سنا ہے لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں - راشد حسین قاسم

اردو غزل کو نئی جہتوں سے روشناس کرانے والے اور شاعری کی دنیا میں اپنا منفرد مقام بنانے والے احمد فراز 12 جنوری 1931ء کو کوہاٹ میں پیدا ہوئے۔ زندگی بھر ادبی خدمات انجام دینے کے ساتھ رومان انگیز اور انقلاب آمیز شاعری میں نام کمایا۔ ان کی شعری تصانیف میں تن تنہا، جان جاناں، درد آشوب، نایافت، سب آوازیں میری ہیں، بے آواز گلی کوچوں میں، آئینوں کے شہر میں نابینا، غزل بہانہ کرو، خواب گل پریشاں سے، سخن آراستہ، اے عشق جنوں پیشہ شامل ہیں۔

احمد فراز نے دو غزلیں ’’دیکھتے ہیں‘‘ ردیف میں لکھیں، ان دونوں غزلوں کا ردیف اگرچہ ایک ہی ہے لیکن دونوں کے قافیہ مختلف ہیں۔ ایک غزل کا قافیہ ٹھہر کے، ہنر کے (را ساکم ماقبل متحرک) وغیرہ جبکہ دوسری غزل کا قافیہ چل کے، نکل کے (لام سالن ماقبل متحرک) ہے۔ ان دونوں غزلوں میں فراز کی محاورہ بندی، قوتِ کلام اور قدرتِ تخیل اپنے پورے عروج پر ہے۔ ان میں سے پہلے والی یعنی: ’’سنا ہے لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں‘‘ زیادہ مشہور ہوئی۔ 22 اشعار پر مشتمل اس غزل کے پندرہ اشعار میں 19 مرتبہ ’’سنا ہے...‘‘ کہہ کر فراز نے بڑے منفرد انداز میں محبوب کو مختلف قدرتی و فطری محاسن سے تشبیہ دی ہے۔

فراز کی اس غزل کا کمال یہ بھی ہے کہ اردو شاعری میں عموماً محبوب کے اوصاف بیان کرنے کے لیے جو تشبیہات بیان کی جاتی ہیں، شاعر نے خود انہیں بھی سراپا حیرت بنا دیا ہے۔مثلاً محبوب کو حسن میں چاند سے اور نزاکت ِحسن میں تتلیوں سے تشبیہ دی جاتی ہے، لیکن فراز کہتے ہیں کہ چاند خود بھی اس کے عاشقوں میں شامل ہے جبکہ تتلیاں بھی اس پر فریفتہ ہیں۔ نگاہوں کو ’’چشمِ غزال‘‘ یا ’’آہو چشم‘‘ کہہ کر ہرن کی خوبصورت آنکھوں سے تشبیہ دی جاتی ہے جبکہ یہاں صورت حال یہ ہے کہ پورے دشت و صحرا کے ہرن اس کی دید کو ترس رہے ہیں۔

یہ غزل ایسی مشہور ہوئی کہ مشاعروں میں فراز سے ’محاصرہ‘ اور یہ غزل فرمائش پر بار بار سنی جاتی رہی اور فراز بھی اکثر مشاعروں میں نئے کلام کے ساتھ یہ غزل بھی ضرور سناتے۔ اسی شہرت کے سبب کئی شعراء نے اسی زمین اور اسی قافیہ و ردیف پر طبع آزمائی کر کے اپنے فن کے جوہر دکھائے۔ کچھ شعراء نے تو سنجیدہ شاعری کی جبکہ کچھ نے اس میں سے مزاحیہ پہلو بھی نکالے اور ظریفانہ غزلیں لکھیں۔ استعارات و تشبیہات کے بادشاہ نوجوان شاعر شہزاد قیس نے بھی ایک طویل مگر بہترین غزل اسی زمین و قافیہ میں لکھی۔
اس حوالے سے تلاشِ بسیار کے بعد اب تک دونوں قسم کا جو کلام میسر ہو سکا، وہ دلیل پلیٹ فارم پر موجود ادب نواز دوستوں کی ضیافتِ طبع کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔ پہلے حصہ میں سنجیدہ کلام شامل کیا جا رہا ہے جبکہ دوسرے حصے میں مزاحیہ کلام شامل کیا جائے گا۔

احمد فراز:
سنا ہے لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
تو اس کے شہر میں‌کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے
سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے درد کی گاہک ہے چشمِ ناز اس کی
سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف
تو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے
ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں
سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے حشر ہیں‌اس کی غزال سی آنکھیں
سنا ہے اس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں‌کاکلیں اس کی
سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اس کی سیہ چشمگی قیامت ہے
سو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے جب سے حمائل ہیں اس کی گردن میں
مزاج اور ہی لعل و گوہر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے
کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں
سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے آئینہ تمثال ہے جبیں اس کی
جو سادہ دل ہیں‌اسے بن سنور کے دیکھتے ہیں

سنا ہے چشمِ تصور سے دشتِ امکاں میں
پلنگ زاویے اس کی کمر کے دیکھتے ہیں

وہ سرو قد ہے مگر بے گل مراد نہیں
کہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں

بس اک نگاہ سے لوٹا ہے قافلہ دل کا
سو رہ روان تمنا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اس کے شبستاں سے متُّصل ہے بہشت
مکیں‌ اُدھر کے بھی جلوے اِدھر کے دیکھتے ہیں

کسے نصیب کہ بے پیرہن اسے دیکھے
کبھی کبھی در و دیوار گھر کے دیکھتے ہیں

رکے تو گردشیں اس کا طواف کرتی ہیں
چلے تو اس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں

کہانیاں ہی سہی ، سب مبالغے ہی سہی
اگر وہ خواب ہے تعبیر کر کے دیکھتے ہیں

اب اس کے شہر میں‌ٹھہریں کہ کوچ کر جائیں
فراز آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں‌

(2)
ڈاکٹر نعیم حامد (سعودی عربیہ)
کبھی نفی کبھی اثبات کر کے دیکھتے ہیں
ہم اپنے آپ کو اثبات کر کے دیکھتے ہیں

یہ دیکھنا ہے کہ وہ کونسی چلے گا چال
بساطِ عشق پہ شہ مات، کر کے دیکھتے ہیں

انہیں ہماری محبت کا جب نہیں احساس
تو خود کو بے حسِ احساس کر کے دیکھتے ہیں

جو بات دل میں ہے ان کی زباں پہ آ جائے
کچھ ان سے ایسے سوالات کر کے دیکھتے ہیں

’’وہ جس کا سارے فسانے میں کوئی ذکر نہ تھا
نعیم آج وہی بات کر کے دیکھتے ہیں

نعیم مصرعۂ برجستۂ فراز پڑھو
’’یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں‘‘

(3)
احمد علی برقی (انڈیا)
کرشمے غمزہ و ناز و نظر کے دیکھتے ہیں
دیار شوق سے ہم بھی گزر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے خوشنما منظر ہے گُلزاروں سے
اگر یہ سچ ہے تو ہم بھی ٹھہر کے دیکھتے ہیں

ہے اس کی چشمِ فسوں ساز جیسے گہری جھیل
شناوری کے لئے ہم اتر کے دیکھتے ہیں

خرامِ ناز میں سرگرم ہے وہ رشکِ گل
چمن میں غنچہ و گُل بھی سنور کے دیکھتے ہیں

جدھر جدھر سے گزرتا ہے وہ حیات افروز
نظارے ہم وہاں شمس و قمر کے دیکھتے ہیں

حریمِ ناز معطّر ہے اس کی آمد سے
مزاج بدلے نسیمِ سحر کے دیکھتے ہیں

کبھی ہے خشک کبھی نم ہے چشمِ ماہ و شاں
نظارے چل کے وہاں بحر و بر کے دیکھتے ہیں

جو خواب دیکھا تھا احمد فرازؔ نے برقیؔ
ہم اس کو زندۂ جاوید کر کے دیکھتے ہیں

(4)
شہزاد قیس
قلم کو بابِ تمنا پہ دَھر کے دیکھتے ہیں
چلو فراز کی اُنگلی پکڑ کے دیکھتے ہیں

سفر کے تاروں نے کیا کُوچ کا بتانا تھا
کہ وُہ تو پیروں کو رَشکِ قمر کے دیکھتے ہیں

ہر ایک ذات میں رَب نے نشانی رَکھی ہے
کرشمے حُسن میں رَب کے ہُنر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے حوروں کے بعد اِس لیے بنایا اُنہیں
کہ خاص کام کو فرصت پہ دَھر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اُس نے یوں اَنگڑائی لی کہ حیرت سے
پری جمال کمال اِک بشر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے حکم ہُوا اِس کو سجدہ نہ کرنا
فرشتے خود کو کئی چٹکی بھر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے پھول گئے ہاتھ پاؤں حوروں کے
بہشت زادے اُسے بن سنور کے دیکھتے ہیں

سنا ہے منکرِ سجدہ نے ماتھا ٹیک دِیا
فرشتے ہاتھ کلیجے پہ دَھر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے عید کا چاند اُن کی راہ تکتا ہے
خوشی کے دیپ ، قدم خوش نظر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے جب وُہ کبھی نچلا لب چباتے ہیں
تو پھول پنکھڑی کو دُہرا کر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے بوند جو پانی کی لب کو چھُو کے گری
شراب خانے اُسے آہ بھر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے بھنوروں نے کلیوں پہ بھیجے حرف کئی
اَب اُس کے گالوں پہ آپس میں لڑ کے دیکھتے ہیں

سنا ہے چال پہ ہے آنکھ ، راج ہنسوں کی
غزال کُوچۂ جاں سے گزر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے ایک تو چوری کی اِملی کھاتے ہیں
زَباں پہ لیموں کی پھر بوند دَھر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے زینہ اُترتا ہے یوں وُہ مست غزال
کہ حرف چٹکلے زیر و زَبر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے آئینے سے خاصے بے تَکلُفّ ہیں
تو ہم بھی دُوسری جانب اُتر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے رُوپ کا دَرپن ہے رَقص کرتا کنول
حسین غنچے اُسے بن سنور کے دیکھتے ہیں

سنا ہے بادلوں پہ جب وُہ پاؤں دَھرتے ہیں
تو اَبر کو تو سمندر بپھر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے بس سے ہو باہر اَگر مسیحا کے
تو خاک قدموں کی تجویز کر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے بین بجاتے ہیں زُلف پر جوگی
جو یوں نہ بات بنے پاؤں پڑ کے دیکھتے ہیں

سنا ہے جگنو کوئی زُلف میں رہا شب بھر
ستارے نخرے اَب اُس مفت بر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے مورنی شاگردِ خاص ہے اُن کی
سو مور رَقص اُسی مست گر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے دُھوپ میں بارِش ہے زُلف چہرے پر
خوشی سے اَبر اُسے ہر نگر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے قُمریوں کے با اَدب ترانے پر
شجر رُکوع میں بھی دَم خم کمر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے کروٹیں گنتا ہے چاند ، راتوں کو
کئی ستارے تو چھت پر اُتر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے چٹیا نے پتلی کمر کو چُوم لیا
وُہ زُلف ، چٹیا سے اَپنی پکڑ کے دیکھتے ہیں

بدن کی چاندنی کو دُھوپ جب لگاتے ہیں
مریخی چاند بھی ہالے کمر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے جسم ، حسیں تتلیاں دَباتی ہیں
گلاب گالوں پہ پتی رَگڑ کے دیکھتے ہیں

سنا ہے چُوڑیوں سے دِل کھنکنے لگتا ہے
سنا ہے گھنگھرو کو نغمے ٹھہر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے نُور کا ہالہ ہے بانکی ’’نار‘‘ پہ یوں
کہ دید خواہ تو بس اُس کو مر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے جل پری ، جلتی ہے اُن کے پیروں سے
گڑھے کو گالوں کے چکر بھنور کے دیکھتے ہیں

سنا ہے شوخ ، خوشی سے جو کھلکھلا اُٹھے
طلائی جھرنے ہنسی کو ٹھہر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اُس کی تمنا بھی ہے نصیب کی بات
دُعا سے پہلے وَرق شاستر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے جان کنی مشغلہ ہے اُس گُل کا
اِسی بہانے ملاقات کر کے دیکھتے ہیں

وُہ جس پہ مرتا ہے آخر وُہ چیز کیا ہو گا
ہم اُس کے دِل میں کسی دِن اُتر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے خوشبو کے تالاب میں نہا دھو کر
نسیمِ صبح کو تن زیب کر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے خواب اُنہیں اِس لئے نہیں آتے
کہ خواب سب ہی کسی اَعلیٰ تر کے دیکھتے ہیں

جو خواب دیکھیں بھی تو دیکھتے ہیں شیش مَحَل
سو خود بھی جلوے رُخِ فتنہ گر کے دیکھتے ہیں

فرشتہ موت کا ہمراہ رہنے پر مجبور
جدھر سے گُزریں کئی لوگ مر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے مندروں میں اِس لیے نہیں جاتے
کہ بُت بھی سجدے مہا بُت کو کر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے خوشبو کی بارِش ہے گُل بدن کا وُجود
گلاب راستے خوشبو کے گھر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے چاندنی سے وُہ حنا لگاتے ہیں
کلی چٹکنے کو پازیب کر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے غنچے کو بوسہ دِیا ہے خوش لب نے
تو ہم بھی وعدے سے اَپنے مکر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے بوسے سے وُہ ٹالتے ہیں یہ کہہ کر
نہیں نہیں اَبھی سب پھول گھر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے ہاتھ پہ جب تتلی وُہ بٹھاتے ہیں
عُقاب اَپنی قبائیں کُتر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے دیپ جو روشن کرے وُہ زُہرہ جمال
وُہ شہ چراغ کئی جن رَگڑ کے دیکھتے ہیں

سنا ہے سامری بعد اَز ہزار جل تو جلال
طلائی بچھڑے کا دِل دان کر کے دیکھتے ہیں

وُہ خواب ہے کہ فُسوں ، جن ، پری کہ جانِ جُنوں
سب اُس کے حُسن کو تھوڑا سا ڈَر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے بول پڑے حاشا للہ اِہلِ سُخن
قلم زَمین پہ اِہلِ نظر کے دیکھتے ہیں

طلسمِ لیلیٰ تو ہے قیس کوہ قافِ جمال!
غزل کی چھوڑ اُسے سجدہ کر کے دیکھتے ہیں

(5)
انجم شادانی
تلاش منزل ادراک کرکے دیکھتے ہیں
غبار راہ کو پوشاک کرکے دیکھتے ہیں

ہے کتنا خون بہاروں کی میزبانی کو
خزاں میں دامن دل چاک کرکے دیکھتے ہیں

سنا ہے عشق بھی اک کیمیائے ہستی ہے
تو پھر حیات کو ہم خاک کرکے دیکھتے ہیں

کہاں تلک ترے جلوؤں کی تاب ناکی ہے
نگاہ شوق کو بے باک کرکے دیکھتے ہیں

خوشی کے اشک بہا کر ترے تصور میں
ہم آج قصہ غم پاک کرکے دیکھتے ہیں

سنا ہے عزم و یقیں بجلیوں پہ حاوی ہے
سو ایک جاخس و خاشاک کرکے دیکھتے ہیں

ابھی تو عرض تمنا کو لب ہلے بھی نہ تھے
وہ تیوری کو غضب ناک کرکے دیکھتے ہیں

ہمارا نام ہے انجم اسی کی نسبت سے
طواف منزل افلاک کرکے دیکھتے ہیں

(6)
حمیرا راحتؔ
مثالِ خاک کہیں پر بکھر کر دیکھتے ہیں
قرار مر کے ملے گا تو مر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے خواب کبھی مضمحل نہیں ہوتے
سنا ہے عشق خطا ہے سو کرکے دیکھتے ہیں

کسی کی آنکھ میں ڈھل جاتا ہے ہمارا عکس
جب آئینے میں کبھی بن سنور کے دیکھتے ہیں

ہمارے عشق کی میراث ہے بس ایک ہی خواب
تو آؤ ہم اسے تعبیر کر کے دیکھتے ہی

(7)
مذکورہ بالا ردیف ’’دیکھتے ہیں‘‘ مین فراز کی دو مزید غزلیں:
احمد فراز
چلو کہ کوچۂ دلدار چل کے دیکھتے ہیں
کسے کسے ہے یہ آزار چل کے دیکھتے ہیں

سنا ہے ایسا مسیحا کہیں سے آیا ہے
کہ اس کو شہر کے بیمار چل کے دیکھتے ہیں

ہم اپنے بت کو، زلیخا لیے ہے یوسف کو
ہے کون رونق بازار چل کے دیکھتے ہیں

سنا ہے دیر و حرم میں تو وہ نہیں‌ملتا
سو اب کے اس کو سرِ دار چل کے دیکھتے ہیں

اس ایک شخص کو دیکھو تو آنکھ بھرتی نہیں
اس ایک شخص کو ہر بار چل کے دیکھتے ہیں

وہ میرے گھر کا کرے قصد جب تو سائے سے
کئی قدم در و دیوار چل کے دیکھتے ہیں

فراز اسیر ہے اس کا کہ وہ فراز کا ہے
ہے کون کس کا گرفتار؟ چل کے دیکھتے ہیں

(7)
احمد فراز ۔
ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں
فراز اب ذرا لہجہ بدل کے دیکھتے ہیں

جدائیاں تو مقدر ہیں پھر بھی جان سفر
کچھ اور دور ذرا ساتھ چل کے دیکھتے ہیں

رہ وفا میں حریف خرام کوئی تو ہو
سو اپنے آپ سے آگے نکل کے دیکھتے ہیں

تو سامنے ہے تو پھر کیوں یقیں نہیں آتا
یہ بار بار جو آنکھوں کو مل کے دیکھتے ہیں

یہ کون لوگ ہیں موجود تیری محفل میں
جو لالچوں سے تجھے، مجھ کو جل کے دیکھتے ہیں

یہ قرب کیا ہے کہ یک جاں ہوئے نہ دور رہے
ہزار ایک ہی قالب میں ڈھل کے دیکھتے ہیں

نہ تجھ کو مات ہوئی ہے نہ مجھ کو مات ہوئی
سو اب کے دونوں ہی چالیں بدل کے دیکھتے ہیں

یہ کون ہے سر ساحل کے ڈوبنے والے
سمندروں کی تہوں سے اچھل کے دیکھتے ہیں

ابھی تلک تو نہ کندن ہوئے نہ راکھ ہوئے
ہم اپنی آگ میں ہر روز جل کے دیکھتے ہیں

بہت دنوں سے نہیں ہے کچھ اسکی خیر خبر
چلو فراز کوئے یار چل کے دیکھتے ہیں
احمد فراز

فراز کی مذکورہ غزل کا یہ مطلع کسی ستم ظریف کی طبعِ رواں کی زد میں آ کر ایسا دلچسپ بنا کہ پڑھتے ہی ہنسی آ جائے۔ مذکورہ بالا مصرع میں معمولی سی تبدیلی نے اسے کچھ یوں بنا یا گیا:
سُنا ہے لوگ اُسے ’زوم‘ کرکے دیکھتے ہیں.
یہ مصرع سامنے آیا تو اسی کی مناسبت سے ہم نے دوسرا مصرع جوڑا کہ:
سُنا ہے لوگ اُسے ’زوم‘ کرکے دیکھتے ہیں
عجیب لوگ ہیں فوٹو بھی مر کے دیکھتے ہیں

اور پھر اس کے بعد اس حوالے سے دیگر شعراء کا کلام جمع کرنا شروع کیا تو اچھا خاصا کلام جمع ہوگیا۔ دیگر شعراء کا مزاحیہ کلام ملاحظہ کیجیے.

(1)
فرید سحر حیدر آباد
کئی دنوں سے یہاں ہے نہیں کوئی ہلچل
ذرا سا ٹپکا شہد کا لگا کے دیکھتے ہیں

کمایا کچھ بھی نہیں بن کے ہم نے اک ٹیچر
اب اپنے بیٹے کو لیڈر بنا کے دیکھتے ہیں

بہت غرور ہے نیتا کو اپنی کرسی پر
ہم اس کو تختے پہ تھوڑا لٹا کے دیکھتے ہیں

کلام جھوم کے ایکٹنگ سے گا کے دیکھتے ہیں
کسی طرح بھی ہو محفل پہ چھا کے دیکھتے ہیں

بشر کے سامنے سر کو جھکا کے دیکھ لیا
خدا کے سامنے سر کو جھکا کے دیکھتے ہیں

جھڑک کے ہم کو تو ٹرخا دیا ہے سسر نے
ہم اپنی ساس کو مکھن لگا کے دیکھتے ہیں

غزل کو چھاپنے راضی نہیں کوئی اپنی
مشاعروں میں اسے ہم سنا کے دیکھتے ہیں

نظر وہ آتے ہیں بے دھب بغیر میک اپ کے
ہم ان کو روز ہی میک اپ کرا کے دیکھتے ہیں

ستم غریب پہ ہوتا سدا ہی رہتا ہے
امیر بستی میں کر کے دھماکے دیکھتے ہیں

ملا نہ کچھ بھی سحر کہہ کے سچ جہاں میں ہمیں
دوکان جھوٹ کی اب ہم چلا کے دیکھتے ہیں
بحوالہ؛ماہنامہ شگوفہ؛ سالنامہ 2013

(2)
عزیز فیصل، اسلام آباد
نہار منہ اسے کوچے میں جا کے دیکھتے ہیں
ہم آج اپنے ہی چھکے چھڑا کے دیکھتے ہیں

تحفظات ہیں اس کے برائلر پہ اگر
ہم اس کو چانپ ہرن کی کھلا کے دیکھتے ہیں

سنا ہے ،عشق میں کرتے ہیں ڈائیلاگ کئی
سو ہم بھی بات کو آگے بڑھا کے دیکھتے ہیں

سنا ہے چوریاں کرتی ہے مارکیٹ سے وہ
سو اس کے ہاتھ میں شاپر تھما کےدیکھتے ہیں

خریدتی ہے وہ تازہ کلام ٹینڈر سے
سو ریٹ اپنی غزل کا گرا کے دیکھتے ہیں

سنا ہے شربتِ دیدار ہو چکا نایاب
ہم اس کی شربتی آنکھوں میں جا کے دیکھتے ہیں

سنا ہے سُر کا تعلق نہیں ترنم سے
سو ہم بھی اپنی غزل ہنہنا کے دیکھتے ہیں

(3)
ڈاکٹر فریاد آزرؔ
’سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں‘
سو ہم بھی آج یہی کام کر کے دیکھتے ہیں

ہے شوق اس کو موبائل سے بات کرنے کا
سو ہم بھی چار چھ مِس کا ل کر کے دیکھتے ہیں

جن عاشقوں کو بڑھاپہ کی پونچھ اگنے لگی
سنا ہے وہ بھی اسے دم کتر کے دیکھتے ہیں

بس اس لئے کہ اسے پھر نظر نہ لگ جائے
لگا کے سب اسے چشمے نظر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے بالوں سے اس کو بڑی محبت ہے
تمام گنجے اسے آہ بھر کے دیکھتے ہیں

سدھار پائے نہ جن کو پولس کے ڈنڈے بھی
وہی موالی اسے خود سدھر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے ربط ہے اس کو امیر زادوں سے
سو آج ہم بھی اسے جیب بھر کے دیکھتے ہیں

وہ بالکونی میں آئے تو بھیڑ لگ جائے
رقیب ایسے میں جیبیں کتر کے دیکھتے ہیں

سڑک سے گزرے تو ٹریفک بھی جام ہو جائے
کہ اہلِ کار بھی اس کو ٹھہر کے دیکھتے ہیں

مجھے بھی آج کسی پار لر میں لے چلئے
اسے رقیب بہت بن سنور کے دیکھتے ہیں

ہماری بات ہوئی تھی نہ دیکھنے کی اسے
ہم اپنی بات سے پھر بھی مکر کے دیکھتے ہیں

مشاعروں کے لئے چاہئے غزل ا س کو
یہی ہے مانگ تو پھر مانگ بھر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے شوق ہے تیمار داریوں کا اسے
سو اپنے آپ کو بیمار کر کے دیکھتے ہیں

سنا گیا ہے کہ مردہ پرست ہے وہ بھی
تو جھوٹ موٹ کا پھر ہم بھی مر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے جب سے لی ’جوڈو‘ کی تربیت اس نے
رقیب دور سے ہی اس کو ڈر کے دیکھتے ہیں

مکان اس کا ہے سرحد کے اس طرف لیکن
ادھر کے لوگ بھی جلوے ادھر کے دیکھتے ہیں

’فرازؔ تم کو نہ آئیں محبتیں کرنی‘
سو اس گلی سے اب آزر ؔ گزر کے دیکھتے ہیں

(4)
ڈاکٹر غلام سرورساگرؔ (امریکہ)
ہماری بات پہ اتنا ہے اعتبار اُنھیں
ہماری ذات کو وہ بیچ دھر کے دیکھتے ہیں

سُنا ہے فون پر وہ گالیاں نہیں بکتے
سو آئو اُن کو ذرا فون کر کے دیکھتے ہیں

سُنا ہے دُور کا چشمہ خراب ہے اُن کا
سو آئو دُور سے ہی بات کر کے دیکھتے ہیں

سُنا ہے عشق ہے اُن کو فضول باتوں سے
اگر یہ سچ ہے تو بکواس کر کے دیکھتے ہیں

سُنا ہے شیخ جی بوتل بغل میں رکھتے ہیں
سو آئو آج ہم اُن کو پلٹ کے دیکھتے ہیں

سُنا ہے شیخ جی حُوروں کا خبط رکھتے ہیں
ذرا سی پی لیں تو جلوے اُدھر کے دیکھتے ہیں

سُنا ہے قوم کی دولت ہے ہر وزارت میں
وہ بار بار الیکشن میں لڑ کے دیکھتے ہیں

سُنا ہے وہ بھی کنوارے ہیں آج کل ساگرؔ
سو آئو اُن کی گلی سے گُزر کے دیکھتے ہیں

(5)
امیر الاسلام ہاشمی (سعودیہ عربیہ)
سنا ہے اس کو بہت سے اچکے دیکھتے ہیں،
سو ہم بھی دامنِ تقویٰ جھٹک کے دیکھتے ہیں،

سنا ہے وہ تو بھڑکتا ہے بات کرنے سے،
سو پیار اس پہ ذرا سا چھڑک کے دیکھتے ہیں،

نظر میں اس کی کھٹکتے ہیں چاہنے والے،
سو اس کی آنکھوں میں ہم بھی کھٹک کے دیکھتے ہیں،

سنا ہے اوجِ ثریا پہ ہے دماغ اس کا،
سو آج حوصلے ہم بھی فلک کے دیکھتے ہیں،

کوئی تو بات ہے اسکی غزالی آنکھوں میں،
غزالِ دشت جبھی تو ٹھٹک کے دیکھتے ہیں،

سنا ہے وہ تو قیامت کی چال چلتا ہے،
تو آؤ چلتے ہیں اس کو لپک کے دیکھتے ہیں،

وہ جب بھی جھوم کے چلتا ہے اس کے پیکر سے،
وہ موج اٹھتی ہے ساغر چھلک کے دیکھتے ہیں،

سنا ہے وہ تو بدکتا ہے رِیش والوں سے،
جبھی تو شیخ جی اسکو تھپک کے دیکھتے ہیں،

سنا ہے وہ تو سبھی موسموں کی ملکہ ہے،
سو اس سے رنگ ملا کے دھنک کے دیکھتے ہیں،

سنا ہے بھول بھلیاں ہیں اسکی قربت میں،
سو جان بوجھ کے ہم بھی بھٹک کے دیکھتے ہیں،

سنا ہے موڈ میں بارہ بجے وہ آتا ہے،
سو اسکے موڈ سے پہلے کھسک کے دیکھتے ہیں،

وہ گود لیتا ہے یا گود میں وہ لیتا ہے،
سو اسکے سامنے ہم بھی ہمک کے دیکھتے ہیں،

سنا ہے اس کی تو آنکھیں بھی بات کرتی ہیں،
سو بے جھجک بھی اسے کچھ جھجک کے دیکھتے ہیں،

سنا ہے اس کو ہمارا خیال رہتا ہے،
سو ہم خیال کا دامن جھٹک کے دیکھتے ہیں،

یہ بات راز کی ہے راز ہی میں رہنے دیں،
کہ وہ جھجکتا ہے یا ہم جھجک کے دیکھتے ہیں،

سنا ہے حسنِ تکلم پہ ناز ہے اس کو،
سو اس کے لہجے میں ہم بھی لہک کے دیکھتے ہیں،

الٹ پلٹ کے اسے دیکھنا تو مشکل ہے،
سو آج پیڑ سے الٹا لٹک کے دیکھتے ہیں،

فراز تک تو پہنچنے میں وقت لگتا ہے،
تو پھر نشیب کی جانب لڑھک کے دیکھتے ہیں۔

(6)
عبدالرشید (شاد مردانوی کراچی)
سنا ہے لوگ مجھے زوم کر کے دیکھتے ہیں
سو خود کو اور بھی موہوم کر کے دیکھتے ہیں

تمہارا عشق بہت بوڑھا ہوگیا اس کا
گلا دباتے ہیں مرحوم کر کے دیکھتے ہیں

پہاڑ رائی کا بننا یہاں کا قاعدہ ہے
سو ہم بھی ناک کو خرطوم کر کے دیکھتے ہیں

یہ قافیہ بڑا مشکل مجھے لگے ہیں میاں
چلو کہ خون کو اب خوم کر کر کے دیکھتے ہیں

چُغد تو یوں ہیں زمانے میں شاد ایک سے ایک
ہم اپنے آپ کو اب بوم کر کر کے دیکھتے ہیں

(7)
شاعر: نامعلوم
سنا ہے دن میں اسے ٹڈیاں ستاتی ہیں
سنا ہے رات کو ڈڈّو ٹھہر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے جھاڑیوں جیسی ہیں کاکلیں اس کی
سو اس کو کوئلہ فروش آہ کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اس کی سیاہ چہرگی قیامت ہے
سو ہم بھی حوصلے اپنے جگر کے دیکھتے ہیں

کہانیاں ہی سہی، سب مبالغے ہی سہی
ہیں اس کے بھائی جو پندرہ تو مر کے دیکھتے ہیں