ہوم << نبی کریمﷺکی ہجرت مدینہ – مولانا قاری محمد سلمان عثمانی
600x314

نبی کریمﷺکی ہجرت مدینہ – مولانا قاری محمد سلمان عثمانی

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرینِ مکہ کو خوشی کی نوید سنا دی کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری دعائیں قبول کر لیں۔ اب تم ایسی جگہ پر اپنا مسکن کرنے والے ہو جہاں کے باسی تمہاری آمد کی خبر سنتے ہی اپنی راہوں کو مزین کرنے میں لگ گئے ہیں۔ وہ تم سے ملنے کے لیے بے قرار ہیں، ان کی نظریں پتھرا چکی ہیں تمہاری راہ دیکھتے دیکھتے۔ جہاں تم امن، چین اور سکون کی زندگی بسر کرو گے۔

مشکلات، دکھ درد اور بھوک کی اذیتیں برداشت کرتے کرتے ان کے صبر کی انتہا ہو چکی تھی۔ نویدِ سحر، خوشی کی لہر کی طرح اپنے وجود کو مزید اپنے انصار بھائیوں سے دوری برداشت کرنے سے قاصر تھی۔ بس حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نگاہیں جھکی تھیں کہ کب فیصلہ ہو جائے اور حکم کی تعمیل میں کہیں ہم سے تاخیر نہ ہو جائے۔ اچانک مکہ مکرمہ کی گلیوں میں ’’ہجرت، ہجرت‘‘ کی صدائیں گونجنے لگیں۔ حجش کی گلیاں سنسان ہونے لگیں۔ آج خون کے رشتوں سے پیارے دینی بھائیوں کی دوری کو سہنا برداشت سے باہر تھا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے حضرت عامرؓ بن ربیعہ الغزی، ان کی زوجہ لیلیٰ رضی اللہ عنہا بنت ابی حشمہ، حضرت عمارؓ بن یاسر اور دیگر کا قافلہ اپنے بھائیوں کی پکار پر لبیک کی صدائیں بلند کیے، حضور ﷺ کے حکم کی تعمیل کو بے سروسامان، فدائے اسلام رواں دواں تھا۔ ادھر انصار صبحِ صادق سے لے کر رات کے پچھلے پہر تک ان کی آمد کے منتظر تھے کہ کب یہ انتظار کی گھڑی ختم ہوگی اور دوریاں قربتوں میں تبدیل ہوں گی۔

حضور ﷺ نے ہجرت کے روحانی منظر کا واضح مفہوم ان لفظوں میں بیان فرما دیا کہ تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور آدمی کو اس کی نیت ہی کے مطابق اجر ملتا ہے۔ تو جس شخص نے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی، یعنی اللہ اور رسول ﷺ کی رضا جوئی اور اطاعت کے سوا ہجرت کا اور کوئی باعث نہیں تھا، تو اس کی ہجرت درحقیقت اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہی کی طرف ہوئی۔ جو کسی دنیاوی فائدے کے لیے عورت سے نکاح کرنے کی خاطر مہاجر بنا تو (اس کی ہجرت اللہ اور رسول ﷺ کے لیے نہ ہوگی)۔ فی الواقع جس دوسری غرض کی نیت سے اس نے ہجرت اختیار کی، تو اللہ کے نزدیک بس اسی کی ہجرت مانی جائے گی۔
(اربعینِ امام نووی)

نقل مکانی یا ہجرت کرنا ایک فطری عمل ہے، لیکن یہ ہجرت کسی مقصد کی بنیاد پر عمل میں آئی ہے، یہ بات زیرِ بحث ہے کہ آیا ہجرت کرنے والا اس خطے، علاقے یا جگہ پر غیر محفوظ ہے، یا معاشی پریشانی لاحق ہے، یا اقلیت کی وجہ سے ظلم و ستم سے نجات چاہتا ہے، یا وہاں مہلک مرض سے جان ضائع ہونے کا ڈر ہے، یا ہجرت کی دوسری صورت حدیثِ بالا میں واضح بیان کر دی گئی۔کیونکہ انسانوں کی تخلیق سے لے کر اکیسویں صدی تک کے سفر میں انسان خانہ بدوش ہی رہا ہے۔ اس نے جہاں سہولتیں، آسائشیں اور وسائل دیکھے، وہیں کا رخ کر لیا۔ یہ بھی تاریخ کا ایک تلخ مشاہدہ رہا ہے کہ یہ ہجرتیں کہیں انسان کے لیے مفید رہیں تو کہیں انہی انسانوں کے نقل مکانی کرنے سے جنگوں نے جنم لیا، نسلوں کی نسلیں ان کی ہٹ دھرمی میں بہہ گئیں۔

اللہ تعالیٰ نے رہتی دنیا تک کے تمام انسانوں کی کامل رہنمائی کے لیے اپنے آخری نبی، حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو اس دنیا میں مبعوث فرمایا۔ اُس وقت ہر طرف کفر اور جہالت کے اندھیرے چھائے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ نے نہایت جانفشانی سے لوگوں کو رب العالمین کی توحید اور اپنی رسالت کی طرف بلایا۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے تو ایک ہی آواز پر لبیک کہہ دیا، جبکہ کچھ لوگ حضور ﷺ کے جانی دشمن بن گئے۔حضور ﷺ نے اپنی حیاتِ طیبہ کے 53 سال مکہ مکرمہ میں اور 10 سال مدینہ منورہ میں گزارے۔ آپ ﷺ کو اسلام کی دعوت و تبلیغ سے روکنے کے لیے آپ کے وطنِ عزیز مکہ مکرمہ میں بہت ستایا گیا۔ حتیٰ کہ آپ کے نرم و نازک بدن کو پتھروں کا نشانہ بنا کر لہولہان کیا گیا، آپ کو قید و بند کی صعوبتیں دی گئیں، حتیٰ کہ آپ کے جسمِ اطہر سے اتنا خون نکلا کہ آپ کے نعلینِ مبارک خون کی وجہ سے پاؤں میں جم گئے۔

آپ ﷺ خود فرماتے ہیں:
’’مجھ سے پہلے جتنے انبیائے کرام علیہم السلام گزرے ہیں، انہوں نے راہِ خدا میں جتنی تکلیفیں اور مصیبتیں برداشت کیں، ان سے کئی گنا زیادہ میں نے تنہا برداشت کی ہیں۔‘‘(بخاری)

گویا حضور ﷺ کو ہر موڑ اور ہر محاذ پر ستایا گیا۔ کفار و مشرکین آپ کو ہر قسم کی تکلیف دیتے رہے، جن پر آپ ﷺ صبر و تحمل کا مظاہرہ فرماتے رہے۔ لیکن جب کفارِ مکہ آپ کو دعوتِ اسلام سے روکنے میں ناکام ثابت ہوئے اور ایمان و اسلام کا دائرۂ کار زیادہ وسیع ہونے لگا تو سردارانِ کفار نے آپ ﷺ کے خلاف قتل کی سازش تیار کرنے کے لیے ایک اجلاس رکھا، جس میں آپ ﷺ کے قتل کی گھناؤنی سازش تیار کی گئی۔جب ظلم تجاوز کر چکا تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے حضرت جبرئیل علیہ السلام اللہ کا حکم لے کر حاضر ہوئے اور اس طرح آپ ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا ارادہ فرمایا۔حضور ﷺ اور آپ کے جانثار ساتھیوں کی مدینہ منورہ کی طرف ہجرت سے اسلام پر بہت سے نتائج و اثرات مرتب ہوئے۔ مدینہ منورہ میں حضور ﷺ کی تشریف آوری سے شہر کا ماحول ہی بدل گیا، مگر آپ ﷺ کے تشریف لانے سے صرف اس کا نام ہی تبدیل نہیں ہوا بلکہ آب و ہوا بھی خوشگوار ہو گئی، مزاج بدل گئے، جانی دشمن باہم شیر و شکر ہو گئے، امن، سلامتی اور پیار پھیل گیا، ہر طرف نور ہی نور پھیل گیا۔

مہاجرین جب مکہ مکرمہ سے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنے اہل و عیال، خویش و اقارب اور گھر بار چھوڑ کر مدینہ منورہ پہنچے تو نبی کریم ﷺ نے دنیائے کائنات میں محبت و مؤدت کی دعوت کو عام کیا۔مشرکینِ مکہ کا ظلم و ستم بڑھا تو اہلِ ایمان بارگاہِ رسالت سے اجازت پا کر مکہ سے مدینہ منورہ ہجرت کر گئے۔ پھر جب کفار نے غلبۂ اسلام سے خوف زدہ ہو کر حضور ﷺ کے قتل کا ناپاک منصوبہ بنایا تو اللہ کے حکم سے سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے ساتھ ہجرت فرمائی۔کفار کا سخت پہرا تھا۔ آپ ﷺ حضرت سیدنا علیؓ کو اپنے بستر پر لٹا کر سورۂ یٰسین کی آیات تلاوت کرتے ہوئے اُن کفار کے سروں پر مٹی ڈالتے ہوئے کاشانۂ اقدس سے نکل گئے۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو ساتھ لیا اور مکہ مکرمہ کی دائیں جانب، بعض روایات کے مطابق تین میل پر واقع غارِ ثور میں قیام فرمایا۔(سیرت ابن ہشام، ص 193)

راستے میں سیدنا صدیقِ اکبرؓ بھی حضور ﷺ کے دائیں، بائیں اور کبھی آگے، پیچھے چلتے کہ کہیں کوئی گھات لگانے والا نقصان نہ پہنچا دے۔ چلتے ہوئے جب پاؤں مبارک پتھر چبھنے لگے تو سیدنا صدیقِ اکبرؓ نے آپ ﷺ کو کندھوں پر اٹھا لیا اور غار تک لے گئے۔ پہلے خود داخل ہوئے اور غار کی صفائی کی، تاکہ کوئی موذی جانور تکلیف نہ پہنچائے۔غارِ ثور میں حضرت سیدنا عبداللہ بن ابوبکرؓ، حضرت سیدہ اسماءؓ اور حضرت سیدنا عامر بن فہیرہؓ خبریں پہنچانے، کھانا کھلانے اور دودھ پلانے کی خدمت بجا لاتے رہے۔(سیرت ابن ہشام، ص 194)

کفار آپ ﷺ کی تلاش میں غارِ ثور پر بھی پہنچے، مگر اللہ کریم نے محفوظ رکھا، جس کا بیان سورۂ توبہ میں ہے:
ترجمہ: ’’بیشک اللہ نے ان کی مدد فرمائی جب کافروں کی شرارت سے انہیں باہر تشریف لے جانا ہوا، صرف دو جان سے، جب وہ دونوں غار میں تھے، جب اپنے یار سے فرماتے تھے: غم نہ کھا، بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ تو اللہ نے اس پر اپنا سکینہ (اطمینان) اتارا۔‘‘(پ10، التوبہ: 40)

غارِ ثور میں تین دن قیام کے بعد مدینہ روانہ ہوئے۔ سفرِ ہجرت میں سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی ایڑی پر سانپ نے ڈس لیا تو لعابِ دہن لگانے سے آرام آگیا، دو کبوتروں نے گھونسلا بنا لیا اور مکڑی نے جالا تن دیا۔ سراقہ بن مالک، جو بعد میں اسلام لے آئے تھے، گرفتار کرنے آئے تو انہیں زمین نے پکڑ لیا، اور امِ معبد کی لاغر بکری کو مبارک ہاتھ لگائے تو اس بکری نے اتنا دودھ دیا کہ سارے برتن دودھ سے بھر گئے۔(السیرۃ النبویہ، ج 1، ص 386 تا 399)

پھر قباء میں پہنچے اور حضرت کلثومؓ کے یہاں چند دن قیام فرمایا۔(السیرۃ الحلبیہ، ج 2، ص 72)
اسی دوران مسجدِ قبا تعمیر فرمائی، جس کی شان و عظمت پر سورۂ توبہ کی آیت 108 ہے۔ قبیلہ بنو سالم میں پہلا جمعہ ادا فرمایا۔(فتاویٰ رضویہ، ج 8، ص 313)

جب آپ ﷺ مدینہ منورہ سے کچھ دور پہنچے اور اہلِ مدینہ کو خبر ہوئی تو اہلِ مدینہ روزانہ راستوں پر بیٹھ کر تاجدارِ مدینہ ﷺ کا انتظار کیا کرتے تھے۔ جب آپ ﷺ نے سرزمینِ مدینہ کو شرفِ قدم بوسی بخشا تو اہلِ مدینہ دیکھتے ہی پکار اٹھے اور اہلِ مدینہ کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی۔ وہ خوش تھے اور کہنے لگے:
’’رسولِ کریم حضرت محمد ﷺ ہمارے پاس تشریف لے آئے۔‘‘

عورتوں، بچوں اور کنیزوں نے یوں نعت پڑھی:
یعنی وداع کی گھاٹیوں سے ہم پر چاند طلوع کر آیا،دعا کرنے والے جب تک دعا کریں، ہم پر شکر واجب ہے۔(سبل الہدیٰ والرشاد، ج 3، ص 271)

نیز مرد و عورتیں چھتوں پر چڑھ گئے، جبکہ بچے اور غلام گلیوں میں یوں نعرے لگانے لگے:
صلی اللہ علیہ وسلم، صلی اللہ علیہ وسلم، صلی اللہ علیہ وسلم

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

مولانا قاری محمد سلمان عثمانی

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment