ہوم << معاہدہ اور دھوکا – محمد شفیق اعوان
600x314

معاہدہ اور دھوکا – محمد شفیق اعوان

انسانی معاشرہ اعتماد، وعدے، قول و قرار اور باہمی ذمہ داریوں کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ اگر انسان ایک دوسرے کی بات، وعدے اور معاہدے پر اعتبار نہ کریں تو زندگی کا کاروبار چند لمحوں میں بداعتمادی کی ایسی دُھند میں گُم ہو جائے جس میں نہ تجارت باقی رہے، نہ تعلقات، نہ سیاست اور نہ اجتماعی زندگی کا کوئی معتبر اصول۔ معاہدہ دراصل دو یا دو سے زیادہ فریقوں کے درمیان اعتماد کو تحریری یا زبانی شکل دینے کا نام ہے؛ جب کہ دھوکا اسی اعتماد کے قتل کا دوسرا نام ہے۔

اردو لغت میں ’’عہد‘‘ کے معنی قول و قرار، وعدہ، باہمی اقرار اور معاہدے کے بھی آتے ہیں۔معاہدہ صرف کاغذ کے چند صفحات پر لکھی ہوئی عبارت نہیں ہوتا، بلکہ یہ انسان کے کردار، دیانت اور ذمہ داری کا امتحان بھی ہوتا ہے۔ کاغذ پر دستخط کرنا آسان ہے، مگر اس دستخط کی لاج رکھنا اصل امتحان ہے۔ آج ہمارے معاشرے میں المیہ یہ ہے کہ بعض لوگ معاہدہ کرتے وقت فرشتے بن جاتے ہیں اور معاہدے کی سیاہی خشک ہوتے ہی شیطان کے وکیل بن بیٹھتے ہیں۔ وعدہ کرتے وقت زبان پر شہد ہوتا ہے اور وعدہ پورا کرنے کا وقت آئے تو حافظہ ایسا کمزور پڑتا ہے جیسے وعدہ کیا ہی کسی اور نے تھا۔دنیا کے تمام مہذب معاشروں میں معاہدے کو بنیادی اہمیت حاصل رہی ہے۔ دو افراد کاروبار کرتے ہیں تو معاہدہ کرتے ہیں، دو ادارے باہمی تعاون کے لیے معاہدہ کرتے ہیں، ریاستیں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے معاہدے کرتی ہیں اور خاندان بھی بعض اوقات اپنے معاملات طے کرنے کے لیے تحریری اقرار و قرار کا سہارا لیتے ہیں۔

معاہدے کی اصل روح اعتماد ہے۔ اگر اعتماد موجود نہ ہو تو بہترین کاغذ، مضبوط ترین مہر اور بڑے سے بڑا دستخط بھی بے معنی ہو جاتا ہے۔ ایک دیانت دار شخص کے لیے معمولی سا وعدہ بھی کافی ہے، جب کہ بددیانت شخص کے لیے سو صفحات کا معاہدہ بھی کم پڑ جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللّٰہ اور اس کے رسول حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے عہد و پیمان کی پاس داری کو اخلاقی زندگی کا بنیادی اصول قرار دیا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:

ترجمہ: ”مال یتیم کے پاس نہ پھٹکو مگر احسن طریقے سے، یہاں تک کہ وہ اپنے شباب کو پہنچ جائے ۔ عہد کی پابندی کرو، بے شک عہد کے بارے میں تم کو جواب دہی کرنی ہو گی ۔ پیمانے سے دو تو پورا بھر کر دو، اور تولو تو ٹھیک ترازو سے تولو ۔یہ اچھا طریقہ ہے اور بالحاظ انجام بھی یہی بہتر ہے ۔ “سورۃ الاسراء ( بنی اسرائیل) آیت34، 35
ترجمہ قرآن مجید مع مختصر حواشی از مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی، ادارہ ترجمان القرآن پرائیویٹ لمیٹڈ لاہور اشاعت مارچ 1998ء ، صفحہ 731

یہ مختصر مگر جامع حکم انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ وعدہ محض زبان سے نکلنے والا جملہ نہیں؛ اس کے بارے میں ایک دن جواب دہی بھی ہوگی۔معاہدہ اس وقت دھوکے میں بدل جاتا ہے جب کوئی فریق جان بوجھ کر اپنے وعدے سے پھر جائے، حقیقت چھپائے، غلط معلومات دے، شرائط کو اپنے مفاد کے مطابق توڑ مروڑ دے یا دوسرے فریق کو اعتماد میں لے کر اس کے اعتماد ہی کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرے۔دھوکے کی سب سے خطرناک صورت وہ ہے جس میں دھوکا دینے والا خود کو مظلوم اور دوسرے کو قصوروار ثابت کرنے لگتا ہے۔ ایسے لوگ اپنی بے وفائی کے لیے بھی دلیل تلاش کر لیتے ہیں۔ اگر معاہدہ توڑ دیں تو کہتے ہیں: ’’حالات بدل گئے تھے۔‘‘ اگر وعدہ پورا نہ کریں تو فرماتے ہیں: ’’میرا مطلب وہ نہیں تھا۔‘‘ اور اگر پکڑے جائیں تو کہتے ہیں: ’’آپ نے میری بات کا مطلب غلط سمجھا۔‘‘
گویا قصور بھی دھوکے باز کا نہیں، متاثر ہونے والے کی عقل کا ہوتا ہے!

دھوکا چالاکی نہیں، کردار کی شکست ہے۔ہمارے معاشرے میں ایک عجیب بیماری پھیل رہی ہے۔ جھوٹ بولنے والے کو ’’ذہین‘‘، چال چلنے والے کو ’’چالاک‘‘، وعدہ توڑنے والے کو ’’عملی انسان‘‘ اور دوسروں کو بے وقوف بنانے والے کو ’’دنیا دار‘‘ کہا جاتا ہے۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ دھوکا ذہانت نہیں، کردار کی کمزوری ہے۔چالاکی اگر حق و انصاف کے تابع ہو تو تدبیر ہے؛ لیکن اگر کسی کے حق کو مارنے، اعتماد کو توڑنے اور اپنے مفاد کے لیے جھوٹ کا سہارا لینے لگے تو وہ چالاکی نہیں، بددیانتی ہے۔کچھ لوگ معاہدہ اس لیے کرتے ہیں کہ سامنے والے کو مطمئن کریں، اور کچھ اس لیے کہ سامنے والے کو بے وقوف بنانے کا قانونی راستہ پیدا ہو جائے۔ ایسے لوگوں کے پاس معاہدے کی کاپی بھی ہوتی ہے اور اس سے بچ نکلنے کی سو تدبیریں بھی۔ ان کے نزدیک معاہدہ ذمہ داری نہیں، فرار کا نقشہ ہوتا ہے۔

تجارت میں اعتماد کی بڑی اہمیت ہے۔ ایک تاجر اگر اپنے خریدار کو ناقص مال دے کر عمدہ مال کا یقین دلائے یعنی ملاوٹ کریں، وزن میں کمی کرے، نقائص چھپائے یا قیمت کے معاملے میں غلط بیانی کرے تو وہ صرف ایک گاہک کو نہیں دھوکا دیتا بلکہ پورے تجارتی نظام کے اعتماد کو نقصان پہنچاتا ہے۔اسی طرح کاروباری شراکت میں اگر کوئی شریک حساب کتاب چھپائے، منافع میں خیانت کرے یا معاہدے کی شرائط کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرے تو اس کا نقصان صرف رقم تک محدود نہیں رہتا؛ دوستی، رشتہ داری اور اعتماد بھی خاک میں مل جاتے ہیں۔افسوس کہ بعض اوقات ہم معاہدہ پڑھنے سے زیادہ اس بات کی فکر کرتے ہیں کہ گواہ کون ہے، دستخط کہاں کرنے ہیں اور اسٹامپ پیپر کتنا بڑا ہے۔ شرائط پڑھنے کا مرحلہ آئے تو فرمایا جاتا ہے:
’’بس آپ اپنے ہیں، آپ پر اعتماد ہے۔‘‘
پھر جب اختلاف پیدا ہوتا ہے تو وہی ’’اپنے‘‘ عدالت کے دروازے پر ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں۔

