نئے سال کا عہد ۔ سارہ رحیم

جب ہم گریجویشن میں تھےتو ایک نظم ہمارے انگریزی کے نصاب میں شامل تھی جس کا نام تھا نئے سال کا عہد۔ اس وقت ہمارا کام بس انگریزی کو رٹا مارنا ہوتا تھا سو بغیر غوروفکر کیئے رٹا مارے چلے جاتے تھے۔ لیکن ہر سال کے اختتام پر اس نظم کے الفاظ ضرور یاد آتے تھے۔ محسوس ہوتا تھا کہ نئے سال کا اتنا حق تو بنتا ہے...

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */