تیری جنت اور دوزخ ہیں - فیاض الدین

فیاض الدین والدین کے حقوق کیا ہیں؟ اس کو سمجھنے کے لیے ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ کا ایک جملہ کا فی ہے۔ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ ہم پر والدین کے کیا حقوق ہیں ؟محمدﷺ نے ایک جملے میں جواب دیا کہ\n”تیری جنت اور دوزخ ہیں۔“\nاس جملے میں بہت گہرائی ہے یعنی والدین کی خدمت اور ان کی حقوق کی ادائیگی ہی ہمیں جنت تک لے جائے گی اور اگر ہم ان حقوق سے غافل رہے تودوزخ کی بھڑکتی ہوئی آگ کا سامنا کرنا ہوگا۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ ان ہستیوں کے ساتھ نرمی سے پیش آنا چاہیے اور انہیں ”اف“ تک نہیں کہنا چاہیے۔ اللہ پاک بتاتے ہیں کہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ نہ کرنا اور ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات چیت کرنا اور عاجزی اور محبت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع کا بازو پست رکھے رکھنا اور دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار! ان پر ویسا ہی رحم کر جیسا انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی۔ پرندہ جب اپنے بچوں کو اپنے سایہ شفقت میں لیتا ہے تو ان کے لیے اپنے بازوپست کر دیتا ہے یعنی والدین کے ساتھ اسی طرح اچھا اور شفقت والا معاملہ کرنا چاہیے اور ان کی اس طرح کفالت کریں جس طرح انہوں نے بچپن میں ہماری کفالت کی۔ پرندہ جب اڑنے اور بلند ہونے کا ارادہ کرتا ہے تو اپنے بازو پھیلاتا ہے اور جب نیچے اترتا ہے تو بازوؤں کو پست کر لیتا ہے، اس اعتبار سے بازوؤں کے پست کرنے کے معنی والدین کے سامنے تواضع اور عاجزی کا اظہار کرنے کے ہوں گے۔\n\nاپنے والد سے اچھا سلوک کرنے کے علاوہ حضور نبی کریم ﷺ نے یہاں تک ہدایت کی ہے کہ یہ بھی نیکی ہے کہ لڑکا اپنے باپ کے دوستوں کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرے۔ اچھے سلوک کرنے کے لیے مخاطب چاہے جو بھی ہوآپ کو خندہ پیشانی سے اور عمدہ طریقے سے پیش آنا چاہیے ۔ایک صحابی کی والدہ کافر تھی، حضور نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ کیااس سے بھی اچھا سلوک کیا جائے، آپ ﷺ نے جواب دیا کہ ہاں۔ اللہ پاک کہتے ہیں کہ دنیا کے کاموں میں ان کا اچھی طرح ساتھ دینا۔ وہ اگر غیر مسلم ہو تب بھی وہ آپ کے والدین ہیں، ان کا آپ پر یہ حق ہے کہ ان کے ساتھ بھی نرمی سے پیش آئیں اور ان کاخیال رکھیں۔ ایک روایت میں ہے کہ ایک صحابی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہا کہ یا رسولﷺ میرے اچھے سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے فرمایا کہ تمہاری ماں۔ اس صحابی نے پوچھا اس کے بعد؟ فرمایا کہ تمہاری ماں۔ صحابی نے پھر پوچھا اس کے بعد؟ فرمایا کہ تمہاری ماں۔ صحابی نے پھر سے پوچھا کہ اس کے بعد؟ محمد ﷺ نے جواب دیا پھر تمہارا باپ۔\nایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ باپ جنت کا درمیانی دروازہ ہے اب تیرا جی چاہے اسے گرا دے اور جی چاہے قائم رکھ۔\nایک صحابی روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”خاک آلودہ ہو ناک اس کی، پھر خاک آلودہ ناک اس کی جو اپنے ماں باپ کو بوڑھا پائے دونوں کو یا ان میں سے ایک کو پھر جنت میں نہ جائے۔“ یعنی یہ ایک انہتائی بڑا موقع ہے جنت جانے کا، راستہ پاس ہی ہے لیکن راستہ معلوم ہونے کے باوجودہ جنت حاصل کیوں نہ ہو؟\nمنور رانا انڈیا کے ایک مشہور شاعر ہیں، انہوں نے ماں کی عظمت پر بہت ہی لاجواب اور قابل ستائش شاعری کی ہے۔ ان کی ایک نظم ”ماں“ یہاں پیش ِخدمت ہے۔\n\nاے اندھیرے دیکھ لے منہ تیرا کالا ہو گیا\nماں نے آنکھیں کھول دیں گھر میں اجالا ہو گیا\n\nاس طرح میرے گناہوں کو وہ دھو دیتی ہے.\nماں بہت غصے میں ہوتی ہے تو رو دیتی ہے.\n\nبلندیوں کا بڑے سے بڑا نشاں چھوا\nاٹھایا گود میں ماں نے تب آسمان چھوا\n\nکسی کو گھر ملا حصے میں یا کوئی دکاں آئی\nمیں گھر میں سب سے چھوٹا تھا میرے حصے میں ماں آئی.\n\nبلندی دیر تک کس شخص کے حصے میں رہتی ہے.\nبہت اونچی عمارت ہر گھڑی خطرے میں رہتی ہے.\nبہت جی چاہتا ہے قید جہاں سے ہم نکل جائیں\nتمہاری یاد بھی لیکن اسی ملبے میں رہتی ہے.\nیہ ایسا قرض ہے جو میں ادا کر ہی نہیں سکتا\nمیں جب تک گھر نہ لوٹوں ماں سجدے میں رہتی ہے\n\nمیری خواہش ہے کہ میں پھر سے فرشتہ ہو جاؤں\nماں سے اس طرح لپٹ جاؤں کہ بچہ ہو جاؤں\nکم سے کم بچوں کے ہونٹوں کی ہنسی کی خاطر\nایسی مٹی میں ملانا کہ کھلونا ہو جاؤں\n\nمجھ کو ہر حال میں بخشے گا اجالا اپنا\nچاند رشتےمیں نہیں لگتا ہے ماما اپنا\nمیں نے روتے ہوئے پونچھے تھے کسی دن آنسو\nمدتوں ماں نے نہیں دھویا دوپٹا اپنا\n\nعمر بھر خالی یوں ہی ہم نے مکاں رہنے دیا\nتم گئے تو دوسرے کو کل یہاں رہنے دیا\nمیں نے کل شب چاہتوں کی سب کتابیں پھاڑ دیں\nصرف اک کاغذ پر لکھا شبد ماں رہنے دیا