6 ستمبر پاک و ہند کی تاریخ کا ایک ایسا معرکہ ہے جسے امتِ مسلمہ کی مائیں آج بھی گود میں بچوں کو لوری کے طور پر سناتی ہیں، جسے جوان آج بھی گنگناتے ہیں۔ چھ ستمبر برصغیر کی تاریخ کا وہ میلہ ہے، قوموں کا وہ کٹھ ہے۔ چھ ستمبر ہندوستان کے افق پر حق و باطل کی ایک ایسی لڑائی ہے جسے مسلم امہ صدیوں یاد رکھے گی۔
چھ ستمبر دل کی چوکھٹ پہ پہلا وار ہے۔ یہ ہندوستان کے ماتھے پہ پہلی ضرب ہے، جس کے زخم کے رستے ہوئے لہو سے گنگا جمنا آج بھی سرخ ہے۔ یہ وہ درد ہے جس کی کراہیں ہفت اقلیم تک کو کراس کر گئیں۔ انڈیا کی تاریخ کا یہ وہ دکھ ہے جو صدیوں کی مسافت کے بعد بھی مندمل نہ ہوا۔چھ ستمبر مسلم امہ کی فتح کا جنم دن ہے، جب رات کے گھپ اندھیرے میں طاقت کے نشے میں چور، ٹیکنالوجی کے بل بوتے پر دشمن، ناپاک عزائم کے ساتھ سرزمینِ مقدس پہ مسلم قوم کے شیردل جوانوں کے ساتھ نبردآزما ہوا۔چھ ستمبر کا دن ہے، جب بھارت نے مسلم فوج کو للکارا۔ کون جانتا تھا کہ صبح کا سورج اس ملک کے لیے آزمائش کا سبب بنے گا؟ ماؤں کے لال ان سے جدا ہو جائیں گے، بچوں کے سروں سے سائبان اٹھ جائیں گے، عورتوں کے سہاگ اجڑ جائیں گے، لیکن مسلم امہ نے یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک کر دیا، اور آنے والی نسل کے لیے مشعلِ راہ کا سبب بنے۔
6 ستمبر 1965ء کا دن عسکری اعتبار سے تاریخِ عالم میں کبھی نہ بھولنے والا قابلِ فخر دن ہے، جب کئی گنا بڑے ملک نے افرادی تعداد میں کئی گنا زیادہ لشکر اور دفاعی وسائل کے ساتھ اپنے چھوٹے سے پڑوسی ملک پر کسی اعلان کے بغیر رات کے اندھیرے میں فوجی حملہ کر دیا۔ اس چھوٹے مگر غیور اور متحد ملک نے اپنے دشمن کے جنگی حملے کا اس پامردی اور جانثاری سے مقابلہ کیا کہ دشمن کے سارے عزائم خاک میں مل گئے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی اسے شرمندگی اٹھانا پڑی۔ جارحیت کرنے والا وہ بڑا ملک ہندوستان اور غیور و متحد ملک پاکستان ہے۔1965ء کی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والی اس جنگ میں ثابت ہوا کہ جنگیں ریاستی عوام اور فوج متحد ہو کر ہی لڑتی اور جیت سکتی ہیں۔ پاکستانی قوم نے اپنے ملک سے محبت اور مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت اور جانثاری کے جرأت مندانہ جذبے نے مل کر ناممکن کو ممکن بنا کر دکھایا، اور پاکستان پر 1965ء میں ہندوستان کی طرف سے جنگ کا تھوپا جانا پاکستانی قوم کے ریاستی نصب العین، دو قومی نظریہ، قومی اتحاد اور حب الوطنی کو بہت بڑا چیلنج تھا، جسے جری قوم نے کمالِ وقار اور بے مثال جذبۂ حریت سے قبول کیا اور لازوال قربانیوں کی مثال پیش کر کے زندہ قوم ہونے کا ثبوت دیا۔
دورانِ جنگ ہر پاکستانی کو ایک ہی فکر تھی کہ اسے دشمن کا سامنا کرنا اور کامیابی پانا ہے۔ جنگ کے دوران نہ تو جوانوں کی نظریں دشمن کی نفری اور عسکری طاقت پر تھیں اور نہ پاکستانی عوام کا دشمن کو شکست دینے کے سوا کوئی اور مقصد تھا۔ تمام پاکستانی میدانِ جنگ میں کود پڑے تھے۔ اساتذہ، طلبہ، شاعر، ادیب، فنکار، گلوکار، ڈاکٹرز، سول ڈیفنس کے رضاکار، مزدور، کسان اور ذرائع ابلاغ، سب کی ایک ہی دھن اور آواز تھی کہ:
”اے مردِ مجاہد جاگ ذرا، اب وقتِ شہادت ہے آیا۔“
ستمبر 1965ء کی جنگ کا ہمہ پہلو جائزہ لینے سے ایک حقیقی اور گہری خوشی محسوس ہوتی ہے کہ وسائل نہ ہونے کے باوجود اتنے بڑے اور ہر لحاظ سے مضبوط ہندوستان کے مقابلے میں چھوٹے سے پاکستان میں وہ کون سا عنصر اور جذبہ تھا جس نے پوری قوم کو ایک سیسہ پلائی ہوئی ناقابلِ عبور دیوار میں بدل دیا تھا۔
مثلاً ہندوستان اور پاکستان کی مشترکہ سرحد ”رن آف کچھ“ پر طے شدہ قضیے کو ہندوستان نے بلاجواز زندہ کیا۔ فوجی تصادم کے نتیجے میں ہزیمت اٹھائی تو یہ اعلان کر دیا کہ آئندہ ہندوستان پاکستان کے ساتھ جنگ کے لیے اپنی پسند کا محاذ منتخب کرے گا۔ اس کے باوجود پاکستان نے ہندوستان سے ملحقہ سرحدوں پر کوئی جارحانہ اقدام نہیں کیے تھے، صرف اپنی مسلح افواج کو معمول سے زیادہ الرٹ کر رکھا تھا۔یہی وجہ ہے کہ چھ ستمبر کی صبح جب ہندوستان نے حملہ کیا تو آنًا فانًا ساری قوم، فوجی جوان اور افسر، سارے سرکاری ملازمین جاگ کر اپنے اپنے فرائض کی ادائیگی میں مصروف گئے۔ صدرِ مملکت فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے ایمان افروز اور جذبۂ جہاد سے لبریز قوم سے خطاب کی وجہ سے ملک ”اللہ اکبر“، ”پاکستان زندہ باد“ کے نعروں سے گونج اٹھا۔فیلڈ مارشل ایوب خان کے اس جملے،
”پاکستانیو! اٹھو، لا الٰہ الا اللہ کا ورد کرتے ہوئے آگے بڑھو اور دشمن کو بتا دو کہ اس نے کس قوم کو للکارا“،
ان کے اس خطاب نے قوم کے اندر گویا بجلیاں بھر دی تھیں۔
پاکستان آرمی نے ہر محاذ پر دشمن کی جارحیت اور پیش قدمی کو حب الوطنی کے جذبے اور پیشہ ورانہ مہارتوں سے روکا ہی نہیں، انہیں پسپا ہونے پر بھی مجبور کر دیا تھا۔ ہندوستانی فوج کے کمانڈر انچیف نے اپنے ساتھیوں سے کہا تھا کہ وہ لاہور کے جم خانہ میں شام کو شراب کی محفل سجائیں گے۔ ہماری مسلح افواج نے جواب میں کمانڈر انچیف کے منہ پر وہ طمانچے جڑے کہ وہ مرتے دم تک منہ چھپاتا پھرا۔لاہور کے سیکٹر کو میجر عزیز بھٹی جیسے سپوتوں نے سنبھالا، جان دے دی مگر وطن کی زمین پر دشمن کا ناپاک قدم قبول نہ کیا۔ چونڈہ کے سیکٹر پر، جو ہندوستان کا پسندیدہ اور اہم محاذ تھا، پاکستانی فوج کے جوانوں نے اسلحہ و بارود سے نہیں، اپنے جسموں کے ساتھ بم باندھ کر ہندوستانی فوج اور ٹینکوں کا قبرستان بنا دیا۔ہندوستان کی اس سطح پر نقصان اور تباہی کو دیکھ کر بیرونِ ممالک سے آئے ہوئے صحافی بھی حیران اور پریشان ہوئے، پاکستانی مسلح افواج کو دلیری اور شجاعت کی داد دی۔ اس کے علاوہ جسٹر سیکٹر، قصور، کھیم کرن اور مونا باؤ سیکٹرز میں بھی دشمن کو عبرت ناک شکست اس انداز میں ہوئی کہ اسے پکا ہوا کھانا، فوجی ساز و سامان، جیپیں اور جوانوں کی وردیاں چھوڑ کر میدان سے بھاگنا پڑا۔
ستمبر 1965ء میں نیوی کی جنگی سرگرمیاں بھی دیگر دفاعی اداروں کی طرح قابلِ فخر رہیں۔ اعلانِ جنگ ہونے کے ساتھ بحری یونٹس کو متحرک و فنکشنل کر کے اپنے اپنے اہداف کی طرف روانہ کیا گیا۔ کراچی بندرگاہ کے دفاع کے ساتھ ساتھ ساحلی پٹی پر پٹرولنگ شروع کرائی گئی۔پاکستان کے بحری، تجارتی روٹس کی حفاظت بھی پاکستان بحریہ کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ اس لیے سمندری تجارت کو بحال رکھنے کے لیے گہرے سمندروں میں بھی یونٹس بھجوائے گئے۔ یہ امر تسلی بخش ہے کہ پوری جنگ کے دوران پاکستان کا سامانِ تجارت لانے لے جانے والے بحری جہاز بلا روک ٹوک اپنا سفر کرتے رہے۔ اس کے علاوہ ہندوستانی بحریہ کو بندرگاہوں سے باہر تک نہ آنے دیا۔
پاکستان نیوی کی کامیابی کا دوسرا ثبوت یہ ہے کہ ہندوستان کے تجارتی جہاز ”سرسوتی“ اور دیگر تو کتنے عرصہ تک پاکستان میں زیرِ حراست و حفاظت کراچی کی بندرگاہ میں رہے۔7 ستمبر کا دن پاکستان کی فتح اور کامیابیوں کا دن تھا۔ پاکستان نیوی کا بحری بیڑا، جس میں پاکستان کی واحد آبدوز پی این ایس غازی بھی شامل تھی، ہندوستان کے ساحلی مستقر ”دوارکا“ پر حملے کے لیے روانہ ہوئی۔ اس قلعہ پر نصب ریڈار ہمارے پاک فضائیہ کے آپریشنز میں ایک رکاوٹ تھی۔ مذکورہ فلیٹ صرف 20 منٹ تک اس دوارکا پر حملہ آور رہا۔ توپوں کے دھانے کھلے اور چند منٹ میں دوارکا تباہ ہو چکا تھا۔پی این ایس غازی کا خوف ہندوستان کی نیوی پر اس طرح غالب تھا کہ ہندوستانی فلیٹ بندرگاہ سے باہر آنے کی جرأت نہ کر سکا۔ ہندوستانی جہاز ”تلوار“ کو پاکستانی بیڑے کا سراغ لگانے کے لیے بھیجا گیا، مگر وہ بھی ”غازی“ کے خوف سے کسی اور طرف نکل گیا۔
ایئر مارشل اصغر خان اور ایئر مارشل نور خان جیسے قابلِ فخر سپوتوں اور کمانڈروں کی جنگی حکمتِ عملی اور فوجی ضرورتوں کے پیشِ نظر تجویز کردہ نصاب کے مطابق پاک فضائیہ نے اپنے دشمن کے خلاف ”ہوا باز گھوڑوں کو تیار رکھا تھا“، جیسا کہ مسلمانوں کو اپنے دشمن کے خلاف تیار رہنے کا حکم ہے۔یہ ہمارے ہوا باز 7 ستمبر کو اپنے اپنے مجوزہ ہدف کو حاصل کرنے کے لیے دشمن پر جھپٹ پڑے۔ ایک طرف سکوارڈن لیڈر ایم ایم عالم جیسے سپوت نے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں دشمن کے پانچ جہازوں کو مار گرایا، تو دوسری طرف سکوارڈن لیڈر سرفراز رفیقی اور سکوارڈن لیڈر منیر الدین اور علاؤالدین جیسے شہیدوں نے بھی ثابت کر دیا کہ حرمتِ وطن کی خاطر ان کی جانوں کا نذرانہ کوئی مہنگا سودا نہیں۔
پاکستان کے غازی اور مجاہد ہوا بازوں نے ہندوستان کے جنگی ہوائی اڈوں کو اس طرح نقصان پہنچایا کہ ”ہلواڑا“ بنا دیا۔ پاک فضائیہ نے میدانِ جنگ میں اپنی کارکردگی سے ثابت کر دیا۔1965ء کی جنگ کا غیر جانب داری سے اور غیر جذباتی جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ بڑے سرکش اور خونخوار شکار کو پاکستان میں چھوٹے سے جال میں آسانی سے قید کر لیا۔ سب کچھ قائدِاعظم کے بتائے اصول (ایمان، اتحاد، نظم) پر عمل کرنے سے حاصل ہوا۔ کسی بھی زاویۂ نگاہ سے دیکھیں تو یہی اصول 1965ء کی جنگ میں پاکستان کی کامیابی کا مرکز اور محور تھے۔پاکستانی قوم کی طرف سے ملی یکجہتی، نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کی خاطر ہر طرح کا فرق مٹا کر، اختلاف بھلا کر، متحد ہو کر دشمن کو ناکوں چنے چبوانے کا بے مثال عملی مظاہرہ تھا۔
اللہ تعالیٰ ہمارے پیارے ملک عزیز پاکستان کی حفاظت فرمائے اور صبحِ قیامت تک قائم و دائم رکھے، اور تمام شرور، فتنوں اور دشمن کی ناپاک جسارتوں، آفات سے محفوظ رکھے۔ آمین۔



تبصرہ لکھیے