آپ کیسی ہیں؟ سائرہ ممتاز

ایک دن بیٹھے بٹھائے میرے فون کی رنگ ٹون بجنا شروع ہوئی اور مستقل پانچ منٹ تک وقفے وقفے سے بجتی چلی گئی. فون کرنے والے کو بھی سلام ہے کہ اگر کوئی ایک دو بار فون کرنے پر کال ریسیو نہیں کر رہا تو اس کا مطلب ہے وہ کسی ضروری کام میں مصروف ہے. اس کے بعد اخلاقی فرض بنتا ہے کہ اس کے کال بیک یا میسج کا انتظار کریں. خیر نماز سے فارغ ہو کر دیکھا تو کسی انجان نمبر سے کالز کی گئی تھیں. ابھی اسی سوچ و. بچار میں ہی تھی کہ دوبارہ سیل اسکرین بلنک ہونے لگی، از خود نتیجہ نکالا کہ شاید آرمی کالج والوں کی طرف سے ہو جہاں سی وی بھیج رکھی تھی (پچھلے ماہ بھی ایک کالج کی طرف سے کی جانے والی کال ریسیو نہ ہو سکی تھی جس کی وجہ سے انٹرویو نہیں دے پائی) خیر کال ریسیو کرنے پر تعارف مانگا گیا جس پر میں نے جوابی تعارف کا سوال کیا. آگے سے جواب ملا کہ میں فلاں..... شیرازی ہوں تو میں نے پوچھا ”کیا کر سکتی ہوں پھر؟“ جی بات کرنی ہے. اب کے قدرے درشت لہجے میں کہا ”میں آپ کو نہیں جانتی“. آگے سے اس سے بھی شہد آگیں الفاظ میں کہا گیا ”لیکن میں تو جانتا ہوں، کیسی ہیں آپ؟“ میں نے فون پاس بیٹھے چاچو کو پکڑاتے ہوئے کہا، یہ لیں میرے ابو سے پوچھ لیں. میں کیسی ہوں.\r\n \r\nاس طرح کے واقعات بکثرت ہر دوسری تیسری لڑکی کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر پیش آتے رہتے ہیں، مختلف بہانوں سے تنگ کرنا، کبھی صرف دوستی کے چکر میں، کبھی فرینڈز میں اپنی دھاک بٹھانے کے لیے اور چار پانچ گرل فرینڈز میں اضافہ کرنے کے لیے، یہ طریقے ایک معمول بن چکے ہیں. صرف ایک طرف ہی نہیں، دوسری جانب یہ برائی ایک ناسور بن کر لڑکیوں اور خواتین میں بھی پھیل چکی ہے. اگرچہ ان میں پچاس فیصد وہ عورتیں ہوتی ہیں جو واقعی ”گاہک“ ڈھونڈ رہی ہوتی ہیں لیکن پچاس فیصد بلکہ اس سے زیادہ تعداد کالج/یونیورسٹی حتی کہ اسکول گوئنگ طالبات کی ہوتی ہے. اسی طرح کا واقعہ والد صاحب کے ساتھ پیش آیا، جب میں ان کے ساتھ گاڑی میں کہیں جا رہی تھی. والد صاحب کی عادت ہے کہ عموماً گاڑی چلاتے ہوئے وہ فون ریسیو نہیں کرتے اور اگر ایسا کرنا ضروری ٹھہرے تو جو بھی ساتھ ہو، اس کو فون پکڑا کر لاؤڈ اسپیکر آن کر کے بات کر لیتے ہیں. \r\nوہ ایک لڑکی تھی جس نے اپنی رہائش سکھر بتائی اور کہا کہ بیلنس چاہیے، مجبوری ہے، اس کے بعد دوستی کی پیشکش کی، والد صاحب نے اپنی سفید ریش اور بزرگی کا ذکر کیا، تب بھی ان محترمہ پر جوں نہ رینگی، تب ابو نے ذرا سختی سے سمجھا کر فون بند کروا دیا.\r\n \r\nکیا وجہ ہے معاشرے میں پیدا ہوتے ان رویوں کی. اس کے بعد مجھے اس معاملے میں مزید تجسس پیدا ہو تو کچھ مسائل سامنے آئے. \r\nسب سے پہلے تو والدین کی ذمہ داری، جس میں وہ غفلت برت رہے ہیں، مائیں تن آسان ہو چکی ہیں اور اکثر اوقات وہ جان چھڑانے کے لیے بچوں کی ہر بات مان لیتی ہیں، نتیجتاً بچہ خود سر اور ضدی ہوتا چلا جاتا ہے، اس کے بعد باپ اپنی سرپرستی کا بوجھ اٹھانے سے انکاری نظر آتا ہے. مجھے یاد ہے کہ ہم جب اسکول جاتے تھے، تو ہمارے لیے وین لگوائی گئی، اور جب تک وین نظروں سے اوجھل نہ ہو جاتی، چچا یا ابو میں سے کوئی ایک وہاں کھڑے رہتے، پھر اس قدر ذمہ داری سے پرورش کی کہ اپنی سہولت اور وسائل و مسائل کو پس پشت ڈال کر مناسب جیب خرچ اور ساتھ لنچ باکس بھی دیا جاتا کہ جس وقت جو جی چاہے، بچہ اپنی مرضی سے کھا پی سکے. یہ نہ ہو کہ لنچ پسند نہ آ رہا ہو تو دوسروں کا منہ تکا کرے. ہو سکتا ہے آپ اس لاجک سے اتفاق نا کریں لیکن اس لاجک نے ہمارے اندر ایسی خود داری پیدا کی کہ آنے والے وقت میں باپ سے پیسے مانگتے بھی شرم آنے لگی.\r\n \r\nپھر میں نے نوٹ کیا ہے کہ بچیوں کی مائیں بہت لا پرواہی برت رہی ہیں، عموما اسکول کے آخری دو سال ایسے ہوتے ہیں جس میں بچہ بلوغت کی طرف جا رہا ہوتا ہے یا جا چکا ہوتا ہے. اس وقت اسے مناسب رہنمائی، نفسیاتی طور پر پر مسئلے کا تسکین شدہ حل درکار ہوتا ہے جو انہیں گھر سے نہیں ملتا تو وہ باہر کا رخ کر لیتے ہیں. پھر بے جا پابندیاں، کچھ والدین چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ ہر وقت یا پڑھتا رہے یا پھر ان کا کہا حکم بجا لاتا رہے، یہ طریقہ بھی غلط ہے. آپ بچے کو اس طرح ٹریننگ دیں کہ وہ اپنا کام خود ہی وقت پر کر لیا کرے اور اس کے بعد اسے گھر میں آزاد چھوڑ دیں. آپ اس وقت جس دور سے گزر رہے ہیں یہ ناممکن ہے کہ آپ کا بچہ سیل فون، ڈی وی ڈی، لیپ ٹاپ یا انٹرنیٹ سے دور رہے. \r\n\r\nتو پھر کیا کیا جائے؟ کرنا یہ ہے کہ آپ نے بچے کو اپنے قریب نہیں کرنا، خود اس کے قریب ہونا ہے. ان کے ایک ایک منٹ کی رپورٹ آپ کے پاس ہونی چاہیے اور ایسا کوئی پرائیوٹ ڈی ٹیکٹر آپ کو مہیا نہیں کرے گا. اسکول اور کالج کے استاد آپ کے گھر بتانے آئیں گے نہ محلے والوں کے پاس آج کل وقت ہے کہ وہ آ کر آپ کو خبردار کریں. یہ آپ کا کام ہے، آپ کے بچے کو آپ پر اس قدر اعتبار ہونا چاہیے کہ وہ اپنے دل کی بات بلا خوف و جھجھک آپ کو بتا سکے، پھر چاہے وہ لڑکا / لڑکی پسند کرنا ہی کیوں نا ہو. آپ کہہ سکتے ہیں کہ ان باتوں کا اوپر کی گئی باتوں سے کیا تعلق ہے؟ تعلق یہ ہے کہ جب اسے گھر سے سکون اور محبت ملے گی، مناسب تربیت اور دینی و دنیاوی شعور حاصل ہوگا تو وہ اپنی راہیں خود بخود طے کرےگا. اس میں آجکل غربت و امیری کا چکر بھی نہیں رہا کہ آپ کہہ سکیں، یہ اس گھر کے بچے کرتے ہیں جہاں بھوک ننگ نے ڈیرے ڈال رکھے ہوں، یقین کیجئے برائی کا تعلق پیسے کی کمی زیادتی سے نہیں، ماحول اور تربیت سے ہے. آپ کے بیٹے/ بیٹی کو معلوم ہی نہیں کہ غیر محرم کون ہوتا ہے؟ معاشرتی اقدار و روایات کیا چیز ہیں؟ اپنی حدود و قیود کا پاس کیسے رکھنا چاہیے اور سب سے بڑھ کر اللہ اور اس کے رسول کا اس بارے میں کیا فرمان ہے تو ظاہر ہے وہ غلط راستے پر ہی چلے گا. \r\n \r\nیہ ماؤں کا کام ہے اور ساتھ باپ بھی شامل ہے. باپ کی سختی اور ماں کی تربیت وہ کام کرتی ہے جو ایک عارف باللہ شیخ کی صحبت کرتی ہے. آپ خود تنگ دستی بھگت لیں لیکن اپنے نوجوان بیٹے کو دو پیسوں کے لیے ذلیل مت کریں، اس پر اعتبار کرنا سیکھیں، یقیناً وہ آپ کو مایوس نہیں کرےگا، لیکن اگر آپ ہر وقت طنز کے تیر اور طعنوں کے نشتر چلائیں گے تو وہ آپ سے دور ہوتا جائے گا، اور جتنا آپ سے دور ہوگا اسے خراب کرنے والے اتنا ہی اس کے قریب آتے چلے جائیں گے. \r\n\r\nماؤں سے گزارش ہے کہ صرف اچھا کھلا پلا دینا، پہنا دینا، شوہر کو طعنے دے کر زبردستی باہر سیر سپاٹا کر آنا، بچوں کے اندر زہر گھول رہا ہے. یہ محبت نہیں ہے. محبت یہ ہے کہ آپ اپنی چادر کو دیکھتے ہوئے گھر میں کھانا بنائیں، جب آپ کے بچے کھانے بیٹھیں تو انھیں بتائیں کہ کھانے کا سنت طریقہ کیا ہے؟ کھاتے ہوئے ان پر بتائے گئے ورد اور وظائف و آیات دم کرتی رہیں. باہر بھیجنے سے قبل بھی سورتیں پڑھ کر دم کریں اور اللہ کے حوالے کرنا سیکھیں، کیونکہ صرف وہی ایسا امانت دار ہے جس کے حوالے جو شے کی جائے، ویسی ہی واپس لوٹاتا ہے. یاد رکھیے کہ آپ غافل نہیں بنیں گے تو آپ کی اولاد خائن بھی نہیں بنائی جائے گی.

Comments

سائرہ ممتاز

سائرہ ممتاز

سائرہ ممتاز کو تاریخ، ادب، ثقافت، زبان، تصوف، معاشرے، اور بدلتی ہوئی اقدار جیسے موضوعات میں دلچسپی ہے۔ صحافت اور اردو میں ماسٹرز کیا ہے۔ نسل نو کو زیورتعلیم سے آراستہ کرنا ان کا شوق ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.