ہوم << امید ہے مٹی کو بڑی میرے ہنر سے – عبیدالرحمن
600x314

امید ہے مٹی کو بڑی میرے ہنر سے – عبیدالرحمن

فرد قائم ربطِ ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں

جس روز سے اس قطعہ ارض کو پاکستان کا نام ملا ہے , اس کی تقدیر ہمارے ہاتھوں سے وابستہ ہو چکی ہے ۔ ہم اچھے ، تو پاکستان اچھا ۔ ہم برے ، تو پاکستان برا ۔ ہم کامیاب تو پاکستان کامیاب ۔ ہم ناکام تو پاکستان ناکام ۔ اگر ہم آ گے بڑھتے ہیں تو یہ سرزمین بھی ترقی کرے گی ۔ اور اگر ہم پیچھے ہٹتے ہیں تو پاکستان بھی پیچھے چلا جائے گا ۔ اور اگر خدانخواستہ ،ہم ہمت ہار کر بیٹھ جاتے ہیں تو اس پاک سرزمین کا وجود بھی خطرے میں پڑ جائے گا ۔ الغرض ہم پاکستان سے ہیں اور پاکستان ہم سے ہے ۔ ہم ہیں تو پاکستان ہے ۔ پاکستان ہے تو ہم ہیں ۔ ہماری عزت ، پاکستان کی عزت اور ہمارا مقدر ، پاکستان کا مقدر ہے ۔

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

آج وطن عزیز گوناگوں مسائل کا شکار ہے ۔ قوم کی اخلاقیات تباہ ہو چکی ہیں ۔ ہمتیں پست , سوچیں سطحی اور جذبے ماند پڑ چکے ہیں ۔ معیشت ، حالت نزاع میں ہے ۔ سیاست ، بے یقینی کا شکار ہے ۔ بدعنوانی اور لاقانونیت، ہماری طبیعتِ ثانیہ بن چکی ہے ۔ قومی اتفاق و اتحاد ، پارہ پارہ ہونے کو ہے ۔ ہم باہم ایک دوسرے کو ہی، زیر و زبر کرنے پر تُلے ہیں ۔ ہر کوئی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں جُتا ہے ۔ نہ نگاہ بلند ، نہ سخن دل نواز ، نہ جاں پر سوز ، نہ یقیں محکم ، نہ عمل پیہم ، نہ محبت ، نہ صداقت ، نہ شرافت ، نہ عدالت، نہ خودی، نہ خدا ، الغرض ہم اقبال کے ہر پیغام کو فراموش کر چکے ہیں ۔

وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

میرے عزیز ہم وطنو !
مگر اقبال کی مانند یہ مٹی بھی ہم سے نا امید نہیں ۔ اسے ہماری صلاحیتوں پر پورا بھروسا ہے ۔ یہ اب بھی ہمارے ہنر سے آس لگائے بیٹھی ہے ۔ اسے یقین ہے کہ ایک دن ضرور ، ہم دوبارہ اٹھیں گے ۔ سستی اور بےعملی کو خیر آباد کہیں گے ۔ ایک پرچم تلے اکٹھے ہونگے ۔ قومی ترجیحات کے سامنے ذاتی اغراض کو روند ڈالیں گے ۔ ملکی مفاد کو ، ہر صورت مقدم رکھیں گے ۔ محنت ،ہمارا ہتھیار ہو گی ۔ اخوت ،ہماری پہچاں ہونگی ۔ محبت ،ہماری زباں ہوگی ۔ ہم یقیں کی دولت سے مالا مال ہونگے ۔ وطن کی محبت میں سرشار ہونگے ۔ ایمان اتحاد اور تنظیم ہمارے اصول ہونگے ۔ اور ہم اقبال کے ان اشعار کی عملی تصویر ہونگے ۔

تو رازِ کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جا
خودی کا رازداں ہو جا خدا کا ترجماں ہو جا

ہوس نے کردیا ٹکڑے ٹکڑے نوعِ انساں کو
اخوت کا بیاں ہو جا محبت کی زباں ہو جا

خودی میں ڈوب جا غافل یہ سرِّ زندگانی ہے
نکل کر حلقہ شام و سحر سے جاوداں ہو جا

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment