بہاولپور کے حلقہ این اے 168 میں ضمنی انتخاب کی سیاسی بساط ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید دلچسپ ہوتی جا رہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے سمیع اللہ چوہدری اور جماعت اسلامی کے سید ذیشان اختر کو ابتدا میں مضبوط امیدواروں میں شمار کیا جا رہا تھا، تاہم دونوں جماعتوں کے بائیکاٹ کے بعد انتخابی منظرنامہ بڑی حد تک تبدیل ہو چکا ہے۔
سمیع اللہ چوہدری کی جانب سے انتخاب لڑنے کے لیے مسلسل کوششیں بھی سیاسی حلقوں میں زیرِ بحث ہیں، تاہم پارٹی کی جانب سے تاحال انہیں وہ سیاسی سہارا ملتا دکھائی نہیں دے رہا جس کی انہیں ضرورت ہے۔ایسی صورتحال میں ملک منیر اقبال چنڑ اور چوہدری طارق بشیر چیمہ گروپ کے درمیان سیاسی مقابلہ زیادہ نمایاں ہوتا دکھائی دے رہا ہے بظاہر چنڑ گروپ اپنی سیاسی قوت اور مقامی دھڑے بندی کے باعث مضبوط پوزیشن میں ہے، جبکہ طارق بشیر چیمہ گروپ موجودہ حالات اور مخالف سیاسی ووٹ کی ممکنہ تقسیم سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔دوسری جانب چوہدری سعود مجید کے حوالے سے بھی مختلف سیاسی چہ میگوئیاں جاری ہیں۔
بظاہر ان کی سیاسی پوزیشن چنڑ گروپ کے قریب دکھائی دیتی ہے، تاہم سیاسی حلقوں میں یہ بات بھی گردش کر رہی ہے کہ وہ چوہدری سعد کے لیے ٹکٹ کے حصول کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر یہ سیاسی کوششیں نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہیں تو این اے 168 کی انتخابی بساط مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ادھر ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک ظہیر اقبال چنڑ اپنے بھائی ملک منیر اقبال چنڑ کی کامیابی کے لیے بھرپور سیاسی کوششیں کر رہے ہیں، جبکہ چوہدری طارق بشیر چیمہ بھی سیاسی جوڑ توڑ اور ممکنہ سیٹنگ کے لیے سرتوڑ کوششوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔
اصل چیلنج: عوامی غصہ یا سیاسی تنظیم؟
تاہم اس پورے انتخابی معرکے میں سب سے اہم سوال صرف امیدواروں کی سیاسی طاقت کا نہیں بلکہ عوامی ردعمل کا ہے۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار اور ان کے حمایتی حلقے اس مرتبہ جس عوام کا سامنا کرنے جا رہے ہیں، اس کے سامنے بجلی کے بھاری بل، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں، روزمرہ اشیائے ضروریہ کی مہنگائی، مختلف نوعیت کے ٹیکسز اور سرکاری فیسوں کا بوجھ پہلے ہی ایک بڑا سیاسی سوال بن چکا ہے۔ توانائی کے شعبے میں قیمتوں اور بلوں کا دباؤ عوامی بحث کا مستقل موضوع رہا ہے۔اس کے ساتھ پنجاب حکومت کی جانب سے ٹریفک قوانین پر سختی اور بھاری جرمانوں کے حوالے سے بھی شہریوں میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ سرکاری طور پر پنجاب ٹریفک پولیس جرمانوں اور خلاف ورزیوں کی تفصیلات جاری کرتی ہے، تاہم انتخابی سیاست میں اصل سوال یہ ہوگا کہ عام شہری ان اقدامات کو قانون کی عملداری سمجھتا ہے یا اپنی روزمرہ مشکلات میں ایک اضافی مالی بوجھ؟
یہی وہ مقام ہے جہاں این اے 168 کا الیکشن محض امیدواروں کے درمیان مقابلہ نہیں رہتا بلکہ حکومتی کارکردگی اور عوامی موڈ کا ریفرنڈم نما تاثر بھی اختیار کر سکتا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے مقامی امیدواروں کو انتخابی مہم کے دوران ممکنہ طور پر اس سوال کا جواب دینا پڑے گا کہ مہنگائی، بجلی کے بلوں، پٹرول، ٹیکسز اور عوام پر عائد ہونے والے مختلف مالی بوجھ کے بارے میں ان کے پاس عوام کو دینے کے لیے کیا جواب ہے؟ کیا حکومتی اقدامات کے مثبت پہلو اس عوامی ناراضگی کو کم کر سکیں گے یا معاشی دباؤ سیاسی ووٹ پر اثرانداز ہوگا. این اے 168 میں ایک اور حساس سیاسی بحث بھی جاری ہے۔ بعض سیاسی حلقے گزشتہ انتخابی نتائج اور فارم 47 کے حوالے سے سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔ تاہم کسی بھی انتخابی نتیجے کو قبل از وقت کسی مخصوص طریقے سے طے شدہ قرار دینا درست نہیں؛ حتمی فیصلہ انتخابی عمل اور سرکاری نتائج ہی سے ہوگا۔اصل امتحان یہ ہے کہ چنڑ گروپ اپنی قومی اسمبلی کی نشست کا سیاسی دفاع عوامی ووٹ کے ذریعے کر پاتا ہے یا نہیں؟
اور اگر عوام واقعی گزشتہ سیاسی فیصلوں، مہنگائی، بجلی کے بلوں، پٹرول، ٹیکسوں اور سرکاری پالیسیوں سے ناراض ہے تو کیا یہ ناراضگی بیلٹ باکس تک پہنچے گی یا روایتی برادری، دھڑے اور امیدوار کی ذاتی سیاسی ساکھ ایک مرتبہ پھر غالب آ جائے گی؟
طارق بشیر چیمہ کے لیے سنہری موقع یہی وہ سوال ہے جو چوہدری طارق بشیر چیمہ کے سیاسی مستقبل کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔اگر پی ٹی آئی کے ووٹر کا ایک بڑا حصہ انتخابی میدان میں موجود نہ ہوا، جماعت اسلامی کا ووٹ بھی بائیکاٹ کی وجہ سے پولنگ اسٹیشن تک نہ پہنچا اور حکومتی پالیسیوں سے ناراض ووٹر نے اپنا احتجاجی ووٹ کسی متبادل امیدوار کے حق میں استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیا تو سیاسی نقشہ اچانک تبدیل ہو سکتا ہے۔لیکن دوسری طرف اگر چنڑ گروپ اپنی تنظیم، برادریوں، مقامی دھڑوں اور انتخابی مشینری کو مؤثر انداز میں متحرک کرنے میں کامیاب رہا تو عوامی ناراضی بھی اس کی انتخابی پوزیشن کو نقصان پہنچانے میں ناکام ہو سکتی ہے۔ این اے 168 کا اصل معرکہ صرف چنڑ بمقابلہ چیمہ نہیں بلکہ حکومتی کارکردگی بمقابلہ عوامی ردعمل، تنظیمی طاقت بمقابلہ احتجاجی ووٹ اور سیاسی دھڑے بندی بمقابلہ ووٹر کی مرضی کا مقابلہ بنتا جا رہا ہے۔
آخرکار سوال یہی ہے
کیا چنڑ گروپ اپنی قومی اسمبلی کی نشست کا دفاع کر پائے گا؟ کیا چوہدری طارق بشیر چیمہ اس بکھرے ہوئے سیاسی منظرنامے کا بھرپور فائدہ اٹھا سکیں گے؟ یا عوام مہنگائی، بجلی کے بلوں، پٹرول، ٹیکسوں اور سرکاری پالیسیوں کا حساب بیلٹ باکس پر چکانے کا فیصلہ کریں گے؟
بہاولپور کی سیاست میں آخری وقت تک کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔کیونکہ اس بار اصل فیصلہ سیاسی بیٹھکوں میں نہیں، پولنگ اسٹیشن پر ہوگا اور فیصلہ کن کردار آخرکار ووٹر ہی ادا کرے گا۔
طارق بشیر چیمہ سے سوالات
طارق بشیر چیمہ صاحب ایک سینئر اور تجربہ کار سیاستدان ہیں۔ کئی مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں اور آج بھی یزمان سے رکنِ قومی اسمبلی ہیں۔2005میں آپ بہاولپور کے ضلع ناظم بھی رہے۔۔مشرف دور میں۔لیکن میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ جب بھی ووٹ لینے کا وقت آتا ہے تو انہیں بہاولپور صوبہ بحالی کیوں یاد آ جاتی ہے؟
میرا سوال صرف اتنا ہے کہ جب آپ اقتدار میں ہوتے ہیں، اسمبلی میں ہوتے ہیں، قیادت اور اختیار آپ کے پاس ہوتا ہے، اُس وقت بہاولپور صوبے کی بات کیوں نہیں کی جاتی؟
جب حکومت ختم ہو جائے اور اقتدار ہاتھ سے نکل جائے، اُس کے بعد صوبہ بحالی کی تحریک کیوں یاد آتی ہے؟
اسی طرح پرویز مشرف کے دور میں سینئر سیاستدان محمد علی درانی وفاقی وزیرِ اطلاعات رہے۔ اُس وقت بھی ان کے پاس اہم حکومتی عہدہ اور اختیار تھا، لیکن وزیرِ اطلاعات ہوتے ہوئے انہوں نے بہاولپور صوبے کی بحالی کے لیے وہ آواز نہیں اٹھائی جو بعد میں حکومتی عہدے سے الگ ہونے کے بعد سنائی دی۔ میرا سوال یہ ہے کہ جب اختیار اور موقع آپ کے پاس تھا، اُس وقت بہاولپور صوبہ کیوں یاد نہیں آیا؟ بعد میں تحریک چلانے سے کیا فائدہ؟
ہم بھی چاہتے ہیں کہ بہاولپور صوبہ بحال ہونا چاہیے، لیکن ہماری رائے اور سیاسی سوچ اس معاملے میں کچھ مختلف ہے۔ ہم صرف بہاولپور صوبے کے نعرے کی بنیاد پر ووٹ دینے کے قائل نہیں۔طارق بشیر چیمہ صاحب یقیناً ایک سینئر سیاستدان ہیں اور سیاست کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن آخرکار ہر امیدوار کو عوام سے ووٹ ہی لینا ہوتا ہے۔ میری رائے میں بہاولپور صوبے کے نام کو صرف انتخابی سیاست کے لیے استعمال کرنا مناسب نہیں۔



تبصرہ لکھیے