درگزر کرنا، معاف کرنا اللہ کے ہاں انتہائی محبوب و مقبول ہے۔ اللہ عزوجل خود معاف کرنے کو پسند کرتا ہے۔ اس کا جو بندہ اس سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہے، نادم ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو معاف فرماتے ہیں۔
درگزر کرنا، معاف کرنا ایک ایسا عمل ہے، جس سے انسان کا دل صاف ہوتا ہے، آپس میں پیار محبت کا اضافہ ہوتا ہے۔ جو کوئی بدلہ لینے کا دل میں سوچ بھی رہا ہوتا ہے، درگزر کرنے سے وہ یہ عمل نہیں کرسکتا۔ یہی تعلیمات نبی رحمت، شافع محشر، حضور ﷺ نے ہمیں بتلائیں۔ حضور پر نور ﷺ عفو و درگزر کے عظیم پیکر تھے۔ آپ ﷺ اعلیٰ و عمدہ اخلاق کے پیکر تھے، حتیٰ کہ آپ کے مخالفین آپؐ پر ہر قسم کے مظالم کرتے، دکھ دیتے، لیکن جناب نبی کریم ﷺ نے کبھی کسی سے بدلہ نہیں لیا، بلکہ ان کے لیے ہدایت کی دعا کی اور فرمایا کہ میں رحمۃ للعالمین بن کر آیا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر کوئی بھی اس دنیا میں درگزر کرنے والا، معاف کرنے والا نہیں دیکھا۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی: اے میرے رب! تیرے بندوں میں سے کون تیری بارگاہ میں زیادہ عزت والا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: وہ بندہ جو بدلہ لینے پر قادر ہونے کے باوجود معاف کر دے۔ (شعب الایمان)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ پر جو زیادتی بھی کی گئی، میں نے کبھی آپ کو اس زیادتی کا بدلہ لیتے ہوئے نہیں دیکھا، بہ شرطیکہ اللہ کی حدود نہ پامال کی جائیں، اور جب اللہ کی حد پامال کی جاتی تو آپ اس پر سب سے زیادہ غضب فرماتے، اور آپ کو جب بھی دو چیزوں کا اختیار دیا گیا تو آپ ان میں سے آسان کو اختیار فرماتے، بہ شرطیکہ وہ گناہ نہ ہو۔ (جامع الترمذی)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب بھی حضور ﷺ کو دو چیزوں کا اختیار دیا گیا تو آپ ان میں سے آسان کو اختیار فرماتے، بہ شرطیکہ وہ گناہ نہ ہو۔ اگر وہ گناہ ہوتی تو آپ سب سے زیادہ اس سے دور رہتے۔ رسول اکرم ﷺ نے کبھی اپنی ذات کا انتقام نہیں لیا، ہاں اگر اللہ کی حد پامال کی جاتی تو آپ ان کا انتقام لیتے تھے۔ (سنن ابوداؤد)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اکرم ﷺ سے ملا، میں نے ابتداً آپ کا ہاتھ پکڑ لیا اور میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! مجھے فضیلت والے اعمال بتائیے۔ آپ نے فرمایا: اے عقبہ! جو تم سے تعلق توڑے، اس سے تعلق جوڑو، جو تم کو محروم کرے، اس کو عطا کرو، اور جو تم پر ظلم کرے، اس سے اعراض کرو۔ (مسند احمد بن حنبل)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ تاجدار رسالت ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب لوگ حساب کے لیے ٹھہرے ہوں گے تو اس وقت ایک منادی یہ اعلان کرے گا: جس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہے، وہ اٹھے اور جنت میں داخل ہو جائے۔ پھر دوسری بار اعلان کرے گا کہ جس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہے، وہ اٹھے اور جنت میں داخل ہو جائے۔ پوچھا جائے گا کہ وہ کون ہے جس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہے؟ منادی کہے گا: ان کا جو لوگوں (کی خطاؤں) کو معاف کرنے والے ہیں۔ پھر تیسری بار منادی اعلان کرے گا: جس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہے، وہ اٹھے اور جنت میں داخل ہو جائے۔ تو ہزاروں آدمی کھڑے ہوں گے اور بلا حساب جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ (معجم الاوسط، باب الالف، من اسمہ احمد)
حضور نبی کریم ﷺ کے اگلے چار دانت شہید ہو گئے۔ سر مبارک اور چہرہ انور بھی زخمی ہو گیا۔ یہ دیکھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رنج و اضطراب کی حالت میں گزارش کی: یا رسول اللہ ﷺ! کاش آپؐ ان دشمنان دین پر بددعا کرتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں لعنت اور بددعا کے لیے نہیں بھیجا گیا، بلکہ لوگوں کو راہ حق کی طرف بلانے کے لیے بھیجا گیا ہوں۔“
حضور پاک ﷺ کی ہجرت کے بعد مکے میں سخت قحط پڑا۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ قریش چمڑا اور مردار کھانے لگے۔ ابوسفیان کو یہ بات معلوم تھی کہ حضور ﷺ کی دعا قبول ہوتی ہے۔ وہ مدینہ پہنچے اور آپ ﷺ سے ملتجی ہوئے کہ محمد ﷺ! آپؐ کی قوم قحط سے ہلاک ہو رہی ہے، آپ ﷺ ان کے لیے دعا کیجیے۔ اس کے جواب میں آپ ﷺ نے یہ نہیں کہا کہ میں ان لوگوں کے حق میں کیوں دعا کروں جنہوں نے مجھے اور میرے ساتھیوں کو تکلیفیں پہنچائیں اور ہمیں اپنے گھروں سے نکالا؟ بلکہ آپ ﷺ نے فی الفور دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور آپ ﷺ کی یہ دعا قبول ہوئی۔
آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ جو کوئی مجھ پر ظلم کرے، میں اس کو قدرت کے انتقام کے باوجود معاف کردوں۔ جو مجھ سے قطع کرے، میں اس کو ملاؤں، جو مجھے محروم رکھے، میں اس کو عطا کروں، غضب اور خوش نودی دونوں حالت میں حق گوئی کو شیوہ بناؤں۔“
اللہ کے نبی ؐ نے بہت ایذائیں جھیلیں، لیکن سخت ترین دن وہ تھا جب آپ ﷺ تبلیغ اسلام کے لیے طائف گئے۔ وہاں دعوت اسلام کے جواب میں لوگ سخت بد اخلاقی سے پیش آئے اور بازاری لفنگوں، اوباشوں کو آپؐ کے پیچھے لگایا۔ یہ بدمعاش آپؐ پر ٹوٹ پڑے اور ذات اقدس ﷺ پر بے پناہ سنگ باری شروع کر دی۔ آپ ﷺ جدھر کا رخ کرتے، یہ غول آپؐ کا پیچھا کرتا، لیکن جب چاروں طرف سے پتھر برس رہے ہوں تو کہاں تک آپ ﷺ محفوظ رہ سکتے تھے؟ اتنی سنگ باری ہوئی کہ جسم مبارک لہولہان ہو گیا اور نعلین مبارک خون آلود ہو گئے۔ آخر آپؐ نے بڑی مشکل سے ایک باغ میں انگور کی بیلوں میں پناہ لی اور اوباشوں سے پیچھا چھڑایا۔ حضرت زیدؓ نے آپؐ کے جسم کا خون پونچھا۔
نبی رحمت ﷺ نے فرمایا: یہ میرے لیے سخت ترین دن تھا۔ میں باغ سے نکل کر غم زدہ آ رہا تھا کہ اچانک بادل کے ایک ٹکڑے نے میرے اوپر سایہ کر دیا۔ میں نے جب نظر اٹھا کر دیکھا تو جبرئیل علیہ السلام تھے۔ جبرئیل ؑ نے کہا: جو کچھ آپ ﷺ کے ساتھ ہوا ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے دیکھا، اور اگر آپؐ کی مرضی ہو تو طائف کے دونوں پہاڑوں کو ملا کر یہاں کی جملہ آبادی کو تہس نہس کر دیا جائے۔ میں نے کہا: نہیں! میں ان کی ہلاکت و بربادی نہیں چاہتا، بلکہ مجھے خدا کے فضل سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان میں سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو خدائے واحد کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گے۔
عفو و درگزر کا یہی نتیجہ نکلا کہ گیارہ سال بعد یہی طائف والے تھے جو آپ ﷺ کی عداوت سے دست بردار ہو کر آپ ﷺ کے قدموں میں گر پڑے۔
شہر مکہ میں کوئی چیز پیدا نہیں ہوتی تھی، اناج یمامہ سے آتا تھا۔ یمامہ کے حاکم حضرت ثمامہ مسلمان ہو گئے اور انہوں نے مکہ معظمہ کی طرف غلے کی آمد بند کر دی۔ اس بندش سے قریش میں کہرام مچ گیا۔ انہوں نے سخت اضطراب اور بدحواسی کے عالم میں حضور ﷺ سے مدینہ میں رجوع کیا۔ آپ ﷺ نے حضرت ثمامہؓ کے نام پیغام بھیجا کہ اناج کی بندش اٹھا لو۔ چنانچہ اناج مکہ پہنچنے لگا، حالانکہ یہ اہل مکہ وہی تھے جنہوں نے مسلسل تین سال تک آپؐ کے خاندان والوں کا ایسا مقاطعہ کیا تھا کہ اناج کا ایک دانہ تک نہیں پہنچنے دیتے تھے۔ ہاشمی بچے بھوک سے تڑپتے اور بلبلا اٹھتے تھے، لیکن ان ظالموں کے پتھردل کسی طرح نہ پسیجتے تھے، بلکہ یہ گریہ و بکا سن کر رحم کرنے کے بجائے ہنستے اور خوش ہوتے تھے۔ آپ ﷺ نے ان کی یہ سب باتیں بھلا کر ان کے لیے اناج کی بندش ختم کر دی۔ یہ عفو و درگزر کی اعلیٰ مثال ہے، جو ہمیں دنیا کے کسی بھی شخصیت میں نہیں ملتی۔
حضور کریم ﷺ کا یہ جذبہ میدان جنگ میں بھی رہتا تھا۔ بدر کے میدان جنگ میں لڑائی شروع ہونے سے پہلے مشرکین کی فوج کے آدمی اس حوض پر پانی پینے آتے، جو اسلامی لشکر کے قبضے میں تھا۔ مسلمانوں کی فوج نے یہ حوض اپنی ضرورت کے لیے تیار کیا تھا۔ صحابہ کرامؓ نے مشرکین کو پانی پینے سے روکنا چاہا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پانی پینے سے منع نہ کرو، پینے دو۔“
ان چند واقعات سے ہمیں آپ ﷺ کے عفو و درگزر اور دین کے دشمنوں کے ساتھ حسن سلوک کا پتہ چلتا ہے۔ آج بھی اگر ہم نبی ﷺ کے ان اصولوں کو اپنانے کی کوشش کریں تو اس دنیا میں بھی کامیاب ہوں گے اور آخرت میں بھی رب ذوالجلال کے ہاں سرخرو ہوں گے۔



تبصرہ لکھیے