’’اخوان‘‘ آصف محمود

اس میں کیا کلام ہے کہ اخوان عزیمت کا استعارہ بن چکے ۔ جس دھج سے کوئی مقتل کو گیا وہ شان سلامت رہتی ہے ۔ گریہ عاشق مگر یہ ہے کہ دلوں کو صحرا کھینچتا ہے ، کاش عزیمت کے ساتھ کچھ حکمت بھی بروئے کار آئی ہوتی ۔ کتنے رجال کار تھے جو مقتل کا لہو بن گئے۔ ہم غم کشتوں کو دیکھیے ، آج غزل پر بیٹھے رو رہے ہیں...