حدیث کی کتابوں میں پچھلے چودہ سو سال سے زندہ: مشہور تاریخی بابِ لُد
ایک ہشت پہلو عمارت، جس پر ایک چھوٹا سا گنبد بنا ہے۔ یہ عمارت دراصل لُد شہر کی بیرونی فصیل کے مشرقی دروازے پر واقع ایک کنویں پر قائم کی گئی تھی، لیکن اب نہ فصیل باقی ہے، نہ دروازہ۔ صرف یہ عمارت ہے، جو نہ جانے کب سے یہاں موجود ہے۔ اکیلی۔ خاموش۔ جیسے انتظار میں ہو۔
ہم نے ٹیکسی سے اتر کر کچھ وقت بابِ لُد اور اس کے اردگرد بنے پارک میں گزارا۔
بابِ لُد کے سامنے ایک بہت پرانا اور بہت بڑا چنار کا درخت تھا۔ اس کا تنا اتنا موٹا تھا کہ تین چار آدمی ہاتھ پھیلا کر بھی اس کا گھیراؤ نہ کر سکتے تھے۔ تنے کے گرد چبوترہ بنا ہوا تھا، پتھر کا۔ پرانا۔ گھسا ہوا۔ نہ جانے کتنے لوگ یہاں بیٹھ چکے تھے، نہ جانے کتنی صدیاں اس چبوترے نے اس طرح گزاری تھیں۔ عمارت کی مشرقی سمت ایک محراب کے اندر لوہے کا جنگلہ نما دروازہ تھا۔ تالا لگا ہوا، زنگ آلود۔ باقی تین اطراف میں بڑی بڑی کھڑکیاں، جن پر آہنی جالی لگی تھی۔
میں نے کھڑکی سے جھانک کر اندر دیکھا۔
کاٹھ کباڑ۔ اینٹوں کا ملبہ۔ کوڑے کے ڈھیر اور ان کے درمیان زمین میں ایک بڑا سا سوراخ، جس کا منہ لوہے کے جنگلے سے بند تھا۔ یہ وہ کنواں ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کو قتل کرنے کے بعد اس کی لاش اس کنویں میں لٹکا دیں گے۔
یہ عمارت، بابِ لُد، اسی کنویں پر بنی ہے۔ سڑک پر لگے بجلی کے بلبوں کی روشنی کھلی کھڑکیوں سے چھن چھن کر اندر فرش پر پڑ رہی تھی۔ میں نے اس کھلی کھڑکی کے ذریعے کنوئیں میں جھانکنے کی کوشش کی، لیکن اندر اندھیرا تھا۔۔ اتنا گہرا کہ نظر نہیں جاتی تھی۔ صرف سیاہی تھی، ایسی سیاہی جو کنوئیں کے چھوٹے سوراخ سے امڈتی، اوپر آتی محسوس ہوتی تھی، نیچے نہیں جاتی تھی، جیسے کنواں سانس لے رہا ہو۔
اچانک اندر سے چند چمگادڑیں اڑتی ہوئی آئیں اور پُھر سے باہر نکل گئیں۔ میں پھرتی سے پیچھے ہٹ گیا، ورنہ وہ میرے چہرے سے ٹکرا جاتیں۔ لگتا تھا انہیں میری مداخلت پسند نہیں آئی تھی۔ کمرے کی خاموش فضا میں ایک ہلچل سی مچ گئی۔ ابابیل جیسے کچھ پرندے بھی شور مچاتے اڑتے ہوئے باہر نکل گئے۔ میں نے اس عمارت کے باسیوں کی نیند میں خلل ڈال دیا تھا اور وہ احتجاج کر رہے تھے۔
بابِ لُد کی سرگوشیاں کرتی خاموشی؛ اور دجال کا قتل
پارک ویران پڑا تھا۔ رات کے اس پہر ہمارے علاوہ یہاں کوئی نہیں تھا۔ موسم خاصا خنک تھا، لیکن یہ خنکی ناگوار نہیں تھی۔ ٹھنڈی ہلکی ہوا چل رہی تھی، آہستہ آہستہ، جیسے دبے پاؤں چل رہی ہو۔ ہر طرف ایک گہرا سکوت طاری تھا۔ خاموشی تھی۔۔ ایسی خاموشی۔۔ جو کانوں میں بجتی تھی، فضا میں گونجتی محسوس ہوتی تھی، سرگوشیاں کرتی ہے۔سڑک کے کنارے لگے کھمبوں پر بجلی کے بلب لٹک رہے تھے۔ وہ روشنی تو دے رہے تھے، لیکن اندھیرے کو پوری طرح دُور کرنے میں ناکام نظر آتے تھے۔ان کی زرد روشنی زمین پر گول دائرے بناتی تھی، ہر دائرے کے باہر اندھیرا۔ جیسے روشنی اور اندھیرے نے آپس میں زمین تقسیم کر لی ہو اور اب آپس میں نبردآزما ہوں۔ کبھی کبھار کوئی گاڑی اس خاموشی کو چیرتی سڑک پر سے گزر جاتی۔ ہیڈ لائٹس کی روشنی درختوں پر سے پھسلتی، سڑک پر پڑتی، دور جاتے انجن کی آواز معدوم ہو جاتی اور خاموشی پھر لوٹ آتی۔ اندھیرا پھر گہرا ہو جاتا، پہلے سے زیادہ گہرا، پہلے سے زیادہ خاموشی۔۔۔
بلال ابوقاسم کے ساتھ باتیں کرتا بابِ لُد کے پچھواڑے کی طرف نکل گیا تھا۔میں اکیلا رہ گیا تھا۔چنار کے اس بوڑھے درخت کے نیچے۔ بابِ لُد کے سامنے۔
میں اکیلا کھڑا تھا۔ دُور دُور تک کوئی دوسرا نظر نہیں آتا تھا۔ ہر طرف ایک عجیب سی پراسراریت چھائی ہوئی تھی۔عجیب سی ٹھنڈک۔ عجیب سی دھند، جو کہیں سے نہیں آ رہی تھی، نہ زمین سے، نہ آسمان سے۔ لگتا تھا جیسے اس ہوا میں شامل رہی ہو۔ اس فضا کا ہی حصہ ہو مجھے یہ سارا ماحول ایک طلسم کدہ لگا۔ ایک جادو نگری۔۔ طلسمِ ہوش ربا۔
جیسے کسی نے کوئی جادو پھونک دیا ہو۔ جیسے وقت رُک گیا ہو۔ ہر چیز سحر زدہ تھی، جیسے میں بھی، چنار کے اس درخت کی طرح، اس ماحول کا حصہ بن گیا ہوں۔ جڑیں زمین میں۔ سانس رُکی ہوئی۔ یہ وہ جگہ تھی، جس کے بارے میں بچپن سے سنتا آیا تھا۔ میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ ایک دن میں اس مقام پر اس طرح کھڑا ہوں گا، جس کا ذکر حدیث کی تمام کتابوں میں موجود ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دجال کے بارے میں کی گئی پیش گوئی سے شاید ہی کوئی مسلمان بے خبر ہو گا۔۔ لیکن سننا، پڑھنا اور بات ہے، اور اُس جگہ کھڑا ہونا جہاں دجال والا واقعہ وقوع پذیر ہونا ہے، اور بات تھی۔۔ اور یہ کیفیت کتنی سحر انگیز ہے، اس بات کا اندازہ مجھے اس روز ہوا۔۔۔سننا، پڑھنا۔۔ کتاب کا صفحہ ہے۔ داستان کا حصہ ہے۔ اور اس جگہ کھڑا ہونا، کتاب کے اندر داخل ہو جانا ہے۔ داستان کا کردار بن جانا ہے۔ میں نے اپنے دل میں حدیثِ مبارک کے الفاظ دہرانے کی کوشش کی۔ اور پھر نظر اٹھا کر بابِ لُد کو دیکھا . ملگجی روشنی میں۔ ہلکی دھند میں۔ پراسراریت کا لبادہ اوڑھے۔
وہ کوٹھا۔۔ کمرہ نما عمارت۔۔ وہ چھوٹا سا گنبد۔۔ وہ بند دروازہ۔۔ کھلی کھڑکیاں۔۔ وہ آہنی جالیاں۔۔ اور ان سب پر مستزاد۔۔ ہر طرف چھائی سرگوشیاں کرتی وہ خاموشی۔
مجھے یہ سب اس قدر وحشت انگیز لگا کہ جسم میں ایک پھریری سی دوڑ گئی۔بدن کے رونگٹے کھڑے ہو گئے، بازوؤں پر، گردن پر، ریڑھ کی ہڈی کے ساتھ ساتھ، سر سے پیر تک خوف اور سنسنی کی ایک لہر سی دوڑ گئی۔ٹانگیں بے جان ہوتی محسوس ہوئیں۔
اور اس خنک موسم میں ماتھے پر پسینہ آنے لگا۔
