ہوم << برطانیہ اور اسسرائیل کے درمیان نئی سفارتی جنگ۔ فرخ شہزاد
600x314

برطانیہ اور اسسرائیل کے درمیان نئی سفارتی جنگ۔ فرخ شہزاد

ستمبرکی 8 تاریخ کو برطانوی پارلیمنٹ میں برطانوی سیکریٹری خارجہ ملی بینڈ نے اسرائیل پر تجارتی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا گرچہ یہ اعلان اور اس کے عمل درامد میں 8 سے 9 مہینے کا وقت درکار ہے لیکن اس فیصلے نے عالمی سفارتی حلقوں میں ایک ہلچل پیدا کردی ہے۔ ملی بینڈ جوکہ ایک یہود النسل برطانوی شہری ہیں۔ ان کے والدین دوسری جنگ عظیم کے بعد نازی جرمنی میں بچ جانے والوں میں سےہیں۔ اور جو کچھ انہوں نے کہا اس نے دھائیوں پر جاری برطانوی خارجہ پالیسی کو یکسر تبدیل ہونے کا عندیہ دے دیا ہے۔ جوابا اسرائیل نے بھی یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ کو خالی کرنے کا حکم دیا ہے اور ایک قسم کی سفارتی جنگ اسرائیل اور برطانیہ کے درمیان شروع ہو چکی ہے۔

اگرچہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مسئلہ فلسطین کا اصل محرک اور اس کی بنیادی جڑ حکومت برطانیہ ہے جنہوں نے بالفور ڈیکلریشن کے تحت یہودیوں کو یہاں آباد کرنے کا پلان بنایا اس وقت جب فلسطین ترک عثمانی خلافت سے چھین کر برطانوی استعمار کا حصہ بن چکا تھا اور اس کے بعد 1948 میں اقوام متحدہ نے ایک قرارداد کے تحت فلسطین کی تقسیم اور ایک اسرائیلی ریاست کے قیام کا اعلان بھی کیا ۔
لیکن تازہ ترین اس سفارتی جنگ کا اغاز اور اس کے پس منظر کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔تازہ ترین سفارتی جنگ کا اغاز درحقیقت غرب اردن میں یہودیوں قابضین کی پرتشدد کاروائیوں کی وجہ سے عمل میں لائی گئی ہے جس کی وجہ سے برطانیہ میں بالخصوص مگر عمومی طور پر پورے یورپ میں موجود عرب پناہ گزین ہیں۔ برطانوی سیاست کے اندر چونکہ حلقہ جاتی بنیادوں پر میں رکن پارلیمنٹ منتخب ہوتے ہیں اور ہر حلقے کے اندر مسلمان ابادی اور بالخصوص عرب مسلمانوں کی ابادی میں خاطر خواہ اضافہ ہو چکا ہے اور برطانوی ممبران پارلیمنٹ اب اس شدت کو مزید برداشت کرنے کے قابل نہیں رہے ہیں جس کا سامنا عرب پناہ گزینوں کی وجہ سے ان کو کرنا پڑ رہا ہے۔

اس سال ماہ اگست میں غرب اردن کے فلسطینی گاؤں قصرہ میں اس وقت صورتحال زیادہ تشویش ناک ہوئی جب اسرائیلی قابضین نے مقامی باشندوں کے گھروں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی اور انہیں کے گھروں میں محصور کر دیا۔ اسرائیلی اخبارات نے بھی اس بات کو رپورٹ کیا کہ اسرائیلی پولیس اور فوج ان قابضین کو روکنے میں ناکام رہی ہے گرچہ کے وہاں فوجی چیک پوسٹیں موجود تھیں لیکن اس کے باوجود مسلح قابضین ان گھروں کے ارد گرد گھومتے رہے اور گھروں میں موجود فلسطینیوں کو محصور کر کے رکھ دیا اس واقعے نے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں خوب نمایاں جگہ پائی اور امریکی سفیر مائیک حکبی نے بھی ان قابضین کو “دہشت گرد” قرار دیا اسرائیلی اخبار ھارٹیز نے اس واقعے کو تشویش ناک قرار دیا کہ جہاں فلسطینی پولیس اور دیگر فوجی مسلح افراد ان مصلح اباد کاروں یا قابضین کے اگے بے بس نظر ائے اور ان کا یہ کہنا تھا کہ فوج اور پولیس اس لیے ان قابضین کے خلاف کاروائی نہیں کرتی حکومت کی جانب سے ان کی ملازمت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

ان واقعات میں اضافہ اس وقت ہوا جب غزہ میں گزشتہ سال حماس کے ساتھ ایک جنگ بندی کا اعلان کیا گیا اس جنگ بندی کے اعلان کے بعد پہلے ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے دوران اور پھر اس جنگ کے خاتمے کے بعد اسرائیل نے بڑے پیمانے پر اپنے توسیع پسندانہ عزائم کا کھل کر اظہار کیا اور غرب اردن میں فلسطینیوں کے گھروں پر قبضہ شروع کیا اور لبنان میں اپنے در اندازی شروع کی جس کے نتیجے میں کئی دیہاتوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا ۔غزہ کی صورتحال پر عمومی طور پر مغربی دنیا اور یورپ خاموش تماشائی رہے ہیں اور اس کی بنیادی وجہ حماس ہے اور غزہ میں جاری نسل کشی پر بات کرنا مغرب میں حماس کی حمایت سمجھا جاتا ہے اور حماس کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن غرب اردن جہاں حماس کوئی وجود نہیں رکھتی، وہاں پر جاری کاروائیوں نے خاصا اشتعال ان عرب پناہ گزینوں کے اندر پیدا کر دیا ہے جو اس وقت یورپ، برطانیہ میں اور شمالی امریکہ میں موجود ہیں اور وہاں کی حکومتوں پر اس بات پر دباؤ بڑھا رہے ہیں کہ وہ اسرائیل کے خلاف کاروائی کرے اور تازہ ترین برطانوی تجارتی پابندیوں کے پیچھے بھی درحقیقت یہی بے چینی کار فرما ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر (OHCHR) نے جمعرات 15 اگست کو بتایا کہ نابلس کے جنوب میں واقع گاؤں ‘قصرہ’ کے علاقے ‘راس العین’ میں تین فلسطینی خاندان — جن میں کم از کم دو بچوں سمیت کل تقریباً 15 افراد شامل ہیں — “خوف و ہراس کے عالم” میں اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ دفتر نے الزام عائد کیا کہ آباد کاروں نے ان کی بجلی اور پانی کی فراہمی منقطع کر دی ہے۔

اقوام متحدہ کے دفتر نے کہا، “آباد کاروں کے یہ مجرمانہ اقدامات، جنہیں قابض طاقت یعنی اسرائیل کی حمایت یا خاموش رضامندی حاصل ہے، ان فلسطینی خاندانوں کے لیے زندگی کو ناقابلِ برداشت بنا رہے ہیں اور ان کا واضح مقصد انہیں اپنے گھروں اور زمینوں کو چھوڑنے پر مجبور کرنا ہے۔” مزید کہا گیا کہ “ان تینوں خاندانوں کے پاس وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے اس سے پہلے کہ انہیں زبردستی بے گھر کر دیا جائے۔”
OHCHR
(اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر) کے ابتدائی بیان کے بعد، مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اقوام متحدہ کے دفتر کے سربراہ، اجیت سنگھے نے ‘یو این نیوز’ کو بتایا کہ ان خاندانوں کو بعد ازاں ایک ہی گھر میں منتقل کر دیا گیا، جو اب بھی اسرائیلی آباد کاروں کے گھیرے میں ہے۔

مسٹر سنگھے نے کہا، “ایک بار پھر، اسرائیلی ڈیفنس فورسز (IDF) یا تو فلسطینی برادریوں کی حفاظت کرنے سے قاصر ہیں یا ایسا کرنے کی خواہش نہیں رکھتیں—حالانکہ جنیوا کنونشن کے تحت ان سے اس کی توقع کی جاتی ہے—یا اس سے بھی بدتر بات یہ ہے کہ IDF اسرائیلی آباد کاروں کے ساتھ ملی بھگت کر رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینیوں کو بے گھر کرنا اور ان کی زمینوں پر قبضہ کرنا ہے۔”
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ‘قصرہ’ (Qusra) کے تقریباً 20 فلسطینی خاندانوں کو اسرائیلی فوجیوں نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر” وہاں سے منتقل کیا تھا، اور ساتھ ہی مقبوضہ علاقے میں بڑھتی ہوئی خطرناک صورتحال کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی مدد کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے مزید کہا: “ہم بیانات اور بات چیت کا خیرمقدم کرتے ہیں… تاہم، یہ کافی نہیں ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہم ‘بوائلنگ پوائنٹ’ (انتہائی سنگین مرحلے) سے آگے نکل چکے ہیں۔ ہم آباد کاروں کے تشدد کی بے مثال سطح دیکھ رہے ہیں اور ہم رکن ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ کارروائی کریں اور ہر ممکن طریقے سے اپنا اثر ورسوخ استعمال کریں۔”

