17 ویں صدی عیسوی میں برطانوی فلسفی جان لاک نے ایک مقالہ میں تحریر کیا تھا :
’’ ریاستیں صرف سرحدوں سے نہیں بلکہ عوام کے اعتماد، قانون کی بالادستی اور انصاف سے ناقابل تسخیربنتی ہیں‘‘۔
جان لاک کی موت کے تقریباً تین صدی بعد، 14 اگست 1947 کو پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک آزاد ریاست کے طور پر معرض وجود میں آیا۔
یہ صرف جغرافیائی تبدیلی نہیں بلکہ برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد، اجتماعی دعاؤں اورشاعر مشرق علامہ اقبال کے خواب کی تعبیر، ایک اسلامی ریاست کی صورت میں ملی تھی۔یہ لاکھوں انسانوں کی قربانیوں، سیاسی جدوجہد کا قدرت کی جانب سے ایک انعام تھاجس میں انصاف، مساوات، امن اور انسانی وقار کو بنیادی اہمیت حاصل ہو۔ آج، جب پاکستان اپنی آزادی کے 79 برس مکمل کر رہا ہے، تو یہ دن محض جشن آزادی منانے کا نہیں بلکہ قومی احتساب کا تقاضا بھی کرتا ہے۔ ایک آزاد مملکت کے قیام کے لیے ہم نےکن مشکلات کا سامنا کیا، آزادی ملنے کے بعد سے اب تک ہم کس دور سے گزر رہے ہیں اور مستقبل میں ہمیں کن راہوں کا تعین کرنا ہے۔ 79 برس، آٹھ عشروں پر محیط ایک طویل عرصہ ہوتا ہے۔اس دوران دنیا میں بے شمارانقلابات رونما ہوئے جو عالمی تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ کے لیے رقم ہوگئے ہیں۔
کئی ممالک جنگوں، سیاسی و معاشی بحران اور جغرافیائی تبدیلیوں سے گزر کر مضبوط ریاست بنے یا ٹکڑوں میں تقسیم ہوگئے۔ روس جیسی دنیا کی نمبر 2 عالمی طاقت، یوگو سلواکیہ اور چیکو سلواکیہ جیسےاشتراکی ممالک قصہ پارینہ بن گئے اور ان کے حصے بخرے کرکے نئی ریاستیں اور مملکتیں وجود میں لائی گئیں۔ مشرقی اور مغربی جرمنی کو تقسیم کرنے والی دیوار برلن 9 نومبر 1989 کو منہدم کردی گئی اور جرمنی دوبارہ متحدہ مملکت کی صورت میں فیڈرل ری پبلک جرمنی بن گیا۔ پاکستان اپنے قیام کے صرف 24 سال بعد شکست و ریخت کا شکار ہوکر اپنے ایک حصے سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ وہ حصہ آج بنگلہ دیش کی صورت میں دنیا کے نقشے پر موجود ہے۔ ہم نے لاکھوں انسانوں کی قربانی دے کر دو قومی نظریہ کی بنیاد پر ایک آزاد وطن حاصل کیا تھا لیکن آزادی کی ہم نے قدر نہیں کی ۔ ملک کے پہلے وزیر اعظم شہید ملت لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد ایوان اقتدار میں ہونے والی اکھاڑ پچھاڑ نے ملک میں جمہوری عمل کو تہہ و بالا کردیا۔
اس کا آغاز1951ء میں ملک کےتیسرے گورنر جنرل بننے والے، ملک غلام محمد کے دور سے ہوا جنہوں نے 17اپریل 1953کو سابق گورنر جنرل اور وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کو معزول کردیا تھا۔ خواجہ ناظم الدین کا جرم اتنا تھا کہ انہوں نے اپنی معزولی سے صرف 2 ہفتے قبل ہی پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لیا تھا۔ ووٹ لینے کے بعد انہوں نے گورنر جنرل کے لامحدود اختیارات کو محدود کرنے کے لیے دستور سازاسمبلی کے توسط سے آئینی ترمیم کی کوشش کی تاکہ گورنر جنرل کے اختیارات کو محدود کیا جاسکے۔ مگر گورنر جنرل غلام محمد کو جب ان حالات کا علم ہوا تو انھوں نے 24 اکتوبر، 1954ء کو فوری طور پر دستور ساز اسمبلی برخاست کر دی۔ اسمبلی کے اسپیکر مولوی تمیزالدین نے اس برطرفی کو سندھ کی اعلیٰ عدلیہ میں چیلنج کیا جس نے مولوی تمیزالدین کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے گورنر جنرل کے فیصلے کو غیرآئینی قرار دیا ۔ اعلیٰ عدالت کے فیصلے کے خلاف حکومت نے سپریم کورٹ میں اپیل کی تو جسٹس منیر احمد نے ’’نظریہ ضرورت کے قانونی کلیے ‘‘کوبنیاد بنا کرگورنر جنرل کے فیصلے کو جائز قرار دیا ۔
