حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور اقربا پروری
مذکورہ بالا میں ہم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ پر پہلے الزام کا تحقیقی جائزہ لیں گے۔ جو ان پر اقربا پروری کا لگایا جاتا ہے۔ان رشتے داروں میں پہلی قسط میں ہم نے نام درج کیے ہیں ۔
1.حضرت امیر معاویہ
2. مروان بن حکم
3. ولید بن عقبہ بن ابی معیط (عقبہ بن ابی معیط وہی بدبخت شخص ہے جس نے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک کندھوں پر اوجھڑی رکھی تھی۔)
4. سعید بن عاص
5. عبداللہ بن سعد بن ابی سرح
6. عبداللہ بن عامر بن کریز
کچھ اور نام بھی ہیں جنہیں اپنے مواقع پر درج کر کے تفصیل لکھی جائے گی۔جیسے محمد بن ابی بکر ، محمد بن حذیفہ ، حکیم بن جبلہ ، بشیر بن کنانہ، عمرو بن الحمق، عبد الرحمن بن عدیس۔ابوذر غفاری اور مالک بن حارث اشتر نخعی ۔ یہ بات سچ ہےکہ عثمان غنی کی شہادت اقربا پروری ایک بنیادی وجہ تھی۔ اقربا پروری عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی بشری کمزوری کہہ سکتے ہیں۔ اس لیے کہ جو شخص عہد جوانی میں ہر طرح کے عیبوں سے پاک ہو وہ بیاسی سال کی عمر میں کیسے غلطیوں کا سزاوار ہوسکتا ہے۔البتہ اقربا پروری یعنی رشتے داروں پر عنایات صرف تالیف قلب کے لئے کرتے تھے۔ یہ عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی حد سے زیادہ نرمی رحم دلی کا ایک بین ثبوت ہے۔ لہذا یہ خامی یا غلطی نہیں بلکہ ایک خوبی اور حسن سلوک گنا جا سکتا ہے۔ ایسی بہت سی مثالیں حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی میں نظر آتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کے بعد عتاب بن اسید بن ابی العاص اموی کو مکہ میں ابوسفیان بن حرب کو نجران خالد بن سعید کو مذحج کی زکوٰۃ پر معمور فرمایا۔اسی طرح زبان بن سعید کو بعض محرکوں میں شامل فرماتے۔
۔میں نے نیچے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خلافت میں گورنروں کی اجمالی فہرست دی ہے ۔ مختلف علاقوں میں آپ نے چھبیس گورنر موجود ہوتے تھے۔ جن میں پانچ افراد بنو امیہ سے تھے۔یہ اعتراض تو یہیں پر ختم ہو جاتا ہے کہ چھبیس میں سے پانچ افراد کا ہوناکیا اقربا پروری ہے ۔۔؟ اور یہ اس
پانچ افراد ایک ہی وقت میں نہیں ہوتے تھے شہادت عثمان کے وقت تین گورنر اپنے عہدوں پر فائز تھے۔
عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا انتظامی امور گورنر
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اپنے بارہ سالہ دور خلافت میں جن حضرات کو صوبوں میں اپنا گورنر بنایا ان کی اجمالی تعارف درج ذیل ہے۔
1. مکہ مکرمہ
{1}۔ خالد بن العاص بن ہشام المخزومی
{2}۔ علی بن عدی بن ربیعہ ¹
{3}۔ عبداللہ بن عمرو الحضرمی ²
{4}۔ عبداللہ بن حارث بن نوفل الہاشمی
2. طائف : قاسم بن ربیعہ ثقفی³
3. صنعاء یمن: یعلی بن مینتہ تمیمی ⁴
4. جند یمن : عبداللہ بن ابی ربیعہ مخزومی ⁵
5. صنعا (شام) : ثمامہ بن عدی
6. حمص : عبد الرحمن بن خالد بن ولید⁶ ،
7. قفسرین: حبیب بن مسلمہ انصری⁷۔
8. اردن : ابوالاعور بن سفیان
9 . فلسطین : علقمہ بن حکیم الکنانی
10. قرقیساء: جریر بن عبداللہ⁸
11. آذربائیجان : اشعت بن قیس الکندی
12حلوان : عتیبہ بن النہاس
13. حلوان عتیبہ بن النهاس
14. ماه : مالک بن حبیب اللہ
15. عذان النسير
16. رے : سعید بن قیس
17. ماسبذان
18. قومس : جبلہ ابن حیوۃ الکنانی
19. موصل : حکیم بن سلامہ
20. بصرہ : ابوموسی اشعری
عبداللہ بن عامر بن کریز اموی
21. کوفہ
{1}۔ مغیرہ بن شعبہ
{2}۔ سعد بن ابی وقاص
{3}۔ ولید بن عقبہ
{4}۔ سعید بن عاص
{5}۔ ابو موسیٰ اشعری
22. مصر :
{1}۔ عمرو بن عاص
{2}۔ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح
23. شام : امیر معاویہ بن ابو سفیان ⁹
اس کے علاؤہ رئیس البحریہ پر عبداللہ بن قیس کنانی، بیت المال پر عقبہ بن عامر ، قضاء مشق پر ابوالدردا انصاری ، خراج کوفہ پر جابر بن عمر المزنی اور سماک انصاری ، حرب کوفہ پر قعقعاع بن عمرو مقرر تھے . ان میں ہم ان اصحاب کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔ جو براہ راست شہادت عثمان غنی کے مسلسل ساتھ رہے۔ یا ان کی غلط پالیسیوں نے بغاوت شورشوں کو ہوا دی تھی۔
1. حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ
حضرت عثمان غنی حضرت معاویہ اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہما کے درمیان بہت گہرا اور قریبی خاندانی رشتہ تھا۔ دونوں کا تعلق قریش کے ایک ہی معزز قبیلے بنو امیہ سے تھا اور وہ آپس میں فرسٹ کزن (چچا زاد بھائی) تھے۔ ان کا تفصیلی رشتہ درج ذیل شجرہ نسب سے سمجھا جا سکتا ہے۔ آپ دونوں کا مشترکہ دادا امیہ بن عبد شمس تھا۔ حضرت عثمان غنی کے والد کا نام عفان بن ابی العاص بن امیہ تھا۔اسی طرح حضرت معاویہ کے والد کا نام ابو سفیان بن حرب بن امیہ تھان۔ اور اس لحاظ سے حضرت عثمان غنی اور حضرت معاویہ کے والد (ابو سفیان) آپس میں چچا زاد بھائی تھے، جس کی وجہ سے یہ دونوں حضرات بھی آپس میں قریبی کزن بنتے ہیں۔ اس مضبوط خاندانی اور قبائلی تعلق کی وجہ سے ان کے درمیان گہرے روابط تھے، اور یہی وجہ ہے کہ حضرت عثمان غنی نے اپنے دورِ خلافت میں حضرت معاویہ کو شام کی گورنری پر برقرار رکھا تھا۔
امیر معاویہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں شام کے گورنر تھے۔ سیاست اور حکمرانی میں حضرت معاویہ کی حلم (بردباری اور دور اندیشی) ضرب المثل بن چکی تھی۔ وہ معاملات کو طاقت کے بجائے تدبر اور ڈپلومیسی سے حل کرنے کے قائل تھے۔ ان کا مشہور جملہ ہے۔
”اگر میرے اور لوگوں کے درمیان ایک بال برابر بھی تعلق ہو، تو میں اسے ٹوٹنے نہیں دیتا۔ جب وہ کھینچتے ہیں تو میں ڈھیل دے دیتا ہوں، اور جب وہ ڈھیل دیتے ہیں تو میں کھینچ لیتا ہوں۔“
انہی صلاحیتوں کی بدولت انہوں نے شام کو اس دور کا سب سے پرامن، مستحکم اور معاشی طور پر مضبوط خطہ بنا دیا، جس نے آگے چل کر دمشق کو پوری مسلم دنیا کا دارالحکومت بننے کی راہ ہموار کی۔ امیر معاویہ عثمان غنی کے ساتھ انتہائی مخلص اور ایماندار رہے ۔ البتہ جب فتنوں کا آغاز ہوا تو معاویہ نے انہیں شامی لشکر کی امداد کی پیشکش کی۔ جسے عثمان غنی اللہ عنہ نے رد کر دیا بعد ازاں امیر معاویہ نے عثمان غنی کو شام چلے جانے کی آفر کی۔ عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے یہ رد کردی کہ شہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑنا بہادری نہیں۔ امیر معاویہ نے عثمان غنی رضی اللہ عنہ کےلئے کوئی مشکل کھڑی نہیں کی۔ اس لیے ان کا دامن صاف نظر آتا ہے ۔ امیر معاویہ کا تذکرہ فتنوں میں آتا رہے گا۔
2. مروان بن حکم بن ابی العاص بن امیہ
مروان بن حکم اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے درمیان بہت قریبی خاندانی اور نسبی رشتہ تھا۔ دونوں کا تعلق قریش کے معزز قبیلے بنو امیہ سے تھا اور حضرت مروان، حضرت عثمان کے بھتیجے (چچا زاد بھائی کے بیٹے) تھے۔ ان کا تفصیلی رشتہ درج ذیل شجرہ نسب سے واضح ہوتا ہے۔امیہ بن عبد شمس عثمان غنی اور مروان بن حکم کے دادا تھے. حضرت عثمان غنی کے والد عفان بن ابی العاص بن امیہ اور مروان بن حکم کے والد حکم بن ابی العاص بن امیہ اس شجرہ نسب کے مطابق، حضرت عثمان غنی کے والد (عفان) اور مروان کے والد (حکم) آپس میں سگے بھائی تھے۔ اس لحاظ سے حضرت مروان بن حکم، حضرت عثمان غنی کے سگے چچا زاد بھائی کے بیٹے (بھتیجے) بنتے ہیں۔ مروان بن حکم، حضرت عثمان غنی کے داماد بھی تھے، کیونکہ ان کی شادی حضرت عثمان غنی کی صاحبزادی حضرت ام ابان بنت عثمان سے ہوئی تھی۔ اسی قریبی خاندانی رشتے اور اعتماد کی بنا پر حضرت عثمان غنی نے اپنے دورِ خلافت میں مروان بن حکم کو اپنا کاتب (سیکرٹری) اور مشیرِ خاص مقرر کیا تھا۔ مروان بن حکم اور اس کا باپ حکم بن العاص فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا۔
مگر اسلام دشمن سرگرمیوں میں برابر حصہ لیتے رہے ۔اس بنا پر حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو طائف جلاوطن کردیا۔ ایک جگہ لکھا ہے کہ ان کو دونوں میں اسلام راسخ نہ ہوا اور اندورنی طور پر مسلمانوں کے خیرخواہ نہ تھے۔ اکثر مسلمانوں کے راز افشاء کرتے رہتے تھے ۔ مروان بن حکم ابوبکر صدیق اور عمر فاروق رضی اللہ عنہا کے دور خلافت میں واپس مدینہ لانے کی کوشش عثمان نے کی تھی۔ مگر عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اجازت نہ دی۔ بعد ازاں جب عثمان غنی خلیفہ بنے تو انہیں واپس مدینہ کے ائے۔ مروان نہایت چلاک اور ہوشیار شخص تھا ۔لیکں عثمان غنی کو ان پر مکمل بھروسہ بھی تھا۔شہادت عثمان کے بعد مدینے سے بھاگ گئے تھے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے خلاف فتنوں اور جنگوں میں مروان امیر معاویہ کے ساتھ رہا۔ عشرہ مبشرہ کے عظیم ترین صحابی طلحہ بن عبید اللہ کو مروان نے جنگ جمل میں شہید کردیا تھا۔مروان کی سازشوں میں ایک سازش محمد بن حنفیہ کے قتل کا وہ جعلی خط بھی ہے۔ جس کی تفصیل ان شاءاللہ تعالیٰ آگے آئے گی ۔کہا جاتا ہے کہ اس بیوی نے اسے قتل کردیا تھا۔
3.ولید بن عقبہ بن ابی معیط
ولید بن عقبہ بن ابی معیط تاریخِ اسلام کی ایک اہم اور معروف شخصیت ہیں، جن کا تعلق قریش کے نامور قبیلے بنو امیہ سے تھا۔ وہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے قریبی رشتہ داروں میں شمار ہوتے تھے اور اپنے دور کے ایک نامور سفارت کار، جرنیل اور گورنر تھے۔ ولید بن عقبہ، حضرت عثمان غنی کے اخیافی بھائی (مادری بھائی ، جن کی ماں ایک ہو) تھے۔ ان دونوں کی والدہ کا نام ارویٰ بنت کریز تھا۔ ارویٰ بنت کریز کی پہلی شادی عفان بن ابی العاص سے ہوئی تھی، جن سے حضرت عثمان غنی پیدا ہوئے۔عفان کی وفات کے بعد، انہوں نے عقبہ بن ابی معیط سے شادی کی، جن سے ولید بن عقبہ پیدا ہوئے۔ اس لحاظ سے ولید بن عقبہ اور حضرت عثمان غنی آپس میں سگے مادری بھائی تھے۔
ولید بن عقبہ نے فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا۔ وہ ایک ذہین اور فصیح اللسان شخص تھے، اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے انہیں بنو مصطلق قبیلے سے صدقات و زکوٰۃ جمع کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ عہدِ صدیقی اور عہدِ فاروقی میں بھی انہوں نے مختلف مہمات اور سفارتی امور میں اہم خدمات سرانجام دیں۔ جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے، تو انہوں نے دورِ فاروقی کے گورنر حضرت سعد بن ابی وقاص کی جگہ ولید بن عقبہ کو کوفہ کا گورنر مقرر کیا۔جس کی وجہ سے بہت جید اصحاب رسول عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے اس حکم کی مخالفت کی تھی۔ بطور گورنر ان کا ابتدائی دور انتہائی کامیاب رہا۔ وہ اپنی سخاوت، نرم دلی اور عوامی فلاح کے کاموں کی وجہ سے کوفہ کے عوام میں بے حد مقبول تھے۔ان کے دورِ حکومت میں آذربائیجان اور آرمینیا کے علاقوں میں جہادی مہمات بھیجی گئیں جن میں مسلمانوں کو کامیابیاں ملیں۔ کوفہ کی سیاست ہمیشہ سے پیچیدہ رہی ہے۔ کچھ عرصے بعد ولید بن عقبہ اور کوفہ کے کچھ بااثر لوگوں کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے۔ ان پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے شراب نوشی کی ہے۔
یہ معاملہ جب مدینہ میں حضرت عثمان غنی کی عدالت میں پہنچا، تو حضرت عثمان نے قانونِ اسلام کی بالادستی قائم رکھتے ہوئے اپنے سگے بھائی پر حدِ قذف (شراب نوشی کی سزا) جاری کرنے کا حکم دیا اور انہیں کوفہ کی گورنری سے معزول کر دیا۔ حضرت علی بن ابی طالب نے ان پر یہ حد جاری کی تھی۔ مسلم شریف کی حدیث نمبر 4457 ولید بن عقبہ کا تفصیلی واقعہ یوں درج ہے:
ابوبکر بن ابی شیبہ ، زہیر بن حرب اور علی بن حجر سب نے کہا۔کہ ہمیں اسماعیل بن علیہ نے ابن ابی عروبہ سے حدیث روایت کی ، انھوں نے عبداللہ داناج ( فارسی کے الفاظ دانا کو عرب میں اسی طرح پڑھتے تھے ) سے روایت کی ، نیز اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے ( الفاظ انھی کے ہیں ) کہا۔ ہمیں یحیی بن حماد نے خبر دی ، کہا۔ ہمیں ابن عامر داناج کے مولیٰ عبداللہ بن فیروز نے حدیث روایت کی۔ ہمیں ابوساسان حصین بن منذر نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا۔ میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا ، ان کے پاس ولید ( بن عقبہ بن ابی معیط ) کو لایا گیا ، اس نے صبح کی دو رکعتیں پڑھائیں ، پھر (نماز پڑھاکر ) کہا. کیا تمہیں اور ( نماز ) پڑھاؤں ؟ تو دو آدمیوں نے اس کے خلاف گواہی دی . ان میں سے ایک حمران تھا ( اس نے کہا ) کہ اس نے شراب پی ہے اور دوسرے نے گواہی دی کہ اس نے اسے ( شراب کی ) قے کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ اس پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کا۔ اس نے شراب پی ہے تو ( اس کی ) قے کی ہے ۔ اور کہا۔ علی اٹھو اور اسے کوڑے مارو ۔
تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے (حسن بن علی سے )کہا۔
حسن ! اٹھیں اور اسے کوڑے ماریں ۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے (اس پر ) کہا۔ اس ( خلافت ) کی ناگوار باتیں بھی انھی کے سپرد کیجیے جن کے سپرد اس کی خوش گوار ہیں ۔ تو ایسے لگا کہ انھیں (حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو )ناگوار محسوس ہوا ہے ، تب انھوں:( علی المرتضیٰ نے عبداللہ بن عقیل سے کہا عبداللہ بن جعفر ! اٹھو اور اسے کوڑے مارو ۔ تو انھوں نے اسے کوڑے لگائے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ شمار کرتے رہے حتی کہ وہ چالیس تک پہنچے تو کہا۔ رک جاؤ ۔ پھر کہا۔نبی ﷺ نے چالیس کوڑے لگوائے ، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس لگوائے اور عمر رضی اللہ عنہ نے اسی ( کوڑے ) لگوائے ، یہ سب سنت ہیں اور یہ ( چالیس کوڑے لگانا ) مجھے زیادہ پسند ہے ۔ علی بن حجر نے اپنی روایت میں اضافہ کیا۔ اسماعیل نے کہا : میں نے داناج کی حدیث ان سے سنی تھی لیکن اسے یاد نہ رکھ سکا ۔ ¹⁰ اس واقعے کے بعد ولید بن عقبہ نے عملی سیاست اور گورنری سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ حضرت عثمان غنی کی شہادت کے بعد جب ملک میں سیاسی انتشار (جنگِ جمل اور جنگِ صفین) شروع ہوا، تو انہوں نے کسی بھی فریق کا ساتھ دینے کے بجائے خاموشی اور گوشہ نشینی کو ترجیح دی۔ وہ جزیرہ (شام کے قریبی علاقے) منتقل ہو گئے اور وہیں وفات پائی۔
4. سعید بن عاص
حضرت سعید بن عاص بن امیہ تاریخِ اسلام کی ایک انتہائی معزز، فصیح اللسان اور بااثر شخصیت ہیں۔ ان کا تعلق بھی قریش کے نامور قبیلے بنو امیہ سے تھا اور وہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے قریبی رشتہ داروں اور دورِ عثمانی کے اہم ترین گورنروں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کا تفصیلی تعارف اور حضرت عثمان غنی سے رشتہ داری درج ذیل ہے:
حضرت سعید بن عاص اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ آپس میں کزن (چچا زاد بھائی) تھے۔ امیہ بن عبد شمس حضرت عثمان غنی کے دادا تھے جبکہ سعید بن عاص کے والد عاص بن سعید بن عاص بن امیہ ہیں۔ اس لحاظ سے سعید بن عاص کا نسبی تعلق بنو امیہ کی اسی شاخ سے تھا جس سے حضرت عثمان غنی کا تھا، اور وہ عمر میں حضرت عثمان سے کافی چھوٹے تھے۔ ان کے والد عاص بن سعید غزوہ بدر میں کافروں کی طرف سے لڑتے ہوئے مارے گئے تھے، جس کے بعد سعید بن عاص کی پرورش اور تربیت میں حضرت عمر فاروق اور دیگر اکابر صحابہ نے گہری دلچسپی لی۔ جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ولید بن عقبہ کو کوفہ کی گورنری سے معزول کیا، تو ان کی جگہ سعید بن عاص کو کوفہ کا گورنر مقرر کیا۔ بطور گورنر انہوں نے کوفہ کے نظم و ضبط کو بہتر بنانے کی بھرپور کوشش کی۔وہ اپنی سخاوت اور فیاضی کے لیے مشہور تھے، انہوں نے کوفہ کے معززین اور قاریوں کے وظائف مقرر کیے۔
2. شمالی ایران اور طبرستان کی فتوحات
سعید بن عاص ایک بہترین فوجی جرنیل بھی تھے۔ کوفہ کی گورنری کے دوران انہوں نے شمال کی طرف فتوحات کا سلسلہ آگے بڑھایا۔ انہوں نے طبرستان اور گرگان (موجودہ ایران کے شمالی علاقے) پر چڑھائی کی اور انہیں فتح کر کے اسلامی سلطنت کا حصہ بنایا۔ اس جہادی مہم میں ان کے ساتھ حضرت حسن بن علی اور حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما جیسے جلیل القدر صحابہ بھی شامل تھے۔ تاریخِ اسلام میں سعید بن عاص کا سب سے بڑا اور لازوال کارنامہ قرآن مجید کی تدوینِ نو میں ان کا کردار ہے۔ جب حضرت عثمان غنی نے قرات کے اختلاف کو ختم کرنے کے لیے قرآن مجید کے سرکاری نسخے تیار کرنے کا فیصلہ کیا، تو انہوں نے چار رکنی کمیٹی تشکیل دی۔ سعید بن عاص اپنی فصاحت و بلاغت اور خالص قریشی لہجے کی وجہ سے اس کمیٹی کے اہم رکن مقرر ہوئے۔چونکہ ان کا لہجہ اور زبان خالص لغتِ قریش کے مطابق تھی، اس لیے حضرت عثمان نے حکم دیا تھا کہ جہاں کہیں زبان کا اختلاف ہو، وہاں سعید بن عاص کے لہجے کو ترجیح دی جائے کیونکہ قرآن قریش ہی کے لہجے میں نازل ہوا تھا۔
کوفہ کے سیاسی حالات ان کے دور میں بھی ہنگامہ خیز رہے۔ کوفہ کے کچھ شر پسند عناصر نے ان کی بعض انتظامی پالیسیوں کی مخالفت شروع کر دی (جسے فتنۂ ابن سبا کا نقطۂ آغاز بھی کہا جاتا ہے)۔ جب سعید بن عاص ایک مرتبہ مدینہ گئے ہوئے تھے، تو کوفہ کے باغیوں نے ان کے واپس آنے پر پابندی لگا دی اور حضرت عثمان سے مطالبہ کیا کہ ابو موسیٰ اشعری کو گورنر بنایا جائے۔ حضرت عثمان غنی نے فتنے کو دبانے اور نرمی اختیار کرنے کی غرض سے سعید بن عاص کو معزول کر دیا اور وہ مدینہ ہی میں مقیم ہو گئے۔ جب باغیوں نے مدینہ منورہ میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے گھر کا محاصرہ کیا، تو سعید بن عاص ان چند مخلص صحابہ اور جوانوں میں شامل تھے جنہوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر حضرت عثمان کے گھر کے دروازے پر پہرہ دیا اور باغیوں کو روکنے کی کوشش کی، جس کے دوران وہ شدید زخمی بھی ہوئے. حضرت عثمان کی شہادت کے بعد، انہوں نے بھی دیگر کئی جلیل القدر صحابہ کی طرح خلافت کے سیاسی تنازعات اور جنگوں (جمل و صفین) میں حصہ لینے کے بجائے گوشہ نشینی اختیار کی اور مدینہ منورہ کے قریب وادیِ عقیق میں اپنے باغ میں قیام پذیر رہے۔ بعد میں امیر معاویہ کے دور میں وہ کچھ عرصے کے لیے مدینہ کے گورنر بھی رہے اور تقریباً 58 ہجری (یا اس کے آس پاس) وفات پائی۔
5. عبداللہ بن سعد بن ابی سرح
عبداللہ بن سعد بن ابی سرح اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے درمیان دوہرا قریبی رشتہ تھا، جس میں سب سے نمایاں ان کا رضاعی (دودھ شریک) بھائی ہونا ہے۔ ان کے درمیان رشتے کی تفصیل درج ذیل ہے۔عبداللہ بن سعد، حضرت عثمان غنی کے رضاعی بھائی تھے۔ حضرت عثمان غنی کی والدہ ارویٰ بنت کریز نے عبداللہ بن سعد کو بچپن میں دودھ پلایا تھا، اس لحاظ سے وہ آپس میں ماں جائے بھائیوں کی طرح تھے۔ اس رضاعی رشتے کے علاوہ ان کا آپس میں قریبی قبیلے کا تعلق بھی تھا۔ حضرت عبداللہ بن سعد کا تعلق قبیلہ قریش کی اسی شاخ سے تھا جس سے حضرت عثمان غنی کا تھا، یعنی بنو عامر بن لوئی جو بنو امیہ کے حلیف اور قریبی رشتہ دار تھے۔ اس شدید مخلصانہ اور قریبی تعلق کی بنا پر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ان پر بہت بھروسا کرتے تھے، اور اسی وجہ سے انہوں نے اپنے دورِ خلافت میں حضرت عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کو مصر کا گورنر مقرر کیا تھا، جہاں انہوں نے شمالی افریقہ کی فتوحات اور پہلی مسلم بحریہ کی تشکیل میں حضرت معاویہ کے ساتھ مل کر تاریخی کردار ادا کیا۔
عبداللہ بن سعد بن ابی سرح مسلمان ہو گئے تھے اور کتابت وحی کا موقع بھی ملا۔ مگر منحرف ہوکر مخالف محاذ سے تعاون کرنے لگے۔یہاں تک کہنےلگے کہ وحی تو دراصل مجھ پر آتی ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے لکھواتے ہیں۔جرم سخت تھا۔لیکن عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر پناہ دے دی ۔ بعد ازاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کرکے معافی کا خواستگار ہوا۔سنن ابو داؤد شریف میں ان کا تذکرہ یوں ہے :
حضرت سعد ( بن ابی وقاص ) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب فتح مکہ کا دن آیا تو عبداللہ بن سعد بن ابی سرح سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ہاں چھپ گیا ‘ پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اسے لے آئے حتیٰ کہ نبی ﷺ کے سامنے لا کھڑا کیا اور درخواست کی :
اے اللہ کے رسول ! عبداللہ سے بیعت لے لیجئیے ۔
آپ نے اپنا سر اٹھایا اور اس کی طرف دیکھا ‘ تین بار ایسے ہوا ‘ آپ ہر بار انکار فرماتے رہے ‘ تیسری بار کے بعد آپ نے اس سے بیعت لے لی ۔
پھر اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا :
’’ کیا تم میں کوئی سمجھدار آدمی نہیں تھا کہ جب میں نے اس کی بیعت لینے سے اپنا ہاتھ روک رکھا تھا تو وہ اس کی طرف اٹھتا اور اسے قتل کر ڈالتا ؟‘‘
صحابہ نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہم نہیں جانتے تھے کہ آپ کے جی میں کیا ہے ؟ آپ ہمیں اپنی آنکھ سے اشارہ فرما دیتے ۔
آپ نے فرمایا :’’ کسی نبی کو لائق نہیں کہ اس کی آنکھ خیانت والی ہو ۔‘‘¹¹
6. عبداللہ بن عامر بن کریز
اسلام کی ابتدائی تاریخ کی ایک ممتاز شخصیت اور مایہ ناز سپہ سالار تھے۔ وہ قبیلہ قریش کے بنو عبد شمس خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ عبداللہ بن عامر بن کریز بن ربیعہ بن عبد شمس۔ آپ حضرت عثمان غنی کے قریبی رشتہ دار تھے (آپ کے ماموں زاد بھائی تھے)۔حضرت عثمان غنی کے دورِ خلافت میں، عبداللہ بن عامر نے اپنی عسکری صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ انہوں نے فارس کے وسیع علاقوں کو فتح کیا، جن میں کرمان اورخراسان کے اہم شہر (جیسے نیشاپور، ہرات، مرو اور بلخ) شامل تھے۔ آپ طویل عرصے تک بصرہ کے گورنر رہے۔ آپ کا دورِ حکومت انتظامی خوبیوں اور فلاحی کاموں کے لیے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ نے بصرہ میں نہریں کھدوائیں اور زراعت کو فروغ دیا۔ عبداللہ بن عامر اپنی بے پناہ سخاوت اور دریا دلی کے لیے عربوں میں مشہور تھے۔
ان کی فیاضی کے قصے اس دور میں ضرب المثل کی حیثیت رکھتے تھے۔ مورخین انہیں ایک دیانت دار، تجربہ کار اور انتظامی صلاحیتوں کے مالک حکمران کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ آپ ان فاتحین میں سے ہیں جنہوں نے اسلام کی سرحدوں کو مشرق کی جانب انتہائی تیزی سے پھیلایا۔ آپ کی فتوحات نے نہ صرف اسلامی سلطنت کو وسعت دی بلکہ ان علاقوں میں اسلامی تہذیب و تمدن کے فروغ کی بنیاد بھی رکھی۔ حضرت عثمان غنی کے دور میں ان کی تقرریوں پر بعض حلقوں نے اعتراضات کیے تھے، لیکن عبداللہ بن عامر کی ذاتی صلاحیتوں، ان کی فتوحات اور ان کے دورِ گورنری میں بصرہ کی خوشحالی کو مورخین نے ہمیشہ تسلیم کیا ہے۔
یہ وہ لوگ ہیں جنہیں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے مغیرہ بن شعبہ ابوموسی اشعری حضرت سعد بن ابی وقاص،عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن ارقم اور عمرو بن العاص کی جگہ گورنر مقرر کیا۔یہ تمام لوگ( بعد میں نامزد کردہ )نااہل نہیں تھے ۔ البتہ بشری تقاضوں کے تحت ان کی کمزوریوں کو نشانہ بنانا کسی بھی صورت اچھا نہیں لگتا۔ان اصحاب مذکورہ کی معزولی کی بنیادی وجہ ہم اگلی قسط میں تفصیل سے بیان کریں گے .ان شاءاللہ تعالیٰ .
(جاری ہے)
حوالہ جات
1۔ اسمء الصحابہ جلد 1
2۔ تاریخ یعقوبی جلد 3
3۔ ابن اثیر جلد 3 یعقوبی جلد 2 طبری عثمان غنی رضی اللہ عنہ
4۔ طبری جلد 3
5۔ ابن اثیر جلد 3
6۔ طبری جلد 3
7۔ ابن اثیر جلد 3
8۔ طبری جلد 3
9۔ ابن اثیر طبری جلد 3 مروج الذہب جلد 2
10۔ عالمی درجہ بندی میں یہ حدیث 1707 نمبر پر ہے۔
11. سنن ابی داؤد 4359



تبصرہ لکھیے