ہوم << ریاست کے اندر ریاست: خفیہ ایجنسیاں، کھوکھلی حب الوطنی اور برباد معاشرہ – مسرور احمد
600x314

ریاست کے اندر ریاست: خفیہ ایجنسیاں، کھوکھلی حب الوطنی اور برباد معاشرہ – مسرور احمد

ریاست جب اپنے اصل مقاصد یعنی انصاف، تعلیم، صحت، معاشی فلاح اور شہری آزادی کو پسِ پشت ڈال کر اپنی ساری توانائی “سیکیورٹی” کے نام پر خفیہ اداروں، عسکری بندوبست، خوف کے ماحول اور مستقل ہنگامی کیفیت پر صرف کرنے لگے تو سمجھ لیجیے کہ ریاست آہستہ آہستہ سماجی خدمت گار سے سماجی نگران میں بدل رہی ہے۔

پھر اس کے شہری، شہری کم اور مشتبہ زیادہ سمجھے جاتے ہیں؛ ان کے سوالات، غداری؛ ان کے اختلافات، سازش؛ اور ان کی محرومیاں، محض کولیٹرل ڈیمیج قرار پاتی ہیں۔ جدید دنیا میں خفیہ ادارے اور فوجیں بظاہر قومی سلامتی کی علامت سمجھی جاتی ہیں، لیکن جب ان کا کردار آئینی حدود، جمہوری نگرانی اور اخلاقی اصولوں سے آزاد ہو جائے تو یہی ادارے معاشروں کے اندر سب سے بڑے بگاڑ، خوف، بداعتمادی اور سیاسی انحطاط کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ یہ بحث محض پاکستان تک محدود نہیں۔ نیو لبرل عالمی نظام نے ریاست کو عوامی بہبود کے ادارے سے بدل کر کارپوریٹ مفادات کے محافظ میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس نظام میں “قومی مفاد” کی تعریف اکثر عوام نہیں بلکہ اشرافیہ، مالیاتی ادارے، اسلحہ ساز کمپنیاں، بین الاقوامی سرمایہ اور ان کے مقامی گماشتے طے کرتے ہیں۔ اس ماحول میں خفیہ ادارے اور عسکری قوتیں محض سرحدوں کی حفاظت نہیں کرتیں؛ وہ بیانیہ بناتی ہیں، ترجیحات طے کرتی ہیں، سیاسی انجینئرنگ کرتی ہیں، خوف کی منڈی گرم رکھتی ہیں، اور ایسی “مستقل غیر یقینی کیفیت” پیدا کرتی ہیں جس میں عوامی سوالات دب جائیں اور اقتدار کے اصل مراکز غیر جواب دہ رہیں۔

یوں ریاست کے وسائل عوامی فلاح پر نہیں بلکہ نگرانی، پراکسیوں، طاقت کے کھیل، اثر و رسوخ، اور “خطرے” کی مسلسل تجارت پر خرچ ہوتے ہیں۔ امریکی میرین جنرل نے اپنی مشہور کتاب War Is a Racket میں جنگی مشینری کی اصل معاشیات بے نقاب کی تھیں: جنگیں اکثر قوموں کے نہیں، سرمایہ اور طاقت کے مفادات کے لیے لڑی جاتی ہیں۔ بٹلر کا تجربہ ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ عسکری ادارے جب خود کو مقدس، ناقابلِ سوال اور “قوم سے ماورا” سمجھنے لگیں تو وہ آہستہ آہستہ سرمایہ، اسٹیٹس کو اور جبر کے آلے میں ڈھل جاتے ہیں۔ نیو لبرل ازم کا مسئلہ یہی ہے کہ وہ ریاستی طاقت کو سماجی انصاف کے لیے نہیں بلکہ منڈی، مراعات یافتہ طبقات اور طاقتور مفادات کی حفاظت کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف جیسے بنیادی شعبے کمزور ہوتے جاتے ہیں، جبکہ سیکیورٹی، نگرانی، دفاعی بیانیہ اور ادارہ جاتی طاقت کا حجم بڑھتا جاتا ہے۔

پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ یہاں “قومی سلامتی” کو اتنا وسیع اور مبہم مفہوم دے دیا گیا ہے کہ اس کے اندر تقریباً ہر شے سما جاتی ہے۔ سیاست بھی، صحافت بھی، معیشت بھی، نصاب بھی، مذہبی بیانیہ بھی، خارجہ پالیسی بھی، اور کبھی کبھی شہری کی سانس تک۔ جب ایک ریاست اپنے آپ کو مسلسل خطرے میں دکھاتی ہے تو اس کے طاقتور اداروں کے لیے عوامی جواب دہی سے بچنا آسان ہو جاتا ہے۔ پھر بجٹ، ترجیحات، پالیسیاں اور سیاسی بندوبست سب “سیکیورٹی” کے نام پر چلنے لگتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معاشرہ سوال کرنے والے شہری نہیں بلکہ خوف زدہ رعایا پیدا کرتا ہے۔ خوف، تخلیق کا دشمن ہے؛ اور جو معاشرہ خوف کے زیرِ سایہ سانس لیتا ہو وہاں علم، تنقید، فن، تحقیق، اختلاف اور اخلاقی جرات سب آہستہ آہستہ مرنے لگتے ہیں۔

پاکستان میں خفیہ اداروں کے کردار پر تنقیدی سوالات اس لیے بھی اٹھتے ہیں کہ ایک طرف ملک کے کئی حصے دہائیوں سے بدامنی، انتہا پسندی، مسلح گروہوں، پراکسی سیاست اور سماجی عدم استحکام کی زد میں رہے؛ دوسری طرف انہی اداروں کو ریاستی طاقت کے سب سے منظم اور بااختیار ستون کے طور پر پیش کیا جاتا رہا۔ اگر ایک ملک میں خفیہ و عسکری بندوبست اتنا وسیع، مہنگا اور طاقتور ہو، مگر اس کے باوجود شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کریں، سرحدی و داخلی تشدد برقرار رہے، اور سماجی ہم آہنگی کمزور ہوتی جائے، تو یہ سوال اٹھانا لازم ہو جاتا ہے کہ آخر اس پورے بندوبست کا مقصد کیا ہے؟ عوام کی حفاظت، یا طاقت کے ایک خاص ڈھانچے کی حفاظت؟

یہاں مسئلہ صرف ناکامی کا نہیں، ترجیحات کا بھی ہے۔ ایک صحت مند خفیہ نظام کا بنیادی مقصد بیرونی و اندرونی خطرات کی پیشگی نشان دہی، ریاستی اداروں کو معلوماتی مدد، اور قومی مفاد کے دائرے میں رہتے ہوئے قانون و آئین کی پاسداری ہونا چاہیے۔ لیکن جب یہی نظام سیاسی انجینئرنگ، میڈیا مینجمنٹ، شخصیت پرستی، بلیک میلنگ، فائل سازی، وفاداریاں خریدنے، انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے، یا مخصوص طبقات کو پروان چڑھانے کے الزامات میں گھر جائے تو مسئلہ صرف ادارہ جاتی بدنامی نہیں رہتا؛ یہ پورے جمہوری بندوبست کی جڑیں کھوکھلی کر دیتا ہے۔ پھر سیاستدان عوام کے نہیں، کہیں اور کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں؛ صحافی خبر کے نہیں، اشارے کے منتظر ہوتے ہیں؛ بیوروکریسی قانون کے نہیں، طاقت کے زیرِ سایہ چلتی ہے؛ اور عدل کا تاثر بھی کمزور پڑتا ہے۔

اس پورے عمل کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ معاشرے میں “اخلاقی الٹ پھیر” پیدا ہو جاتی ہے۔ بدعنوانی صرف مالی جرم نہیں رہتی بلکہ ایک کلچر بن جاتی ہے۔ دیانت دار آدمی سسٹم میں اجنبی اور طاقتور بدعنوان شخص “قابلِ استعمال اثاثہ” بن جاتا ہے۔ جو زیادہ بلیک میل ہو سکتا ہے، وہ زیادہ کارآمد ہو جاتا ہے؛ جو زیادہ آزاد، خوددار اور اصولی ہو، وہ زیادہ مشکوک ٹھہرتا ہے۔ یوں معاشرہ آہستہ آہستہ ایک ایسے اندھیر نگری میں بدلتا ہے جہاں شرافت کمزور اور بدکرداری منظم طاقت بن جاتی ہے۔ پھر یہی طاقت مذہب، حب الوطنی، شہادت، سلامتی اور نظریے جیسے مقدس الفاظ کو بھی اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ دین بھی بدنام، وطن بھی زخمی، اور انسان بھی ذلیل۔

پاکستانی معاشرے میں ایک اور سانحہ یہ ہے کہ “دفاع” کو “تعلیم” پر، “خوف” کو “امید” پر، “خاموشی” کو “شعور” پر اور “اطاعت” کو “شہریت” پر ترجیح دے دی گئی۔ جس سماج میں اسکول کمزور، یونیورسٹیاں بے جان، ہسپتال خستہ، عدالتیں سست، اور روزگار غیر یقینی ہو؛ مگر اس کے باوجود ریاستی بیانیے میں سب سے زیادہ اہمیت بندوق، بارود، خفیہ فائل، جیو پولیٹیکل کھیل اور عسکری رومانویت کو حاصل ہو، وہاں انسانی ترقی نہیں ہو سکتی۔ وہاں تخلیق کی جگہ تخریب، تحقیق کی جگہ پروپیگنڈا، مکالمے کی جگہ شور، اور دلیل کی جگہ ڈانٹ جنم لیتی ہے۔ یہ محض بجٹ کی خرابی نہیں؛ یہ تہذیبی ترجیحات کی خرابی ہے۔

اسلامی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ صورتِ حال اور بھی زیادہ تشویش ناک ہو جاتی ہے۔ اسلام میں ریاست کا بنیادی مقصد عدل، امانت، انسانی حرمت، مشاورت، کمزور کی حفاظت اور ظلم کی نفی ہے۔ قرآن مجید کا حکم ہے: “اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ” بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔ اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد ہے: “وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰى اَلَّا تَعْدِلُوْا ۚ اِعْدِلُوْا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى” کسی قوم کی دشمنی تمہیں انصاف چھوڑ دینے پر آمادہ نہ کرے، انصاف کرو کہ یہی تقویٰ سے قریب تر ہے۔ اسلام کسی ادارے، کسی وردی، کسی منصب، کسی طبقے یا کسی نعرے کو عدل سے بالاتر نہیں کرتا۔ جو طاقت جواب دہی سے آزاد ہو جائے، وہ امانت نہیں رہتی، فتنہ بن جاتی ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ:
تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔”

یہ حدیث ریاستی اخلاقیات کا بنیادی اصول ہے: اقتدار خدمت ہے، ملکیت نہیں؛ امانت ہے، استحقاق نہیں۔ اگر کوئی ادارہ عوام کے ٹیکس سے چلے، مگر عوام کے سامنے جواب دہ نہ ہو؛ اگر وہ امن کے نام پر خوف بیچے، حب الوطنی کے نام پر تنقید دبائے، مذہب کے نام پر جبر کو تقدس بخشے، اور قومی مفاد کے نام پر چند لوگوں کے مفاد کی نگہبانی کرے، تو اسلامی اصولوں کے مطابق یہ امانت میں خیانت کے زمرے میں آتا ہے۔ اسلام میں فساد فی الارض صرف بم دھماکا نہیں؛ ظلم، دھوکا، ناانصافی، حق تلفی، جھوٹا پروپیگنڈا، بدعنوانی کی سرپرستی، اور کمزوروں کو کچلنے والا نظام بھی فساد ہی کی شکلیں ہیں۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام طاقت کے اندھے استعمال کے بجائے حکمت، شوریٰ، احتساب اور اصلاح پر زور دیتا ہے۔ خلفائے راشدین کی روایت یہی تھی کہ حکمران خود کو عوام کے سامنے جواب دہ سمجھتے تھے۔ حضرت عمرؓ کا یہ جملہ کہ “اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر گیا تو عمر سے سوال ہوگا” محض اخلاقی فقرہ نہیں، ریاستی فلسفہ ہے۔ اس فلسفے میں طاقتور ادارے اپنی طاقت کا جواز عوامی فلاح سے لیتے ہیں، نہ کہ اپنے لیے استثنا مانگ کر۔ لہٰذا ایک ایسی ریاست جہاں خفیہ و عسکری بندوبست کے نام پر خوف، خاموشی، سیاسی مداخلت، معاشی عدم توازن، مذہبی استحصال اور سماجی جمود کو معمول بنا دیا جائے، وہ اسلامی روح سے ہم آہنگ نہیں ہو سکتی۔

عالمی سطح پر بھی خفیہ اداروں اور جنگی مشینری نے امن سے زیادہ عدم استحکام پیدا کیا ہے۔ بڑی طاقتوں نے کئی خطوں میں جمہوریت، حقوقِ انسان اور سلامتی کے نعروں کے نیچے حکومتیں گرائیں، خانہ جنگیاں بھڑکائیں، پراکسی جنگیں لڑیں، تیل، گیس، معدنیات اور جغرافیائی اثر و رسوخ کے لیے معاشروں کو تباہ کیا۔ کبھی “کمیونزم کا خطرہ”، کبھی “دہشت گردی کے خلاف جنگ”، کبھی “ریجیم چینج”، کبھی “اسٹریٹجک مفاد” نام بدلتے رہے، مگر لاشیں ہمیشہ غریبوں کی اٹھیں، شہر ہمیشہ کمزور ممالک کے جلتے رہے، اور منافع ہمیشہ طاقتوروں نے سمیٹا۔ یہ وہ عالمی منافقت ہے جس میں امن کی کانفرنسیں بھی اسلحہ ساز کمپنیوں کے شیئرز کے سائے میں ہوتی ہیں۔

