اللہ دنیا اور آخرت میں عمر بن الخطاب کا ولی و مددگار ہے۔ ملحدین کا یہ دعویٰ بالکل غلط ، پروپیگنڈا اور غیر معقول ہے کہ حاجیوں میں سے کسی حاجی نے جا کر یہ الفاظ وہاں پر لکھ دیئے .
سعودی ہیرٹیج کمیشن کی جانب سے مدینہ منورہ کے المہد گورنریٹ میں ایک پتھر کی تحریر کی دریافت کی گئی ہے ۔ اس تحریر میں حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا نام درج ہے، جو ان کے خلافت کے دور (634-644 عیسوی) سے تعلق رکھتی ہے اور ابتدائی حجازی خط میں لکھی گئی ہے۔ یہ تحریر علاقائی سروے کے دوران دریافت ہونے والے 1,774 نئے آثار قدیمہ میں سے ایک ہے، جن میں دیگر اسلامی تحریریں اور قدیم شعر بھی شامل ہیں۔یہ دریافت راشدین خلافت کے ابتدائی اسلامی دور کی ٹھوس آثار کی ایک اہم مثال ہے۔ یہ بڑے بولڈر پر کندہ ہے اور سعودی حکام نے جگہ پر ہی اس کا معائنہ کیا اور ریفرنس مارکرز لگائے۔
ابتدائی حجازی خط (Early Hijazi Script) سے مراد وہ قدیم ترین عربی رسم الخط ہے جو اسلام سے پہلے اور ابتدائی اسلامی دور (خصوصاً 7ویں صدی عیسوی) میں حجاز کے علاقے (مکہ، مدینہ اور اس کے آس پاس) میں رائج تھا۔ یہ خط حجاز کے علاقے سے منسوب ہے، اس لیے اسے “حجازی” کہا جاتا ہے۔ یہ نبطی (Nabataean) خط سے نکلا اور عربوں نے اسے اپنایا۔ قرآن مجید کے سب سے قدیم مخطوطات (جیسے Sana’a manuscript) میں یہی خط استعمال ہوا ہے۔ پتھروں، چٹانوں اور ابتدائی دستاویزات پر تحریریں اسی میں ملی ہیں۔ یہ خط حضرت عمر بن الخطاب کے دور (634-644 عیسوی) کی تحریروں میں پایا جاتا ہے، جیسا کہ حالیہ سعودی دریافت میں ہے۔
عین ممکن ہے یہ کلمات خود سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لکھے ہوں ۔ اور عین ممکن ہے یہ کلمات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے کسی بہت قریب ترین ساتھی نے وہاں پر لکھ دیئے ہوں ۔ ملحدین کے ان اعتراضات کی حقیقت جو وہ سوشل میڈیا پر پھیلا رہے ہیں یہ ہے کہ یہ بالکل بے بنیاد اور غیر منطقی ہیں۔ سعودی ہیرٹیج کمیشن (Heritage Commission) نے یہ نقش ایک منظم آثار قدیمہ کے سروے کے دوران دریافت کیا ہے، نہ کہ کوئی اچانک ملنے والا پتھر۔ یہ نقش 1,774 نئے آثار قدیمہ کی دریافتوں میں سے ایک ہے جو المہد گورنریٹ (مدینہ ریجن) کے وسیع علاقے میں کیے گئے سائنسی سروے (phase 1 اور 2) کے دوران دستاویزی شکل میں ریکارڈ کیا گیا۔
اس میں ہزاروں دیگر نقوش (461 اسلامی نقوش، 1,259 rock art، ثمودی نقوش وغیرہ)، قدیم شعر، پرانی عمارتیں، قافلہ راستے اور کنویں شامل ہیں۔ ایک اکیلا یا بہت سے انسان “حاجی” پورے علاقے میں اتنا سب کچھ نہیں بنا سکتے۔
دوسری بات یہ بڑے بولڈر (چٹان) پر کندہ ہے۔ تازہ کندہ کاری (fresh carving) آسانی سے پہچانی جا سکتی ہے. رنگ، گہرائی، کناروں کی تیزیت، patina (وقت کے ساتھ بننے والی تہہ) اور weathering (قدرتی فرسودگی) سے فرق واضح ہوتا ہے۔ قدیم نقوش پر صدیوں کی patina اور erosion ہوتی ہے۔ اس میں چونکہ ابتدائی حجازی رسم الخط (Early Hijazi Script) استعمال ہوا ہے، جو 7ویں صدی کے ابتدائی دور کی خصوصیت ہے۔
اس میں نقطے (dots) اور اعراب (vowel marks) نہیں ہوتے، حروف کی شکل قدیم اور مخصوص ہوتی ہے۔ آج کا کوئی شخص اسے بالکل ویسا نہیں لکھ سکتا جیسا کہ قدیم لوگ لکھتے تھے۔ راک آرٹ اور انسکرپشنز کی ڈیٹنگ میں paleography، patina analysis، contextual dating اور بعض جگہوں پر سائنسی ٹیکنیکس (جیسے varnish dating) استعمال ہوتے ہیں۔ سعودی کمیشن کے ماہرین اسے ابتدائی اسلامی دور (راشدین خلافت) کا قرار دے رہے ہیں۔خلاصہ: ملحدین یا شک کرنے والوں کا یہ اعتراض جذباتی ہے، نہ کہ علمی۔ آثار قدیمہ کے اصولوں کے مطابق یہ ایک مستند دریافت ہے جو صدر اسلام کے مادی شواہد کو مزید مضبوط کرتی ہے۔
اگر بالفرض یہ خط سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے نہ بھی لکھا ہو ان کے دور میں انہی کے کسی ساتھی نے بھی لکھا ہو تو بھی یہ سمجھنا ضروری ہے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت راشدہ میں ان سے والہانہ محبت کی جاتی تھی ۔ اگر ان کا اہل بیت عظام رضوان اللہ علیھم اجمعین سے کوئی جھگڑا ہوتا تو ایسے آثار کبھی نہ ملتے . کیونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے دلوں میں ایسے شخص کی محبت جمع ہو ہی نہیں سکتی ۔ جس کے دل میں اہل بیت عظام کے بارے میں بغض ہو۔ ملحدین نے یہ اعتراض کر کے خود اپنے پیروں پر کلہاڑا مارا ہے ۔کیا وجہ ہے کہ ان کے نزدیک پوری دنیا کے آرکیالوجسٹس کی دریافتوں کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے ۔ چاہے وہ آج کے جدید دور میں بنا دیئے گئے ہوں تاکہ لوگوں کو گمراہ کیا جا سکے ؟
کسی مسلمان آرکیالوجسٹ کا کام ان کے لئے صرف اس لئے قابل اعتراض ہے کیونکہ وہ ایک مسلمان ہے ؟
اس دجل و فریب کی وجہ سے تم لوگ مسلمانوں کے دلوں میں خلفاء راشدین کی محبت نہ نکال سکو گے ۔ یکم محرم الحرام سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا یوم شہادت قریب ہے ۔ اور انہی کے دور کی لکھی گئی تحریر سے ان دنوں میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عدل ، سخاوت ، سیاست و امارت میں مہارت ، محبت و اخوت اور تقویٰ و پرہیزگاری کا ثبوت ملا ہے ، جو ہر اس دل کے لئے قبول کرنا مشکل ہے جو جانتا ہے ۔
عمر رضی اللہ عنہ کے آنے سے کفر پر جو زوال آیا ، کمال آیا ۔



تبصرہ لکھیے