اسلام ایسا دین ہے جو انسان کو ہر پہلو سے حسنِ اخلاق اپنانے کی تلقین کرتا ہے۔ دینِ اسلام کی بنیاد ہی اچھے اخلاق، نرم لہجے اور پاکیزہ گفتگو پر ہے۔ بدگوئی، فحش کلامی، گالی گلوچ نہ صرف اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ یہ انسان کے اخلاقی زوال کی بھی علامات ہیں۔ قرآنِ مجید اور احادیثِ مبارکہ میں متعدد بار زبان کی حفاظت کی تلقین کی گئی ہے۔
سورۃ الحجرات میں اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے کا تمسخر اڑانے سے منع فرمایا ہے اور اسی طرح سورۃ البقرہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ لوگوں سے اچھی بات کہو۔ ان آیات میں ایک دوسرے کا مذاق اڑانے، طعنہ دینے اور فحش کلامی سے منع کیا گیا ہے۔
’’تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جو تم سب میں زیادہ بااخلاق ہو۔‘‘(صحیح بخاری)
اسی طرح ایک اور حدیث میں بیان ہوتا ہے:
’’جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اس کو چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔‘‘(صحیح بخاری)
اسی طرح ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ بندے کو سب سے اچھی چیز کیا عطا کی گئی؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’خوش خلقی۔‘‘(سنن ابن ماجہ)
مسلمان کو گالی دینا فسق، یعنی گناہ ہے۔ ایک اور مقام پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
’’وہ دو شخص جو ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں، وہ دونوں شیطان ہوتے ہیں جو بکواس اور جھوٹ بولتے ہیں۔‘‘(مسند احمد)
اسی طرح آپ ﷺ نے منافق کی خصلتوں میں سے ایک خصلت یہ بتائی ہے کہ جب بھی وہ کسی سے اختلاف کرے تو گالیاں بکے۔(صحیح بخاری)
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’مسلمان کو اذیت نہ دو، انہیں عار نہ دلاؤ، اور ان میں عیوب مت تلاش کرو، کیونکہ جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیب جوئی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی عیب گیری کرتا ہے، اور جس کی عیب گیری اللہ تعالیٰ کرنے لگے، وہ ذلیل ہو جائے گا، اگرچہ وہ اپنے گھر کے اندر ہی کیوں نہ ہو۔‘‘(جامع ترمذی)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! مجھے کوئی نصیحت فرما دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
’اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، ساری بھلائی اسی میں ہے۔ جہاد کو اپنے اوپر لازم کر لو، کیونکہ یہ مسلمانوں کے لیے ریاضت ہے۔ اپنی زبان کو اللہ تعالیٰ کے ذکر اور قرآنِ مجید کی تلاوت سے مصروف رکھو، کیونکہ یہ زمین پر نور کا سرچشمہ ہیں اور آسمان پر معروف ہیں۔‘‘
نبی کریم ﷺ نے مزید ارشاد فرمایا کہ جب بھی زبان سے کچھ بولو تو اچھی بات بولو، ورنہ خاموش رہو، کیونکہ ایسا کرنے سے تمہیں شیطان پر غلبہ پانے اور دینی امور احسن طریقے سے ادا کرنے میں مدد ملے گی۔(المعجم الکبیر، ابن حبان)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا:
’’جو مسلمان ہے، وہ طعنے نہیں مارتا، نہ لعنت بھیجتا ہے، نہ فحش گوئی کرتا ہے اور نہ بدزبانی کرتا ہے۔‘‘(ترمذی شریف)
بیہودہ گوئی کی پہلی قسم کو قرآن و حدیث میں اس کی تمام صورتوں کے ساتھ ممنوع قرار دیا گیا ہے اور بدزبانی کو بے حیائی و بے غیرتی میں داخل کرکے اس سے روکا گیا ہے۔ چنانچہ ترمذی شریف کی حدیث میں آیا ہے کہ جس کے اندر حیا آ جائے تو وہ اس کو زینت، یعنی شرافت و عزت دیتی ہے، اور جس کے اندر بدزبانی اور تندخوئی آ جائے تو اس کو عیب دار بنا دیتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بدزبانی ذلت و رسوائی کا، اور شرم و حیا عزت و عظمت کا سبب ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’جو کوئی اس دنیا میں لوگوں کے وقار کی حفاظت کرے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے بدلے اس کے گناہ مٹا دے گا۔ جو کوئی بھی دنیا میں لوگوں پر آنے والے غصے پر قابو کرے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عذاب سے محفوظ رکھے گا۔‘‘(احیاء علوم الدین)
بخاری و مسلم کی متفق علیہ روایت میں نبی اکرم ﷺ نے گالی گلوچ کو منافق کی نشانی قرار دیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
’’منافق کی چار نشانیاں ہیں: جب بولے جھوٹ بولے، وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، امین بنایا جائے تو خیانت کرے اور جب جھگڑا ہو جائے تو گالی گلوچ پر اتر آئے۔‘‘
مسلم شریف کی روایت ہے کہ جب دو آدمی آپس میں گالی گلوچ کریں تو گناہ ابتدا کرنے والے پر ہی ہوگا، جب تک کہ مظلوم حد سے نہ بڑھے۔ ایک طرف تو نبی اکرم ﷺ نے گالی گلوچ سے منع کیا اور فرمایا کہ گالی گلوچ کا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہوگا، اور دوسری طرف اخلاقی طور پر یہ بھی ہدایت کی ہے کہ گالی کا جواب گالی سے نہ دیا جائے، اس لیے کہ اس طرح کرنے سے دونوں میں کوئی فرق نہیں رہتا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ بھلائی کی بات کہے، ورنہ خاموش رہے۔‘‘(صحیح بخاری: 6018، صحیح مسلم: 4774)
ابو الیث سمرقندیؒ فرماتے ہیں کہ صالحین اپنی زبان کو قابو میں رکھنے کے لیے دوسروں سے کی جانے والی گفتگو کا خود سے محاسبہ کرتے تھے۔ اسی طرح ہر مسلمان کو چاہیے کہ اس سے پہلے کہ اس کا آخرت میں حساب ہو، وہ دنیا میں ہی اپنا محاسبہ کرتا رہے۔ دنیا میں اپنا محاسبہ کر لینا آخرت میں حساب سے زیادہ آسان ہے۔ دنیا میں اپنی زبان پر قابو پالینا آخرت میں شرمندگی برداشت کرنے کی نسبت آسان ہے۔(تنبیہ الغافلین)
آج کے دور میں سوشل میڈیا اور دیگر ذرائعِ ابلاغ میں عام گفتگو میں فحش کلمات کا استعمال زیادہ ہوتا جا رہا ہے اور یہ مزاح کا حصہ بنتا جا رہا ہے، جو کہ ایک خطرناک رجحان ہے۔ ہمیں اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی زبان کو بدگوئی اور فحش کلامی سے محفوظ رکھنا ہوگا۔بدزبانی اور گالی گلوچ سے مغلظ اور گندی گالیاں ہی مراد نہیں ہیں، بلکہ اسلامی تعلیمات کے اعتبار سے ہر وہ بات اس میں داخل ہے جو دوسرے کی توہین و تحقیر یا اس کی دل آزاری کا سبب ہو۔حضور اکرم ﷺ نے نہایت بلیغ اور مؤثر انداز میں ارشاد فرمایا کہ تم میں سے کوئی اپنے ماں باپ کو برا بھلا نہ کہے۔ لوگوں نے عرض کیا کہ کیا کوئی اپنے ماں باپ کو برا بھلا کہہ سکتا ہے؟ یعنی یہ بات تو کسی بھی شخص سے نہیں ہو سکتی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو دوسرے کے ماں باپ کو گالی دے گا تو وہ پلٹ کر اس کے ماں باپ کو ایسا ہی کہے گا۔ گویا اس کی گالی اپنے ماں باپ کی گالی کا سبب بن گئی۔ اس لیے ایسی بدزبانی نہ کی جائے۔
بخاری شریف کی حدیث میں آیا ہے کہ کسی مسلمان کو گالی دینا بہت بڑا گناہ ہے اور اس سے قتل و قتال کرنا تو گویا کفر ہے۔ بدزبانی یا گالی گلوچ کرنا اتنا سنگین گناہ ہے کہ اس کی معافی اس وقت تک نہ ہوگی جب تک وہ شخص معاف نہ کرے جس کے ساتھ بدزبانی کی گئی ہے، کیونکہ یہ حقوق العباد میں سے ہے۔حضور اکرم ﷺ نے اپنی اُمت کو بدزبانی اور گالی دینے سے اس حد تک روکا ہے کہ اپنے زیرِ دستوں، اپنے نوکر چاکر اور اپنے خادموں کے ساتھ بھی یہ معاملہ نہ صرف جرم قرار دیا بلکہ اس کو دورِ وحشت اور زمانۂ جاہلیت کی یادگار قرار دے کر اس سے دلوں میں نفرت بھی پیدا کر دی۔بخاری شریف میں آیا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام کو ڈانٹا اور برا بھلا کہا۔ حضور اکرم ﷺ کو معلوم ہوا تو آپ ﷺ نے تنبیہ فرمائی اور فرمایا:
’’تم میں ابھی تک دورِ جاہلیت کا اثر باقی ہے۔ یہ تمہارے خادم تمہارے بھائی ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے تمہاری خدمت پر لگا دیا ہے۔‘‘
مطلب یہ ہے کہ ان سے بھائیوں جیسا معاملہ کرو۔مسلمان کی عزت کی اس قدر حرمت ہے کہ جو کوئی اس حرمت کو نقصان پہنچائے، اس کی نمازیں تک قبول نہیں ہوتیں۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے:
’’جو کوئی کسی مسلمان کی آبروریزی کرتا ہے تو اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہوتی ہے اور اس کی فرض عبادت قبول نہیں ہوتی۔‘‘(صحیح بخاری)
حدیث میں لعنت کرنے کو مومن کے قتل کرنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
’’مومن پر لعنت کرنا اس کے قتل کرنے کی طرح ہے۔‘‘(صحیح بخاری، جلد سوم، حدیث نمبر 1058)
یہ تو وہ سنگین بدزبانی اور فحش گوئی تھی جس کا تعلق انسانوں سے تھا۔ آپ ﷺ نے تو جانوروں کو بھی گالی کوسنے کو نہ صرف ناپسند فرمایا بلکہ اس پر مناسب سزا بھی دی ہے۔چنانچہ ابوداؤد شریف میں ہے کہ آپ ﷺ ایک مرتبہ سفر میں تھے۔ مسافروں میں ایک خاتون بھی تھیں۔ ان کی اونٹنی، جس پر وہ سوار تھیں، نے کچھ شوخی کی۔ اس پر اس خاتون نے اونٹنی پر لعنت بھیج دی۔ آپ ﷺ نے تنبیہ فرمائی اور حکم دیا کہ اس خاتون کو اُس اونٹنی سے اتار دیا جائے۔ آپ ﷺ نے انہیں اونٹنی سے محروم کرکے گویا سزا دی، تاکہ آئندہ ان کو عبرت ہو۔
اللہ جل شانہٗ ہمیں صحیح معنوں میں دین پر چلنے والا بنائے، گالی، بیہودہ کلام اور بدگوئی سے بچنے کی توفیق نصیب فرمائے۔آمین۔



تبصرہ لکھیے