مقرر: ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب
امام و خطیب فیصل مسجد اسلام آباد
درس بعد نمازِ ظہر
حدیث مبارکہ
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ:
قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: كُلُّ مَخْمُومِ الْقَلْبِ، صَدُوقِ اللِّسَانِ. قَالُوا: صَدُوقُ اللِّسَانِ نَعْرِفُهُ، فَمَا مَخْمُومُ الْقَلْبِ؟ قَالَ: هُوَ التَّقِيُّ النَّقِيُّ، لَا إِثْمَ فِيهِ، وَلَا بَغْيَ، وَلَا غِلَّ، وَلَا حَسَدَ
ترجمہ: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یارسول اللہ! سب سے افضل انسان کون ہے؟
آپ ﷺ نے فرمایا: وہ شخص جس کا دل ہر قسم کی آلودگی سے پاک ہو اور جس کی زبان سچی ہو۔
صحابہ نے عرض کیا: سچی زبان والے کو تو ہم جانتے ہیں دل کی پاکیزگی سے کیا مراد ہے؟
آپ ﷺ نے فرمایا: وہ متقی اور پاکیزہ دل والا شخص ہے جس کے دل میں نہ گناہ ہو، نہ ظلم، نہ کینہ، نہ بغض اور نہ حسد۔ (سنن ابن ماجہ)
درس کا خلاصہ
ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب نے فرمایا کہ اس حدیث مبارکہ میں ایک ایسے مسلمان کی تصویر پیش کی گئی ہے جو اللہ تعالیٰ کا محبوب بندہ بنتا ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے یہ سوال اس لیے کیا کہ وہ جان سکیں کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کن اعمال اور کن صفات سے حاصل ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ صحابہ کرام پر بے شمار رحمتیں نازل فرمائے، انہی مقدس ہستیوں کی قربانیوں، اخلاص اور دین کے لیے بے مثال جدوجہد کی بدولت آج اسلام اپنی اصل صورت میں ہم تک پہنچا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ شخص محبوب ہے جس کا دل پاکیزہ ہو اور زبان سچی ہو۔ دل میں کسی مسلمان کے لیے بغض، کینہ، حسد یا دشمنی نہ ہو۔ بلکہ ہر ایک کے لیے خیر خواہی اور محبت کا جذبہ موجود ہو۔ اگر دل آلودہ ہو تو عبادت کا نور بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔
جبکہ پاکیزہ دل انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کر دیتا ہے۔اسی طرح مسلمان کی زبان بھی سچائی کا آئینہ ہونی چاہیے۔ وہ جھوٹ، دھوکے اور فریب سے دور رہے مفادات کی خاطر حق کو نہ چھپائے اور نہ ہی کسی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے باطل کا ساتھ دے۔البتہ حق بات بھی حکمت، نرمی، خیر خواہی اور اصلاح کے جذبے کے ساتھ کہی جائے تاکہ لوگوں کے دلوں میں نفرت نہیں بلکہ اصلاح پیدا ہو۔ ڈاکٹر صاحب نے مزید فرمایا کہ دنیا کی چمک دمک، مال و دولت اور مادی وسائل انسان کا اصل مقصد نہیں ہونے چاہئیں۔ حقیقی کامیابی اس شخص کی ہے جو اپنی امیدیں اور حاجات صرف اللہ تعالیٰ سے وابستہ رکھتا ہے اسی کے در کا سوالی بنتا ہے۔اسی پر کامل ایمان اور یقین کے ساتھ زندگی گزارتا ہے اور ہر خیر و بھلائی اسی سے مانگتا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ اگر ہم اپنے دلوں کو حسد، کینہ، بغض اور نفرت سے پاک کر لیں زبان کو سچائی کا عادی بنا لیں اور زندگی کو اخلاص، تقویٰ اور اللہ پر توکل کے ساتھ گزاریں تو ہم بھی اللہ تعالیٰ کی محبت کے مستحق بن سکتے ہیں۔
دعا
درس کے اختتام پر ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب نے نہایت رقت آمیز اجتماعی دعا کروائی۔ تمام مرحومین کے لیے مغفرت اور بلندیٔ درجات کی دعا کی گئی، بیماروں کے لیے کامل شفا، پریشان حال لوگوں کے لیے آسانی، بے اولاد حضرات کے لیے صالح اولاد، اور اولاد کے لیے اپنے والدین کا نیک، فرمانبردار اور آنکھوں کی ٹھنڈک بننے کی دعا کی گئی۔ اسی طرح نماز میں شریک ہونے والوں کے لیے دین پر استقامت اور جو مسجد میں موجود ہونے کے باوجود نماز میں شریک نہ ہو سکے ان کے لیے ہدایت کی دعا کی گئی۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نقشِ قدم پر چلنے، ان کی محبت اور ان کے اخلاق اپنانے کی توفیق مانگی گئی۔ جو حضرات دور دراز علاقوں سے فیصل مسجد اسلام آباد تشریف لائے تھے یا اپنے کاموں کے سلسلے میں اسلام آباد آئے ہوئے تھے۔ ان کے تمام جائز کاموں میں آسانی، خیر و برکت اور کامیابی کی بھی دعا کی گئی۔
اللہ تعالیٰ!
ہمیں پاکیزہ دل، سچی زبان، اخلاص، تقویٰ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری تمام دعاؤں کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔



تبصرہ لکھیے