ہوم << مومن بے ضرر ہوتا ہے – زیان مصطفیٰ
600x314

مومن بے ضرر ہوتا ہے – زیان مصطفیٰ

مومن یعنی وہ فرد، جو مکہ میں پیدا ہونے والے اللہ کے نبی محمد (علیہ السلام) پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ ان کے احکامات کی پیروی بھی کرے۔ ضرر یعنی تکلیف، اور بے ضرر یعنی بغیر تکلیف والا۔

جی ہاں!
مومن بے ضرر یعنی تکلیف دینے والا نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ تو اس کھجور کے درخت کی مثل ہوتا ہے جس کا پھل، تنا یعنی Stem اور پتہ. یعنی مکمل درخت ہی نفع دیتا ہے۔ اور ایسا کیوں نہ ہو کہ جب بانی اسلام، جو بن کر ہی رحمت للعالمین آئے۔ انہیں جب طائف کے شریر لڑکوں نے اللہ کے سچے دین کی دعوت دینے پر (معاذ اللہ) اس قدر کنکریاں ماریں کہ مبارک جوتیوں تک خون آ پہنچا، اس وقت بھی ان کیلئے بددعا نہیں فرمائی۔مومن میں بھی یہی ایک صفت پائی جاتی ہے۔ وہ اپنی ذات کیلئے بدلہ/انتقام لینے کے بجائے معاف کرنا، پسند کرتا ہے۔ تاریخِ اسلام ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ جہاں اہلِ ایمان نے اپنی ذاتی تکالیف کو اللہ کی رضا کی خاطر نظر انداز کر دیا، اور انتقام لینے کی قدرت رکھنے کے باوجود درگزر سے کام لیا۔

یاد رکھیں! یہ صفت، حقوق اس فرد کیلئے ہیں۔ خبردار! کوئی یہ ذہن میں بات لائے کہ ہم دین، شریعت، یا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بے حرمتی پر بھی خاموش رہیں گے۔ ہرگز نہیں۔ مومن اپنی ذات پر ہونے والی زیادتی کو تو معاف کر سکتا ہے۔ بلکہ معاف کرنا اس کیلئے باعثِ اجر ہے۔ لیکن جہاں معاملہ اللہ کے دین، اس کے احکام، یا حقوق العباد کا ہو، وہاں خاموش رہ جانا نہ عفو ہے اور نہ ہی تقویٰ۔ بلکہ وہاں شریعت کے مطابق حق بات کہنا، ظلم کو ظلم کہنا، اور عدل کا ساتھ دینا ہی ایمان کا تقاضا ہے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment