا اسے کلاس اٹنڈنس کے مارکس نہ ملیں گے وغیرہ۔

تعلیمی اداروں میں یہ جو 100 میں سے بیس تیس نمبر ادھر ادھر کے رکھے گئے ہیں، یہ کلاس روم کے تعلیمی پراسس کے علاوہ بچے کی شخصیت کے دیگر پہلوؤں کی نشونما کے تناظر میں ہی رکھے گئے ہیں۔ اگر اس دیگر پہلوؤں کی فہرست میں مسلمان کسی شے کو شخصیت سازی کے لیے شامل کرلیں تو بھلا اس میں سوائے اس کے کیا اعتراض کیا جاسکتا ہے کہ کوئی اس مخصوص شخصیت سازی کو مطلوب ہی نہ سمجھتا ہو؟ تو یہ تو پھر ایک ’’ذاتی ترجیح‘‘ کا معاملہ رہ گیا ، اسے ’’عقل‘‘ کے نام پر ہم پر کیوں تھوپا جا رہا ہے؟ اس تجویز کے خلاف ’’میرٹ کی خلاف ورزی‘‘ کا رونا بھی رویا جارہا ہے، تو درج بالا وضاحت سے اس کی وضاحت بھی ہوگئی۔ میرٹ کا تصور تو برآمد ہی کسی مقصد سے ہوتا ہے، مقاصد متنوع ہوتے چلے جائیں تو میرٹ کے پیمانے بھی متنوع و متعدد ہوتے چلے جاتے ہیں۔

ایک بات یہ کہی جارہی ہے کہ اس سے لڑکوں کے ساتھ امتیازی سلوک ہوجائے گا۔ اس کا حل یہ ہے کہ اس قسم کے اضافی نمبرز حجاب پر نہیں بلکہ ڈریس کوڈ پر ملنا چاہیے اور یہ ڈریس کوڈ لڑکوں کے لیے بھی ڈیفائن ہونا چاہیے۔ رہی بات غیر مسلم سٹوڈنٹس کی، تو جناب آخر وہ کون سا مذہب ہے جو یہ کہتا ہے کہ کپڑے اتار کر گھومو؟ کون کہہ رہا ہے کہ آپ ’’زیادہ سے زیادہ‘‘ کی بنا پر برقع کی پابندی کروائیں، مگر ایک ’’کم از کم قابل قبول لباس‘‘ کی پابندی تو کروائیں اور اس معاملے میں کوئی دوسری رائے نہیں ہوسکتی۔ اس ’’کم از کم قابل قبول‘‘ کا پیمانہ ہمارے پاس آئین کے تناظر میں موجود ہے اور جو بھی غیر مسلم یہاں بستا ہے، وہ ایک مسلمان ہی کی طرح آئین کی پابندی کرنے کا پابند ہے۔

اصل بات مقصد کو قبول کرنے اور اسے حاصل کرنے کی نیت کی ہے، باقی ’’میرٹ‘‘، ’’ذاتی معاملات میں مداخلت‘‘، ’’غیر مسلموں سے ڈسکریمینشن‘‘ جیسی باتیں بس کام نہ کرنے کے بہانے ہیں۔ ایسے بہت سے بہانے تو میں آپ کو پورے ایگزامینیشن سسٹم ہی کو بند کرنے کے لیے پیش کرسکتا ہوں۔

اصولی بات یہ ہے کہ ہر کام و مقصد کو حاصل کرنے میں کچھ نہ کچھ مسائل و رکاوٹیں لازما حائل ہوتی ہیں مگر ان مسائل کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ حصول مقصد کی جدوجہد کو ترک کردیا جائے۔ کسی مقصد کے حصول مقصد کی جدوجہد کو ترک کرنے کی دو ہی وجوہات ہوسکتی ہیں، ایک یہ کہ وہ مقصد غیر مطلوب ہے، دوسرا یہ کہ اس کی راہ میں حائل رکاوٹیں ناقابل عبور ہیں، یعنی میسر معلومات و ظروف کے ساتھ اس مقصد کا حصول ناممکن ہے۔ اس دوسری صورت میں اس عمل کو ترک کرنے کا مطالبہ (پروسیجرل) عقل کے پیمانے پر درست ہوتا ہے۔ لیکن اگر مقصد مطلوب ہو اور مسائل قابل حل ہوں تو ایسے میں (پروسیجرل) عقل کا تقاضا مقصد کو ترک کردینانہیں بلکہ مسائل کے حل کے طریقے اور وسائل مہیا کرنا ہوتا ہے۔ ہمارے لبرل طبقات کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنی ’’ذاتی ترجیحات‘‘ کو (پروسیجرل) عقل کے نام پر پیش کرتے رہتے ہیں ۔

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.