پاکستان میں شاید ہی کوئی ایسا محکمہ ہو جس پر پولیس سے زیادہ تنقید ہوتی ہو۔ سوشل میڈیا ہو یا چائے خانہ، ٹی وی ٹاک شوز ہوں یا روزمرہ کی محفلیں، پولیس کو طنز و تنقید کا نشانہ بنانا ایک معمول بن چکا ہے۔ رشوت، سفارش، اختیارات کا ناجائز استعمال اور عوام سے سخت رویہ… یہ سب شکایات اپنی جگہ موجود ہیں اور ان کا انکار بھی ممکن نہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی اس تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھا ہے؟ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ جس ادارے سے ہم ہر وقت معجزے کی توقع رکھتے ہیں، ریاست نے اسے خود کیا دیا ہے؟
کبھی کسی تھانے کے اندر جا کر دیکھیے۔ بوسیدہ دیواریں، محدود وسائل، پرانی گاڑیاں، ٹوٹی میزیں، فائلوں کے ڈھیر اور مسلسل کئی کئی گھنٹے ڈیوٹی دینے والے تھکے ہوئے چہرے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی ڈیوٹی کا کوئی مقررہ وقت نہیں۔ آدھی رات کو قتل ہو جائے، صبح سویرے ڈکیتی ہو جائے، کسی بچی کے اغوا کی اطلاع ملے، دہشت گردی کا خطرہ پیدا ہو، مذہبی یا سیاسی کشیدگی جنم لے یا سیلاب آ جائے، سب سے پہلے جس دروازے پر دستک دی جاتی ہے، وہ پولیس ہی کا دروازہ ہوتا ہے۔ہم افواجِ پاکستان کو سرحدوں کے محافظ کہتے ہیں، اور بجا طور پر کہتے ہیں۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ شہروں، گلیوں اور بازاروں میں قانون کی سرحدوں کی حفاظت پولیس کرتی ہے۔ ڈاکوؤں، منشیات فروشوں، اغوا کاروں، دہشت گردوں اور دیگر جرائم پیشہ عناصر کے سامنے کھڑا ہونے والا بھی اسی مٹی کا بیٹا ہوتا ہے۔ وہ بھی اپنے بچوں سے یہ کہہ کر نکلتا ہے کہ “شام کو واپس آؤں گا”، مگر ہر شام سب کے نصیب میں نہیں ہوتی۔
المیہ یہ ہے کہ پولیس بھی بیلٹ فورس ہے، مگر سہولتوں کے معاملے میں اکثر تنہا دکھائی دیتی ہے۔ ان کے بچوں کے لیے کوئی جامع تعلیمی نظام نہیں، خصوصی اسکالرشپس نہ ہونے کے برابر ہیں، علاج معالجے کے لیے مخصوص ہسپتال نہیں، اور اگر کوئی اہلکار جرائم پیشہ عناصر سے لڑتے ہوئے جان دے دے تو اس کی قربانی اکثر چند رسمی بیانات اور ایک خبر تک محدود رہ جاتی ہے۔پھر اس ادارے پر سیاسی مداخلت ایک ایسا ناسور ہے جس نے اس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ جو افسر سفارش، دباؤ اور ناجائز احکامات کے سامنے سر جھکانے سے انکار کرے، وہ اکثر ایک ہی تھانے میں زیادہ دیر نہیں رہ سکتا۔ جب قانون کی کرسی پر سیاست بیٹھ جائے تو انصاف دروازے کے باہر کھڑا رہ جاتا ہے۔ پولیس تنقید سے بالاتر نہیں۔ جہاں ظلم ہو، اختیارات کا ناجائز استعمال ہو یا کسی بے گناہ کے ساتھ زیادتی ہو، وہاں سب سے پہلے آواز اٹھنی چاہیے۔ لیکن انصاف کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم صرف خامیاں نہ گنوائیں بلکہ یہ بھی پوچھیں کہ اس ادارے کو وہ وسائل کیوں نہیں دیے جاتے جن کے بغیر بہترین کارکردگی کی توقع رکھی جا رہی ہے؟
دنیا کے مہذب معاشروں میں پولیس کو جدید ٹیکنالوجی، معیاری تربیت، نفسیاتی معاونت، قانونی تحفظ اور سماجی احترام دیا جاتا ہے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ کمزور پولیس کا مطلب کمزور ریاست ہے۔ ہمارے ہاں مگر حالات اس کے برعکس ہیں۔ توقعات آسمان سے بلند ہیں مگر وسائل زمین سے بھی نیچے۔ہم پولیس سے فرشتوں جیسا کردار چاہتے ہیں، مگر اسے انسانوں جتنی سہولتیں دینے پر بھی آمادہ نہیں۔
یاد رکھیے!
وردی لوہے کی نہیں، کپڑے کی ہوتی ہے، مگر اس کے اندر دھڑکنے والا دل گوشت کا ہی ہوتا ہے۔ اس دل میں بھی ایک ماں کی دعائیں، ایک باپ کی امیدیں، ایک بیوی کے خواب اور بچوں کا مستقبل بستا ہے۔ جب وہ اہلکار ڈیوٹی پر نکلتا ہے تو صرف اپنی جان نہیں، اپنے پورے خاندان کا سکون بھی ساتھ لے جاتا ہے۔ اس ادارے کو سیاسی غلامی سے آزاد کرنا ہوگا، وسائل فراہم کرنا ہوں گے، میرٹ کو مضبوط کرنا ہوگا اور اس کے جوانوں کو وہ عزت دینی ہوگی جس کے وہ مستحق ہیں۔ کیوں کہ حقیقت یہ ہے کہ جب ریاست اپنے محافظوں کو تنہا چھوڑ دیتی ہے تو پھر جرائم پیشہ عناصر کبھی تنہا نہیں رہتے۔ اور جس معاشرے میں قانون کے محافظ خود غیر محفوظ ہوں، وہاں عام آدمی خود کو محفوظ کیسے سمجھ سکتا ہے؟



تبصرہ لکھیے