تعلیمی عمل 3 چیزوں کا مجموعہ ہے:
نصابی سرگرمیاں، ہم نصابی اور غیر نصابی سرگرمیاں.
یہ سب مل کر ہولِسٹِک کریکلَم (Holistic Curriculum) بناتی ہیں۔ آسان لفظوں میں بتاؤں تو نصابیاں سرگرمیاں کتابوں سے متعلق ہوتی ہیں. یہ بچے کو علم، فکر، سمجھ بُوجھ دیتی ہیں۔ ہم نصابی سرگرمیاں بزمِ ادب سے متعلق ہوتی ہیں، یہ بچے میں تخلیقیت، ابلاغ، اعتماد اور اظہار پیدا کرتی ہیں. اور غیر نصابی سرگرمیاں کھیل کے میدان اور دیگر جگہوں (sites) پر منعقد ہوتی ہیں۔ جیسے میوزیم، تاریخی جگہ، قدرتی ماحول یا مظاہرہ، سائسنی میلہ وغیرہ۔ یہ بچے کی جسمانی و دماغی نشوونما میں معاون ہوتی ہیں۔
ہمارا نظامِ تعلیم چونکہ زوال کا شکار ہے تو وہ صرف اور صرف بچے کو مارکس دلوانے پہ فوکس کرتا ہے۔ ہم والدین اِس نظام کا شکوہ تو کرتے ہیں مگر خود اپنے بچوں کو اِسی نظام کا حصہ بنائے ہوئے ہیں۔ بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ ہمارے بچے نے 1200 میں سے 1150 مارکس لیے۔ مگر کیا اُس بچے نے پچھلے 10 سال میں کبھی ہم نصابی و غیرنصابی میں حصہ لیا؟ کیا اُس کی شخصیت کی مکمل نشوونما ہو رہی ہے؟ کیا وہ ایک متوازن زندگی گزار پا رہا ہے؟ ہم یہ نہیں سوچتے۔
الحمدللّٰہ، میں اپنے بچوں کی تربیت اِسی ہولِسٹک (holistic) پَیٹرن پر کر رہا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ میرے دونوں بیٹے تینوں قسم کی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیتے ہیں۔ زیرِ نظر تصویر میرے بڑے بیٹے کی ہے جس نے ہر قسم کی سرگرمیوں میں انعامات جیتے۔ ماشاءاللہ۔ 5-6 ٹرافیز میں سے صرف 2 باقی بچی ہیں باقی گھر شِفٹ کرتے ہوئے ٹوٹ گئی تھیں۔ اسی طرح میڈلز بھی 20+ تھے جو اَب صرف 10 رہ گئے ہیں۔ بطور ہولِسٹِک ایجُوکیٹر والدین کو آگاہی دینا ہے کہ وہ بھی اپنے بچوں کی ڈویلپمنٹ اسی انداز میں کریں۔اللہ ہمارے بچوں کو دو جہاں کی کامیابیاں عطا فرمائے۔ آمین



تبصرہ لکھیے