کچھ لوگ عہدوں پر فائز ہوتے ہیں، کچھ عہدوں کو وقار عطا کرتے ہیں۔ کچھ لوگ اداروں کی سربراہی کرتے ہیں، اور کچھ اپنے علم، کردار، شائستگی اور بصیرت سے اداروں کی تاریخ میں اپنا نام ثبت کر جاتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف میرے نزدیک اسی دوسری قسم کی شخصیت ہیں۔ پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز جیسے قومی ادبی ادارے کی سربراہی ان کے لیے محض ایک انتظامی منصب نہیں تھی بلکہ اردو زبان، پاکستانی ادب، اہلِ قلم اور نئی نسل کے ساتھ ایک فکری و تہذیبی ذمہ داری تھی۔
تین سالہ مدتِ سربراہی کی تکمیل پر ان کی جانب سے مزید توسیع نہ لینے کا فیصلہ اور اس موقع پر لکھی گئی ان کی تحریر پڑھ کر ایک طرف ان کی شخصیت کا ایک نہایت خوب صورت پہلو سامنے آتا ہے اور دوسری طرف ان کے پورے ادبی سفر کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ بچپن سے ہی خود کو ’’گھڑی کی سوئیوں سے بندھا‘‘ پایا، تعلیم مکمل ہوتے ہی ملازمت شروع ہوگئی اور دسمبر 1986ء سے شروع ہونے والا یہ سفر مختلف مراحل سے گزرتا ہوا پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کی سربراہی تک پہنچا۔ ایک سوفٹ ویئر کمپنی سے عملی زندگی کا آغاز، پھر شعوری طور پر اردو میں ایم اے اور شعبۂ تدریس سے وابستگی، اور بالآخر ایک قومی ادبی ادارے کی سربراہی؛ یہ سفر محض عہدوں کی تبدیلی کا سفر نہیں بلکہ علم، تجربے، مشاہدے اور شخصیت کی مسلسل تشکیل کا سفر ہے۔
میرا ڈاکٹر نجیبہ عارف سے ذاتی تعارف محترم ڈاکٹر توصیف تبسم مرحوم کی وساطت سے ہوا۔ اس کے بعد متعدد مرتبہ ان سے ملاقات کا موقع ملا۔ ہر ملاقات میں انہیں ایک نہایت مہربان، شفیق، باوقار اور صاحبِ مطالعہ خاتون کے طور پر پایا۔ ان کی گفتگو میں علم کا رعب نہیں بلکہ علم کی شائستگی محسوس ہوتی تھی۔ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے ساتھ چند لمحوں کی نشست بھی انسان کو یہ احساس دلاتی ہے کہ کتابیں صرف معلومات نہیں دیتیں، شخصیت بھی بناتی ہیں۔ بطور استاد ان کی شخصیت کا ایک خوب صورت پہلو یہ ہے کہ وہ نوجوانوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہیں محض طلبہ نہیں سمجھتیں بلکہ مستقبل کے امکانات کے طور پر دیکھتی ہیں۔ مجھے متعدد مرتبہ اپنے یونیورسٹی کے طلبہ کو پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کے مطالعاتی دورے پر لے جانے کا موقع ملا۔ ہر بار ڈاکٹر نجیبہ عارف نے جس گرمجوشی کا مظاہرہ کیا، وہ محض ایک سربراہِ ادارہ کی رسمی میزبانی نہیں تھی۔ انہوں نے طلبہ سے علمی اور ادبی گفتگو کی، ان کے سوالات سنے اور انہیں ادب کی دنیا سے جوڑنے کی کوشش کی۔ یہی وہ فرق ہے جو کسی ادارے کو محض ایک سرکاری دفتر سے ایک زندہ علمی مرکز بناتا ہے۔
پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز ایک قومی ادارہ ہے۔ اس کی ذمہ داری صرف کتابیں شائع کرنا یا ادبی تقریبات منعقد کرنا نہیں بلکہ پاکستان کی مختلف زبانوں، ادبی روایتوں اور اہلِ قلم کے درمیان ایک قومی ربط پیدا کرنا بھی ہے۔ ڈاکٹر نجیبہ عارف کی سربراہی میں اس ادارے کی سرگرمیوں میں پاکستانی زبانوں اور ادب کے فروغ، ادبی و ثقافتی روابط، نوجوان اور نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی اور دور دراز و نسبتاً کم نمائندگی رکھنے والے علاقوں کے ادیبوں اور ادبی برادری تک رسائی جیسے پہلو نمایاں رہے۔ ان کی شخصیت کا ایک اور اہم وصف ادب کو زندگی سے جوڑنا ہے۔ ادب ان کے لیے محض الفاظ، کتابیں اور ادبی اصطلاحات کا نام نہیں بلکہ انسانی احساس، تہذیبی شعور اور معاشرتی ذمہ داری کا نام ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی گفتگو میں علم کے ساتھ دردِ دل بھی محسوس ہوتا ہے۔
ان کی سوشل میڈیا پر موجود حالیہ تحریر کا سب سے متاثر کن پہلو ان کا اندازِ شکرگزاری ہے۔ طویل ملازمت اور زندگی کے نشیب و فراز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اپنے رب، والدین، بہن بھائیوں، شوہر، بچوں، اساتذہ، بزرگوں، احباب، رفقائے کار اور اپنے ہزاروں شاگردوں کو یاد کیا۔ یہ اعترافِ تشکر ایک ایسی شخصیت کی علامت ہے جو اپنی کامیابی کو صرف اپنی محنت کا نتیجہ نہیں سمجھتی بلکہ اپنے سفر میں شریک لوگوں کے حصے کو بھی تسلیم کرتی ہے۔ اور شاید یہی کسی بڑے انسان کی پہچان ہے۔ عہدہ ختم ہو جاتا ہے، مگر شخصیت باقی رہتی ہے۔ کرسی بدل جاتی ہے، مگر کردار کی خوشبو باقی رہتی ہے۔ سرکاری مراسلے فائلوں کا حصہ بن جاتے ہیں، مگر شاگردوں کے دل میں استاد کی باتیں برسوں زندہ رہتی ہیں۔
ڈاکٹر نجیبہ عارف کا اکیڈمی آف لیٹرز میں دور بھی اسی حوالے سے یاد رکھا جائے گا۔ ان کے لیے یہ ادارہ صرف ایک منصب نہیں تھا بلکہ پاکستانی زبانوں اور ادب کی خدمت کا ایک وسیلہ تھا۔ انہوں نے اس منصب کو جس وقار، شائستگی اور علمی مزاج کے ساتھ نبھایا، وہ ان کی شخصیت کی بنیادی خصوصیات کا تسلسل تھا۔ ان کی تحریر میں ایک جملہ خاص طور پر دل کو چھوتا ہے کہ اب وہ ’’اپنے وقت کے خود مالک‘‘ ہونے کے احساس کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ یہ دراصل ریٹائرمنٹ کا اعلان کم اور زندگی کے ایک نئے باب کا آغاز زیادہ ہے۔ ایک ایسے شخص کے لیے جس نے نصف صدی کے قریب تعلیم، تدریس، تحقیق اور ادبی اداروں کے ساتھ گزار دی ہو، فرصت شاید اختتام نہیں بلکہ اپنے تجربات کو تحریر میں ڈھالنے کا موقع ہوتی ہے۔ انہوں نے خود بھی لکھا ہے کہ زندگی کے تجربات، مشاہدات، یافت و نایافت اور رنج و انبساط کے لاتعداد سلسلے ایک طویل تحریر کے متقاضی ہیں۔ یقیناً ادب و علم کے حلقے اس تحریر کے منتظر رہیں گے، کیونکہ جو شخص دوسروں کو برسوں پڑھاتا اور ادب سے جوڑتا رہا ہو، اس کے اپنے تجربات بھی ایک اہم علمی و ادبی سرمایہ ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر صاحبہ!
آپ نے ایک منصب مکمل کیا ہے، اپنا سفر نہیں۔ پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کی سربراہی کا باب مکمل ہوا ہے، مگر استاد، محقق، ادیب اور صاحبِ مطالعہ شخصیت کی حیثیت سے آپ کا سفر جاری ہے۔ ہم جیسے لوگوں کے لیے یہ اعزاز ہے کہ ہمیں آپ سے ملنے، گفتگو کرنے اور اپنے طلبہ کو آپ سے ملوانے کے مواقع ملے۔ آپ کی شفقت، علم دوستی اور وقار ہمیشہ یاد رہے گا۔ آپ کو ایک کامیاب عہد کی تکمیل پر دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین۔ اللہ تعالیٰ آپ کو صحت، سکون، خوشی اور مزید تخلیقی توانائی عطا فرمائے۔ آپ کی زندگی کا اگلا باب بھی اتنا ہی بامعنی ہو جتنا آپ کی گزشتہ زندگی کا سفر رہا ہے۔ عہدے آتے جاتے رہتے ہیں، مگر باوقار کردار اپنے پیچھے ایک ایسی روشنی چھوڑ جاتا ہے جسے وقت بھی مدھم نہیں کر سکتا۔ بے شک ڈاکٹر نجیبہ عارف بھی ایسے ہی کرداروں اور شخصیات میں سے ہیں۔



تبصرہ لکھیے