ہوم << نادرا دفتر میں عوامی مشکلات اور احساسِ انسانیت – فخرالزمان سرحدی
600x314

نادرا دفتر میں عوامی مشکلات اور احساسِ انسانیت – فخرالزمان سرحدی

انسانی معاشرے کی اصل خوبصورتی اس وقت سامنے آتی ہے جب انسان دوسرے انسان کی مشکلات کو اپنی مشکلات سمجھ کر محسوس کرے۔ کسی ضرورت مند کے لیے آسانی پیدا کرنا، بزرگ شہری کا سہارا بننا، خواتین اور بچوں کی پریشانی کو سمجھنا اور ایک مجبور انسان کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا ہی دراصل احساسِ انسانیت ہے۔ آج نادرا دفتر جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں موجود عوام کی ایک بڑی تعداد دیکھنے کو ملی۔

مختلف عمر، طبقات اور ضرورتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنی شناختی دستاویزات اور دیگر ضروری امور کی تکمیل کے لیے موجود تھے۔ کوئی شناختی کارڈ کے حصول کے لیے آیا تھا، کوئی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کے لیے، کوئی پروف آف لائف سرٹیفکیٹ بنوانے کے لیے اور کوئی کسی دوسری ضروری دستاویز کی تکمیل کے لیے انتظار کر رہا تھا۔عوام کا اتنا بڑا جمِ غفیر اور محدود وسائل میں کام کرنے والے عملے کی مسلسل مصروفیت یقیناً ایک مشکل صورتِ حال ہوتی ہے۔ اس کے باوجود جو اہلکار خندہ پیشانی اور خوش اخلاقی سے شہریوں کی رہنمائی کرتے ہیں، وہ قابلِ ستائش ہیں۔ عوامی خدمت میں صبر، برداشت اور اچھے اخلاق بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ تاہم اس منظر کا دوسرا پہلو بھی ہماری توجہ کا طالب ہے۔ خواتین، معصوم بچوں، بزرگ شہریوں اور پنشنرز کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑے تو یہ ان کے لیے ایک انتہائی مشکل مرحلہ بن جاتا ہے۔ خاص طور پر عمر رسیدہ افراد کے لیے طویل انتظار جسمانی اور ذہنی تھکن کا باعث بنتا ہے۔ خواتین کے لیے بھی گھنٹوں بیٹھے رہنا آسان نہیں، جبکہ چھوٹے بچوں کے ساتھ آنے والے والدین کے لیے انتظار کی یہ کیفیت مزید دشوار ہو جاتی ہے۔

یہاں مقصد کسی فرد یا ادارے پر تنقید کرنا نہیں بلکہ ایک عوامی مسئلے کی طرف توجہ دلانا ہے۔ اگر سسٹم کی فعالیت کو مزید بہتر بنایا جائے، بجلی کے متبادل انتظامات مؤثر کیے جائیں، عملے اور ضروری وسائل میں اضافہ کیا جائے اور شہریوں کے لیے مناسب انتظار گاہوں سمیت بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں تو عوام کی مشکلات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔آج کا دور جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ اگر زیادہ سے زیادہ خدمات کو آن لائن نظام، ٹوکن سسٹم کو مزید بہتر بنایا جائےاور جدید انتظامی طریقۂ کار سے منسلک کیا جائے تو دفاتر میں غیر ضروری رش اور انتظار دونوں کم کیے جا سکتے ہیں۔ اس سے عوام کو سہولت بھی ملے گی اور عملے پر کام کا دباؤ بھی کم ہوگا۔ بالخصوص بزرگ شہریوں، خواتین، بچوں اور خصوصی ضرورت رکھنے والے افراد کے لیے ترجیحی بنیادوں پر سہولیات کا انتظام ہونا چاہیے۔ ایک بزرگ شخص جو اپنی پنشن کے سلسلے میں پروف آف لائف سرٹیفکیٹ بنوانے آیا ہے، اس کے لیے کئی گھنٹے انتظار کرنا یقیناً آسان نہیں۔ ایسے افراد ہمارے معاشرے کی ذمہ داری ہیں، اور ان کے ساتھ خصوصی احترام اور تعاون کا مظاہرہ ہماری اجتماعی اخلاقی ذمہ داری ہے۔

ہمیں یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ نادرا دفتر آنے والا ہر شخص کسی نہ کسی اہم ضرورت کے تحت آتا ہے۔ شناختی کارڈ آج کی زندگی میں محض ایک دستاویز نہیں بلکہ شہری کی شناخت اور اس کے کئی بنیادی حقوق و معاملات سے وابستہ ایک اہم ذریعہ ہے۔ اسی طرح بچوں کی رجسٹریشن ان کے مستقبل کی قانونی شناخت کا حصہ ہے اور پنشنرز کے لیے ضروری تصدیقی مراحل ان کی معاشی زندگی سے جڑے ہوتے ہیں۔ اس لیے عوامی اداروں میں آنے والے شہریوں کے ساتھ حسنِ سلوک محض اخلاقی تقاضا نہیں بلکہ ایک بہترین انتظامی روایت بھی ہے۔ ایک نرم لہجہ، درست رہنمائی اور بروقت تعاون کسی پریشان حال شہری کے لیے بہت بڑی سہولت بن سکتا ہے۔
علامہ محمد اقبالؒ نے انسان کے اندر دردِ دل اور احساس کی اہمیت کو نہایت خوبصورت انداز میں بیان کیا:

دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں

یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان کی عظمت صرف اپنی ذات کی بہتری میں نہیں بلکہ دوسروں کے دکھ کو محسوس کرنے اور ان کے لیے آسانی پیدا کرنے میں بھی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ضلع ہری پور میں نادرا کے عوامی مراکز کو بڑھتی ہوئی آبادی اور عوامی ضروریات کے مطابق مزید وسائل فراہم کیے جائیں۔ عملے کی تعداد، بجلی کے نظام، سسٹم کی رفتار، انتظار گاہوں اور خصوصی افراد کے لیے سہولیات پر توجہ دی جائے۔ اگر انتظامی سطح پر یہ اقدامات کیے جائیں تو عوام کے وقت، توانائی اور ذہنی اذیت میں خاطر خواہ کمی لائی جا سکتی ہے۔یہ حقیقت بھی قابلِ تحسین ہے کہ محدود وسائل کے باوجود بہت سے سرکاری اہلکار اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی حوصلہ افزائی بھی ضروری ہے، کیونکہ ایک اچھا نظام صرف عمارت اور مشینری سے نہیں بلکہ ذمہ دار اور خوش اخلاق انسانی وسائل سے بھی تشکیل پاتا ہے۔

ہمیں بحیثیت معاشرہ یہ عہد کرنا چاہیے کہ جہاں کسی انسان کو ہماری مدد کی ضرورت ہو، وہاں ہم اپنی استطاعت کے مطابق اس کے لیے آسانی پیدا کریں۔ اگر ایک شہری دوسرے شہری کے لیے سہارا بن جائے، ایک اہلکار عوام کے ساتھ احترام سے پیش آئے اور ایک ادارہ اپنے وسائل کو انسان دوست انداز میں استعمال کرے تو معاشرہ یقیناً زیادہ خوبصورت بن سکتا ہے۔احساسِ انسانیت دراصل وہ روشنی ہے جو اداروں سے نکل کر معاشرے کے ہر فرد تک پہنچتی ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم مشکلات کو دیکھنے کے ساتھ ساتھ ان کے حل کی طرف بھی قدم بڑھائیں۔نادرا دفتر میں عوامی مشکلات کا مشاہدہ ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ عوامی خدمت صرف ذمہ داری نہیں، ایک اخلاقی فریضہ بھی ہے؛ اور انسانیت کے لیے آسانی پیدا کرنا معاشرے کی حقیقی خدمت ہے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

فخرالزمان سرحدی

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment