بچے کی تربیت میں والدین کا کردار - حنا تحسین طالب

انسان اپنے ماحول کی پیداوار ہوتا ہے، انسان کی شخصیت موروثی عوامل اور بیرونی عوامل سے مل کر تشکیل پاتی ہے.
ماحول میں جو کردار سب سے پہلے انسان کی شخصیت کو متاثر کرتا ہے، وہ اس کے والدین کا ہے.

اسی حقیقت کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں بیان فرمایا، حدیث کا مفہوم ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اسے عیسائی، یہودی یا مجوسی بنا دیتے ہیں.

دراصل یہ والدین ہوتے ہیں جو انسان کی زندگی میں سب سے پہلے رول ماڈل ہوتے ہیں، بچے اپنے معصوم تخیل میں والدین کو اونچی مسند پر دیکھتے ہیں، ان کی کہی ہر بات بچوں کے لیے اہم ہوتی ہے اور ان کا عمل تو گویا بچوں کے لیے قابل تقلید نمونہ ہوتا ہے.

انسان شعوری و لاشعوری طور پر اپنے والدین کے کردار سے بہت کچھ سیکھتا ہے. استاد بھی بچوں کے لیے رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں، اور انسان دوستوں کے طریقے پر بھی لازما چلتا ہے، اسی لیے دوستوں کا انتخاب بھی سوچ سمجھ کر کیا جانا چاہیے، مگر ان سے انسان کا تعلق بعد میں استوار ہوتا ہے خصوصا دوستوں سے اس وقت جب وہ ذہنی طور پر کچھ پختہ ہو جاتا ہے.

والدین چونکہ پہلی درسگاہ ہوتے ہیں، اسی لیے ان کا باعمل، بااخلاق اور مضبوط کردار کا ہونا نہایت اہم ہوتا ہے.
بچہ چند ابتدائی سال جو محض والدین کی زیرنگرانی تربیت حاصل کرتا ہے، اس عرصے کے دوران والدین کو چاہیے کہ بچے کی تربیت کو اپنی اولین ترجیح بنالیں.
اپنی ہر مصروفیت، تمام مشاغل کو ایک طرف رکھ کر بچوں کی بہترین تربیت کی خاطر، اپنی تربیت کریں. جی ہاں! اپنی تربیت، یہ بہت ضروری ہے کیونکہ آپ بچوں سے ہزار مرتبہ بھی ایک اچھی بات کریں، تو وہ اتنا اثر نہیں رکھتی، جتنا آپ کا ایک مرتبہ کا کیا ہوا معمولی سا عمل.

یہ بھی پڑھیں:   جنت کے پھول - ڈاکٹر بشری تسنیم

آپ بچوں کو بڑوں کے ادب پر کئی لیکچرز دیں، وہ کبھی بھی ادب نہیں کریں گے اگر آپ نہیں کرتے. آپ والدین کے حقوق پر اسلام کا نقطہ نظر بالکل واضح کر دیں مگر وہ کبھی آپ کے حقوق ادا نہیں کریں گے، اگر انھوں نے آپ کو، آپ کے والدین کی حق تلفی کرتے دیکھا ہے. آپ بڑی رقم خرچ کرکے، بچے کو بڑے قاری سے تعلیم دلوائیں مگر اس کے دل میں قرآن سے محبت و انسیت شاید ہی پیدا ہو پائے، اگر وہ آپ کو قرآن کے ساتھ وقت گزارتے نہیں دیکھتے (الا ماشاء اللہ).
غرض بچے کی زندگی میں ہر وہ چیز غیر اہم رہے گی جو والدین کی زندگی میں غیر اہم ہے، اور ہر وہ چیز اہم رہے گی جو والدین کی زندگی میں اہم ہے.

بچوں کو ماحول و معاشرے کے حوالے کرنے سے پہلے ان کی نظریاتی تربیت کرنا بہت اہم ہے، ممکن ہے آپ بچوں کو گھر پر برائی سے بچائیں مگر وہی چیز بچہ سکول میں، یا کسی دوسری جگہ دیکھ لے، تب آپ اسے بچانے کے لیے وہاں موجود نہیں ہوں گے، اسی لیے بچوں کو اچھائی، برائی کا حکم دینے کے ساتھ، اس پر عمل اور اس حکم کی حکمت اور فوائد بھی سمجھائیں، بلکہ عملا ملنے والے فائدے بھی دکھائیں.

اچھائی اور برائی کی بنیادی تمیز راسخ کریں، تاکہ وہ کسی معتبر شخص کو بھی برائی میں مبتلا پائیں تو اس برائی کو برا ہی سمجھیں، نہ کہ وہ ایسے کمزور ذہنیت کے حامل ہوں کہ ان کا نظریہ انسانوں کے ساتھ بدلتا رہے.

یہ بہت ضروری ہے کیونکہ آج کل سکولز میں جو ہو رہا ہے، وہ اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی، اساتذہ ویسے نہیں رہے، جیسا کہ ہونا چاہیے. حتی کہ نام نہاد معیاری سکولز تک کا نصاب غیر معیاری اور رومیو. جولیٹ جیسی کتب پر مشتمل ہے، جس میں چھوٹی جماعت کے بچوں کو گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کی اصطلاحات سے آشنا کروا کر، اس کی قباحت کو ختم کیا جا رہا ہے. اور دوسری طرف نصاب میں شامل، اسلامی کتب میں بھی ایسا مواد شامل ہے جو اسلام کی صحیح اور مکمل تصویر پیش کرنے سے قاصر ہے، نتیجتا بچہ اپنے عقیدے میں پختہ ہونے کے بجائے ایک تشکیک زدہ ذہن کا حامل مسلمان بنتا ہے.

یہ بھی پڑھیں:   بچے،جنت کے پھول- ڈاکٹر ساجد خاکوانی

اپنے بچوں کو ان عفریتوں کے حوالے کرنے سے قبل ان کے اندر اسلام، اور خیر و شر کے بنیادی نظریات راسخ کیجیے مگر اس کے لیے آپ کے اپنے اندر خیر و شر کی تمیز اور اس پر یقین کا ہونا ضروری ہے.

Comments

حنا تحسین طالب

حنا تحسین طالب

حنا تحسین طالب کا تعلق کراچی سے ہے۔ درس و تدریس کے شعبے سے وابسته ہیں۔ بنیادی طور پر سپیکر ہیں اور اسی کو خاص صلاحیت سمجھتی ہیں۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.