OHCHR نے نشاندہی کی کہ قصرہ میں مقیم فلسطینی نومبر 2025 سے “مسلسل بڑھتے ہوئے حملوں” کا نشانہ بن رہے ہیں، جب اسرائیلی آباد کاروں نے قریب ہی ایک چوکی (آؤٹ پوسٹ) قائم کی تھی۔
موقع پر موجود اسرائیلی فوج سے فلسطینی خاندانوں کی جانب سے مداخلت کی سابقہ درخواستوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
OHCHR نے کہا، “اس کے برعکس، ایسا لگتا ہے کہ اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے طبی عملے، یکجہتی کے لیے آنے والے کارکنوں اور صحافیوں کو ان خاندانوں تک پہنچنے سے روک دیا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ فوجیوں نے بدھ کے روز آباد کاروں کے خیمے ہٹا دیے تھے، لیکن انہوں نے فلسطینیوں کے گھروں کا محاصرہ جاری رکھا۔
اسرائیلی اخبار ھارٹیز نے 13 اگست کو اپنے ایک مضمون میں تحریر کیا ہے کہ ذرائع کے مطابق، آئی ڈی ایف (IDF) کے کمانڈرز کسی بھی ایسے اقدام سے گریزاں ہیں جسے سیاسی سمجھا جا سکتا ہو، خاص طور پر اسرائیل میں انتخابات سے تین ماہ قبل اور نئے وزیرِ دفاع کی ممکنہ تقرری سے پہلے۔
ذرائع نے ‘ہارٹز’ (Haaretz) کو بتایا کہ ترقی کے خواہشمند بہت سے افسران دائیں بازو کے (قانون شکنی کرنے والے) عناصر کے خلاف فیصلہ کن پیشہ ورانہ کارروائی کرنے سے بچنے کو ترجیح دیتے ہیں، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ ایسا کرنے سے ان کے عسکری کیریئر کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
بدھ کی صبح، آئی ڈی ایف اور بارڈر پولیس کے دستے نابلس کے قریب واقع قصبے ‘قصرہ’ پہنچے تاکہ ایک فلسطینی خاندان کے گھر کے احاطے میں قائم کی گئی ایک چوکی (آؤٹ پوسٹ) کو ہٹایا جا سکے۔ اس کارروائی سے قبل، سینٹرل کمانڈ کے سربراہ بلوتھ (Bluth)، بارڈر پولیس کے کمانڈر اور دیگر اعلیٰ حکام جائے وقوعہ پر پہنچے۔

تاہم، سکیورٹی حکام نے اس دورے کو “عوامی تاثر بہتر بنانے کی ایک ایسی کوشش (PR stunt) قرار دیا جس کا مقصد کنٹرول کا جھوٹا تاثر پیدا کرنا تھا۔”
مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں کو اسرائیلی حکومت کی جانب سے باقاعدہ طور پر ڈرونز کی سہولت اور فنڈنگ فراہم کی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد فلسطینیوں کی زمینوں پر نگرانی رکھنا اور ان کی نقل و حرکت کو محدود کرنا ہے۔ اسرائیل کی وزارت برائے آباد کاری امور نے مغربی کنارے میں موجود اسرائیلی علاقائی کونسلوں کو فنڈز فراہم کیے ہیں تاکہ وہ جدید ڈرونز خرید سکیں۔ ان ڈرونز کو آپریٹ کرنے کے لیے خصوصی گشتی یونٹ قائم کیے گئے ہیں۔ حال ہی میں وادیٔ اردن کے علاقوں میں اسرائیلی وزراء کی موجودگی میں ایک تقریب کے دوران آباد کاروں اور کاشتکاروں میں مزید ڈرونز اور نگرانی کا سامان تقسیم کیا گیا۔
منگل 8 ستمبر تک مقبوضہ غرب اردن میں اس سال ہلاکتوں کی تعداد 100 ہو چکی ہے۔ اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔
چنانچہ اسی تناظر میں برطانیہ کے وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے منگل کے روز ملک کی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ ان اسرائیلی بستیوں سے درآمدات پر پابندی عائد کرے گا جو ایسی زمین پر تعمیر کی گئی ہیں جسے بین الاقوامی سطح پر فلسطینی علاقے کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان اقدامات کے نفاذ میں چھ سے نو ماہ لگنے کی توقع ہے۔
ملی بینڈ نے برطانوی قانون سازوں کو بتایا، “آج میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ برطانوی حکومت کا سرکاری موقف یہ ہے کہ [مغربی کنارے پر] قبضہ غیر قانونی ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اس قبضے کی غیر قانونی حیثیت کا عکس ان معاشی تعلقات میں نظر آنا چاہیے جو ہم مقبوضہ علاقوں کے ساتھ قائم کرتے ہیں۔”
ملی بینڈ نے کہا کہ برطانوی حکومت اس بات سے اتفاق کرتی ہے کہ مغربی کنارے کے علاقوں میں فلسطینیوں کی نسل کشی ہو رہی ہے، “جس کا ارتکاب آباد کار(قابض) دہشت گرد کر رہے ہیں۔”

انہوں نے کہا، ”اکثر و بیشتر اسرائیلی حکومت نے اس معاملے سے چشم پوشی برتی ہے، اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اس کے ارکان نے ایسے بیانات دیے اور اقدامات کیے ہیں جن سے فلسطینیوں کی بے دخلی کی حمایت ہوتی ہے۔“ ”یہ انصاف کی جانب پیش رفت کا نقطۂ آغاز ہونا چاہیے۔“
پابندیوں کے اعلان کے کچھ ہی دیر بعد، اسرائیلی حکومت نے اعلان کیا کہ وہ یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ بند کر دے گی۔
وزیر خارجہ گیڈون سار نے کہا کہ برطانوی حکومت ”منظم طریقے سے ریاستِ اسرائیل کے خلاف کام کر رہی ہے۔“ برطانیہ کے بارہ سیاست دانوں پر بھی اسرائیل میں داخلے کی پابندی عائد کر دی گئی۔
”پابندیوں کے ایک جامع نظام“ کے نفاذ کے ساتھ ساتھ، ملی بینڈ نے کہا کہ برطانوی حکومت ان مخصوص کمپنیوں اور افراد کے خلاف کارروائی کرے گی جو آباد کاروں کی جانب سے رئیل اسٹیٹ کی توسیع کے لیے تعمیرات، بنیادی ڈھانچے یا مالی معاونت جیسی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ برطانیہ بستیوں سے متعلق اشتہارات پر بھی پابندی عائد کرے گا۔
انہوں نے کہا، ”جو لوگ غیر قانونی بستیوں کے لیے مالی معاونت یا سہولت کاری کرتے ہیں، میں ان سے یہ کہنا چاہتا ہوں: آپ کو برطانیہ کی پابندیوں کی پوری شدت کا سامنا کرنا پڑے گا۔“ تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ برطانیہ اسرائیل کے ساتھ تجارت جاری رکھے گا، ”اس لیے کہ ہم دو ریاستی حل کی حمایت کرتے ہیں، جس میں اسرائیل کی سلامتی اور خوشحالی بھی شامل ہے۔“
واشنگٹن میں بھی سیاسی دباؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جس کی تازہ ترین علامت کے امریکی سینیٹ کے پینتالیس (45) ڈیموکریٹ ارکان نے قابض اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کو ایک خط ارسال کیا ہے جس میں ان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ غرب اردن میں یہودی آبادکاروں کی غنڈہ گردی کو روکنے اور سنہ 2022ء سے اب تک یہودی آبادکاروں یا قابض افواج کے ہاتھوں نو امریکی شہریوں کے قتل کی تحقیقات کے لیے فوری اقدامات کریں۔
یہ مکتوب جس کی قیادت سینیٹر ایڈم شف، چک شومر اور کوری بوکر نے کی امریکی سیاست کے اندر اس تشویش کے دائرہ کے پھیلاؤ کی عکاسی کرتا ہے جو غرب اردن میں رونما ہونے والے حالات سے متعلق ہے۔

حماس کے طوفان الاقصی کے بعد سے بین الاقوامی سطح پر تبدیلیاں بڑی تیزی سے رونما ہو رہی ہیں اور اسرائیل کی سیاسی تنہائی میں بہت زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔ مغرب جہاں اسرائیل مشرقِ وسطیٰ میں کبھی ایک اثاثہ تصور کیا جاتا تھا، گزشتہ چند سالوں میں ہی اب ایک بوجھ بنتا جا رہا ہے۔ اٹلی، اسپین اور فرانس کے بعد برطانیہ نے بھی سفارت انداز میں اس کا اعلان کر دیا ہے۔ دیکھیں مغرب کب یہ جان جاتا ہے کہ ہمارا ہی پالا ہوا کتا اب ہمیں ہی بھنبوڑنے لگا ہے۔ جب سائے اپنے وجود سے بڑھنے لگیں تو یہ زوال کی علامت ہوتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

admin

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment