قسط 5
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے مبارک عہد کے واقعات کی تاریخ حضرت ابوذر غفاری کا تذکرہ کیے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔ حضرت ابو ذر غفاری رسول اکرم کے ایک درویش صفت صحابی تھے۔ ابوذر غفاری بڑے نیک نفس اور پاک باطن اتقیا حجاز میں تھے۔دنیا و دولت سے شدید نفرت کرتے تھے۔ابوذر غفاری کا اصل نام جندب بن جنادہ تھا۔ آپ حضرت عثمان علی کے عہد تک زندہ رہے۔
انھوں نے عہد عثمان میں مسلمانوں کے اندر رونما ہونے والی ایک بہت بڑی خرابی کو بروقت اور بجاطور پر محسوس کیا اور اس کے خلاف احتجاج اور حق کی پر زور صدا بلند کی۔ حضرت ابوذر غفاری نے دیکھا کہ مسلمان دولت دنیا کے دلدادہ ہو چکے ہیں۔ دولت کی اس فراوانی نے جو خلیفہ دوم کے عہد سے عربوں کے قدموں پر نثار ہونے لگی تھی۔ عہد عثمان میں لوگوں کے ایک طبقہ کو شان و تجمل کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا دلدادہ بنا دیا، رہنے سہنے کے لیے عالی شان محل بنانا، غلاموں کا ہجوم رکھنا، گھوڑوں کے خیل محض شان و شوکت کے خیال سے پالنا، اُونٹوں، بھیڑوں اور بکریوں کے بڑے بڑے گلے رکھنا، قیمتی اور فاخرہ لباس پہنا اور گھروں میں شاندار ساز و سامان رکھنا وقت کا فیشن بن گیا تھا۔مورخ مسعودی لکھتا ہے کہ حضرت زبیر ایک ہزار غلاموں کے مالک تھے۔ ایک ہزار گھوڑے رکھتے تھے۔ تمام بڑے بڑے شہروں میں ان کے عالی شان محلات تھے۔ عراق کی اراضی کی پیداوار میں انھیں یومیہ ایک ہزار دینار کی آمدنی تھی۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف ایک ہزار اونٹوں، دس ہزار بکریوں، ایک سو گھوڑوں کے مالک تھے۔ وفات پر انھوں نے تین چار لاکھ دینار کا ترکہ چھوڑا ۔ زید کا تر کہ سونے اور چاندی کی سلاخیں اور دس ہزار دینار تھا۔ قریشی سرداروں نے مدینہ مکہ اور مملکت کے دوسرے شہروں میں شان دار محلات بنا لیے تھے۔ مدینہ میں خود حضرت عثمان کا محل بہت شان دار تھا۔
تعارف ابوذر غفاری
ایک روایت کے مطابق نورِ اسلام کی کرنیں مکہ کی وادیوں سے نکل کر قبیلۂ غِفار تک پہنچیں تو آپ رضیَ اللہ تعالی عنہ مکہ پاک حاضر ہوگئے لیکن کسی سے حضورِ اکرم صلَّی اللہُ تعالٰی علیہ وسلّم کے بارے میں پوچھ نہ سکے۔ حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ کَرمَ اللہُ تعالٰی وجہہ الْکریم آپ کو مسافر خیال کرکے گھر لائے (اور مہان نوازی کی)، اگلے دن پھر گھر لائے اور فرمایا:
اس شہر میں آنے کا کیا مقصد ہے؟
آپ نے دل کا حال بیان کیا تو حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ کَرم اللہ وَجہَہ الکریم نے فرمایا۔
”میرے پیچھے چلے آئیے، راستے میں کسی نے دیکھا اور خطرے کی کوئی بات ہوئی تومیں دیوار کی طرف رُخ کرلوں گا جیسے جوتا درست کررہا ہوں اور آپ آگے بڑھ جائیے گا،“
اس طرح آپ رضیَ اللہ تعالٰی عنہ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور اسلامی طریقے کے مطابق رسولُ اللہ صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلم کو سلام پیش کرنے کی سب سے پہلے سعادت پائی، قبولِ اسلام کے بعد کفار و مشرکین کی جانب سے اَذیتیں برداشت کیں۔
(بخاری،ج 2،ص 480، حدیث:3522 ملخصاً، مسلم، ص1030، حدیث: 6359)
ابوذر غفاری کی حالت یہ تھی کہ اپنےاس عقیدےپر سختی سے کار بند رہتے جس کو عوام میں پھیلاتے تھے۔ جب آپ شام گئے تو وہاں دمشق میں امیر معاویہ کا محل تعمیر ہو رہا تھا۔ آپ نے دیکھ کر فرمایا۔
”اگر یہ خدا کے مال سے ہے تو خیانت ہے اگر تیرے مال سے ہے تو اسراف ہے۔“
معاویہ نے منہ پھیر لیا۔ابوذر مسجد منبر چوک چوراہوں پر واعظ و نصیحت کرنے لگے۔ مال و دولت کے جمع کرنے سے ، فضول خرچی کرنے سے روکتے ،خدا سے ڈرنے کی تلقین کرتے ۔زادراہ جمع کرنے سے روکتے تھے۔ معاویہ کو یہ حالت دیکھ کر دامن گیر فکر نے گھیرا۔
ایک دن معاویہ نے 300 دینار ابوذر کے لیے بھیج دیا تو ابوذر نے دینار لانے والے سے کہا:
اگر یہ بیت المال سے میرا اس سال کا حصہ ہے جو اب تک نہیں دیا تھا تو میں اسے رکھ دیتا ہوں لیکن اگر ہدیہ ہے تو اس کی مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے اور اسے واپس کر دیا۔
معاویہ نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر ابوذر کے کاموں سے آگاہ کیا اور عثمان کے جواب ملنے کے بعد معاویہ نے ابوذر کو مدینہ کی جانب روانہ کر دیا۔
ابوذر نے مدینہ میں عثمان سے ملاقات کی لیکن خلیفہ کی طرف سے دیے گئے دینار کو قبول نہیں کیا اور عثمان سے بھی ابوذر برداشت نہ ہوا اور بدترین حالت میں ربذہ کی جانب جلا وطن کر دیا۔ ابوذر اور عثمان کے درمیان گفتگو اور اس کی ربذہ جلاوطنی کی تفصیل بہت سی تاریخی کتابوں میں ذکر ہوئی ہے۔ ابوذر ذی الحجہ سنہ 32 ہجری اور عثمان کے دور خلافت میں ربذہ میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ ابن کثیر لکھتا ہے: وفات کے وقت ان کی بیوی اور بچوں کے علاوہ کوئی ان کے پاس موجود نہ تھا۔خیر الدین زرکلی کہتا ہے۔ابوذر اس حال میں دنیا سے گئے کہ گھر میں انہیں کفن دینے کے لئے کچھ نہ تھامہران بن میمون بیان کرتا ہے۔جو کچھ میں نے ابوذر کے گھر میں دیکھا اس کی قیمت دو درہم سے زیادہ نہ تھی۔ بیان ہوا ہے کہ ابوذر کی بیوی روتے ہوئے کہتی تھیں۔
تم جنگل میں مر جاؤ گے اور میرے پاس تمہیں کفن دینے کے لئے کوئی کپڑا تک نہیں، تو ابوذر کہتے تھے۔ تم رونا مت بلکہ تم خوش رہو کیونکہ ایک دن رسول خدا نے لوگوں کے درمیان جہاں میں بھی موجود تھا، فرمایا :
تم میں سے ایک فرد جنگل میں اس دنیا سے جائے گا اور مومنین کی ایک جماعت اسے دفن کرے گی۔ اور اب وہ تمام لوگ جو میرے اس وقت میرے ہمراہ اس محفل میں تھے وہ شہر میں اور تمام لوگوں کے سامنے اس دنیا سے رخصت ہوئے ہیں اور اس سے معلوم ہوتا ہے جو کچھ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا وہ میرے بارے میں فرمایا ہے۔
پھر اس کے بعد عبداللہ بن مسعود اور اس کے بعض دوسرے ساتھیوں کا وہاں سے گزر ہوا جس میں حجر ، مالک اشتر اور انصار کے بعض دوسرے جوان بھی تھے انہوں نے غسل اور کفن دیا اور عبداللہ بن مسعود نے نماز جنازہ پڑھائی۔ تاریخ یعقوبی کے مطابق جلیل القدر حذیفہ بن یمان بھی تدفین کرنے والوں میں شامل تھے۔ اور مورخین کے مطابق، ابوذر کی قبر ربذہ میں ہے۔ تیسری صدی کے حنبلی عالم حربی نے اپنی کتاب المناسک میں ذکر کیا ہے کہ ربذہ میں ایک مسجد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابوذر کے نام تھی اور کہا گیا ہے کہ ابوذر کی قبر بھی اسی مسجد میں ہے۔
غزوہ تبوک کے موقع پر حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوذر غفاری کو دیکھ کر فرمایا کہ ” ابوذر تنہا چلتا ہے،تنہا مرے گا، تنہا (بروز قیامت) اٹھایا جائے گا۔ “
ایک اور موقع پر فرمایا کہ زمین پر اور اس آسمان کے نیچے ابوذر غفاری سے زیادہ سچا آدمی نہیں ہے۔
ابوذر غفاری اور عبداللہ بن سبا
عبد اللہ بن سبا کے اس قصہ میں جو سب سے زیادہ حیرت انگیز چیز ہے وہ یہ ہے کہ اس نے حضرت ابوذر کو امیر معاویہ کے اس قول پر کہ بیت المال خدا کا مال ہے اعتراض و تنقید کرنے کی تلقین کی اور انھیں سمجھایا کہ صحیح بات یہ ہے کہ امیر معاویہ کو یہ مال مسلمانوں کا مال کہنا چاہئیے۔ اسی تلقین کی روایت کے باعث یہاں تک کہا جانے لگا کہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کا امراء و اغنیاء پر تنقید کرنے کا جو طریقہ تھا اور زروسیم کے ذخیرہ کنندگان کو وہ جو عذاب الیم کی کی بشارت دیتے تھے تھے۔ کہ اُن کی پیشانیاں، پہلو اور پشتیں آگ سے داغی جائیں گی تو انھیں یہ سارا مسلک ابن سبا نے ہی پڑھایا تھا۔ اس سے بڑی زیادتی اور کج روی کیا ہوگی کہ ابن سبا جیسا نووارد مسلمان۔حضرت ابوذر کو تیار کرنا کہ فقراء کے اغنیاء پر بہت سے حقوق ہیں اور ان پر سے یہ بھی سمجھائے کہ زر وسیم جمع کر کے راہ خدا میں خرچ نہ کرنے والوں کے لئے عذاب الیم کی بشارت ہے۔ نیز انھیں یہ بات بھی بتائے کہ غنیمت اور زکوٰۃ یا خراج کا مال جو مسلمان بیت المال میں دخل کرتے ہیں یا ذمی بطور جزیہ یا خراج بیت المال کی نذر کرتے ہیں وہ مال مسلمانوں کا ہے لہذا واجب ہے کہ وہ مال بولنے میں بھی مسلمانوں ہی کیطرف منسوب کیا جائے اور عملاً بھی انہیں پر خرچ کیا جائے ۔
الفرض ابوذر اس سے بالاتر تھے کہ ابن سبا انھیں اسلام کے اولین حقائق و مبادیات کا درس دیتا۔ حالانکہ ابوذر تمام انصار اور بہت سے مہاجرین سے قبل اسلام لائے تھے وہ حضور اکرم کی محبت میں تادیر رہے تھے انھوں نے بطریق احسن قرآن مجید حفظ کیا تھا وہ سنت پر پختگی سے کاربند رہے تھے انھوں نے احوال و حقوق سے متعلق مسلک نبوی اور سیرت ابو بکر و عمر کو بچشم خود دیکھا تھا ۔ وہ اصول حرام و حلال سے اس طرح آ آگاہ تھے جس طرح دوسرے اصحاب رسول آگاہ تھے اور ان پر بطرز حسن عمل پیدا بھی تھے ۔ بہر حال جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ابن سبا نے ابوذر سے مل کر نہیں اپنے بعض خیالات کی تعلیم دی۔ وہ اپنے آپ پر بھی ظلم کرتے ہیں ۔ اورحضرت ابور پر بھی ساتھ ہی وہ ابن سبا کو ایسا بلند مقام بخش رہے ہیں جس تک پہنچنے کا اسے خیال بھی نہ آیا ہو گا۔ حالانکہ یہ وہی ابوذر ہیں جن کے متعلق راویوں کا بیان ہے کہ ایک روز شام سے مدینہ واپس آنے کے بعد وہ حضرت عثمان کے دربار میں کہہ رہے تھے۔ زکوٰۃ دینے والے کو یہ نہیں چاہیے کہ وہ اپنے ذمہ واجب الادا زکوٰۃ ادا کرنے کے بس کر دے۔ اس کا فرض ہے کہ سائلوں کو دے ، بھوکوں کو کھانا کھلائے اور اپنا مال راہ خدا میں خرچ کرتا رہے۔
کعب الاحبار اس وقت موجود تھے ۔ انھوں نے۔کہا جس نے اپنا فریضہ ادا کر دیا، اُس کے لئے اتنا ہی کافی ہے ۔ اس پر ابوذر کو غصہ آگیا اور کب الاحبار سے کہا اے یہودی بچے تمہیں اس معاملہ میں دخل اندازی کرنے کی کیا مجال ہے ، کیا تم ہمہیں ہمارا دین سکھاتے ہو ؟اور ساتھ ہی اُنھیں اپنی لکڑی کی نوک بھی ماری۔ غرض ابوزر وہ شخص ہیں جو کعب الاحبار تک کو دین سیکھانے کی اجازت نہیں دیتے ، حالانکہ کعب الاحبار ابن سبا سے بہت پہلے اسلام لائے تھے اور وہ مدینہ کے پڑوس میں رہتے تھے، جہاں سے صبح و شام اصحاب سول کے پاس آتے رہتے تھے ۔ مزید برآں یہ کہ وہ حضرت عمر اور عثمان کے ساتھ اُٹھتے بیٹھتے رہتے تھے ۔ اندریں حالات یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ابوذر بن سبا سے اسلام کے بنیادی اصول اور احکام قرآنی میں سے کسی حکم کا سبق لینا گوارا کر لیتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی کے لئے یہ کس قدر مقام تعجب ہے کہ وہ ایک صاحب رسول کعب کو تو دین پر بحث بھی نہ کرنے دے اور پھر وہی دین عبداللہ بن سباسے سیکھے۔(الفتنة الكبرى اردو جلد اول )
حضرت ابوذر غفاری اور عثمان غنی و امیر معاویہ کے اختلاف کو بعض لوگوں نے بہت رنگ سے لکھا ہے مگر ایسی کوئی روایت نہیں ہے کہ کسی پر الزام آ سکتا ہو۔
بحری جہاد میں لڑائی سے انکار
31ہجری میں محمد بن ابی بکر اور محمد بن ابی حذیفہ نے عبداللہ بن سعد بن ابی سرح ساتھ لشکر کشی کی تو لیکن لڑنے سے انکار کر دیا ۔طبری کی روایت کے مطابق امام زہری فرماتے ہیں محمد بن ابی حذیفہ اور محمد بن ابی بکر دونوں اس سال منظر عام پر آئے جس سال عبد اللہ بن سعد بحری جنگ کے لئے روانہ ہوئے تھے اور یہ دونوں افراد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عیوب اور ان کی طرف سے حکام کے عزل و نصب پر بر ملا سب و شتم کا اظہار کرتے تھے اور کہتے تھے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے طریقے کی مخالفت کی ہے اس لئے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا خون حلال ہے اور ان کا یہ قول تھا کہ انہوں نے ایک ایسے شخص کو حاکم مقرر کیا ہے جس کے خون کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مباح قرار دیا تھا۔ ( جیسا کہ ہم پچھلی اقساط میں بیان کیا)اور قرآن نے اس کے کفر کا اعلان کیا تھا، نیز رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جماعت کو نکال دیا تھا مگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو واپس بلا لیا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کو نکال دیا، اور انہوں نے سعید بن العاص اور عبد اللہ بن عامر کو حاکم مقرر کیا۔
محمد بن ابی حذیفہ اور محمد بن ابی بکر کا مسلمانوں سے الگ رہنا
جب عبد اللہ بن سعد کو ان لوگوں کی اس قسم کی باتوں کا علم ہوا تو انہوں نے فرمایا تم دونوں ہمارے ساتھ سوار مت ہونا۔(تاریخ طبری جلد سوم ، حصہ اول)
چنانچہ یہ ایسی کشتی میں سوار ہوئے جس میں کوئی مسلمان نہیں تھا جب دشمن کے ساتھ مقابلہ ہوا تو انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ مل کر جنگ نہیں کی۔ جب ان دونوں سے اس بارے میں باز پرس کی گئی تو وہ دونوں بولے، ہم اس شخص کے ساتھ مل کر کیسے جنگ کر سکتے ہیں جو ہمارا حاکم بننے کے قابل نہیں ہے، اور عبد اللہ بن سعد کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حاکم مقرر کیا ہے جنہوں نے ایسے ایسے افعال کا ارتکاب کیا ہے۔
یوں یہ دونوں اشخاص حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر سخت اعتراضات کرتے رہے۔عبداللہ بن سعد انہیں اس بات سے روکتے رہے اور سخت تنبیہ فرمائی اور کہا کہ مجھے نہیں معلوم ہے کہ امیر المؤمنین کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ ورنہ میں تم دونوں کو سخت سزا دیتا۔



تبصرہ لکھیے