تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے، لیکن ٹیکنالوجی نے تعلیم حاصل کرنے کے روایتی طریقوں میں نمایاں تبدیلی پیدا کر دی ہے۔ آج طالب علم صرف اسکول، کالج یا یونیورسٹی کی چار دیواری تک محدود نہیں رہے بلکہ انٹرنیٹ کے ذریعے گھر بیٹھے لیکچرز، آن لائن کورسز اور تعلیمی مواد تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں بھی ڈیجیٹل تعلیم کے امکانات بڑھ رہے ہیں، تاہم اس تبدیلی کے ساتھ کئی اہم مسائل بھی موجود ہیں۔
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے (HIES) 2024–25 کے مطابق، ملک میں انٹرنیٹ تک رسائی رکھنے والے گھرانوں کی شرح 2018–19 کے 34 فیصد سے بڑھ کر 2024–25 میں 70 فیصد ہو گئی۔ رپورٹ کے مطابق، شہری علاقوں میں یہ شرح 82 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 61 فیصد تھی۔ یہ اعداد و شمار ڈیجیٹل سہولیات کے پھیلاؤ کو ظاہر کرتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان تمام گھرانوں میں طلبہ آن لائن تعلیم حاصل بھی کر رہے ہیں۔ انٹرنیٹ کی دستیابی اور اسے مؤثر تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔آن لائن تعلیم کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ طلبہ اپنی سہولت کے مطابق سیکھ سکتے ہیں۔ یوٹیوب، ڈیجیٹل لائبریریوں اور مختلف تعلیمی پلیٹ فارمز کے ذریعے مشکل موضوعات کو بار بار سمجھنا اور نئی مہارتیں حاصل کرنا ممکن ہوا ہے۔ فری لانسنگ، گرافک ڈیزائننگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور پروگرامنگ جیسے شعبوں میں آن لائن کورسز نوجوانوں کو عملی مہارتیں سیکھنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح تعلیم صرف امتحانات کی تیاری تک محدود نہیں رہتی بلکہ پیشہ ورانہ ترقی کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
پاکستان میں ڈیجیٹل تعلیم کی ایک عملی مثال یونیسف کا لرننگ پاسپورٹ پروگرام ہے۔ یونیسف پاکستان کی 22 دسمبر 2023 کی رپورٹ کے مطابق، سندھ میں اس پروگرام کے ذریعے کراچی، حیدرآباد، جامشورو اور سکھر کے 28 اسکولوں میں چار ہزار سے زائد طلبہ کو ڈیجیٹل تعلیمی مواد فراہم کیا گیا، جبکہ 970 ٹیبلٹس تقسیم کیے گئے۔ اس پروگرام میں جماعت ششم سے ہشتم کے طلبہ کے لیے سائنس، سماجی علوم اور ریاضی کے نصاب سے مطابقت رکھنے والا مواد شامل تھا۔ طلبہ اساتذہ کی رہنمائی میں ویڈیوز، تعلیمی سرگرمیوں اور آن لائن جائزوں کے ذریعے سیکھتے تھے۔یہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ اگر ٹیکنالوجی کو نصاب اور اساتذہ کی رہنمائی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ روایتی تدریس کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔دوسری جانب، ڈیجیٹل سہولیات تک رسائی میں اب بھی نمایاں فرق موجود ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی HIES 2024–25 رپورٹ کے مطابق، شہری گھرانوں میں کمپیوٹر، لیپ ٹاپ یا ٹیبلٹ کی دستیابی 16 فیصد جبکہ دیہی گھرانوں میں صرف 7 فیصد تھی۔ قومی سطح پر یہ شرح 11 فیصد رہی۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انٹرنیٹ تک رسائی بڑھنے کے باوجود بہت سے گھرانوں میں آن لائن تعلیم کے لیے مناسب ڈیوائس دستیاب نہیں۔ صرف موبائل فون پر انحصار کرنے والے طلبہ کے لیے طویل لیکچرز دیکھنا، اسائنمنٹس تیار کرنا اور عملی سرگرمیاں انجام دینا مشکل ہو سکتا ہے۔پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی سالانہ رپورٹ 2023–24 کے مطابق، ستمبر 2024 تک ملک میں براڈبینڈ صارفین کی تعداد 14 کروڑ 23 لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔ ان میں موبائل براڈبینڈ صارفین کی تعداد تقریباً 13 کروڑ 87 لاکھ تھی۔ یہ اعداد و شمار موبائل انٹرنیٹ کے وسیع استعمال کو ظاہر کرتے ہیں، تاہم براڈبینڈ صارفین کی تعداد کو منفرد افراد یا آن لائن تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد نہیں سمجھنا چاہیے۔ڈیجیٹل تعلیم کے راستے میں صرف انٹرنیٹ اور ڈیوائسز کی کمی ہی رکاوٹ نہیں۔ بجلی کی بندش، انٹرنیٹ کی لاگت، گھروں میں پڑھائی کے لیے مناسب جگہ کی عدم دستیابی اور ڈیجیٹل مہارتوں کی کمی بھی طلبہ کی کارکردگی کو متاثر کر سکتی ہے۔ مزید یہ کہ انٹرنیٹ پر موجود ہر تعلیمی مواد قابلِ اعتماد نہیں ہوتا۔ طلبہ کو مستند ذرائع کا انتخاب کرنا، معلومات کی تصدیق کرنا اور وقت کی پابندی کے ساتھ پڑھائی جاری رکھنا سیکھنا چاہیے۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کی نیشنل ہیومن ڈیولپمنٹ رپورٹ 2023–24، جس کا موضوع ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے ترقی ہے، اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ ڈیجیٹل سہولیات تک مساوی رسائی کے بغیر ان کے فوائد معاشرے کے تمام طبقات تک یکساں طور پر نہیں پہنچ سکتے۔ یہی اصول تعلیم پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ ٹیکنالوجی اسی وقت مؤثر ثابت ہوگی جب مختلف علاقوں اور معاشی پس منظر سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو اسے استعمال کرنے کے مناسب مواقع میسر ہوں۔پاکستان میں آن لائن تعلیم کا مستقبل روایتی اور ڈیجیٹل طریقوں کے مؤثر امتزاج سے وابستہ ہے۔ حکومت اور تعلیمی اداروں کو انٹرنیٹ کی سہولیات بہتر بنانے، مناسب ڈیوائسز کی دستیابی بڑھانے، اساتذہ کی تربیت اور معیاری ڈیجیٹل مواد کی تیاری پر توجہ دینی چاہیے۔ آن لائن تعلیم روایتی کلاس روم کا مکمل متبادل بننے کے بجائے اس کی معاون ثابت ہو سکتی ہے، جہاں طلبہ کو استاد کی رہنمائی بھی ملے اور اپنی رفتار سے سیکھنے کا موقع بھی۔
آج موبائل فون یا کمپیوٹر محض رابطے اور تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ علم حاصل کرنے کا دروازہ بھی بن سکتا ہے۔ تاہم حقیقی ترقی صرف انٹرنیٹ صارفین کی تعداد بڑھنے سے نہیں آئے گی، بلکہ اس وقت ممکن ہوگی جب ہر طالب علم کو معیاری تعلیم، مناسب سہولیات اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے مواقع میسر ہوں گے۔ پاکستان میں آن لائن تعلیم کا نیا دور اسی وقت کامیاب ہوگا جب ٹیکنالوجی چند لوگوں کی سہولت کے بجائے سب کے لیے سیکھنے کا مؤثر ذریعہ بن سکے گی۔



تبصرہ لکھیے