اسلامی بینکاری اور پروفیسر عمران احسن نیازی کی آراء (4) – محمد ابوبکر صدیق

محترم جناب پروفیسر ڈاکٹر عمران احسن خان نیازی صاحب کا دعویٰ :
اسلامی بینکنگ کے ایک ٹی وی اشتہار میں ایک عالم دین (جناب مفتی منیب الرحمن صاحب) اسلامی بینک کے ڈیپازٹس کے اسلامی ہونے کا دعوی کرتے ہیں جبکہ اس بارے کوئی واضح دلائل نہیں دیتے، تفصیل ذکر نہیں کرتے، بلکہ صرف یہ کہتے ہیں کہ یہ سارا معاملہ علماء کی زیر نگرانی ہوتا ہے۔ اسلامی بینکوں کو فنڈ دینے کے لیے اتنی سی بات کہہ دینا ناکافی ہے۔ (پیراگراف نمبر 7)
دعوے کا تجزیہ :
ٹی وی اشتہار کا مقصد کسٹمر کو متوجہ کرنا ہوتا ہے، جتنی تفصیل کا مطالبہ دعوے میں کیا گیا ہے، اس کے لیے فارمیٹ اشتہارکا نہیں ہوتا بلکہ پروگرام کا ہوتا ہے۔ باقی تفصیل تو مہیا ہے، کتابوں میں بھی موجود ہے اور مختلف آرٹیکلز میں مل جاتی ہے۔

دعویٰ :
جناب مفتی منیب الرحمن صاحب کہتے ہیں کہ اسلامی بینک میں اکاؤنٹ مضاربہ کی بنیاد پر کھولے جاتے ہیں جبکہ جدید بینکاری کے بارے میں یہ واضح ہے کہ بینکوں کے ڈیپازٹس قرض کی بنیاد پر کھولے جاتے ہیں۔ امریکی عدالتوں نے یہ فیصلہ دے رکھا ہے کہ بینکوں کے ڈیپازٹس صرف اور صرف قرض ہی شمار ہوں گے جن کی واپسی کی ضمانت ہوگی۔
دعوے کا تجزیہ :
اسلامی بینکاری نظام امریکہ یا کوئی اور ملک یا سودی نظام سے الگ ایک مستقل نظام ہے جس کے اپنے اصول ہیں و ضوابط ہیں۔ امریکی عدالتوں کے حکم کا نفاذ سودی بینکوں پر تو ہو سکتا ہے لیکن اسلامی بینکوں پر قطعا نہیں ہوتا۔ اسلامی بینک کے ڈیپازٹس کی تعریف کیا ہوگی، اس کا تعین اسلامی بینک سے متعلقہ ریگلولیٹری ادارے ہی کریں گے ۔ اور یہ تعین کیا جا چکا ہے کہ اسلامی بینکوں کے انوسٹمنٹ اور سیونگ ڈیپازٹس مضاربہ بنیادوں پر ہی کھولے جائیں گے اور ان پر شرعی مضاربہ کے اصولوں کا اطلاق ہوگا۔ لہذا اسلامی بینکوں کے ڈیپازٹس پر سودی بینکاری نظام کی تعریف کو چسپاں کرنا اسلامی بینکاری نظام کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ایک طرف شکو ہ کیا جات ہےکہ اس کے لیے الگ سے قانون سازی کیوں نہیں کی جاتی تو دوسری طرف اگر اس کا اپنا تشخص قائم کر کے اصطلاحات کی اپنی تعریفات مقرر کی جائیں تو اس کا انکار کر دیا جاتا ہے جو ہر لحاظ سے نامناسب ہے۔ اسلامی بینکوں کے ڈیپازٹس سے وہی مراد ہے جو اسلامی بینکوں نے دی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی دوسری تعریف قابل قبول نہیں۔

اسلامی بینک میں جمع شُدہ رقوم (Deposits of Islamic Bank)
اسلامی بینکوں میں عام طور پرچار طرح کے اکا ؤنٹس میں رقم جمع کرائی جاتی ہے، لیکن مختلف بینکوں نے خود کو دوسرے بینکوں سے ممتاز اور صارف کو متوجّہ کرنے کے لیے الگ الگ قسم کے اکاؤنٹس قائم کر رکھے ہیں۔ لیکن یہاں ہم چار بنیادی اکاؤنٹس کو بیان کریں گے۔