پاکستان جیسے ممالک میں اس عالمی کھیل کا مقامی ایڈیشن اور بھی بھیانک ہو جاتا ہے۔ یہاں مقامی اشرافیہ، طاقتور ادارے، موروثی سیاست، کمزور جمہوری روایت، مذہبی کاروبار، بیرونی دباؤ اور معاشی انحصار مل کر ایک ایسا بندوبست بناتے ہیں جس میں عام آدمی سب سے آخر میں آتا ہے۔ اسے کبھی حب الوطنی کے نام پر خاموش رہنے کو کہا جاتا ہے، کبھی مذہب کے نام پر جذباتی بنایا جاتا ہے، کبھی دشمن کے خوف سے ڈرایا جاتا ہے، اور کبھی معاشی مجبوریوں کے نام پر قربانی مانگی جاتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ قربانی ہمیشہ عوام ہی کیوں دیں؟ طاقتور ادارے، مراعات یافتہ طبقات، ٹھیکیدار اشرافیہ، اور ریاستی بیانیے کے تاجر کب قربانی دیتے ہیں؟

اس ساری بحث کا مطلب یہ نہیں کہ ریاست کو سرے سے دفاع یا انٹیلی جنس کی ضرورت نہیں۔ مسئلہ اداروں کے وجود سے زیادہ ان کے کردار، دائرۂ اختیار، احتساب اور ترجیحات کا ہے۔ ایک مہذب ریاست میں خفیہ ادارے آئین کے تابع ہوتے ہیں، پارلیمانی نگرانی میں کام کرتے ہیں، عدالتی و قانونی دائرے سے باہر نہیں جاتے، سیاسی عمل میں مداخلت نہیں کرتے، میڈیا اور سول سوسائٹی کو دشمن نہیں سمجھتے، اور اپنی کامیابی کا پیمانہ شہری آزادی، امن، معاشی استحکام اور سماجی اعتماد کو بناتے ہیں۔ اگر کوئی ادارہ ان معیارات پر پورا نہیں اترتا تو مسئلہ ادارے کی طاقت نہیں، اس طاقت کی بے لگامی ہے۔

پاکستان کو اگر واقعی محفوظ، مستحکم اور باوقار بنانا ہے تو “سیکیورٹی اسٹیٹ” سے “ویل فیئر اینڈ جسٹس اسٹیٹ” کی طرف جانا ہوگا۔ اس کے لیے چند بنیادی اصول ناگزیر ہیں: خفیہ اداروں اور عسکری ڈھانچے پر واضح سول و پارلیمانی نگرانی؛ سیاسی انجینئرنگ کے دروازے بند؛ دفاعی و خفیہ بجٹ کے کم از کم اصولی آڈٹ و نگرانی؛ تعلیم، صحت، تحقیق، مقامی حکومت اور انصاف پر زیادہ سرمایہ کاری؛ مذہبی انتہا پسندی کے ساتھ ہر سطح پر غیر مبہم قطع تعلق؛ اور قومی سلامتی کی تعریف میں انسان، روزگار، صحت، پانی، ماحول، علم اور انصاف کو مرکزی حیثیت دینا۔ ریاست کی عظمت ٹینکوں، فائلوں اور خوف سے نہیں بلکہ باوقار شہریوں، اچھے اسکولوں، آزاد جامعات، منصف عدالتوں، سستی صحت، مضبوط معیشت اور جواب دہ اداروں سے بنتی ہے۔

آخر میں بات سادہ ہے: جو ادارے خود کو قوم کا باپ سمجھنے لگیں، وہ قوم کو بالغ شہری نہیں بننے دیتے۔ جو ریاست خوف بیچتی ہے، وہ امید پیدا نہیں کر سکتی۔ جو نظام سوال سے ڈرتا ہے، وہ سچ سے بھی ڈرتا ہے۔ اور جو طاقت جواب دہی قبول نہیں کرتی، وہ لازماً فساد پیدا کرتی ہے، چاہے وہ فساد خاموشی کی صورت میں ہو، غربت کی صورت میں، سیاسی مفلسی کی صورت میں، یا ذہنی غلامی کی صورت میں۔ پاکستان کو بندوق کے سائے میں نہیں، آئین کے سائے میں جینا سیکھنا ہوگا۔ خفیہ طاقت کی پرستش سے نہیں، شہری شعور کی بالادستی سے نکلنا ہوگا۔ ورنہ ہم ایک ایسے دائرے میں گھومتے رہیں گے جہاں ہر بحران کا علاج مزید بحران، ہر ناکامی کا جواز مزید خوف، اور ہر سوال کا جواب مزید خاموشی ہوگا۔ اور یہ کسی بھی قوم کے لیے نجات نہیں، اجتماعی زوال کا نسخہ ہے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

مسرور احمد

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment