ہوم << جدید سائنس کی بنیادوں میں مسلم سائنسدانوں کا کردار - علی عمران

جدید سائنس کی بنیادوں میں مسلم سائنسدانوں کا کردار - علی عمران

پچھلے دنوں یوٹیوب پر جیم الخلیلی کی بنی ڈاکومینٹری (سائنس اینڈ اسلام، دی لینگویج آف سائنس) دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ جیم الخلیلی کا تعلق عراق سے ہے، وہ اس وقت ساورے یونیورسٹی میں فزکس کے پروفیسر ہیں۔اس ڈاکومینٹری میں جیم الخلیلی نے مسلم سائنسدانوں اور ان کی خدمات کا سراغ لگانے کی کوشش کی۔ اس مقصد کے لیے اس نے ان شہروں اور ملکوں کا سفر کیا جہاں کبھی اسلام اپنے عروج پر تھا۔ اس نے مصر، ترکی، بغداد اور دوسرے اسلامی مقامات اور عجائب گھروں کا دورہ کیا، مسلم سائنسدانوں کی لکھی نادر کتابوں اور دستاویز تک رسائی پائی اور اپنے ناظرین کو آگاہ کرنے کی کوشش کی کہ جدید سائنس کی بنیادوں میں مسلم سائنسدانوں کا کردار کتنا اہم ہے۔ ڈاکومینٹری دیکھنے کے بعد کمنٹ سیکشن میں پہنچا تو حیرانی ہوئی کہ مسلم سائنسدانوں کی خدمات پر بنی ڈاکومینٹری پر سارے کمنٹس غیر مسلموں کے ہیں سوائے ان چند مسلمانوں کہ جنہوں نے صرف ماشاءاللہ یا سبحان اللہ لکھا تھا۔
کمنٹس پڑھنا شروع کیے تو زیادہ تر لوگوں نے اس ڈاکومینٹری کو جانبدار قرار دیا، کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ کچھ زیادہ ہوگیا اور کچھ لوگ زیرو کی ایجاد پر دست و گریباں تھے۔
مگر ایک کمینٹ نے مجھے ٹھہرنے اور سوچنے پر مجبور کیا، کسی نے لکھا تھا کہ یہ کیا تماشہ ہے کہ ”اس آدمی نے اسلام اسلام کی رٹ لگا رکھی ہے۔ لگتا ہے اسلام سے شدید متاثر ہے۔ بھلا سائنس اور مذہب کا کیا تعلق ؟ یہ ڈاکومینٹری تو اسلام کا نام لیے بغیر بھی بن سکتی تھی۔“ اس بات میں دم بھی تھا اور یہ بات ایک تضاد کا حصہ بھی تھی اور وہ یوں کہ مذہب اور سائنس کا بلاشبہ کوئی تعلق نہیں سوائے اس کہ مذہب آپ کو سوچنے کی ترغیب دے سکتا ہے اور سائنس کا مقصد اگر انسانی فلاح ہے تو وہ مذہب کا حصہ بن سکتی ہے اور تضاد اس طرح کہ اگر اس نظریے کو سامنے رکھا جائے تو دنیا میں سائیسی میدان میں پیچھے رہ جانے والی قوموں کے بارے زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ دنیا کے کچھ خطوں کے لوگ پیچھے رہ گئے، جیسا کہ فطرت کا اصول ہے کہ دنیا کی تمام قومیں بیک وقت عروج یا زوال کا شکار نہیں ہوسکتیں، مگر معاملہ ذرا مختلف ہے، غیر تو غیر ہمیں اپنے ہی نہیں جینے دے رہے۔
ہم مسلمان صبح شام گنوار ہیں، نکھٹو ہیں اور ہماری کوئی وقعت نہیں۔ ہمارے یہ بھائی ہمیں لتاڑتے ہوئے ذرا بھی یہ نہیں سوچتے کہ اگریہ بدنصیب اپنے عہد عروج کو یاد کر کے بےوقوف کہلائے جاتے ہیں تو ہم خود ہی محسوس کریں کہ آخر کس چیز نے ان کو روبہ زوال کیا ہے؟ وہ سوچیں گے تو جان لیں گے کہ یہ قوم پہلے وڈیروں اور جاگیرداروں کی جاگیر بنی رہی، پھر انہیں وڈیروں نے سیاست کا شکنجہ تیار کیا اور کامیاب ٹھہرے، اس قوم کو انصاف اور تعلیم سے محروم رکھا گیا، ملا نے اس کو اپنے فتووں میں الجھائے رکھا، اور اس ملک کے سیاست دانوں نے ایک دوسرے کی گندگی اور عوام کی آنکھوں پر پردہ ڈال کر اس ملک کو بےتحاشہ لوٹا۔ دوسری طرف میرے ان بھائیوں کو اس بات کا بہت کم احساس ہے کہ انسان کو جسمانی اور شعوری غذا کے بعد روحانی و جذباتی غذا بھی چاہیے، وہ غذا جو اس میں قربانی کے جذبے کوا نجیکٹ کر سکے، بالکل اس طرح کہ جیسے کسی اندھے سے پوچھیں کہ تم آنکھوں کے بغیر کیسے جی لیتے ہو تو وہ جواب دے، میں آنکھیں نہیں رکھتا مگر میرے پاس ایسا دل ہے جو تمہاری آواز کے ارتعاش سے تمہارے دل کی کفیت سے آگاہ ہو سکتا ہے، تو ایسی کیفیت ایک جذباتی و روحانی سہارا ہے۔ مگر یہ سہارا اتنا نہ بڑھ جائے کہ آدمی بے سہارا ہو جائے۔
اگر آپ تخیل کی آنکھ سے دیکھیں تو شام کے کسی تباہ حال گھر میں پیدا ہونے والا بچہ جب مسکراتا ہے تو اس کی وہ مسکراہٹ بھی کسی نئی امید اور کسی نئے راستے کی نشاندہی کر رہی ہوتی ہے۔ اور اس آخرالذکر کیفیت کی ناسمجھی کے سبب ہی ہم نے علامہ اقبال رح کو بھی فراموش کرنا شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے یہی کیا تھا کہ اس قوم کے افراد کو انٹیلیکچوئل اور اموشنل ایڈ فراہم کرنے کی کوشش کی تھی۔ چلو اگر شاعرانہ مزاج سے محروم ہوکر بھی ان کی شاعری پر ایک نظر ڈالیں تو یہ بات ضرور محسوس ہوتی ہے کہ ان کی شاعری اس تباہ حال قوم کے کسی درد مند دل سے اٹھنے والی ایک ایسی ہوک ضرور ہے جو افلاک کے پردے چاک کر ڈالے۔
میں نے اپنی زندگی کے سولہ سال مٹی کے بنے ہوئے کچے گھر میں گزارے ہیں، تین چار سال پہلے پکے گھر میں منتقل ہو گئے، وہ گھر جسے ماں اور ابا جان نے اپنے ہاتھوں سے تعمیر کیا تھا، اور میری ماں نے اس گھر کو اتنا خوبصورت بنائے رکھا کہ محلوں والیاں بھی میری ماں کی تعریف کیے بنا رہ نہ پاتیں۔ اس گھر کی دیواروں پر میری ماں کے ہاتھوں سے بنے ہوئے وہ سرخ اور سنہری پھول بوٹے میڑے میرے شعور کا حصہ ہیں۔ میں پورے یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ جس قوم کی ماں اپنے بچوں کے لیے اتنا خوبصورت گھر بنا سکتی ہے تو ایسے ماؤں کے بطن سے پیدا ہونے والے بچے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ جن کو کسی چیز کی تھوڑ نہیں، اگر تھوڑ ہے تو جستجو کی، حوصلے کی عزم کی اور چھوٹ کے خلاف سینہ سپر ہو جانے کی۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اگر ہم اس سفر میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ہمیں دنیا کے سامنے کسی صفائی ضرورت نہیں رہے گی کہ سچائی کا اعتراف نہ بھی ہو تو بھی یہ مخالف کے سینے میں سراخ کر سکتی ہے۔

Comments

Click here to post a comment