ہوم << رنجیت سنگھ کی فوج – عرفان علی عزیز
600x314

رنجیت سنگھ کی فوج – عرفان علی عزیز

اول حصہ

ایک وقت تھا کہ جاگیردار خراج کے طور پر لوٹ مار کرنے والے گھوڑ سواروں کو کچھ عرصہ کے لیے حکمرانوں کے حوالے کرتے تھے۔ لیکن رنجیت سنگھ نے ایک باقاعدہ افواج کے بجائے ایک باقاعدہ منضبط اور پیشہ ور سکھ فوج تیار کی۔ 1811ء میں اس کی باقاعدہ فوج 4061 تھی جس میں 2852 پیادہ اور 1209 تو بچی تھے۔ 1838ء میں اس باقاعدہ فوج کی تعداد 38242 ہو گئی۔ جو 29617 پیارہ 4095 گھوڑ سوار اور 4535 توپ خانہ پر مشتمل تھی اور اس با قاعدہ فوج کا کل خرچ 3,74,101 روپے ماہانہ تھا۔

اوسطاً ماہانہ تنخواه (اعداد و شمار)
1. کمیدان کمانڈنٹ: 60 سے 150 روپے ماہوار
2. مہرور: 30 سے 60 روپے ماہوار
3. صوبے دار: 20 سے 30 روپے ماہوار
4. جمعدار: 15 سے 22 روپے ماہوار
5. حوالدار: 13 سے 15 روپے ماہوار
6. نائک: 10 سے 12 روپے ماہوار
7. سرجان: 8 سے 12 روپے ماہوار
8. پھودیا: 7 سے 10 روپے 8 آنے ماہوار
9۔ سپاہی: 7 سے 8 روپے 8 آنے ماہوار

فوج کا ماہانہ نقدی تنخواہ دینے کا سٹم ایسٹ انڈیا کمپنی سے لیا گیا۔ اس سے پہلے جاگیرداری یعنی تنخواہ کے عوض زمین یا فصلانہ داری یعنی فصل کے موقع پر ادائیگی تنخواہ کا عام رواج تھا۔ فصل کے موقع پر ادائیگی کا رواج آہستہ آہستہ ختم ہو گیا۔ لیکن ماہانہ ادائیگی با قاعدہ طور پر نہیں کی جاتی تھی۔ عام طور پر فوجیوں کی پانچ پانچ چھ چھ مہینے کی تنخواہ بقایا بذمہ سرکار رہتی تھی۔ عموماً پانچ بار سال میں تنخواہ دی جاتی تھی۔ سپاہی جب تک جسمانی طور پر تندرست رہتے تھے ان کی ملازمت، جاری رہتی تھی۔ با قاعدہ پینشن رواج نہ تھا۔ البتہ فوج میں کل خالی اسامیوں کا تیس فی صدی ریٹائر ہونے والے فوجی کنبوں کے افراد سے پورا کیا جاتا تھا۔ وقتا فوقتا جنگ میں کام آئے یا زخمی سپاہیوں کے خاندانوں کو کچھ رقم بطور الاؤنس دی جاتی تھی۔ تنخواہ کی فردوں پر دھرم ارتھ کا خانہ بنا ہوا تھا جس میں ان ادائیگیوں کا اندراج ہوتا تھا جو مرے ہوئے یا زخمی سپاہیوں کی ماں، بیوی، بیوہ، بیٹے یا بھائی کو دی جاتی تھیں۔

1839ء میں ڈبلیو بار (w.Barr) کی ملاقات ایک کچھ سے ہوئی جو رنجیت سنگھ کی فوج میں ایک افسر تھا۔ اس کے تحت 67 گھوڑ سوار تھے۔ اس کو تنخواہ اور گزارے کے لیے دو روپے یومیہ ملتے تھے۔ جمرود کی لڑائی میں اسے تلوار کا ایک کاری زخم لگا۔ اسے اس موقع پر بڑا عطیہ دیا۔ اس نے بتایا کہمہاراجہ ان سپاہیوں کی بڑی فراخ دلی سے امداد کرتا ہے۔ جواس کی ملازمت میں زخمی ہو جائیں اور اگر اُسے پتہ چل جائے کہ کسی سردار نے کسی زخمی سپاہی کو انعام نہیں دیا تو وہ سردار فوراً مہاراجہ کی نظر میں معتوب ہو جاتا ہے۔با قاعدہ فوج کے علاوہ اس کے پاس کچھ بے قاعدہ گھوڑ سوار فوج بھی تھی جو تنخواہ دار ”گھوڑ چڑھا“ کے نام سے موسوم تھی ۔ 1838ء میں ان کی تعداد 10795 تھی۔ یہ دستے اپنے گھوڑوں کی ضروریات کا بندوبست خود کرتے تھے ۔ یہ دو ڈیروں میں منقسم تھے اور ہر ڈیرا کئی مسلوں میں بٹا ہوا تھا۔ ایک مسل پندرہ سے لے کر ستر گھوڑ سواروں پر مشتمل ہوتی تھی۔ ایک مسل میں عموماً ایک ہی کنبہ ( گوتر) کے افراد ہوتے تھے یہ دستے ہیوگل (Hugel) کو اس وقت کی یاد دلاتے تھے جب سلطنتوں کی قسمت نیزوں کی نوک سے وابستہ تھی تفصیل فردوں کے مطابق گھوڑوں کا اکثر معائنہ کیا جاتا تھا۔

ایک گھوڑ سوار کی تنخواہ اور الاؤنس کا دارو مدار اس کے گھوڑے کی حالت پر منحصر تھا۔ گھوڑے کے مر جانے کی صورت میں سوار کو اس وقت تک پیادہ کی تنخواہ ملتی تھی جب تک وہ کوئی اور گھوڑا مہیا نہ کرے۔ اس سلسلے میں کسی غلطی یا خامی پائے جانے پر عالی رتبہ عہدیداران کو بھی نہیں بخشا جاتا تھا۔ اس قسم کی تنظیم نے کنبوں کے اتحاد کی سپرٹ کو قائم رکھا اور لیڈر کے زیر کمان جنگ کرنے کا قدیم رجحان بھی برقرار رہا۔ اس طرح مسل دار بھی تعاون کا سبق حاصل کرتا رہا۔ با قاعدہ فوج اور بے قاعدہ گھوڑ سوار سپاہیوں کے علاوہ جاگیرداروں سے بھی فوجی دستے طلب کئے جاتے تھے۔ ان جاگیرداری دستوں کو مقابلتا کم اہم یعنی سزا دینے والی مہموں میں لگایا جاتا تھا۔ (¹)1830ء سے 1840ء تک کے درمیان کچھ انگریزوں نے پنجاب کا دورہ کیا۔ انہوں نے رنجیت سنگھ کے فوجی بندوبست پر نکتہ چینی کی۔ برعکس اس کے کچھ انگریزوں نے اس کے بندو بست کی تعریف کی ۔ لاؤنس نے کہا:

”عمارت پوری ہو چکی ہے لیکن مہاراجہ اس کے تحفظ پر اتنی توجہ نہیں دے رہا ہے۔ جتنی اس نے اس کی تعمیر پر دی۔ باقاعدہ تنخواہ کا کوئی یقینی ثبوت نہیں ہے۔“

اس کی حکومت کے آخری دور میں رنجیت سنگھ کے فوجی ڈھانچہ کی اہلیت کو آسبورن نے سراہا ہے۔ اس نے لکھا ہے :

”سکھ فوج ایک جگہ سے دوسری جگہ فوری طور پر نقل و حرکت کر سکتی ہے۔ کوچ کے لیے گاڑیوں کا استعمال ممنوع ہے۔ ضرورت کا سب سامان ان کے اپنے بازار اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ ستلج کے دوسری طرف تین کمپنیوں کی نقل و حرکت کی نسبت رنجیت سنگھ کی تیس ہزار سپاہ زیادہ آسانی سے کم خرچ اور تھوڑے وقت میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکتی ہے۔“

1811ء میں توپ خانہ کی اور پیادہ سپاہیوں کی اوسطاً ماہانہ تنخواہ 70 روپے 8 آنے تھی جب کہ باقاعدہ فوج کی ملازمت بالکل ناپسندیدہ تھی اس لیے رنگروٹ بھرتی کرنے میں مشکل پیش آتی تھی۔ اس کے مقابلہ میں 1838ء میں جب با قاعدہ فوج کی ملازمت ہر دلعزیز ہو گئی اور رنگروٹ آسانی سے ملنے لگے تو پیادہ سپاہیوں کی تنخواہ ستر روپے 7 آنے اور تو بچی کی تنخواہ 7 روپے 2 آنے ماہوار تھی۔ رنجیت سنگھ نے فوجی ملازمت کی مقبولیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تنخواہوں میں بہت زیادہ کمی کی۔ رنجیت سنگھ کے تحت فوجی عہدیداروں کی تنخواہوں کی شرح کمانڈنٹ سے لے کر سپاہی تک تقریباً وہی تھی جو ایسٹ انڈیا کمپنی اپنے فوجی ملازموں کو دیتی تھی۔ مقتول او زخمی فوجیوں کے خاندانوں پر کافی توجہ دی جاتی تھی۔ یہ بات بہر حال ماننی پڑے گی کہ تنخواہ کی ماہانہ ادائیگی میں بے قاعدگی رنجیت سنگھ کے فوجی نظم ونسق کی ایک بہت بڑی خامی تھی۔ برنز نے لکھا کہ:

”گذشتہ چند برسوں میں فوج کی تنخواہ کی ادائیگی میں بڑی بے قاعدگی رہی۔ اس کا سبب انگریزوں کے ساتھ روز بروز بڑھنے والی دوستی یا اس زمانے کی طمع تھی۔ اس نے انگریزوں کی دیکھا دیکھی اپنے یہاں بھی تنخواہ کی ماہانہ ادائیگی کا طریقہ جاری کیا۔ لیکن یہ بالکل ایک نئی بات تھی۔ اس لیے آمدنی کے حصول میں ایسی بے قاعدگی کی ضرورت تھی جو سکھ قوم کو اس وقت تک حاصل نہیں ہوئی تھی ۔“

1835ء میں ویڈ نے کسی اور سلسلے میں یہ بات ظاہر کی کہ انگریزی ضابطوں کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ حکومت کے کسی شعبے کے انتظام میں ان کا عام استعمال ہے۔ یہ ضابطے منصفانہ طور پر اختیار کئے جاتے ہیں۔ جہاں ضابطے کے اجزاء اس قدر مختلف ہوں جیسے کہ انگریزی حکومت اور مہاراجہ کی حکومت میں ہیں۔ تو ایک کی چند شقیں دوسرے کی چند شقوں پر ٹھیک طور سے منطبق نہیں ہو سکتیں۔ (3) تنخواہ کے طریق کار کی جزوی نا کامی کی یہ بہترین تشریح ہے۔ عملی طور پر قدیم فصلا نہ سسٹم اور انگریزی حکومت کے ماہانہ ادائیگی کے سٹم میں ایک درمیانی طریقہ ثابت ہوا۔کہا جاتا ہے کہ رنجیت سنگھ نے 1807ء میں یورپیوں کی طرح ترتیت یافتہ بٹالین بنا لی تھی۔²1836ء می ویڈ لاہور آیا تو اس نے افواج کی ترتیب دیکھی۔تو معلوم ہوا کہ سکھ افواج کئی بٹالین میں بٹی ہوئی تھی۔³ سکھ افواج میں بہت سے یورپی افسروں کے نام آتے ہیں جن میں انتالیس کا ذکر کیا جاتا ہے ⁴.

حوالہ جات
1. باقاعدہ افواج کا ریکارڈ ’ خالصہ دربار جلد اول اور حساب بنام فوج رنجیت سنگھ سے لیا گیا۔
2.جرنل آف انڈین ہسٹری مصنفہ سیتا رام کوہلی
3. پولٹیکل پروسیڈ نگس 17 دسمبر 1830ء نمبر 17
4. دی پنجاب مصنفہ سٹین ( مہاراجہ رنجیت سنگھ از پروفیسر این کے سنہا مترجم کیلاش چند چودھری)

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

عرفان علی عزیز

عرفان علی عزیز بہاولپور سے تعلق رکھتے ہیں۔ افسانہ و ناول نگاری اور شاعری سے شغف ہے۔ ترجمہ نگاری میں مہارت رکھتے ہیں۔ مختلف رسائل و جرائد میں افسانے اور جاسوسی کہانیاں ناول شائع ہوتے ہیں۔ سیرت سید الانبیاء ﷺ پر سید البشر خیر البشر، انوکھا پتھر، ستارہ داؤدی کی تلاش نامی کتب شائع ہو چکی ہیں۔ شاعری پر مشتمل کتاب زیرطبع ہے

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment