ہوم << ترکی کا ناکام ”انقلاب“ - عامر خاکوانی

ترکی کا ناکام ”انقلاب“ - عامر خاکوانی

11866265_1085617161465765_1795389247132538024_nکہتے ہیں کہ ہر کامیاب بغاوت انقلاب کہلاتی ہے اور ہر ناکام انقلاب کا نام بغاوت ہے۔ ترکی میں جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات ہونے والی ناکام بغاوت کو مگر صرف ایک ناکام انقلاب نہیں قرار دیا جا سکتا، اس کے اپنے گہرے مضمرات ہیں ،جنہیں صرف ترکی ہی میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں، خاص طور سے اسلامی دنیا اور پاکستان جیسے ممالک میں دلچسپی سے دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کی جائے گی۔
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ ترکی جیسے ملک میں جہاں فوج کئی بار حکومت کا تختہ الٹ کر برسوں حکومت کر چکی ہے، وہاں پہلی بار ایک اچھی خاصی بڑی فوجی کارروائی ناکام ہوئی ہے اور یہ کارنامہ عوامی قوت کے بل بوتے پر انجام دیاجا سکا ہے ۔ ترکی کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے بلکہ پوری مسلم دنیا میںپہلی بار ایسا ہوا کہ کسی سویلین حکمران کو بچانے کے لئے عوام دیوانہ وار سڑکوں پر نکل آئے۔ ٹینکوں کے سامنے کھڑے ہو گئے اور فوجی ہیلی کاپٹروں سے برستی گولیوں کی بھی پروا نہیں کی۔ سو کے قریب لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، صرف اس لئے کہ ایک منتخب سویلین حکومت کو بچایا جاسکے۔ یہ وہ بات ہے جو ہم پاکستانیوں کو اجنبی اور غیر مانوس لگتی ہے۔جمعہ کے دن تک ترکی میں بھی یہ ایک اجنبی تصورتھا، بہادر ترکوں نے اپنی حیران کن جرات سے ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔
اس سے پہلے مغربی جمہوری ممالک میںیہ سوچ عام تھی کہ عوامی دباﺅ کی وجہ سے وہاں سول کی ملٹری پربالادستی قائم ہے۔ترکی میں سویلین بالادستی کی ابتدا کئی برس پہلے ہو چکی تھی۔طیب اردوان نے اپنی عمدہ گورننس اور بالغ نظر معاشی پالیسیوں سے ترکی کا نقشہ تبدیل کر دیا۔ پچھلے دس برسوں میں ترکی کی معیشت میں انقلاب برپا ہوا، آئی ایم ایف کے شکنجے سے وہ نکل آیا، بیرونی قرضوں کا بوجھ کم ہوا، ملکی برآمدات کئی گنا بڑھ گئیں، فی کس آمدنی میں حیران کن حد تک اضافہ ہوگیا۔مڈل کلاس اور لوئر کلاس خوشحال ہوئی،سیاحت میںبے پناہ اضافہ ہوا۔ ترکی مسلم دنیا کا لیڈر بن کر ابھرا۔ فلسطین سے لے کر دیگر اہم ایشوز میں ترک لیڈرشپ کا موقف نہایت جرات مندانہ اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات سے ہم آہنگ رہا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک سروے کے مطابق اردوان کو مصر کا مقبول ترین لیڈر قرار دیا گیا، پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں ترک لیڈر کو احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے،ترکی کے اندر بھی ان کی مقبولیت سب سے زیادہ تھی۔ یہ وجہ ہے کہ عام انتخابا ت اور صدارتی انتخابات میں طیب اردوان کو پچاس فیصد کے قریب ووٹروں کی حمایت حاصل ہوئی ۔ ترکی کے پیچیدہ متناسب نمائندگی کے نظام میں یہ غیرمعمولی کامیابی ہے۔ یاد رہے کہ طیب اردوان کے قریب ترین مدمقابل ان سے نصف ووٹ یعنی تیس چوبیس فیصد کے قریب ووٹ لے پاتے ہیں۔اہم بات یہ ہے کہ طیب اردوان نے یہ کامیابی الیکٹ ایبلز کو ساتھ ملا کر اور سیاسی چالبازیوں کے ذریعے حاصل نہیں کی بلکہ انہوںنے عام آدمی کو ریلیف دیا اور لوگوں کی مشکلات میںکمی کی ، ان کے مسائل کم کئے، قوت خرید بڑھائی اور زندگی میں خوشحالی کا اضافہ کیا۔
پچھلے ڈیڑھ دو برسوں کے دوران طیب اردوان کی اندرون ملک مخالفت میں اضافہ ہوا۔ ان کے کچھ اقدامات متنازع قرار پائے۔ ان کے اور ان کے بعض قریبی عزیزوں پر کرپشن کے الزامات لگے، اس حوالے سے بعض آڈیو ٹیپس بھی سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہیں، جس کے بعد حکومت نے کچھ عرصے کےلئے یوٹیوب اور ٹوئٹر وغیرہ پابندی لگا دی۔ بعد میں بعض حکومت مخالف اخبارات اورچینلز کےخلاف کارروائیاں بھی ہوتی رہیں۔ طیب اردوان کا کہنا تھا کہ ان کا مخالف میڈیا ان کی کردارکشی کر رہا ہے اور حکومت مخالف سازشوں میں شریک ہے۔ جب طیب اردوان نے صدر بننے کا فیصلہ کیا تو ان کی پارٹی کے اندر سے ایک حلقے میں تحفظات پیدا ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ جناب اردوان ایک بھرپور اننگز کھیل چکے ہیں اور اب انہیں نیلسن منڈیلا کی مانند سائیڈ پر ہو کر اپنی پارٹی کے دوسرے لوگوں کو آگے لانا چاہیے۔ طیب اردوان نے تاہم صدر بننے کو ترجیح دی ، انہوں نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ تر ک آئین میں ترمیم کر کے صدارتی نظام قائم کیا جائے۔ عبداللہ گل ان کی دیرینہ دوست، پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق ترک صدر رہے ہیں، طیب اردوان کے ان کے ساتھ تعلقات بھی کشیدہ ہوگئے۔ چند ماہ پہلے سابق وزیراعظم احمد اوولو نے بھی مبینہ طور پر طیب اردوان سے ناراضی کے باعث مستعفی ہوگئے۔ ترک اپوزیشن یہ الزام عائد کرتی ہے کہ طیب اردوان ون مین شو چلانے کے شوقین ہیں اور اپنی پارٹی کے اندر سے متبادل سیاسی قیادت کو آگے نہیں آنے دیتے ۔یہ الزامات مکمل طور پر یا جزوی درست ہوسکتے ہیں، مگر فوجی بغاوت کے موقعہ پر ترک عوام کے ردعمل نے یہ ثابت کردیا کہ اپنی کچھ شخصی خامیوں کے باوجود طیب اردوان میں ابھی کرشماتی کشش اور سحر موجود ہے ، ان کی انگلیاں عوام کے نبض پر اور لوگوں کے دل ان کے لئے دھڑکتے ہیں۔ سو ڈیڑھ سو افراد نے اپنی جانیں ایسے نہیں وار دیں۔ یہ طیبب اردوان کی مقبولیت اور ترک عوام کےلئے کئے گئے ان کے کاموں کا ثمر ہے۔ ووٹروں نے یہ ثابت کر دیاکہ اگر کوئی سسٹم ان کو ریلیف دے رہا ہو، مشکلات کم کر رہا ہو تو اس کی حفاظت لوگ خود کرتے ہیں۔
مسلم دنیا میں دو تین ممالک کی فوجیں مضبوط اور ڈسپلنڈ سمجھی جاتی ہیں۔ اس حوالے سے پہلا نمبر پاکستان کا آتا ہے ، اس کے بعدترکی اور پھر مصر کا نام آتا ہے، ایران کی بھی اس حوالے سے خاص اہمیت ہے۔ پاکستانی فوج اپنے ڈسپلن کے لحا ظ سے مثالی ہے۔ یہاںکبھی چین آف کمانڈ نہیں توڑی گئی ، کبھی فوج آپس میں نبردآزما نہیں ہوئی۔ کبھی کوئی طالع آزما افسر متحرک ہوا تو ہمارے مضبوط اور متحرک فوجی انٹیلی جنس نیٹ ورک کے شکنجے میں فوری طور پر آ گیا۔ ترکی میں ہونےوالی فوجی بغاوت ایک گروپ کی کوشش تھی ۔ ٹاپ فوجی قیادت اس میں شامل نہیں تھی۔آرمی چیف کو باغیوں نے یرغمال بنا لیا تھا۔ اہم بات یہ ہے کہ ترک فوجی انٹیلی جنس بالکل ناکارہ ثابت ہوئی۔ دانستہ یا نادانستہ طور سے اس سازش کو بالکل ٹریس نہ کیا جا سکتا اور یو ں اتنا بھیانک بحران پیدا ہوگیا۔ اگر واقعتاً یہ سید فتح اللہ گولن کے حامیوں نے کیا تو فوج کے اندر گولن حامیوں کا اتنا طاقت پکڑ جانا بھی حیران کن ہے۔فوج جیسے حساس اداروں میں اس کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ کسی مذہبی یا سیاسی رہنما کے پیروکار منظم نہ ہونے پائیں اور فوجیوں کو پروفیشنل انداز میں تیار کیا جائے۔ ترکی میں ایسا نہیں ہوسکا۔
طیب اردوان اپنی سیاسی زندگی کے سب سے مشکل اور سنگین بحران سے بچ نکلے ہیں۔ انہوںنے اس موقعہ پر جرات کا مظاہر ہ کیا اور ڈرکر دبک جانے کے بجائے کھڑے ہوئے، مزاحمت کی کال دی اور موبائل فون کے ذریعے عوام سے خطاب کرتے رہے۔ طیب اردوان مردآہن ہونے کی شہرت رکھتے ہیں اور انہوں نے اس کو ثابت بھی کیا۔ استنبول ائیرپورٹ پر وہ اترے تو پرسکون تھے ، ان کے مضبوط اعصاب کی عالمی میڈیا نے بھی داد دی۔ ان کے لئے چیلنجز اب بڑھے ہیں۔ انہیں ترک معاشرے میں تقسیم کو بڑھانے کے بجائے کم کرنا ہوگا۔ان کے اور فوج کے درمیان بداعتمادی کی شدید خلیج پیدا ہوئی، مگر بڑا لیڈر ایسے مواقعوں کو تعمیر کے لئے استعمال کرتا ہے۔ انہیں اپنی غلطیوں پر بھی غور کرنا اور اپنے بچھڑے ساتھیوں کو دوبارہ ساتھ ملانا ہوگا۔ عوا م ان کی سب سے بڑی قوت ثابت ہوئے، ان کےلئے کچھ کرنے کےلئے ترکی میں امن وامان اور استحکام قائم کرنا شدید ضروری ہے۔ فتح اللہ گولن کے حامیوں کے خلاف ترکی میں بڑا کریک ڈاﺅن متوقع ہے۔ گولن حامیوںکا فوج اور دیگر اداروں سے اب مکمل صفایا ہوجائے گا۔ طیب اردوان کو خیال رکھنا چاہیے کہ کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو۔ ترک سماج میں ہر ایک کی جگہ ہے، جسے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ یہ کام نہایت سلیقے سے کرنا ہوگا۔آنے والے دن طیب اردوان کا امتحان ہوںگے۔ وہ ایک بڑے بحران سے بچ نکلے ہیں۔ اگلے مرحلے بھی کم اہم نہیں۔ پاکستان میںجمہوری حلقوں کو ترکی میں عوام کی فتح سے خوشی ہوئی۔ ہماری سیاسی قوتوں کو طیب اردوان سے کچھ مثبت بھی سیکھ لینا چاہیے کہ کس طرح انہوں نے ڈیلیور کیا اور ترک عوام کی مشکلات کم کیں، جواب میں ترکوں نے اپنے منتخب وزیراعظم کا دفاع کیا۔ سسٹم کی حفاظت ایسے ہی ہوتی ہے۔اوور سمارٹ بننے کی کوشش اور صرف سیاسی چالوں پر انحصار کرناآخری تجزیے میں نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔

Comments

Avatar photo

محمد عامر خاکوانی

عامر خاکوانی

Click here to post a comment

  • بہت خوب اور بھرپور تجزیہ۔ لیکن ایک اختلاف کرنے کی جسارت کرنے دیں۔ میرے مطابق افواج پاکستان سے متعلق آپ جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہوکر یا تو مبالغہ آرائی کررہے ہیں یا پھر واقعی کچھ تاریخی حقائق اور اعداد و شمار کی معلومات آپکے پاس نہیں ہیں۔
    اول: تمام عالمی رینکنگ کے مطابق ترک فوج افواج پاکستان سے کہیں آگے۔ افرادی، حربی اور مالی قوت کے اعتبار سے ترکی کو دنیا کی نویں طاقتور فوج ہونے کا اعزاز حاصل ہے، پاکستان اس ریس میں کبھی ٹاپ ٹین میں نہیں رہا۔
    دوم: یہ کہنا کہ پاکستانی چین اوف کمانڈ میں کبھی بغاوت نہیں درست نہیں ہے۔ جنرل ضیاالرحمان کون تھے؟ جنہوں نے چٹاگانگ میں پاکستان سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔

    • بھائی کاشف نصیر میں نے ترکی اور پاکستانی فوج کا موازنہ نہیں کیا عددی یا اسلحے کے لحاظ سے ۔ یہ البتہ ضرور لکھا ہے کہ ڈسپلن کے لحاظ سے پاکستانی فوج بہتر ثابت لگی ہے ، ترکی ملٹڑی انٹیلی جینس شرمناک حد تک ایکسپوز ہوئی ہے۔ کئی ہزار فوجی بغاوت کرنے کی تیاری پوری کر چکے تھے اور فوجی قیادت کو علم تک نہ ہوا، الٹا آرمی چیف سمیت تینوں آرمی چیف یرغمال بن گئے۔ اس سے زیادہ شرمندگی کی بات اور کیا ہوگی۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے ہاں کسی افسر نے ایسی حماقت کی تو فوری طور پر وہ انٹیلی جنس کے شکنجے میں آ گیا۔

      • جنرل ضیاالرحمن والی مثال دلچسپ ہے، اس پر کیا عرض کیا جا سکتا ہے۔ سوائے اس کے کہ اگر آپ نے پاک فوج کے خلاف پہہلے سے کچھ طے کر رکھا ہے، تو دلائل کا کوئی فائدہ نہیں۔