ہوم << صلہ رحمی: رشتوں کو جوڑنا رحمتِ الٰہی کا سبب – محمد عدنان
600x314

صلہ رحمی: رشتوں کو جوڑنا رحمتِ الٰہی کا سبب – محمد عدنان

درس بعد نمازِ ظہر
مقرر: ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب
امام و خطیب فیصل مسجد، اسلام آباد

حدیثِ مبارکہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهُمُ الرَّحْمَنُ، ارْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ، وَالرَّحِمُ شُجْنَةٌ مِنَ الرَّحْمَنِ، فَمَنْ وَصَلَهَا وَصَلَهُ اللَّهُ، وَمَنْ قَطَعَهَا قَطَعَهُ اللَّهُ
ترجمہ:رحم کرنے والوں پر رحمان رحم فرماتا ہے۔ تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔ رحم رحمان سے جڑی ہوئی ہے۔ پس جو شخص اسے جوڑے گا، اللہ اسے جوڑے گا، اور جو شخص اسے کاٹے گا، اللہ اسے کاٹ دے گا۔
(سنن ترمذی، حدیث: 1924)

صلہ رحمی کیا ہے؟
ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب نے اس حدیث کی روشنی میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ اسلام صرف عبادات کا نام نہیں، بلکہ انسانوں کے ساتھ حسنِ سلوک، محبت، شفقت اور بالخصوص رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے کی بھی تعلیم دیتا ہے۔صلہ رحمی کا مطلب ہے اپنے رشتہ داروں کے ساتھ تعلق قائم رکھنا، ان کے حقوق کا خیال رکھنا، ان کی خوشی اور غمی میں شریک ہونا، ضرورت کے وقت ان کا ساتھ دینا اور باہمی محبت و اخوت کی فضا برقرار رکھنا۔اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ رشتے صرف اس وقت نہ نبھائے جائیں جب سامنے والا ہمارے ساتھ اچھا سلوک کرے، بلکہ اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب کسی رشتہ دار کی طرف سے ہمیں تکلیف پہنچے۔اگر کوئی ہمارے ساتھ برا سلوک کرے، ہمارے ساتھ زیادتی کرے، ہمارے حق میں کمی کرے یا ہمارے ساتھ اچھائی کے بدلے برائی کرے، تب بھی ہمیں جذبات میں آکر رشتہ ختم نہیں کر دینا چاہیے۔ انسان کو چاہیے کہ حتی الامکان معاملات کو حکمت، صبر اور اچھے انداز سے حل کرنے کی کوشش کرے۔

رشتہ توڑنا آسان، جوڑنا عظمت ہے
آج ہمارے معاشرے میں معمولی معمولی باتوں پر رشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔ کبھی زمین کا مسئلہ، کبھی وراثت کا اختلاف، کبھی کاروباری لین دین، کبھی کسی تقریب میں نہ بلانے کی شکایت اور کبھی صرف ایک تلخ جملہ برسوں کی محبت کو ختم کر دیتا ہے۔ایک بھائی دوسرے بھائی سے بات کرنا چھوڑ دیتا ہے، بہن بھائی ایک دوسرے کے گھروں میں آنا جانا بند کر دیتے ہیں، چچا، ماموں، پھوپھی اور خالہ کے خاندان آپس میں دور ہو جاتے ہیں۔لیکن ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ایک رشتہ توڑنے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا، بلکہ ایک اور مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔بعض اوقات انسان سمجھتا ہے کہ میں نے فلاں شخص سے تعلق ختم کرکے اپنا سکون حاصل کر لیا، لیکن حقیقت میں وہ اپنے لیے ایک ایسی آزمائش پیدا کر رہا ہوتا ہے جس کا نقصان دنیا میں بھی ہو سکتا ہے اور آخرت میں بھی۔

صلہ رحمی صرف اچھے رشتہ داروں کے ساتھ نہیں
صلہ رحمی کا اصل حسن یہ ہے کہ انسان اس وقت بھی رشتہ نبھائے جب سامنے والے سے اسے فوری فائدہ نہ مل رہا ہو۔اگر کوئی آپ کو فون نہیں کرتا تو آپ کبھی خود فون کرلیں۔اگر کوئی آپ کے گھر نہیں آتا تو آپ کبھی اس کے گھر چلے جائیں۔اگر کسی رشتہ دار نے آپ کو تکلیف پہنچائی ہے تو ہر وقت بدلہ لینے اور تعلق ختم کرنے کے بجائے مناسب وقت پر محبت اور حکمت سے بات کرکے معاملہ درست کرنے کی کوشش کریں۔یہی وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے نفس پر قابو پاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے رشتہ نبھاتا ہے۔

مال و دولت رشتوں سے بڑی نہیں
ڈاکٹر صاحب نے معاشرے کی ایک اہم خرابی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ بعض اوقات انسان کے پاس مال و دولت آجاتی ہے تو وہ اپنے غریب رشتہ داروں کو حقارت کی نظر سے دیکھنے لگتا ہے۔پہلے جو لوگ اس کے برابر بیٹھتے تھے، اب وہ انہیں اپنے معیار سے کم سمجھنے لگتے ہیں۔ بعض لوگ تو اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ اپنے غریب رشتہ داروں کی خوشی اور غمی میں شرکت سے بھی گریز کرتے ہیں کہ کہیں ان کا ’’اسٹیٹس‘‘ متاثر نہ ہو جائے۔ یہ انتہائی غلط سوچ ہے۔

یاد رکھیں!
رزق کی تقسیم اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔آج اگر اللہ نے کسی کو مال دیا ہے تو یہ اس کی اپنی کمالِ ذات نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ اور جس شخص کے پاس آج کم ہے، ضروری نہیں کہ ہمیشہ کم ہی رہے۔ اللہ تعالیٰ جب چاہے، جسے چاہے، اپنے فضل سے نواز دے۔اس لیے مالدار شخص کو چاہیے کہ اپنے غریب رشتہ دار کو حقارت سے نہ دیکھے، بلکہ اسے اپنا سمجھ کر اس کی عزت کرے، اس کی ضرورت پوری کرے اور اس کے ساتھ محبت سے پیش آئے۔

اصل دولت رشتے ہیں
انسان کو یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ دولت، مکان، گاڑی، کاروبار اور عہدہ سب عارضی چیزیں ہیں، لیکن اچھے تعلقات انسان کی زندگی کا بہت بڑا سرمایہ ہیں۔کتنے ہی لوگ دنیا سے چلے گئے، لیکن ان کی محبت آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے، کیونکہ انہوں نے رشتوں کو دولت اور مفاد پر قربان نہیں کیا۔اس کے برعکس بعض لوگ بہت مالدار ہونے کے باوجود اپنے ہی خاندان میں تنہا رہ جاتے ہیں، کیونکہ انہوں نے دولت تو جمع کی، مگر رشتے کھو دیے۔اس لیے مال کو رشتوں کے لیے استعمال کریں، رشتوں کو مال کے لیے استعمال نہ کریں۔

اگر حق مارا گیا ہو تو کیا کریں؟
یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض رشتہ دار واقعی زیادتی کرتے ہیں۔ کسی کا حق مارا جاتا ہے، کاروباری معاملے میں دھوکا دیا جاتا ہے، وراثت میں حق نہیں دیا جاتا یا لین دین میں ہیرا پھیری کی جاتی ہے۔ایسے معاملات میں اسلام ظلم کو پسند نہیں کرتا۔ اپنے حق کے حصول کے لیے جائز طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے، لیکن اپنا حق لینے کی کوشش کو رشتہ توڑنے کا بہانہ نہیں بنانا چاہیے۔پہلے کوشش کی جائے کہ معاملہ محبت، گفتگو، خاندان کے سمجھدار افراد اور حکمت کے ذریعے حل ہو جائے۔اگر پھر بھی معاملہ حل نہ ہو تو انسان کو صبر کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔صبر کا مطلب ظلم کو درست قرار دینا نہیں، بلکہ ظلم کے جواب میں خود ظلم اور قطع رحمی سے بچنا ہے۔اپنا جائز حق مانگتے ہوئے بھی زبان، اخلاق اور تعلق کی حدود کا خیال رکھا جا سکتا ہے۔

