میرا بیٹا اور فلسطینی بچے - نیر تاباں

میرا تین سال کا بیٹا میرے ساتھ ہی سوتا ہے۔ کچھ دن پہلے آدھی رات کو اس کی سسکیوں کی آواز سے میری آنکھ کھلی۔ وہ اس وقت کوئی ڈراؤنا خواب دیکھ رہا تھا اور سسک رہا تھا۔ میں نے اس کو کروٹ دلوانےکی کوشش کی۔ کوئی فرق نہ پڑا تو اپنے ساتھ لگا کر شفاء کی دعائیں پڑھنے لگی۔ اس کو ساتھ لگائے، اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے میں دعا کرتی جا رہی تھی۔ کچھ دیر بعد اس کی طبیعت سنبھل گئی اور وہ سکون سے سو گیا، لیکن میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتی کہ مجھے کتنی بےبسی محسوس ہو رہی تھی. میرا بچہ کسی چیز سے اس قدر خوفزدہ تھا اور میں کچھ کر نہیں پا رہی تھی۔

کتنی چھوٹی سی بات ہے ناں؟ ایک خواب ہی تو تھا۔ کچھ ہی دیر میں ختم ہو جاتا۔ بچہ اگر ڈر گیا تو اتنی بھی بڑی بات نہیں، ہے ناں؟ لیکن یہ ماں کا دل بھی عجیب ہوتا ہے۔ بچے کو ذرا سی بھی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا، ایک لمحے کے لئے بھی نہیں۔ خواب میں بھی نہیں!

آج کل جب میں فلسطینی ماؤں کو دیکھتی ہوں، خون میں لت پت بچوں کی لاشوں کو گود میں اٹھائے، میری روح کانپ جاتی ہے۔ میرے تصور سے بالاتر ہے کہ ان کے دل کی اس وقت کیا حالت ہوتی ہو گی۔ کسی ماں کے دل پر کیا گزرتی ہوگی جب اپنے بچے کو اپنی نظروں کے سامنے ایسی سخت تکلیف میں تڑپتا بلکتا دیکھتی ہوگی، مرتا دیکھتی ہوگی۔

کہاں مر گئے سب عرب اور مسلمان لیڈر؟ کسی کے منہ سے کوئی لفظ نہیں نکلا۔ انہیں کوئی خدا کا خوف نہیں؟ یہ عیش و عشرت کل کو ختم بھی ہونے ہیں۔ مرنا بھی ہے۔ حاکمِ وقت اللّٰہ کو کیا جواب دیں گے؟ کہاں گئیں عالمی امن کی تنظیمیں؟ کسی کو کچھ نظر نہیں آتا؟ وہ terrorism کے خلاف نعرے کیا ہوئے؟ ظلم اور بربریت کے خلاف تمام مسلم امت سوئی ہوئی کیوں ہے؟ اتنی خاموشی کیوں ہے؟

یہ بھی پڑھیں:   ماں سے معاشرہ - عائشہ یاسین

پروردگار! ماؤں کی فریاد سن لے، مظلوموں کی آہ سن لے۔ سوئے ہوئے مسلمانوں کو جگا دے، ہمیں ایک کر دے اور اتنی طاقت دے کہ دشمن پر غلبہ نصیب ہو۔ یا رب! ظالموں کو نیست و نابود کر دے۔ اللّٰہ رب العزت! معصوموں کے خون اور ماؤں کے آنسوؤں کی لاج رکھ لینا۔

Comments

نیر تاباں

نیر تاباں

نیّر تاباں ایک سلجھی ہوئی کالم نگار ہیں - ان کے مضامین دعوتِ فکر و احتساب دیتے ہیں- بچّوں کی نفسیات اور خواتین کے متعلق ان موضوعات پر جن پہ مرد قلمکاروں کی گرفت کمزور ہو، نیّر انھیں بہت عمدگی سے پیش کرسکتی ہیں- معاشرتی اصلاح براستہ مذہب ان کی تحریر کا نمایاں جز ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.