1- کرنٹ اکاؤنٹ
روایتی بینک کی طرح اسلامی بینک میں بھی کرنٹ اکاؤنٹ میں رکھی گئی رقم ایک قرض ہوتی ہے یعنی کرنٹ اکاؤنٹ ہولڈر اور اسلامی بینک کے مابین قرض خواہ اور مقروض کا تعلُّق ہوتا ہے نیزاکاؤنٹ ہولڈر کو اپنی رقم کے قرض ہونے کی وجہ سے اُس پر کسی قسم کے نقصان کا خطرہ بھی مول نہیں لینا پڑتا۔ اسلامی بینک یہ رقم عندالطلب ادا کر تا ہے کیونکہ قرض کی رقم کسی بھی وقت طلب کی جا سکتی ہے، تاہم کچھ لوگ کرنٹ اکاؤنٹ کی بنیاد امانت بتاتے ہیں جو کسی بھی طور درست نہیں ہے جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے کہ امانت کی رقم پر گارنٹی کا احساس نہ ہونے کی وجہ سے لوگ بینکوں میں اپنی رقم جمع نہیں کراتے۔ نیزاگر کرنٹ اکاؤنٹ کی رقم کو ’’امانت‘‘ مان بھی لیا جائے تو پھر یہ معاملہ فقہا کے نزدیک شرکتِ ملک میں بدل جاتا ہے، کیونکہ اسلامی بینک کرنٹ اکاؤنٹ کی رقم کو اپنی دیگر رقوم کے ساتھ ملا دیتا ہے۔ اس بارے میں علّامہ ابن عابدین شامی کتاب الشرکۃ میں ؒ فرماتے ہیں کہ اگردو لوگوں کے مال کا اختلاط کسی بھی سبب سے ہو تو وہ مخلوط مال دونوں صاحبوں کے مابین مشترک ہو جاتا ہے جو کہ شرکتِ ملک کے تحت آتا ہے۔ اور یہ فقہ اسلامی کا ایک مسلمہ اصول ہے ’’ان الشریک امین فی المال‘‘ کہ ایک شریک کا مال دوسرے شریک کے پاس امانت کے طور پر ہوتا ہے اگر وہ مال بلا تعدی ضائع ہو جائے تو دوسرے شریک پر اُس کی ادائیگی لازم نہیں آتی۔

لہذا اسلامی بینک کے کرنٹ اکاؤنٹ میں رکھی گئی رقوم امانت نہیں ہیں بلکہ قرض ہیں ۔صرف اِیک ہی صورت میں اکاؤنٹ ہولڈر کو اپنی رقوم پر گارنٹی مل سکتی ہے اور وہ قرض کی صورت ہے۔ اس لیے اسلامی بینک اس اکاؤنٹ کی رقم پر کوئی نفع نہیں دیتا کیونکہ اسلام میں قرض پر نفع کمانا سود ہے۔ لیکن انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک بینکنگ اینڈ انشورنس (2000) کے مطابق کچھ مالیاتی ماہرین کہتے ہیں کہ کرنٹ اکاؤنٹ پر منافع دینے کی پالیسی کو کچھ شرائط کے ساتھ اسلامی بینکوں کی مرضی پر چھوڑ دیا جائے۔ جیسا کہ اسلامی بینک کرنٹ اکاؤنٹ ہولڈر کو کوئی بھی اضافی رقم بطور تحفہ دیں بایں طور کہ یہ اکاؤنٹ ہولڈر کا کوئی استحقاق نہیں ہوگا، نیز اسلامی بینک یہ ادائیگی باقاعدگی سے نہیں کرے گا، تاکہ وقت گزرنے کسے ساتھ یہ ایک روایت بن کر سود کی شکل اختیار نہ کر جائے، لیکن راقم کی نظر میں کرنٹ اکاؤنٹ میں تحفۃََ رقم کی یہ رائے درست نہیں کیونکہ شرع میں جس طرح کچھ چیزیں سدِّذرائع کے طور پر منع کر دی جاتی ہیں، بعینہ یہ معاملہ بھی ممنوع ہونا چاہیے، تاکہ سُود کی طرف جانے کا کوئی سبب بھی باقی نہ رہے۔

بچت اکاؤنٹ اور سرمایہ کاری اکاؤنٹ
ان تینوں ڈیپازٹس میں رقوم مضاربہ کی بنیاد پررکھی جاتی ہیں یعنی اکاؤنٹ ہولڈر رب المال جبکہ اسلامی بینک مُضارب ہوتا ہے۔ اکاؤنٹ ہولڈر اور اسلامی بینک کے مابین مضاربہ کا یہ عقد مضاربہ مطلقہ ہوتا ہے جس میں اکاؤنٹ ہولڈر اسلامی بینک کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ اسلامی بینک اِس رقم کوکسی ایسے کاروبار میں لگا سکتا ہے جو حلال ہو یا کسی ایسی کاروباری کمپنی کے ساتھ مشارکت یا مُضاربت کی بنیاد پر سرمایہ کاری میں شامل کر سکتا ہے، جس کا کاروبار جائز ہو۔ ان تینوں اکاؤنٹس میں اکاؤنٹ ہولڈر کو اصل سرمائے پر نقصان کا امکانی خطرہ مول لینا پڑتا ہے۔نقصان ہو نے کی صورت میں صارف رب المال ہونے کی حیثیت سے نقصان کی ذمہ داری لیتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ بینکوں کو تو نقصان ہی نہیں ہوتا تو پھر صارف کو نقصان کیسے ہوگا؟ اس کا جو اب یہ ہے کہ اسلام میں ایسی کوئی شرط نہیں ہے جس کے تحت یہ کہا جائے کہ مضاربہ اُس وقت تک جائز نہیں ہو گا جب تک کہ اُس میں نقصان نہ ہو۔ شریعت مطہرہ صرف اس بات کی شرط عائد کرتی ہے کہ رب المال کے لئے نقصان کا صرف خطرہ مول لینا ضروری ہے۔ اب یہ قسمت یابہترین کاروباری فیصلے پر منحصر ہے کہ نقصان ہو یا نہ ہو۔

اسلامی بینک اس مالِ مضاربت میں اکاؤنٹ ہولڈرز کی اجازت سے اپنی رقم بھی ملا لیتا ہے اور کاروبار میں لگادیتا ہے۔ اِس صورت میں نفع و نقصان کی تقسیم شرکت ومضاربت کے شرعی اصولوں پرہوتی ہے ۔ یہ شرکت و مضاربت کا ایسا مجموعہ ہے جس میں ایک مضارب مالِ مضاربت میں اپنا سرمایہ بھی شامل کر دیتا ہے اور فقہاء کے نزدیک یہ جائز ہے۔ حضرت امام سرخسیؒ فرماتے ہیں’’ لو خلط اٗلف المضاربۃ باٗلف من مالہ قبل الشراء جاز ‘‘اگر مضارب ، مضاربت کے ایک ہزار روپے کے ساتھ اپنے مال سے ایک ہزار روپے( مضاربت کے سامان کی) خریداری سے پہلے ملا دیتا ہے تو یہ جائز ہے۔

کراچی میزان انڈیکس (Karachi Meezan Index)
کسی کمپنی میں اسلامی بینک کی سرمایہ کاری سے متعلق سوال یہ ہے کہ یہ پتہ کیسے چلے گا کہ کس کمپنی کا کاروبار جائز اور حلال ہے؟ اسلامی بینک کِس کمپنی کے سٹاک میں پیسہ لگائےگی؟ تو اِس کا جواب یہ ہے کہ کراچی اسٹاک مارکیٹ اور میزان اسلامک بینک نے 2009ء میں کراچی میزان انڈیکس (Karachi Meezan Index) کے نام سے ایک مشترکہ انڈیکس متعارف کرایا ہے جسے دونوں اداروں کے جدید مالیاتی امور کے ماہرین اور شرعی ایڈوائزر (مفتیانِ عظام) کی نگرانی میں تیار کیا جاتا ہے۔ اس انڈیکس میں مختلف کمپنیوں کے کاروبار کا جائزہ لیا جاتا ہے، جس کمپنی کا کاروبار مکمّل طور پر جائز ہو یا کاروبار کا زیادہ حصہ جائز ہو توایسی تیس (30) کمپنیوں کو انڈیکس میں ترتیب سے شامل کیا جاتا ہے، اِس لیے اسے KMI30 کہتے ہیں۔ جو افراد یا ادارے صرف اُن کمپنیوں کے سٹاک ؍ شیئر خریدنا چاہتے ہوں جن کے کاروبار شرعاََ جائز ہوں تو وہ KMI30 میں شامل کمپنیوں کے سٹاک ؍ شیئر خریدتے ہیں۔ یہ انڈیکس ہر چھ ماہ بعد Update کیا جاتا ہے۔ اگر اسلامی بینک نے سٹاک ما رکیٹ میں پیسہ لگانا ہو تو اُسے KMI30 کی کمپنیوں میں ہی انوسٹ کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔

Comments

محمد ابوبکر صدیق

محمد ابوبکر صدیق

محمد ابوبکرصدیق بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس، اسلامی بینکنگ میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ماسٹر، اسلامی یونیورسٹی سے ایم ایس اسلامک بینکنگ کیا، اب پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.