خواجہ ناظم الدین کا تعلق سابق مشرقی پاکستان سے تھا، ان کی معزولی نے بنگالی عوام کے دلوں میں احساس محرومی کا بیج بودیا۔اگست 1955 میں وزیر داخلہ میجر جنرل اسکندر مرزا جسمانی طور سے معذور گورنر جنرل ملک غلام محمد کو سبکدوش کرکے چوتھے گورنر جنرل بن گئے۔ 23مارچ 1956 کو ملک میں پہلا آئین نافذ ہوا جس کی رو سے اسکندر مرزا ملک کے صدر بن کر مملکت خداداد کے مختار کل بن بیٹھے۔ صدارتی عہدہ سنبھالنے کے بعد 1955ء سے 1958ء تک صرف تین سال کے عرصے میں انہوں نے پانچ وزرائے اعظم محمد علی بوگرہ ، چوہدری محمد علی (جو صدر مملکت سے اختلافات کے باعث از خود مستعفی ہوئے تھے)،حسین شہید سہروردی، ابراہیم اسماعیل چندریگر اور ملک فیروز خان نون کو سبکدوش کیا ۔7اکتوبر 1958 کوصدر مملکت کی حیثیت سے اسکندر مرزا نےملک میں مارشل لاء نافذ کرکے آئین معطل کردیا اور مسلح افواج کے کمانڈر انچیف جنرل محمد ایوب خان کو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر مقرر کردیا۔ 7اکتوبر کومارشل لا کے نفاذ کے صرف بیس روز بعد ایوب خان نے 27اکتوبر کو دوبارہ مارشل لاء کا نفاذ کرکے اسکندر مرزا کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور انہیں جلاوطن کرکے خود اقتدار پر قابض ہوگئے۔
مختلف ادوار میں سیاسی اختلافات محاذ آرائی میں تبدیل ہوتے رہے۔ 1970کے انتخابات کے نتائج آنے کے بعد بعض سیاسی شخصیات کی ہوس اقتدارکی وجہ سے ملک کے مشرقی حصے میں حالات اس قدر خراب ہوگئے کہ وہاں حکومت کی رٹ ختم ہوگئی اور خانہ جنگی شروع ہوگئی اوراس جنگ میں بھارت کی شمولیت کی وجہ سے1971 میں سقوط ڈھاکا کا سانحہ پیش آیا جس میں مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہوکر بنگلہ دیش بن گیا۔ بعض لسانی و صوبائی عصبیت پر مبنی تنظیموں کی سازشوں کی وجہ سے ملک میں متعدد علیحدگی پسند اور وطن دشمن تنظیمیں وجود میں آئیں جو ملکی سالمیت کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ اس صورتحال کی ذمہ داری ہمارے حکمرانوں پر بھی عائد ہوتی ہے جنہوں نے رائے عامہ کو نظر انداز کرنے کی پالیسی اختیار کی جس کی وجہ سے حکومت وقت سے مایوس عوام مایوس ہوکر غیر جمہوری قوتوں کے آلہ کار بننے پر مجبور ہوئے۔
ہمیں یہ بات ذہن نشین کرلینا چاہئے کہ مضبوط جمہوری نظام صرف انتخابات کے انعقاد کا مرہون منت نہیں ہوتا بلکہ حق رائے دہی میں شفافیت ، سیاسی روا داری اور برداشت کے مادے کے علاوہ اداروں کا احترام، قانون کی عمل داری اور اقتدار کی پرامن منتقلی بھی اشد ضروری ہوتی ہے۔سیاسی اشرافیہ پر سب سے بڑا اعتراض یہ اٹھتا رہا ہے کہ اس نے ملکی اقتدار کو قومی خدمت کے بجائے اپنی سیاسی بقاء اور جماعتی مفادات کے لیے استعمال کیا۔ یہ مسئلہ کسی ایک جماعت یا ایک دورحکومت تک محدود نہیں رہا بلکہ مختلف ادوار میں مختلف صورتوں میں سامنے آیا۔ پاکستان کے لیے قومی سلامتی ہمیشہ ایک اہم موضوع رہا ہے۔ ایک ایسے خطے میں واقع ہونے کی وجہ سے جہاں جغرافیائی، سیاسی اور تزویراتی تبدیلیاں مسلسل رونما ہوتی رہتی ہیں، پاکستان کو متعدد اندرونی و بیرونی چیلنجز کا سامنا رہا۔ دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ لڑتے ہوئے پاکستانی عوام، افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بیش بہا قربانیاں دیں اور اب تک دے رہے ہیں۔ تاہم موجودہ دور میں قومی سلامتی کا تصور صرف عسکری طاقت تک محدود نہیں رہا، اس میں عوام کا دست بازوبننا بھی ضروری ہوتا ہے۔
آج معاشی استحکام، سیاسی اتفاقِ رائے، قدرتی وسائل کا تحفظ، تعلیم، ٹیکنالوجی اور عوامی اعتماد بھی قومی سلامتی کے بنیادی ستون ہیں۔خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال نے پاکستان کے لیے نئی ترجیحات پیدا کی ہیں۔ افغانستان کے حالات، علاقائی کشیدگی، عالمی طاقتوں کی بدلتی ترجیحات اور جنوبی ایشیا کی سیاسی حرکیات ایسے عوامل ہیں جن کے لیے متوازن اور عالمی صورت حال کے مطابق خارجہ پالیسی وضع کرنےکی ضرورت ہے۔ ایک مستحکم پاکستان نہ صرف ملکی عوام بلکہ پورے خطے کے امن استحکام اور ترقی کا ضامن ہے۔ کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی میں نوجوان نسل کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔پاکستان اس لحاظ سے خوش نصیب ملک ہے کہ اس کی آبادی کا تقریباً 63 سے 65 فیصد حصہ 30 سال سے کم عمر کے نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ لیکن ملک کے حکم رانوں نے انہیں نظر انداز کیا ہوا ہے۔ اگر انہیں مناسب تعلیمی ماحول اور فنی تربیت فراہم کی جائے تو نوجوان صحیح معنوں میں مستقبل کے معمار ثابت ہوسکتے ہیں۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے اپنے شہریوں کی اچھی تعلیم اور فنی تربیت پر توجہ مرکوز کی اوران صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا کر ترقی کی منازل طے کیں۔ پاکستان کو بھی تعلیم، تحقیق و تفتیش، مصنوعی ذہانت، سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میںنوجوانوں پر زیادہ توجہ دینا ہوگی۔ملی یکجہتی کسی بھی ریاست کی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے۔ لسانی، صوبائی، علاقائی، سیاسی اور سماجی اختلافات ہر معاشرے میں موجود ہوتے ہیں، مگر کامیاب ریاستیں ان اختلافات کو آئین کے مطابق مذاکرات اورمکالموں کے ذریعے متاثرہ فریقین کی شکایات کا ازالہ کرکے مسائل کا حل نکالتی ہیں۔ پاکستان میں اکثر مواقع پر ایسا بھی ہوا کہ حکمرانوں اور مخالف فریقین کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے صورت حال اس نہج پر پہنچ گئی کہ مسلح تصادم کی نوبت آگئی۔ پاکستان کا 79 واں یوم آزادی بھی ان حالات میں منایا جارہا ہے کہ پاکستان کو ایک جانب بھارت کے ساتھ جنگ کے خطرات لاحق ہیں، دوسری طرف ایران، اسرائیل اور امریکا کی جنگ میں مصالحتی کردار ادا کررہا ۔
تیسری جانب اسے اندرونی محاذ پر بے شمار چیلنجز درپیش ہیں جن سے نمٹنے کے لیے ہماری مسلح افواج کے جوان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں۔ بھارت آپریشن سیندور کی ہزیمت کا بدلہ لینے کے لئے بعض ملک دشمن عناصر کی مدد سے پاکستان میں امن و امان کی صورت حال کو خراب کررہا ہے ان حالات کی وجہ سے سے ملکی سالمیت و یک جہتی کو خطرات لاحق ہوگئے۔ اس کے باوجود پاکستان کے عوام میں مایوسی کی ہلکی سی جھلک بھی نظر نہیں آتی۔ آج پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت سیاسی مفاہمت، ادارہ جاتی استحکام اور قومی ترجیحات پر اتفاقِ رائے کی ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، لیکن اختلاف کو مستقل دشمنی میں تبدیل کرنا ملک و قوم کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔



تبصرہ لکھیے