ہوم << چراغِ رحمت ﷺ اور محبتِ مصطفیٰ ﷺ – طارق بلوچ صحرائی
600x314

چراغِ رحمت ﷺ اور محبتِ مصطفیٰ ﷺ – طارق بلوچ صحرائی

صدیوں پہلے عرب کے صحرا میں ایک مقدس چراغ جلا تھا تو دنیا بھر کے خوش نصیب پروانے اس کے گرد منڈلانے لگے اور اپنی جانیں نچھاور کرنے لگے۔ وہ ایسا چراغ تھا جس سے ساری کائنات بقعۂ نور بن گئی، فضا خوشبوؤں سے بھر گئی اور فلک دھنک رنگوں سے سج گیا۔ ساری انسانیت اس محسنِ انسانیت کے چراغ کی احسان مند اور شکر گزار ہے، جس نے انہیں اندھیروں سے نکالا، زیست اور حاصلِ زیست کا راز عطا فرمایا اور مخلوق کو خالقِ کائنات سے ملا دیا۔

روایت ہے کہ اللہ نے اپنے نور سے ایک نور پیدا کیا، جسے روحانیت میں نورالمروارید کہتے ہیں۔ اس نور سے رحمتُ للعالمین ﷺ کی تخلیق کی، پھر اس نورالمروارید کے قلبی حصے سے ایک اور نور پیدا کیا، جسے نورالہدیٰ کہتے ہیں۔ جب نورالمروارید سے نورالہدیٰ کو پیدا کیا تو نورالمروارید شرم و حیا کے پردے میں چلا گیا، جس کے نتیجے میں محبت پیدا ہوئی۔ اس محبت نے پھر تمام چیزوں کو جنم دیا۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ کائنات آپ ﷺ کی محبت کے نتیجے میں پیدا ہوئی، اسی لیے آپ سرکارِ دو عالم ﷺ کو وجہِ تخلیقِ کائنات کہتے ہیں۔میں نے ایک دن اپنے استادِ محترم، بابا عرفان الحق سے پوچھا تھا:
“بابا جی! کملی والے ﷺ کیسے ملتے ہیں؟”
استادِ محترم مسکرائے اور بولے:
“اس کا بھی ایک کوڈ ہے۔ کملی والے ﷺ کس کو ملے؟ سرکار ﷺ حضرت عبداللہ کو ملے، سرکار ﷺ حضرت آمنہ کو ملے۔ عبداللہ کا مطلب ہوتا ہے اللہ کا بندہ، اور آمنہ سے مراد امن دینے والی ہستی۔ عبداللہ یعنی اللہ کے بندے بن جاؤ، محمد ﷺ مل جائیں گے۔ آمنہ یعنی امن دینے والے بن جاؤ، محمد ﷺ مل جائیں گے۔”

آپ کہیں سے بھی آئیں، کوئی راستہ یا کوئی بھی ذریعہ استعمال کریں، رب بندے کو کملی والے ﷺ کے بغیر قبول نہیں کرتا۔ اس کائنات کا پہلا سچ اللہ، رب العالمین، اور دوسرا سچ رحمتُ للعالمین ﷺ ہیں۔ رب تک پہنچنے کا سب سے محفوظ راستہ سنتِ نبوی ﷺ ہے۔ مصورِ کائنات نے بھی ایک تصویر بنائی تھی، پھر اس کو اپنی بنائی ہوئی تصویر اتنی پسند آئی، اتنی محبوب لگی کہ اس نے اپنی اس تخلیق کو کائنات کی گیلری میں سجایا، پھر خود ہی درود و سلام اور رحمت کے انمول سکے دے کر خود ہی خرید لیا۔ پھر اس تخلیق سے محبت کرنے والا ہر شخص اس کے لیے معزز ٹھہرا، اور اس تخلیق سے عشق کرنے والا دنیا و آخرت کی تمام نعمتوں کا حقدار قرار پایا۔

ابوجہل ہار گیا۔ ابوجہل پیدا ہی ہارنے کے لیے ہوا تھا۔ ابوجہل کے پیروکار پہلے آخرت ہارتے ہیں اور پھر دنیا بھی ہار جاتے ہیں۔