قطع رحمی: ایک خطرناک رویہ
اس کے مقابلے میں قطع رحمی ہے، یعنی رشتہ داروں سے بلاوجہ تعلق ختم کر دینا، ان سے بات چیت چھوڑ دینا، ان کی خوشی غمی سے الگ ہو جانا اور صرف ذاتی ناراضی یا دنیاوی اختلاف کی وجہ سے رشتہ توڑ لینا۔یہ رویہ انسان کے لیے بہت بڑے خسارے کا سبب بن سکتا ہے۔کبھی سوچیں کہ جس شخص سے ہم ناراض ہیں، ممکن ہے وہی ہماری زندگی کے کسی مشکل وقت میں ہمارے کام آئے۔ اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہ ہمارا رشتہ دار ہے، اس کا حق صرف اس لیے ختم نہیں ہو جاتا کہ ہمارے درمیان اختلاف ہوگیا ہے۔ایک لمحے کے غصے میں برسوں کے رشتے نہ توڑیں. اکثر خاندانوں میں مسئلہ اتنا بڑا نہیں ہوتا جتنا اسے بنا دیا جاتا ہے۔ایک جملہ، ایک غلط فہمی، ایک معمولی مالی معاملہ یا کسی کی غیر حاضری دل میں اتنی جگہ بنا لیتی ہے کہ انسان برسوں بات نہیں کرتا۔

ذرا رک کر سوچیں:
کیا یہ مسئلہ اتنا بڑا ہے کہ اس کے بدلے بھائی سے تعلق ختم کر دیا جائے؟
کیا ایک غلطی اتنی بڑی ہے کہ بہن سے ہمیشہ کے لیے ناراض ہو جائیں؟
کیا مال و دولت اتنی قیمتی ہے کہ رشتہ داروں کی محبت قربان کردی جائے؟
زندگی بہت مختصر ہے۔ آج ہم ناراض ہیں، کل معلوم نہیں کون اس دنیا میں ہو اور کون نہ ہو۔اس لیے جب تک موقع ہے، رشتے سنبھال لیجیے۔

رحمتِ الٰہی کے مستحق بنیں
رسول اللہ ﷺ نے ہمیں رحم، شفقت اور محبت کا راستہ دکھایا ہے۔ جو انسان دوسروں پر رحم کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کی رحمت کا امیدوار بنتا ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ اللہ ہماری مشکلات آسان کرے، ہمارے گھروں میں برکت دے، ہماری اولاد کو نیک بنائے، ہمارے رزق میں وسعت عطا فرمائے اور ہماری زندگی میں سکون پیدا کرے، تو ہمیں بھی اللہ کے بندوں کے ساتھ رحم، محبت اور حسنِ سلوک کا معاملہ کرنا چاہیے۔خاص طور پر اپنے رشتہ داروں کے ساتھ۔کسی ناراض رشتہ دار کو منانے والا بنیں۔کسی ٹوٹے ہوئے تعلق کو جوڑنے والا بنیں۔کسی غریب رشتہ دار کی عزت بچانے والا بنیں۔کسی پریشان عزیز کا سہارا بنیں۔ ہو سکتا ہے آپ کے لیے یہ صرف ایک معمولی نیکی ہو، لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں یہی عمل آپ کی رحمت، برکت اور کامیابی کا ذریعہ بن جائے۔

پیغام
رشتے ہمیشہ برابر نہیں ہوتے۔ کبھی ایک طرف سے محبت زیادہ ہوتی ہے اور دوسری طرف سے کم، کبھی ایک شخص صبر کرتا ہے اور دوسرا غلطی کرتا ہے۔لیکن مومن کا کمال یہ ہے کہ وہ ہر معاملہ اپنے نفس اور غصے کے حوالے نہیں کرتا، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو سامنے رکھتا ہے۔رشتہ جوڑنے والا بنیں، توڑنے والا نہیں۔معاف کرنے والے بنیں، بدلہ لینے والے نہیں۔محبت پھیلانے والے بنیں، نفرت بڑھانے والے نہیں۔اگر کسی رشتہ دار سے ناراضی ہے تو آج ہی پہل کرلیجیے۔ ایک سلام، ایک فون، ایک ملاقات یا ایک محبت بھرا جملہ شاید برسوں کی دوری ختم کر دے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں صلہ رحمی کی توفیق عطا فرمائے، قطع رحمی سے محفوظ رکھے، ہمارے خاندانوں میں محبت و اخوت پیدا فرمائے اور ہمیں اپنی رحمت کا مستحق بنائے۔
آمین یا رب العالمین۔

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com