ملحدین سے ایک سوال - سنگین زادران

13.772 ارب سال پرانی کائنات کی تخلیق کی وجہ ایک دھماکہ بنا۔ اور تخلیق کے نتیجے میں 7 ارب سال بعد یعنی آج سے لگ بھگ 4.5 ارب سال پہلے زندگی کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوا۔ فزکس کے ماہرین اپنی طویل ترین تحقیقات اور حساب کتاب کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ زندگی کے وجود میں آنے کےلیے اور بقا پذیر ہونے کےلیے کششِ ثقل اور قدرت کی دوسری طاقتوں کا بالکل متوازن ہونا ضروری ہے۔ کائنات کے پھیلاؤ کا یہ تناسب جس کے تحت ابھی کائنات پھیل رہی ہے اگر تھوڑا سا بھی کمزور ہو جائے تو کیا ہو گا؟ کشش ثقل ہر چیز کو واپس سمیٹ لے گی اور بالاخر "بگ کرنچ" ہو جائے گا۔ بگ کرنچ کے حقیقی متبادل معنی زہن میں نہیں آ رہے ہیں لیکن بگ کرنچ کا مفہوم سمجھنا ہے تو بگ بینگ کے بالکل الٹ معنی خیال میں لے آئیں۔ یعنی بگ بینگ وہ بڑا دھماکہ تھا جس کے تحت کائنات وجود میں آئی۔ اتنی شدت سے دھماکہ ہوا کہ پھیلاؤ کا ایک اتنا وسیع عمل شروع ہوا کہ 100 ارب سے زائد کہکشائیں وجود میں آئیں جن میں سے ہر ایک کہکشاں میں کھرب ہا کھرب ستارے ہیں۔ واضح رہے ہم زمین سے رات ایک ہی وقت میں اندازاََ چھے ہزار ستارے دیکھتے ہیں۔ وہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کے نتیجے میں شروع ہونے والا پھیلاؤ کا عمل آج تک جاری ہے۔ تو یہ بگ بینگ تھا۔ بگ کرنچ اس کا مخالف ہے۔ اب بگ کرنچ کو سمجھنا زرا آسان ہو گا۔ یعنی بگ بینگ کے نتیجے میں کائنات عدم سے وجود میں آئی تھی اگر بگ کرنچ ہو تو جتنی قوت سے یہ کائنات پھیل رہی ہے اتنی ہی قوت سے یہ کائنات سمٹ کے واپس وجود سے عدم میں چلی جائے۔\r\n\r\nہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ "زندگی کے وجود میں آنے کےلیے اور بقا پذیر ہونے کےلیے کششِ ثقل اور قدرت کی دوسری طاقتوں کا بالکل متوازن ہونا ضروری ہے" دوسری صورت میں بگ کرنچ ہو جائے گا۔ کام کی بات ہے زرا غور فرمائیے گا۔ ڈاکٹر سٹیفن ھاکنگ (جو موجودہ صدی کا سب سے بڑا سائنسدان مانا جاتا ہے اور وہ اللہ کو نہیں مانتا) کے بقول \r\n"بگ بینگ کے دھماکے کے فوری بعد اگر کائناتی پھیلاؤ کے تناسب میں ایک سیکنڈ کے ایک اربویں حصے کے مزید اربویں حصے جتنا بھی فرق پڑ گیا ہوتا تو کائنات آج اپنی موجودہ شکل میں نہ ہوتی۔ بلکہ یہ دوبارہ تباہ ہو جاتی" میں اس کا مزید ترجمہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ سٹیفن ھاکنگ کہتے ہیں کہ بگ بینگ کے بعد کائنات کے پھیلاؤ کا جو عمل شروع ہوا تھا پھیلاؤ کی اس رفتار اور تناسب میں اگر محض اتنا سا فرق پڑ جاتا جتنا ایک سیکنڈ کا ایک اربواں حصہ ہوتا ہے اور اس اربویں حصے کے مزید ایک ارب حصے کریں تو جو ساعت بنتی ہے، اس ساعت کے برابر فرق بھی اگر بگ بینگ کے بعد پڑ جاتا تو کائنات موجودہ شکل میں آنے سے پہلے تباہ ہو کے ختم ہو جاتی۔ یعنی زندگی وجود میں نہ آتی۔ \r\n\r\nہاں تو اللہ کے انکاریوں سے سوال ہے کہ بگ بینگ کی بات بعد میں کرتے ہیں کہ کس نے کیا یا کیسے ہوا۔ زرا بگ بینگ کے بعد پیدا ہونے والے اس رفتار اور پھیلاؤ کے تناسب کا جواب دیں۔ اگر تو کائنات سچ مچ ہی ایک حادثہ تھا تو جواب دیں حادثے میں اتنا تناسب کیسے پیدا ہو گیا؟ ایک بات کا جواب دیں۔ ایک نیوکلیئر دھماکے کے نتیجے میں کیا زندگی پیدا ہو سکتی ہے؟ یا کم از کم زندگی کی پیدائش کاعمل شروع ہو سکتا ہے؟ جواب یقینا نہیں ہو گا۔ لیکن درحقیقت ہو سکتا ہے یہ۔ اگر کیلکولیٹڈ طریقے سے ریاضی کے کائناتی اصولوں کو سامنے رکھ کر نیوکلئر دھماکہ اس حساب سے کیا جائے کہ اس کے بعد اتنی مقدار میں تابکاری نکلے، اتنے تناسب اور اتنی رفتار سے اتنے پیمانے پر تباہی پھیلے، پھر اس تباہی کے اثرات اتنے عرصے تک رہیں اور اتنے عرصے بعد ختم ہو جائیں تو زندگی پیدا ہونے کا "عمل" شروع ہو سکتا ہے، واضح رہے کہ میں نے زندگی پیدا ہونے کا "عمل" کہا ہے۔ مگر ظاہر ہے یہ کسی کے بھی بس کی بات نہیں ہے کہ اتنا درست حساب کتاب لگا لے۔\r\n\r\nتو سوال یہ اٹھا کہ بگ بینگ جیسے شدید دھماکے کے بعد زندگی پیدا ہونے کا عمل شروع ہوا۔ مگر کیوں؟ بقول ملحدین کے کہ کائنات ایک حادثے کا نتیجہ ہے تو اتنا کیلکولیٹڈ حادثہ کیسے ممکن ہے؟ کون تھا جو کائنات کے اس پھیلاؤ اور اس کی رفتار کو مقرر کر رہا تھا؟ یہ کوئی چھوٹی بات تو نہیں ہے نا کہ 13.772 ارب سال پرانی کائنات کی تخلیق کی وجہ ایک دھماکہ بنا۔ اور تخلیق کے نتیجے میں 7 ارب سال بعد یعنی آج سے لگ بھگ 4.5 ارب سال پہلے زندگی کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوا۔ اور دنیا بھر کے ملحدین کا امام سٹیفن ھاکنگ یہ کہتا ہے کہ بگ بینگ کے دھماکے کے بعد اگر سکینڈ کے اربویں حصے کے بھی اربویں حصے کا فرق پھیلاؤ کی رفتار اور تناسب میں پڑ جاتا تو کائنات تخلیق کے تھوڑے عرصے بعد دوبارہ تباہ ہو جاتی۔ ملحدین اور ملحدین کے امام سے سوال ہے کہ یہ تناسب کس نے پیدا کیا تھا کہ سیکنڈ کے ارب در اربویں حصے کا بھی فرق نہ لگنے پایا جس کے نتیجے میں 13.772 ارب سال بعد تم پیدا ہوئے اور پیدا ہو کے اللہ کا انکار کرتے ہو۔ \r\n\r\n