انسان، بشر، آدم - شاہد شفیع

قل انما انا بشر مثلکم ۔ القرآن
کہہ دیجیے کہ میں بھی تمہارے جیسا بشر ہوں۔

زیر بحث لفظ بشر ہے، لیکن آدمی (انسان) کے لیے جو الفاظ قرآن میں مستعمل ہوئے ہیں، مختصرا ان پر بھی بات ہوگی۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بیشتر مشہور امم نے اپنے اپنے مقتداؤں کو جنس انسانی سے بالاتر ہونے کی عزت دے رکھی تھی۔ ہندوؤں میں 32 کے قریب ایسے بت ہیں جن کے نام کے ساتھ اوتار کا خطاب لگا ہوا ہے۔ اوتار کا مطلب یہ ہے کہ خود خدا منش (انسان) کے لباس میں آیا۔
عیسائیوں نے بھی مسیح کو اوتار ہی کا درجہ دیا۔
اہل تبت نے دلائی لامہ کو خالقیت کی مسند پر بھٹایا۔
اہل انگلستان نے کنگ آرتھر کی کرسی کو معصوم و غیر معصوم کی شناخت کا آلہ ٹھہرایا۔
اہل ناروے کا دوڈن بت صدیوں تک یورپ کا خدا بنا رہا۔
تاتاریوں نے بھی النقوا بیگم کے مجہول النسب بیٹوں کو فرزندان نور قرار دیا۔
زنان مصر نے بھی جمال یوسف کو دیکھا تو جھٹ ان کے بشر ہونے کی نفی کر کے ان کو فرشتہ بزرگ کا لقب دیا۔

ان حالات میں ایک سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہیں، جو اس حقیقت کا انکشاف فرماتے ہیں، اور بشریت کو مخلوقیت کا برترین درجہ دے کر خود کو بشر بتلاتے ہیں۔ بشرکے بنیادی معنی کسی چیز کا حسن و جمال کیساتھ ظہور ہے۔ البشرہ انسان کی جلد کی اوپر کی سطح کو کہتے ہیں جیسا کہ قرآن میں ہے ”لواحۃ للبشر“، یعنی دوزخ کی آگ جلد کو جھلس کر سیاہ کر دے گی۔ پھر البشر کے معنی خود انسان کے ہو گئے، لیکن اس فرق کے ساتھ کہ بشر سے صرف انسان کی طبعی ساخت اور جسمانی بناوٹ مراد ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے ہر انسانی بچہ یا انسان بشر ہوتا ہے، لیکن انسانیت کے جوہر اور خصوصیات ہر بشر میں مختلف ہوں گے۔ چنانچہ قرآن کریم میں حضرات انبیاء کرام جہاں یہ کہتے ہیں کہ ”انا بشر مثلکم“ تو اس سے بشریت کے طبعی تقاضوں کا اشتراک مقصود ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   آجکل کے پڑھے لکھے اور ماضی کے ان پڑھ - میر افسر امان

انسان کو بشر اس لیے بھی کہا جاتا ہے کہ اس کی جلد بمقابلہ دوسرے حیوانات کے، اون، پشم اور بالوں وغیرہ سے بہت حد تک پاک و صاف ہوتی ہے اور ظاہر دکھائی دیتی ہے۔
بشر کا لفظ واحد جمع اور مذکر مؤنث سب کے لیے یکساں استعمال ہوتا ہے، البتہ اس کی تثنیہ بشرین ھے۔ جیسے قرآن میں ہے ”انومن للبشرین مثلنا“ کہ کیا ھم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں۔

اناس
اناس، انسانوں کے ایسے گروہ کو کہا جاتا ہے جو تقسیم کار یا قبیلہ یا کسی دوسری وجہ سے دوسرے سے مختلف ہو۔ جیسے قرآن میں ہے، ”قد علمہ کل اناس مشربھم القرآن“
کہ ہر گروہ نے اپنا اپنا گھاٹ پہچان لیا۔ اور، اناسی، انسانوں کے بہت بڑے گروہ کو کہا جاتا ہے۔جیسے ارشاد باری تعالی ہے، ”خلقنا انعاما واناسی کثیرا“ کہ ہم نے چوپائے اور بہت انسان پیدا کیے۔

آدم
آدم کا مادہ ادم ہے جس کے بنیادی معنی موافقت اور ملائمت کے ہیں۔ ہر ملائم اور موافق چیز کو ادم کہتے ہیں۔
رسول کریم نے مغیرہ بن شعبہ کو ایک عورت کو پیغام نکاح کے سلسلہ میں فرمایا۔
لو نظر الیھا، فانہ احری ان یودم بینکما۔
اگر تو اسے ایک نظر دیکھ لے تو اس سے تمہارے درمیان الفت اور خوشگواری پیدا ہونے کا زیادہ امکان ہے۔

آدم؛ ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام کا نام ہے تاہم افراد جنس پر بھی اس کا اطلاق ہو سکتا ہے۔ جب بنی آدم کہا جاتا ہے تو اس سے تمام نوع انسانی مراد ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ بھی اس کی کئی توجیہات ہیں۔

المختصر، ماحصل
جب انسان کے معاشرتی پہلو کا تذکرہ مقصود ہو تو ، انس، اور اس کے مشتقات، اور جب تاریخی پہلو کا ذکر ہو تو آدم، اور بنی آدم، اور جب اس کے طبعی اور فطری حوائج کا ذکر مقصود ہو تو بشر کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   انسان اور انسانی حقوق - ڈاکٹر ساجد خاکوانی

(افادہ از کتب متفرقہ بالخصوص تاج و محیط و راغب، منجد، غریب القرآن)