سیاست میں معاہدوں اور وعدوں کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ حکومتیں عوام سے وعدے کرتی ہیں، سیاسی جماعتیں منشور پیش کرتی ہیں، ادارے ایک دوسرے سے معاہدے کرتے ہیں اور ریاستیں بین الاقوامی سطح پر عہد و پیمان کرتی ہیں۔ اگر وعدہ محض اقتدار حاصل کرنے کا ذریعہ بن جائے اور اقتدار ملتے ہی وعدہ بھلا دیا جائے تو سیاست خدمت کے بجائے فریب کا فن بن جاتی ہے۔انتخابات کے زمانے میں وعدوں کی بہار آتی ہے۔ ہر طرف سڑکیں، اسپتال، اسکول، روزگار، خوش حالی اور انقلاب کے سبز باغ دکھائی دیتے ہیں۔ عوام بھی سوچتے ہیں کہ اب شاید واقعی قسمت جاگنے والی ہے۔ لیکن اقتدار کی کرسی پر بیٹھتے ہی وعدوں کی فائل کسی ایسی الماری میں چلی جاتی ہے جس کی چابی شاید قیامت کے دن ملے گی۔یہاں اکبر الہ آبادی کا طنزیہ مزاج یاد آتا ہے۔ ان کے ہاں وعدے، وفا اور معاشرتی تضادات پر گہری نظر ملتی ہے۔ ان کا یہ شعر اسی انسانی رویے پر خوب چوٹ کرتا ہے:

؎ہم نے بے انتہا وفا کر کے
بے وفاؤں سے انتقام لیا
(اکبر الہ آبادی، کلیاتِ اکبر الہ آبادی)

اکبر کا کمال یہی ہے کہ وہ ایک ہلکے سے طنزیہ مصرع میں معاشرتی المیہ بیان کر دیتے ہیں۔ وفا بھی ایسی کہ انتقام کا ذریعہ بن جائے اور بے وفائی بھی ایسی کہ آدمی اسے زندگی کا معمول سمجھ بیٹھے۔علامہ اقبالؒ کے ہاں بھی قوموں کی زندگی میں کردار، عمل، صداقت اور وفا کو بنیادی مقام حاصل ہے۔ اقبالؒ کے نزدیک محض دعوے، الفاظ اور نعروں سے کوئی قوم زندہ نہیں رہ سکتی۔ قول کی صداقت کا اصل ثبوت عمل ہے۔اقبال کے ابتدائی اور متروک کلام میں ایک نہایت بامعنی شعر ملتا ہے:

؎میں نخل ہوں وفا کا، محبت ہے پھل مرا
اس قول پر ہے شاہدِ عادل، عمل مرا

( علامہ محمد اقبال، کلیاتِ باقیاتِ اقبال، نظم/کلامِ متروکہ، ماخذ: بیاضِ اقبال؛ International Iqbal Society کے مرتبہ متن میں درج۔)
یہ شعر ہمارے موضوع کے عین مرکز میں آتا ہے۔ اقبال نے وفا کو محض دعویٰ نہیں بنایا بلکہ اس کی گواہی عمل کو قرار دیا۔ یعنی آدمی یہ نہ کہے کہ ’’میں وفادار ہوں‘‘ بلکہ اس کا کردار خود گواہی دے کہ وہ وفادار ہے۔

اقبالؒ کے اسی تصوّر کی ایک وسیع تر صورت ان کے کلام میں بار بار سامنے آتی ہے۔ ان کے ہاں فرد کی عظمت اس کے کردار، خودی، عزم اور عمل سے پیدا ہوتی ہے۔ وہ محض الفاظ کی دنیا کے شاعر نہیں، ان کا پیغام عمل اور کردار کی تعمیر کا پیغام ہے۔عہد توڑنے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان دوسرے کی نظر میں اپنا اعتبار کھو دیتا ہے۔ دولت دوبارہ کمائی جا سکتی ہے، مکان دوبارہ بنایا جا سکتا ہے، کاروبار دوبارہ قائم کیا جا سکتا ہے؛ مگر اعتماد کا ٹوٹا ہوا شیشہ آسانی سے دوبارہ صاف نہیں ہوتا۔ایک بار کسی شخص کے بارے میں یہ مشہور ہو جائے کہ وہ وعدہ پورا نہیں کرتا تو آئندہ اس کی زبان سے نکلنے والے سچے الفاظ بھی شک کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔دھوکا دینے والا بظاہر دوسرے کو نقصان پہنچاتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ اپنے کردار کو مجروح کرتا ہے۔ وہ شاید ایک معاملے میں فائدہ حاصل کر لے، مگر اپنی ساکھ، اعتبار اور اخلاقی قوت کھو دیتا ہے۔اسی لیے کہا جا سکتا ہے کہ دھوکا وقتی فائدے کی وہ قیمت ہے جو انسان اپنی مستقل عزت دے کر ادا کرتا ہے۔

معاہدے میں احتیاط بھی ضروری ہے۔ وفاداری کا مطلب یہ نہیں کہ انسان آنکھیں بند کرکے ہر کاغذ پر دستخط کر دے۔ معاہدہ کرتے وقت شرائط کو سمجھنا، قانونی تقاضوں کو دیکھنا، حقوق و فرائض واضح کرنا اور ممکنہ اختلافات کے حل کا طریقہ طے کرنا بھی ضروری ہے۔ بعض لوگ دھوکا کھانے کے بعد کہتے ہیں: ’’ہم نے تو اعتماد کیا تھا۔‘‘ اعتماد اچھی چیز ہے، مگر اعتماد کے ساتھ عقل بھی اللّٰہ نے عطا کی ہے۔ ہر کاغذ پر دستخط کرنے سےپہلے اسے پڑھ لینا بدگمانی نہیں، احتیاط ہے۔ ہر وعدے پر آنکھ بند کرکے یقین کر لینا سادگی ہے؛ اور ہر شخص کو بددیانت سمجھنا بھی دانش مندی نہیں۔ اصل توازن یہ ہے کہ دل میں حسنِ ظن ہو، مگر معاملات میں وضاحت ہو؛ زبان پر محبت ہو، مگر معاہدے میں شرائط صاف ہوں؛ اور اعتماد ہو تو اس کے ساتھ ذمہ داری بھی ہو۔ہماری دنیا میں دھوکے کی بھی عجیب عجیب قسمیں ہیں۔ کوئی وزن، ناپ، شمار کرنے میں دھوکا دیتا ہے، کوئی بات میں؛ کوئی قیمت میں دھوکا دیتا ہے، کوئی محبت میں؛ کوئی کاروبار میں دھوکا دیتا ہے، کوئی سیاست میں۔

کسی نے قرض لیا تو کہا: ’’بس اگلے ہفتے واپس کر دوں گا۔‘‘
اگلا ہفتہ آیا تو فون بند۔ مہینہ آیا تو نمبر تبدیل۔ سال آیا تو صاحب حج پر روانہ ہو گئے! قرض خواہ نے پوچھا:
’’میرا پیسہ؟‘‘ جواب آیا: ’’دعا کریں، اللّٰہ بہتر کرے گا۔‘‘
بعض لوگ قرض واپس نہ کرنے کو بھی روحانی مسئلہ بنا دیتے ہیں۔ مطالبہ کرو تو کہتے ہیں:
’’بھائی! دنیا فانی ہے، مال و دولت سب یہیں رہ جانا ہے۔‘‘ قرض خواہ دل میں سوچتا ہے:
’’مال تو یہیں رہ جائے گا، مگر میرا پیسہ آپ کے پاس کیوں رہ جائے؟‘‘

یہی وہ مقام ہے جہاں طنز مسکرانے کے بجائے رونے لگتا ہے۔سچا اور پختہ معاہدہ معاشرے کو مضبوط کرتا ہے۔ اگر لوگ اپنے وعدوں کی پاس داری کریں، کاروباری معاملات میں دیانت اختیار کریں، حکومتیں اپنے وعدوں کو ذمہ داری سمجھیں، ادارے اپنے معاہدوں کی پابندی کریں اور افراد ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں تو معاشرے میں اعتماد پیدا ہوتا ہے۔اعتماد سے تجارت بڑھتی ہے، تعلقات مضبوط ہوتے ہیں، عدالتوں کا بوجھ کم ہوتا ہے اور اجتماعی زندگی میں سکون پیدا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس دھوکا، جھوٹ اور بدعہدی معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتے ہیں۔وہ بھی کوئی معاہدہ ہے جو جونک کا کردار ہو،جیسا کہ مالکانِ بجلی کارخانوں کے ساتھ حکومت کا نام نہاد معاہدہ،کہ کارخانوں سے بجلی وصول نہ ہونے کے باوجود رقم کی ادائیگی ۔ معاہدہ تو یہ تھا کہ جتنے یونٹ بجلی دیں گے، اس کی قیمت ادا کی جائے گی۔ لیکن یہاں تو الٹی گنگا بہ رہی ہے ۔

معاہدے کی اصل طاقت مہر، دستخط اور قانونی شقوں میں نہیں بلکہ کردار میں ہوتی ہے۔ ایک باکردار انسان کا وعدہ معاہدے سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے، جبکہ بے کردار انسان کا معاہدہ بھی کمزور ہوتا ہے۔معاہدہ دراصل دو فریقوں کے درمیان اعتماد کی امانت ہے اور دھوکا اس امانت میں خیانت۔ جو شخص معاہدے کی پابندی کرتا ہے وہ صرف ایک قانونی ذمہ داری پوری نہیں کرتا بلکہ اپنے کردار کی حفاظت کرتا ہے۔ جو شخص دھوکا دیتا ہے وہ صرف دوسرے کا حق نہیں مارتا بلکہ اپنے اعتبار، عزت اور انسانیت کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔زندگی کے ہر شعبے میں ہمیں یہ اصول پیش نظر رکھنا چاہیے کہ وعدہ وہی کرو جسے نبھانے کا حوصلہ ہو، معاہدہ وہی کرو جس کی شرائط پوری کرنے کا ارادہ ہو، اور اگر کسی وعدے یا معاہدے کو پورا کرنا ممکن نہ رہے تو صاف گوئی سے بات کرو، فریب سے راستہ نہ نکالو۔اور معاہدے کو سیدھے طریقے سے ختم کر دو۔ اقبالؒ کے الفاظ میں وفا کی اصل گواہی قول نہیں بلکہ عمل ہے:

؎ میں نخل ہوں وفا کا، محبت ہے پھل مرا
اس قول پر ہے شاہدِ عادل، عمل مرا

اور یہی اس پورے مضمون کا حاصل بھی ہے: معاہدہ کاغذ پر لکھا جاتا ہے، مگر وفا انسان کے کردار میں لکھی جاتی ہے؛ دھوکا زبان سے پیدا ہوتا ہے، مگر اس کے داغ کردار پر رہ جاتے ہیں۔پس ہمیں ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہوگا جہاں معاہدے صرف دستخطوں سے نہیں، کردار سے محفوظ ہوں؛ وعدے صرف تقریروں میں نہیں، عمل میں زندہ ہوں؛ اور انسان دوسرے انسان کو دھوکا دینے سے پہلے یہ سوچے کہ وہ وقتی فائدے کے بدلے اپنی مستقل عزت کا سودا کر رہا ہے۔کیونکہ آخرکار معاہدے کی سیاہی مٹ سکتی ہے، مگر کردار کی تحریر وقت کے کاغذ پر بہت دیر تک باقی رہتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

محمد شفیق اعوان

محمد شفیق اعوان ،ناظم امن لاٸبریری ،محلہ منشیاں ،گاٶں و ڈاک خانہ شمس آباد ،تحصيل حضرو ،ضلع أٹک پوسٹ کوڈ 43490 موبائل نمبر 03085040024

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment