خُنثٰی مشکل کا مسئلہ – پروفیسر مفتی منیب الرحمن

30 دسمبر کو ایک قومی اخبار میں ایک عالم نے ’’خُنثٰی مشکل ‘‘ کے غسلِ میت کا مسئلہ لکھا، تو اُس پر ممتاز دانشور جناب خورشید ندیم نے، جومذہبی مسائل پر بھی اظہار رائے فرماتے رہتے ہیں، ناراضی کا اظہار فرمایا اور اُسے تکریمِ انسانیت کے خلاف قرار دیا وہ لکھتے ہیں:
’’فقہ در اصل ایک عہد کے مسائل پر دینی احکام کا اطلاق ہے، یہ شریعت نہیں، شریعت کی تفہیم ہے۔ سماج کی نوعیت تبدیل ہوتی رہتی ہے، اس لیے غیر منصوص احکام کے اطلاق کے باب میں قدیم تفہیم پر نظرِثانی کا عمل بھی جاری رہتا ہے (روزنامہ دنیا،4جنوری،2016)‘‘۔
اُن کی خدمت میں گزارش ہے کہ قرآن مجید میں ’’تَفَقُّہ فِی الدِّیْن‘‘کی اصطلاح آئی ہے، اِس کے معنی ہیں: ’’دین میں کامل مہارت حاصل کرنا ‘‘، کیونکہ تَفَقُّہ کے بعد تفہیم کا مرحلہ آتا ہے اور’’تَفَقُّہ فِی الدِّیْن‘‘ کے لیے رِجالِ کار تیار کرنا مجموعی حیثیت سے مسلم معاشرے پر فرضِ کفایہ ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’اور یہ تو نہیں ہوسکتا کہ سب مسلمان (اللہ تعالیٰ کی راہ میں ) نکل کھڑے ہوں، توکیوں نہ اُن کے ہرگروہ میں سے ایک جماعت نکلے تاکہ وہ دین میں پوری مہارت حاصل کریں اور جب وہ اپنی قوم کی طرف واپس آئیں ،تو انہیں (اللہ کے عذاب سے) ڈرائیں تاکہ وہ گناہوں سے بچے رہیں ،(التوبہ:122)‘‘۔

کسی کی جسمانی ساخت یا ذہنی صلاحیت میں تکوینی اعتبار سے یعنی خالق تبارک وتعالیٰ کی حکمت سے کوئی عیب یا نَقص (Deficiency) یا کمی رہ گئی ہو، تو ہمیں چاہیے کہ اس بناپر اس کے اکرام میں کمی نہ کریں، کسی بھی شعبۂ حیات میں کوئی ذمے داری سپرد کرنے کے لیے شریعت اور آئین وقانون کی حدود میں رہتے ہوئے مطلوبہ معیار میں اُس کے لیے تخفیف کی گنجائش رکھیں۔ اُسے یہ احساس نہ ہونے دیں کہ اُس کے جسمانی یا ذہنی نقص، جس میں اُس کی کسی کوتاہی کا دخل نہیں ہے بلکہ وہ بے بس ہے، کے سبب اُس کے احترام میں کمی کی جا رہی ہے۔ ساری دنیا میں معذوروں ’’Special Persons‘‘ کے لیے خصوصی سہولتوں کا اہتمام کیا جاتا ہے، اُن کے لیے پارکنگ کی جگہیں محفوظ رکھی جاتی ہیں، حتیٰ کہ اُن کے حسبِ حال قضائے حاجت کے لیے بھی الگ انتظام ہوتا ہے، یہ شِعار قابل تحسین ہے۔

جنابِ خورشید ندیم کا یہ کہنا کہ ’’فقہ دراصل ایک عہد کے مسائل پر دینی احکام کا اطلاق ہے‘‘، اس سے اگر حوادث و نوازل مراد ہیں، تو ہمیں سو فیصد اتفاق ہے۔ حوادث و نوازل سے مراد یہ ہے کہ ایسی صورتِ حال پیش آگئی ہو، جس کی نظیر پہلے سے موجود نہیں ہے، اور جس سے ہمارے متقدمین اکابر کو براہِ راست واسطہ نہیں پڑا۔ ایسے حوادث و نوازل آتے رہتے ہیں، جیسے کلوننگ، ٹیسٹ ٹیوب بے بی، ڈی این اے وغیرہ ۔ان مسائل کے لیے یقینا اجتہاد کی ضرورت پڑتی ہے، اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ یہ محض مفروضہ ہے کہ اجتہاد کا دروازہ بند کردیا گیا ہے۔ اجتہاد ایک جاری عمل کا نام ہے، اور کوئی بھی اس کا دروازہ نہیں بند کرسکتا، کیونکہ کسی کے علم میں نہیں ہے کہ مستقبل میں انسان کو کیا کیا مسائل پیش آسکتے ہیں۔

نہایت احترام کے ساتھ گزارش ہے کہ ’’خُنثٰی مشکل‘‘ حوادث و نوازل میں سے نہیں ہے ، یہ مسئلہ قدیم ہے اور اسی لیے ہمارے ائمہ کرام اور فقہاء و مجتہدین نے اُن سے متعلق بحث کی ہے، اوراُن کے حوالے سے وراثت، جنازہ اور غسلِ میت کے احکام بیان کیے ہیں۔ جنابِ خورشید ندیم ذی علم آدمی ہیں، ہمیں حیرت ہے کہ انہیں ’’خُنثٰی مشکل‘‘ کے غسلِ میت کے حوالے سے ائمہ کی آراء نہیں ملیں، ہمارے فقہی سرمائے میں یہ تمام ابحاث موجود ہیں۔ آسان الفاظ میں ہم ’’خُنثٰی مشکل‘‘ کی یہ تعریف کرسکتے ہیں: ’’اگر کسی شخص کی تخلیق جنسی اعتبار سے اس ہیئت پر ہو جائے کہ وہ نہ مرد ہو اور نہ عورت، اور کسی ایسی علامت کا ظہور بھی نہ ہو کہ اُسے مرد یا عورت میں سے کسی کے مشابہ قرار دیا جا سکے تاکہ اُس کی رو سے اُس پر مرد یا عورت کے احکام کا اطلاق ہو ‘‘۔ ’’خُنثٰی مشکل‘‘ نوعِ انسان سے ہے، ایمان اور عبادات کا مُکلَّف ہے، اِسی لیے فقہائے کرام نے بحث کی ہے کہ باجماعت نماز میں وہ کہاں کھڑے ہوں۔ اگر فقہاء نے یہ کہا ہے کہ باجماعت نماز میں پہلے مردوں کی صف ہو، پھر عورتوں اور پھر بچوں کی، تو اس میں عورتوں کی توہین نہیں ہے، بلکہ اُن کے ستر اور حیا کا تحفظ مطلوب ہے، اور وہ تقاضا آج بھی موجود ہے۔

راقم نے اپنے فتاویٰ کی کتاب ’’تفہیم المسائل‘‘ میں اس پر تفصیلی بحث کی ہے، ایک اقتباس پیشِ خدمت ہے:
’’فقہی اعتبار سے مُخنّث وہ ہے جس میں مرد اور عورت دونوں کی علامتیں پائی جائیں اور کسی ایک جانب کو ترجیح نہ دی جا سکتی ہو۔ اگر بلوغت سے پہلے یا بعد میں کوئی ایسی علامت پائی جائے جو کسی ایک صِنف کے زیادہ قریب ہو تو اُس پر اُسی کاحکم عائد ہوگا۔ اگر مذکر کی علامت غالب ہو تو اسے مردوں کے زمرے میں شامل کریں گے اور اگر مؤنث کی علامت غالب ہو تو اسے عورتوں کے زمرے میں شامل کریں گے۔ امام اعظم ابوحنیفہ نے ایک علامت یہ بتائی ہے کہ اگر ’’مُخنّث‘‘ پیشاب کی ابتدا علامت ِذکور (Male) سے کرتا ہے، تو اسے مردوں کے زمرے میں شامل کریں گے اور اگر علامتِ اِناث (Female) سے کرتا ہے، تو اسے عورتوں کے زمرے میں شامل کریں گے، اگر ایسا امتیاز بھی ممکن نہ ہو اور کسی ایک جانب کی علامت غالب نہ ہو تو وہ ’’خُنثیٰ مُشکِل‘‘ہے۔ اگر وہ چھوٹی عمر کا ہو اور حدِ شہوت کو نہ پہنچا ہو اور اس کا انتقال ہوجائے تو مرد اور عورت دونوں ہی اسے غسل دے سکتے ہیں۔ اگر وفات کے وقت وہ قریب البلوغ یا بالغ تھا، تو اسے غسل نہیں دیا جائے گا بلکہ تیمم کرائیں گے۔ اگر تیمم کرانے والا مَحرم ہے تو اپنے ہاتھ سے براہِ راست تیمم کرا سکتا ہے، ورنہ ہاتھ پر کپڑا لپیٹ کر تیمم کرائے۔ اگر وہ بچپن میں وفات پائے تو نمازِ جنازہ میں تیسری تکبیر کے بعد بچے والی دعا پڑھی جائے گی، ورنہ بالغ والی دعا پڑھی جائے گی، بہرصورت اس کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی، اور اس کا کفن دفن عام مسلمانوں کی طرح ہوگا، اسے قبر میں عام مسلمانوں کی طرح قبلہ رُو رکھاجائے گا۔ بہتر یہ ہے کہ اس کے مَحرم اگرموجود ہیں، تو وہی اِسے خواتین کی میت کی طرح باپردہ قبر میں اتاریں۔

یہ جو کہا جاتا ہے کہ مُخنّث کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھی جاتی، اور اسے رات میں لوگوں سے خفیہ طور پر جنازے کے بغیر ہی دفن کیا جاتا ہے، شرعاً غلط ہے۔ اگر کچھ لوگوں نے اپنی جہالت کی بنا پر اُسے جنازے کے بغیر دفن کر دیا ہو، تواس کی میت اگر تازہ ہے تو قبر پر نمازِ جنازہ پڑھ لی جائے۔ اگر وہ مستحق ہے تو اسے زکوٰۃ و خیرات دی جاسکتی ہے اور دینی چاہیے ، وہ ایمان لانے اور احکامِ شرعیہ کا مُکلّف ہے، اگر نمازِ باجماعت میں شریک ہے تو بچوں کے بعد والی صف میں کھڑا ہو، اسی طرح اس پر روزہ بھی فرض ہے۔ اگر مالدار ہے اور محرم کی رفاقت میسر ہے تو اُس پر حج بھی فرض ہے۔ اگر بچپن میں ختنہ نہ کیا ہو تو بلوغت کے قریب پہنچنے یا بالغ ہونے کے بعد اس کا ختنہ نہ کیاجائے۔ ہمارے فقہاء نے تفصیلی ابحاث کی ہیں، ان کا تذکرہ یہاں مناسب نہیں ہے۔ فقہاء نے ان کے وراثت کے احکام بھی بیان فرمائے ہیں، جن کی تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں۔

خُنثٰی کے جسمانی نقص یا کمزوری کی وجہ سے اُنہیں حقارت سے نہ دیکھا جائے بلکہ اُن سے ہمدردی کی جائے۔ یہ عام انسانوں کی طرح اللہ کی مخلوق ہیں اور ان کی یہ ہیئتِ تخلیق اللہ تعالیٰ کی تکوینی حکمت کے تحت ہے، اس میں ان کا کوئی قصور نہیں ہے۔ اگر یہ لوگ اپنے خاندانوں سے بچھڑ ے ہوئے ہیں، تو حکومت یا دین دار اہلِ خیر ان کے لیے دار الکفالت بنائیں، یہ بہت بڑی انسانی خدمت ہوگی. (ج:6،ص:495-98)‘‘۔

جنابِ خورشید ندیم نے لکھا ہے کہ انہیں یہ مسئلہ نہیں ملا ۔ ’’الموسوعۃ الفقہیہ الکویتیہ،ج:21،ص:19تا30‘‘م یں خُنثٰی کے مسائل پر تفصیلی بحث کی گئی ہے۔ اُس میں لکھا ہے: ’’خُنثٰی مشکل اگر بچہ ہے، تو مرد اور عورتیں دونوں اُسے غسل دے سکتے ہیں، جیسے کہ اُس کو چھونا اور اُس کی طرف دیکھنا دونوں کے لیے جائز ہے۔ لیکن اگر بالغ یا قریب البلوغ ہے، تو احناف کے نزدیک اسے نہ مرد غسل دے، نہ عورت، بلکہ تیمم کرایا جائے، ایک روایت میں شافعیہ کا بھی یہی مسلک ہے۔ شافعیہ کے نزدیک یہ بھی ہے کہ اگر مردوں یا عورتوں میں سے کوئی اُس کا مَحرم ہے تو بالاتفاق اُسے غسل دے سکتا ہے، الغرض شوافع کے متعدد اقوال ہیں۔ امام احمد کے نزدیک اجنبی مرد ہاتھ پر کپڑا لپیٹ کر تیمم کرائے، کیونکہ غیر محرم کے لیے حائل کے بغیر خُنثٰی مشکل کے بدن کو مَس کرنا حرام ہے۔ امام مالک کے نزدیک بھی تیمم ہے. (الموسوعۃ الفقیہ ،ج:14،ص:57)۔‘‘

حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں: نبی ﷺ سے دریافت کیا گیا: ایک بچہ پیدا ہوا ہے جس کی مردانہ و زنانہ دونوں علامتیں ہیں، اُس کی وراثت کیسے ہوگی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ دیکھا جائے گا کہ وہ پیشاب کس علامت سے کرتا ہے، (السنن الکبریٰ للبیہقی:12518)‘‘۔ ایک روایت میں ہے کہ اگر دونوں علامتوں سے کرتا ہے، تو یہ دیکھا جائے گا کہ ابتدا کس علامت سے ہوتی ہے۔ اس مسئلے میں حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کے آثار بھی بالترتیب مصنف ابن ابی شیبہ اور سنن کبریٰ للبیہقی میں موجود ہیں۔ پانی کی عدمِ دستیابی (یا پانی کے استعمال سے ہلاکت کے ممکنہ خدشے کے پیشِ نظر) سورۂ نساء ،آیت:43 میں بےوضو اور جُنُب دونوں کو تیمم کی اجازت دی گئی ہے، اس میں اہانت کا پہلو کہاں سے آگیا۔ عورت کو غیر محرَم کے مَس کرنے یا بےحجاب دیکھنے کی ممانعت کا سبب اُس کی اہانت نہیں، بلکہ اُس کا احترام ہے۔ لیڈی سرجن دستیاب نہ ہونے کی صورت میں مرد سرجن سے عورت کا آپریشن کرانے کی اجازت اضطرار کے سبب ہے اور اس کے لیے یہ فقہی اصول موجود ہے: ’’ضرورت ممنوعات کو مباح کر دیتی ہے‘‘۔ شہید کی میت کو غسل نہ دینے کے حکم کا سبب بھی اُس کی خصوصیت ہے۔ فقہ جعفریہ میں بھی ہے کہ غسل دینے والا میت کو پردے میں رکھ کر غسل دے گا، یعنی اس کے بدن پر نظر نہیں ڈالے گا، یہ بھی احترامِ میت ہی کے سبب ہے ۔ لہٰذا نہایت ادب کے ساتھ گزارش ہے کہ احترام یا اہانت و تحقیر کے تعیُّن کے لیے شریعت کے تعلیم فرمائے ہوئے معیارات کو تسلیم کرنے میں ہی ہماری سعادت ہے ۔

Comments

FB Login Required

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن، چیئرمین مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی پاکستان، صدر تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان، سیکرٹری جنرل اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان، مہتمم دارالعلوم نعیمیہ اہلسنت پاکستان

Protected by WP Anti Spam