مجھے لگا، ابھی بس ابھی یروشلم کی جانب سے ایک آنکھ والا دجال نمودار ہو گا۔
بھاگتا ہوا۔ چیختا ہوا۔ بابِ لُد کی اس عمارت میں آ کر چھپ جائے گا۔ اور پھر۔۔۔ عمارت کے گرد چھائی اس دھند میں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت داؤد علیہ السلام کی تلوار۔۔ سیف النبیاء۔۔ البتار۔۔ لہراتے ہوئے نکلیں گے۔ اور اس کا سر قلم کریں گے۔اور اس کی لاش اسی کنویں میں لٹکا دیں گے۔
اسی کنویں میں، جس کا وحشت ناک اندھیرا ابھی ابھی میں نے دیکھا تھا۔میں نے ایک سو ایک سینٹی میٹر لمبی یہ تلوار استنبول کے توپ کاپی میوزیم میں دیکھی تھی۔ اس کی تاریخ پڑھی تھی۔ اس تلوار پر حضرت داؤد علیہ السلام، حضرت سلیمان علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام سمیت دیگر انبیائے کرامؑ کے نام کندہ ہیں۔ یہ وہ تلوار تھی جس سے حضرت داؤد نے جالوت کا سر قلم کیا تھا۔ جو جنگِ خیبر میں رسولِ اکرم ﷺ کے حصے میں آئی تھی۔
مجھے لگا جیسے میری جان نکل رہی ہے۔ میری ٹانگوں نے کھڑے رہنے سے انکار کر دیا۔
میں پیشانی کا پسینہ دائیں ہاتھ سے پونچھتا، کانپتا، لرزتا، چنار کے درخت کے نیچے بنے اس چبوترے پر آ کر بیٹھ گیا۔گہری سانسیں لینے لگا۔۔۔
ایک۔ دو۔ تین۔
اپنے اوپر قابو پانے کی کوشش کرنے لگالیکن ہیجان قابو میں نہیں آ رہا تھا۔ خوف تھا کہ بڑھتا جا رہا تھا۔ جسم پر کپکپی سی طاری ہو گئی۔ میرے جسم کے سارے مساموں سے پسینہ پھوٹ پڑا۔ قمیض اس سے شرابور ہو گئی۔ میں زندگی میں کبھی اتنا خوف زدہ نہیں ہوا۔ کبھی ایسی صورتِ حال سے نہیں گزرا تھا۔ پہلے بھی مجھے حدیثِ پاک کے الفاظ کی حقانیت سے کبھی انکار نہیں تھا، لیکن آج، اس مقام پر، حدیث کے الفاظ۔۔ الفاظ نہیں رہے تھے۔ وہ مجسم صورت اختیار کر رہے تھے۔ وہ آنکھوں کے سامنے ہیولوں کی صورت گھوم رہے تھے۔ وہ ہوا میں تھے۔ دھند میں تھے۔ مٹی میں تھے۔ کتابوں میں لکھے الفاظ اتنے طاقتور بھی ہوتے ہیں اور ان پر ایمان اس طرح زندہ بھی ہو جاتا ہے، اس کا اندازہ مجھے اس روز پہلی بار بابِ لُد کے سامنے بنے چبوترے پر ہوا، جب میں اس پر بیٹھا تھا۔
انتظار: سب انتظار میں ہیں:
ایک آواز سے سب ہوا میں تحلیل ہو گیا۔۔۔
“بابا”
“بابا”
پھر بلال کی آواز کانوں میں گونجی۔ وہ ابوقاسم کے ساتھ مجھے پکارتا، ڈھونڈتا ہوا اس طرف آگیا تھا جہاں میں بیٹھا تھا۔ اس کی آواز سن کر جیسے سب کچھ بکھر گیا۔ میری چشمِ تصور کے سامنے لہراتا منظر چشمِ زدن میں کہیں گم ہو گیا۔ ایک لمحے میں سب کچھ ہوا میں غائب ہو گیا۔ دھند وہی تھی۔ خاموشی بھی چھائی تھی۔ بجلی کے کھمبے سامنے کھڑے تھے۔۔ میں بوڑھے چنار کے نیچے بنے چبوترے پر بیٹھا تھا۔ عمارت وہی تھی۔ کنواں وہیں تھا۔ لیکن وہ وحشت۔۔ وہ تجلی۔۔ وہ لرزش۔۔ وہ خوف۔۔ کہیں گم ہو گیا۔
ایک آواز نے سب کچھ ہوا میں تحلیل کر دیا تھا۔
میں چونک کر اٹھا۔گم سم سا، ان کے ساتھ ٹیکسی کی طرف چل دیا۔ مجھے اس حالت میں دیکھ کر بلال پریشان ہو گیا تھا۔ بار بار مجھے چھو کر میری خیریت دریافت کر رہا تھا۔ ابوقاسم زیرِ لب مسکرا رہا تھا، جیسے وہ سب جانتا ہو۔ جیسے اس نے بھی یہ سب کچھ بھگتا ہو۔ٹیکسی میں تو بیٹھ گیا تھا۔ ابوقاسم نے گاڑی بھی آگے بڑھا دی تھی۔ ہم بیبرس کے پل پر سے گزرتے ہوئے واپس موٹر وے کی طرف جا رہے تھے، یروشلم کی جانب۔لیکن ٹیکسی میں بیٹھنے کے بعد بھی خیالات کا گھوڑا میرے قابو میں نہیں آ رہا تھا۔میں سوچتا رہا۔
چرخِ کج رفتار نے لُد شہر کے کئی عروج و زوال دیکھے ہیں۔ یہ شہر کئی بار اُجڑا۔ کئی بار برباد ہوا۔ پھر آباد ہوا۔ خدوخال بدلے۔ نام بدلے۔ حکمران بدلے۔ فصیل مٹ گئی۔
لیکن بابِ لُد قائم رہا
ابوقاسم نے بتایا تھا کہ یہودیوں کو بھی رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیش گوئی کا علم ہے۔ انہوں نے کئی بار اس عمارت کو مٹانے کی کوشش کی، لیکن نہ جانے کیسے، ہر بار یہ بچ جاتی ہے۔ نہ جانے کیسے، کوئی انجانی طاقت انہیں ناکام کر دیتی ہے۔بابِ لُد کی عمارت آج بھی یروشلیم ایونیو کے کنارے اپنی جگہ پر قائم ہے، اور اس کے سامنے بوڑھا چنار بھی نہ جانے کب سے یہاں کھڑا ہے۔ان دونوں کو دجال کا انتظار ہے۔ ان دونوں کا وجود صرف اس لیے قائم ہے کہ انہیں میرے پیارے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کی لاج رکھنی ہے۔ آپ نے اس جگہ کو دجال کی جائے قتل قرار دیا، تو یہ جگہ اس وقت تک قائم رہے گی، جب تک دجال اپنے انجام کو نہیں پہنچتا۔ اسے کوئی نہیں مٹا سکتا۔بابِ لُد اور اس کے سامنے کھڑے چنار کے بزرگ درخت نے کئی صدیاں انتظار کیا ہے۔اور آج بھی، وہ انتظار میں ہیں۔پتا نہیں، یہ انتظار کتنا لمبا ہے۔لیکن وہ انتظار میں ہیں۔
بالکل اسی طرح، جیسے یہودیوں کو دجال کا انتظار ہے۔ عیسائیوں کو اپنے مسیحِ موعود کا۔ اور مسلمانوں کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا۔ابوقاسم نے گاڑی موٹر وے پر ڈالی۔ اب اس کا رُخ یروشلم کی طرف تھا۔ اس نے مجھ سے کچھ پوچھا، لیکن میں ابھی تک لُد کے سحر سے نہیں نکلا تھا۔ میری آنکھوں کے سامنے دیر تک بوڑھا چنار ناچتا رہا۔ چشمِ تصور بابِ لُد، اس کے بند دروازے اور اس کے اندر موجود اندھیرے کنوئیں کے گرد گھومتی رہی۔ سب انتظار میں ہیں۔ بابِ لُد بھی۔ بوڑھا چنار بھی۔ اور میں بھی، جو آج اس جگہ کھڑا ہو کر اتنا کانپا تھا کہ زندگی بھر اس کیفیت کا ایسا شکار نہیں بنا تھا۔
یہ تحریر میری آنے والی کتاب “حتی النصر۔۔ حتی القدس: اہلِ وفا کی بستی کا سفر” میں شامل ہے، جو فلسطین کا سفرنامہ ہے۔



تبصرہ لکھیے