ہوم << ڈیکارٹ- ڈاکٹر محمد شہبازمنج
600x314

ڈیکارٹ- ڈاکٹر محمد شہبازمنج

فرانسیسی فلسفی ، سائنس دان اور ماہرِ ریاضیات:
جدید مغربی فلسفے کا بانی کہا جاتا ہے۔نیوٹن کی ریاضیات پر اس کا گہرا اثر تسلیم کیا گیا ہے۔اس کے بعد کے بیشترمغربی فلسفیانہ مباحث اسی کی تحریروں کے اثرات کا نتیجہ سمجھے جاتے ہیں ۔

اس کے سوانح نگار ایڈرین بائیلٹ(Adrien Baillet،1649ء-1706ء)کے مطابق 1619ء میں اس پر کچھ انکشافات ہوئے؛ اس کا عقیدہ تھا کہ اس پر الہامی طور پرنیا فلسفہ اترا ہے۔اس کی تحلیلی جیو میٹری اور فلسفے پر ریاضیاتی طریقے کے اطلاق سے متعلق اس کا نظریہ انھی الہامات پر مبنی تھا۔ڈیکارٹ وہ پہلا مفکر قرار دیا گیا ہے،جس نے طبعی علوم میں عقل کے استعمال پر زور دیا۔اس کا عقیدہ تھا کہ تمام حقائق ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ بنیادی سچائی کی تلاش اور منطقی انداز سے آگے بڑھنے ہی سے ہر قسم کی سائنس کے در وا ہوں گے۔ فلسفہ اس کے نزدیک وہ نظام ِفکر تھا ،جس سے تما م علم تخلیق پاتا ہے۔اخلاقیات کو وہ سب سے مکمل سائنس قرار دیتا تھا۔

اخلاقیات سمیت تمام سائنسز کی جڑیں اس کے مطابق مابعدالطبیعات میں پنہاں تھیں ۔عقل اس کے خیال میں خیر کا ادراک کر سکتی تھی۔جسم اور ذہن یا روح اس کےمطابق الگ الگ چیزیں تھیں ؛ “The Deception of Human Body” میں اس نے جسم کو مادی ثابت کرنے کی کوشش کی اور ذہن یا روح کوغیر مادی۔جہاں تک اس کے مذہب کا تعلق ہے، تو وہ خود اپنے آپ کو پکا کیتھولک مسیحی قرار دیتا تھا؛ اس کی تحریروں میں خدا کا اثبات اور الحاد کی تردید ملتی ہے؛Mediations on First Philosophy” “میں اس نے خدا کے وجودپر دلائل پیش کیے ہیں۔

لیکن چوں کہ وہ آزاد خیال اورعقلیت پسند تھا م، ذہبی عقائد کو عقلی انداز سے دیکھتا تھا، اس بنا پر بعض لوگوں نے اسے ملحد قرار دیا؛ کیتھولک چرچ نے اس کی کتابوں کو ممنوع قرار دے دیا تھا۔ڈیکارٹ کے فلسفیانہ افکار میں فلسفۂ تشکیک کو بنیادی اہمیت حاصل ہے “میں سوچتا ہوں ، اس لیے میں ہوں “.جس،ے
فرانسیسی میں: je pense, donc je suis ،
لاطینی میں:Cogito ergo sum
اور انگریزی میں: I think, therefore I am ،کے الفاظ میں پیش گیا. اس کےفلسفے میں شہرہ آفاق جملہ ہے۔

مصنف کے بارے میں

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment