ہوم << مصنوعی ذہانت اور صحافت: حقیقت، اعتبار اور ذمہ داری کا نیا امتحان – لائبہ شفیق
600x314

مصنوعی ذہانت اور صحافت: حقیقت، اعتبار اور ذمہ داری کا نیا امتحان – لائبہ شفیق

مصنوعی ذہانت نے ابلاغِ عامہ کی دنیا میں معلومات کی تیاری، ترسیل اور تفہیم کے طریقوں کو تبدیل کر دیا ہے۔ خبر کی تیاری سے لے کر تصاویر اور ویڈیوز کی تدوین تک، جدید ٹیکنالوجی نے صحافتی عمل کو پہلے سے زیادہ تیز اور مؤثر بنا دیا ہے۔ تاہم، اس پیش رفت کے ساتھ معلومات کی صداقت، صحافتی اعتبار اور عوامی اعتماد سے متعلق ایسے سوالات بھی سامنے آئے ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستان میں ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ کے بڑھتے ہوئے استعمال نے خبروں تک رسائی کو آسان بنایا ہے۔ سوشل میڈیا پر کسی واقعے کی ویڈیو یا تصویر چند لمحوں میں ہزاروں افراد تک پہنچ سکتی ہے۔ لیکن یہی رفتار غیر مصدقہ معلومات کو بھی وسیع پیمانے پر پھیلانے کا سبب بن سکتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ جعلی تصاویر، تبدیل شدہ ویڈیوز اور مصنوعی آوازیں اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ اب محض کسی مواد کو دیکھ لینا اس کی صداقت کا ثبوت نہیں رہا۔صحافت کی بنیادی ذمہ داری عوام تک درست، غیر جانب دار اور قابلِ تصدیق معلومات پہنچانا ہے۔ ایسے میں مصنوعی ذہانت کا استعمال صحافیوں کے لیے ایک طرف نئے امکانات پیدا کرتا ہے تو دوسری طرف پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں اضافہ بھی کرتا ہے۔ معلومات کو ترتیب دینے، ڈیٹا کا تجزیہ کرنے اور ابتدائی مسودے تیار کرنے میں یہ ٹیکنالوجی معاون ثابت ہو سکتی ہے، لیکن خبر کی تصدیق، اس کے سماجی اثرات کا جائزہ اور عوامی مفاد کا تعین انسانی فیصلے اور صحافتی اصولوں کا تقاضا کرتے ہیں۔

اس صورتِ حال میں سب سے اہم سوال ادارتی نگرانی کا ہے۔ اگر کسی خبر کو صرف اس لیے شائع کر دیا جائے کہ وہ بظاہر مستند دکھائی دیتی ہے یا مصنوعی ذہانت نے اسے تیار کیا ہے، تو غلط معلومات کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ پیشہ ورانہ صحافت میں خبر کے اصل ماخذ کی شناخت، متعلقہ فریقوں سے تصدیق اور شواہد کا تنقیدی جائزہ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کی رفتار ان اصولوں کا متبادل نہیں بن سکتی۔اس مسئلے کا تعلق صرف صحافتی اداروں تک محدود نہیں بلکہ عام صارفین بھی اس سے براہِ راست متاثر ہوتے ہیں۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی معلومات کو بغیر تحقیق کے قبول کرنا یا آگے پھیلانا عوامی رائے کو متاثر کر سکتا ہے۔ اسی لیے میڈیا لٹریسی، ڈیجیٹل آگاہی اور معلومات کی تصدیق سے متعلق تربیت وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔ تعلیمی اداروں اور ذرائع ابلاغ کو مل کر ایسی آگاہی کو فروغ دینا چاہیے جو شہریوں کو معلومات کے صارف کے ساتھ ساتھ ان کا تنقیدی جائزہ لینے والا فرد بھی بنائے۔

مصنوعی ذہانت کے استعمال میں شفافیت بھی اہم ہے۔ اداروں کو واضح کرنا چاہیے کہ یہ ٹیکنالوجی کہاں معاون کے طور پر استعمال ہوئی ہے اور مواد کی تصدیق کی ذمہ داری کس نے ادا کی ہے۔ اسی طرح نجی معلومات کے تحفظ، تخلیقی حقوق اور ممکنہ تعصب جیسے معاملات پر واضح اصول مرتب کرنا ضروری ہے۔ جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے استعمال کو اخلاقی اور پیشہ ورانہ معیار کے تابع رکھا جائے۔مصنوعی ذہانت صحافت کا مستقبل ضرور متاثر کرے گی، لیکن صحافت کی اصل بنیاد ٹیکنالوجی نہیں بلکہ سچائی، جواب دہی اور عوامی اعتماد ہے۔ جو ادارے جدید ذرائع کو ذمہ داری کے ساتھ اپنائیں گے اور تصدیق کے اصولوں پر سمجھوتا نہیں کریں گے، وہی بدلتے ہوئے ابلاغی ماحول میں اپنی ساکھ برقرار رکھ سکیں گے۔ بالآخر، خبر کی اہمیت اس رفتار سے متعین نہیں ہوتی جس سے وہ عوام تک پہنچتی ہے، بلکہ اس اعتبار سے ہوتی ہے جس کے ساتھ عوام اسے قبول کرتے ہیں۔