آج پاکستان کی سیاست ایک بار پھر سڑکوں، نعروں، احتجاج، گرفتاریوں، کنٹینرز اور سخت ایکشن کے درمیان کھڑی ہے۔ ایک طرف سیاسی قوتیں اپنے مؤقف، اپنے مینڈیٹ اور اپنی جدوجہد کو عوامی حق کی آواز قرار دے رہی ہیں، دوسری طرف حکومت ریاستی رٹ، قانون کی عمل داری اور امن و امان کو اپنی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے احتجاج سے نمٹنے کے لیے سخت اقدامات کر رہی ہے۔
راستے بند ہیں، سیاسی کارکن گرفتار ہو رہے ہیں، ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ ہے اور ہر فریق اپنے مؤقف کو درست ثابت کرنے کے لیے اپنی اپنی دلیل اور اپنی اپنی سیاسی طاقت کا حوالہ دے رہا ہے۔مگر اس شور، کشمکش اور سیاسی محاذ آرائی کے درمیان ایک آواز ایسی ہے جو سب سے زیادہ اہم ہونے کے باوجود سب سے کم سنائی دیتی ہے۔ عام آدمی کی آواز،وہ عام آدمی جو مہنگائی کے بوجھ تلے دب رہا ہے۔ جس کے لیے روزگار ایک سوال ہے، بجلی اور دیگر بنیادی اخراجات اس کے ماہانہ بجٹ کو ہلا دیتے ہیں، نوجوان ڈگری کے باوجود مستقبل کے بارے میں فکرمند ہیں اور متوسط طبقہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے مسلسل حساب کتاب میں مصروف ہے۔اسے اس بحث سے زیادہ غرض نہیں کہ سیاسی میدان میں کون غالب آیا، کس کا احتجاج کامیاب رہا، کتنے کارکن گرفتار ہوئے یا کس نے کتنے بڑے دعوے کیے۔ اس کا سوال کہیں زیادہ سادہ مگر کہیں زیادہ بنیادی ہے۔میری زندگی کب آسان ہوگی؟
یہ سوال آج کا ہے، لیکن اس کی جڑیں بہت پرانی ہیں۔ہماری سیاسی تاریخ میں احتجاج، مارچ، تحریک، گرفتاریاں، جیلیں، جلاوطنی، آمریت، جمہوریت، انقلاب اور نظام بدلنے کے دعوے بار بار سامنے آتے رہے ہیں۔ ہر دور نے عوام سے ایک نئے مستقبل کا وعدہ کیا، ہر نئی سیاسی کشمکش نے تبدیلی کی امید پیدا کی مگر تاریخ کے کئی موڑ عبور کرنے کے باوجود عام آدمی آج بھی بنیادی سوالات کے جواب تلاش کر رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج کے سیاسی حالات کو صرف آج کے واقعے کے طور پر دیکھنا کافی نہیں۔ موجودہ کشمکش کو سمجھنے کے لیے ہمیں ماضی کی طرف بھی دیکھنا ہوگا۔ ان مارچوں کی طرف جنہوں نے اقتدار کے دروازے ہلائے ان انقلاب کے نعروں کی طرف جنہوں نے عوام میں امید جگائی۔ دھرنے، مارچ، احتجاج، گرفتاریاں، کنٹینرز، دعوے، نعرے، سخت ایکشن، فتح کی امید اور مضبوط گرفت کا گمان رہا۔پاکستان کی سیاست کا منظرنامہ بدلتا رہا، مگر منظر وہی رہا۔ کبھی انقلاب کے نعرے بلند ہوئے، کبھی نظام بدلنے کی صدائیں آئیں، کبھی اسلام کے نفاذ کو ریاست کی منزل قرار دیا گیا، کبھی جمہوریت کی بحالی کے لیے سڑکیں آباد ہوئیں اور کبھی ”سب کچھ ٹھیک“ کرنے کے دعوے کے ساتھ ایک نیا نظام متعارف کرایا گیا۔
لیکن ایک کردار ہر دور میں خاموش رہا۔۔۔ عام آدمی! وہی عام آدمی جس کے نام پر جلسے ہوتے ہیں، جس کے حقوق کے نام پر تحریکیں چلتی ہیں، جس کے ووٹ کو طاقت کا سرچشمہ کہا جاتا ہے، جسے کبھی انقلاب کا سپاہی اور کبھی تبدیلی کا معمار قرار دیا جاتا ہے، مگر اقتدار کی کشمکش ختم ہونے کے بعد سب سے پہلے اسی کی آواز پسِ منظر میں چلی جاتی ہے۔ہماری سیاسی تاریخ میں احتجاج کوئی نئی چیز نہیں۔ 1977 کا سیاسی بحران، ملک گیر احتجاج، مارشل لا، سیاسی کارکنوں کی گرفتاریاں، ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی، پھر جمہوریت کی بحالی کے لیے تحریکیں۔ یہ سب ہماری قومی تاریخ کا حصہ ہیں۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں نفاذِ اسلام کے نعرے اور مختلف اسلامی قوانین ریاستی پالیسی کا حصہ بنے مگر سیاسی آزادیوں اور اختلافِ رائے پر پابندیاں بھی تاریخ کا حصہ ہیں۔پھر وقت بدلا۔ آمریت ختم ہوئی، جمہوری حکومتیں آئیں۔ مگر سیاسی عدم استحکام ختم نہ ہوا۔کبھی حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے، کبھی عدالتیں سیاسی تنازعات کا مرکز، کبھی اسمبلیاں اپنی مدت پوری نہ کرسکیں، کبھی سیاسی قیادت جیل میں اور کبھی جلاوطنی میں۔
پھر 1999 میں جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا۔ ”نئے پاکستان“، احتساب، اصلاحات اور ایک نئے سیاسی بندوبست کے دعوے سامنے آئے۔ لیکن چند برس بعد وہی بنیادی سوال پھر ہمارے سامنے تھا۔کیا صرف حکمران بدلنے سے نظام بدل جاتا ہے؟شاید نہیں۔نظام صرف چہروں کی تبدیلی سے نہیں بدلتا۔ نظام تب بدلتا ہے جب ادارے مضبوط ہوں، قانون سب کے لیے یکساں ہو، سیاست اختلاف کو برداشت کرے، اقتدار جواب دہ ہو اور ریاست اپنے شہری کو محض ووٹر نہیں بلکہ انسان سمجھے۔ہم نے تاریخ میں طاقت کے کئی تجربے کیے۔ ہم نے احتجاج بھی دیکھے، مذاکرات بھی، سمجھوتے بھی اور تصادم بھی۔ ہم نے سیاسی کارکنوں کو جیل جاتے دیکھا، رہنماؤں کو جلا وطن ہوتے دیکھا، حکومتوں کو ختم ہوتے دیکھا اور نئے وعدوں کے ساتھ نئی حکومتیں بنتے دیکھیں۔مگر آج بھی اگر ایک نوجوان ڈگری ہاتھ میں لیے روزگار تلاش کررہا ہے، ایک مزدور بڑھتی ہوئی مہنگائی میں گھر کا بجٹ بنانے سے قاصر ہے، ایک کسان اپنی فصل کی لاگت اور قیمت کے درمیان پسا ہوا ہے، ایک مریض علاج کے اخراجات سے خوفزدہ ہے اور ایک متوسط گھرانہ بجلی، گیس، تعلیم اور روزمرہ ضروریات کے بلوں میں الجھا ہوا ہے تو پھر ہمیں رک کر سوچنا ہوگا۔آخر ہماری سیاست کی منزل ہے کیا؟اگر منزل صرف اقتدار ہے تو اقتدار ملنے کے بعد عوام کی باری کب آئے گی؟اگر منزل صرف مخالف کو شکست دینا ہے تو عوام کی فتح کہاں ہے؟
سوال یہ نہیں کہ تاریخ میں کون درست تھا اور کون غلط ہے۔ سوال یہ ہے کہ اتنی سیاسی کشمکش، اتنے نعرے، اتنی تحریکوں اور اتنی نظام کی تبدیلیوں کے بعد آج عام آدمی کہاں کھڑا ہے؟
اگر کامیابی کا معیار یہ ہے کہ کس جماعت نے زیادہ بڑا احتجاج کیا، کس نے زیادہ لوگ سڑکوں پر نکالے، کس نے زیادہ گرفتاریاں برداشت کیں یا کس نے زیادہ سختی سے احتجاج ختم کرایا تو پھر عام آدمی اس سیاسی کامیابی میں کہاں کھڑا ہے؟
یہ سوال کسی ایک جماعت سے نہیں۔ یہ سوال پوری سیاسی اشرافیہ سے ہے۔حکومتیں اپنی کارکردگی کے دعوے کرتی ہیں، اپوزیشن اپنی جدوجہد کو عوامی حقوق کی جنگ قرار دیتی ہے۔ دونوں کے پاس اپنے اپنے دلائل ہیں، اپنے اپنے سیاسی بیانیے ہیں اور اپنے اپنے حامی ہیں۔ مگر ان تمام بیانیوں کے درمیان ایک غیر سیاسی حقیقت بھی موجود ہے۔ عوام کو روٹی، روزگار، تعلیم، علاج، امن اور عزت کے ساتھ زندگی چاہیے۔
عوام ہر روز انقلاب نہیں مانگتے۔وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے پڑھ سکیں، نوجوان کو روزگار ملے، بیمار کا علاج ہوسکے، گھر کا چولہا جل سکے، بجلی کا بل قابلِ برداشت ہو، بازار میں اشیائے ضروریہ عام آدمی کی پہنچ میں ہوں اور ریاست کے کسی دفتر میں اس کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو۔یہ مطالبات کسی ایک سیاسی جماعت کے نہیں، ریاست اور معاشرے کی بنیادی ذمہ داری ہیں۔احتجاج جمہوری حق ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کی ضرورت ہے۔ حکومت کے لیے قانون کی عمل داری بھی ضروری ہے۔ لیکن سیاست جب مسلسل تصادم میں تبدیل ہوجائے تو اس کی قیمت آخرکار وہی عوام ادا کرتے ہیں جن کے نام پر سیاست کی جاتی ہے۔سڑکیں بند ہوں تو کاروبار متاثر ہوتا ہے۔ شہر بند ہوں تو مزدور کی دیہاڑی متاثر ہوتی ہے۔ سیاسی کشیدگی بڑھے تو سرمایہ کاری، روزگار اور معاشی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔ گرفتاریوں اور سخت ایکشن سے سیاسی تنازع ختم نہیں ہوتا، اکثر نئے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ اور جب ہر فریق اپنے آپ کو حق پر اور دوسرے کو مکمل غلط سمجھنے لگے تو مکالمے کا دروازہ بند ہوجاتا ہے۔
ہمیں شاید یہ تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کو ایک دوسرے کو شکست دینے والی سیاست نہیں، ایک دوسرے کو برداشت کرنے والی سیاست چاہیے۔ایسی سیاست جہاں حکومت اپنے مخالف کے مینڈیٹ کا احترام کرے اور اپوزیشن حکومت کے مینڈیٹ کو تسلیم کرے۔ جہاں اختلاف کو دشمنی نہ سمجھا جائے اور تنقید کو غداری کا نام نہ دیا جائے۔ جہاں گرفتاری آخری راستہ ہو، سیاسی انتقام کا ذریعہ نہ بنے۔ جہاں قانون حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے یکساں ہو۔کیونکہ تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ طاقت مستقل نہیں ہوتی۔آج جو اقتدار میں ہے، کل اپوزیشن میں ہوسکتا ہے۔ آج جو سڑک پر ہے، کل ایوان میں ہوسکتا ہے۔ آج جس کے ہاتھ میں اختیار ہے، کل وہ اختیار کسی اور کے پاس ہوسکتا ہے۔مگر عوام؟
عوام ہر دور میں وہیں رہتے ہیں۔اس لیے اب شاید ہمیں یہ سوال بدل دینا چاہیے۔یہ پوچھنے کے بجائے کہ کون جیت رہا ہے؟
یہ پوچھنا چاہیے کہ کون سا نظام عوام کو جتا رہا ہے؟
یہ دیکھنے کے بجائے کہ کس کا دھرنا بڑا ہے، یہ دیکھنا چاہیے کہ کس کی پالیسی عام آدمی کی زندگی آسان کرتی ہے۔یہ گننے کے بجائے کہ کتنے لوگ گرفتار ہوئے، یہ پوچھنا چاہیے کہ کتنے نوجوانوں کو روزگار ملا۔یہ فخر کرنے کے بجائے کہ حکومت نے احتجاج کتنی سختی سے روکا، یہ دیکھنا چاہیے کہ حکومت نے عوامی مسائل کتنی سنجیدگی سے حل کیے۔ اپوزیشن کے لیے بھی سوال یہی ہے کہ احتجاج کے بعد متبادل کیا ہے؟
نعرے کے بعد پالیسی کیا ہے؟
اقتدار کے حصول کے بعد عوام کو کیا ملے گا؟
پاکستان نے نعروں کی کمی کبھی محسوس نہیں کی۔انقلاب کے نعرے بھی سنے، اسلام کے نعرے بھی سنے، جمہوریت کے نعرے بھی سنے، تبدیلی کے نعرے بھی سنے، احتساب کے نعرے بھی سنے۔اب شاید عمل کا وقت ہے۔ایسا عمل جو حکومت اور اپوزیشن کو بھی جواب دہ بنائے۔ایسی سیاست جو اقتدار کو منزل نہیں، ذریعہ سمجھے۔ایسی جمہوریت جس میں صرف ووٹ لینے کا حق نہ ہو بلکہ ووٹر کو نتائج پوچھنے کا حق بھی حاصل ہو۔کیونکہ قومیں صرف حکومتیں بدلنے سے نہیں بدلتیں، حکمرانی کا انداز بدلنے سے بدلتی ہیں۔
ہم نے مارچ بہت دیکھ لیے، دھرنے بہت دیکھ لیے، گرفتاریاں بہت دیکھ لیں، کنٹینرز بہت دیکھ لیے، فتح کے دعوے بہت سن لیے اب عام آدمی صرف یہ پوچھ رہا ہے۔نعرے بہت ہوگئے۔اقتدار کی جنگ بہت ہوگئی۔مخالف کو شکست دینے کی خواہش بھی بہت ہوگئی۔اب عوام کی باری کب آئے گی۔۔؟اور شاید یہی وہ سوال ہے جس کا جواب آج کی سیاست کو کل کی تاریخ کے سامنے دینا ہوگا۔



تبصرہ لکھیے